Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پاکستان میں ڈرامہ کے اداکاروں کے لیے مواقع

June 8, 2021 0 1 min read
Pakistani Drama
Pakistani Drama
Pakistani Drama

تحریر : انیلہ افضال ایڈووکیٹ

ایک دور تھا کہ پاکستان میں انٹرٹینمنٹ کے لیے صرف فلمیں ہی میسر تھیں۔ بہت عمدہ اور کلاسیکل فلمیں بنتی تھیں اور سالوں عوام پر سحر طاری کیے رکھتی تھیں۔ پھر ٹیلی ویژن کا دور شروع ہوا۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن کا آغاز 26 نومبر 1964ء کو لاہور کے اسٹیشن سے ہوا۔ اس کے کچھ ہی عرصہ کے بعد ٹی وی پر ڈرامہ کا بھی آغاز ہو گیا۔ پی ٹی وی نے اپنا پہلا ڈرامہ ”نذرانہ“ پیش کیا، جس میں محمد قوی خان، کنول نصیر اور منور توفیق نے اداکاری کی۔ اس کا سکرپٹ نجمہ فاروقی نے لکھا تھا اور اسے ڈائریکٹ فضل کمال نے کیا تھا۔ یوں پاکستان ٹیلی ویژن پر ڈرامہ کا ارتقاء عمل میں آیا۔ جب کیبل یا ڈش کا وجود نہیں تھا تو گھروں میں پی ٹی وی کے ڈراموں کا سحر طاری رہتا تھا۔ جن گھرانوں کو ٹی وی جیسی نعمت میسر تھی وہ خوش قسمت گردانے جاتے۔ ٹی وی بھی آج کل کے ٹی وی کی طرح سمارٹ نہیں تھا بلکہ عظیم الجثہ ہوتا تھا۔

گرمیوں میں اس دیو ہیکل ٹی وی کو کمرے سے نکال کر صحن میں رکھنا ایک عذاب عظیم سمجھا جاتا تھا، سو ہر شام اسے اٹھانے کے لیے بہن بھائیوں میں سے دو افراد کی باریاں مقرر ہوتی تھیں۔ ایک ہی چینل پی ٹی وی ہوتا تھا۔ اس دوران سر شام ہی صحن میں چھڑکاؤ کر کے چارپائیوں کے آگے بچوں کے بیٹھنے کے لیے چٹائیاں بچھا دی جاتی تھیں۔ صبح سات بجے پی ٹی وی کی نشریات کا باقاعدہ آغاز ہوتا تھا تو اس وقت بچے سکول جانے کی تیاریوں میں مصروف ہوتے۔ ”چاچا جی“ مستنصر حسین تارڑ صبح کی نشریات میں ہر صبح نئے پیغام اور آہنگ کے ساتھ پی ٹی وی پر جلوہ گر ہوتے۔ یہ نشریات سوا آٹھ بجے تک چلتیں۔ شام میں باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوتا تھا۔ جہاں چھ بجے علاقائی ڈرامے دکھائے جاتے تھے اور آٹھ بجے پرائم ٹائم ڈرامہ پیش کیا جاتا تھا۔ پی ٹی وی کا ڈراما تفریح طبع کے ساتھ ساتھ معاشرتی تربیت کے حوالے سے ایک بہترین اتالیق، مبلغ اور مصلح کا انداز اپنائے ہوئے تھا۔ وارث، تنہائیاں، جانگلوس، عروسہ، اندھیرا اجالا، دھواں، آہٹ، عینک والا جن اور گیسٹ ہاؤس جیسے ڈراموں کو دیکھنے کے لیے محلے کی عورتیں اور بچے اکثر ٹی وی والے گھر میں براجمان ہو جاتے تھے۔ پی ٹی وی پر ہر جمعرات کو طارق عزیز کا نیلام گھر پروگرام نشر ہوتا تھا اور پھر رات گئے ایک اردو فلم بھی ضرور لگتی تھی۔ جمعۃ المبارک کو ہفتہ وار سرکاری تعطیل ہوتی تھی۔ اس دور میں پاکستانی ٹیلی ویژن ڈرامے نے اپنے ناظرین کو سحر میں لے رکھا تھا۔ تب ہماری فیچر فلمیں بھی تہذیبی زندگی اور بڑی حد تک عمومی شائستگی کا مظہر ہوا کرتی تھیں۔

پھر گزرتے وقت نے دیکھا کہ ٹیلی ویژن نے ایسے ایسے مایہ ناز اور تاریخ ساز ڈرامے پیش کیے جن کی مثال نہیں ملتی۔ خدا کی بستی، دھواں، وارث، ہوائیں، دھوپ کنارے، تنہائیاں، انکل عرفی، شمع اور ایسے ہی بے شمار نام کہ جن کا وقت شروع ہوتے ہی سڑکیں ویران ہو جایا کرتی تھیں۔ مگر یہاں ہمارا موضوع ٹی وی ڈراما نہیں بلکہ ڈرامے کے فنکار ہیں۔

ایک طویل عرصے تک پی ٹی وی نے تن تنہا ڈرامہ انڈسٹری پر راج کیا۔ اس دور میں پی ٹی وی پر اداکارہ کا موقع ملنا گویا ایسا ہی تھا جیسے کسی طالب علم کو دنیا کی بہترین یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے اور وہ بھی سکالر شپ کے ساتھ۔ پی ٹی وی پر اداکاری کا معیار بھی بہترین تھا یہی وجہ ہے کہ اس دور نے نہ صرف بہترین ڈرامے دئیے بلکہ بہترین اداکار بھی پیدا کیے۔ خالدہ ریاست، شفیع محمد، آصف رضا میر، شہناز شیخ، ثمینہ پیرزادہ، اور بے شمار نام ہیں جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ 90ء کی دہائی کے آغاز میں پاکستان میں ایک نیا چینل شروع کیا گیا۔ جس سے فنکاروں کو کام کے بہتر مواقع میسر آئے۔ نئی صدی میں تو جیسے چینلز کا سیلاب آ گیا۔ مقابلے کی ایک فضا قائم ہو گئی۔

اداکاروں کو بہترین کام ملنے لگا اور اس کے ساتھ ساتھ بہترین معاوضہ بھی۔ دیکھے ہی دیکھتے چھوٹے اداکار بھی بڑی سوسائٹیوں میں منتقل ہو گئے۔ ان مواقع کو دیکھتے ہوئے شوبز کے دوسرے اداروں سے بھی لوگوں نے اداکاری کا رخ کیا، خاص طور پر ماڈلنگ سے اداکاری کی طرف نقل مکانی کا ایک سفر شروع ہو گیا۔ بابرہ شریف سے لے کر موجودہ دور کے کئی کامیاب اداکاروں کی ایک طویل فہرست ہے، جنہوں نے ماڈلنگ سے اداکاری کی طرف ہجرت کی۔ اس وقت ملک میں کئی انٹرٹینمنٹ چینلز کام کر رہے ہیں۔ ان میں مقابلے کے فضا بھی خوب ہے۔ ہر چینل اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے نت نئے موضوعات پر ڈرامے تخلیق کر رہا ہے۔ نتیجتاً اداکاروں کے پاس اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے زیادہ مواقع موجود ہیں۔ بلاشبہ ان حالات میں اداکار زیادہ پیسہ بھی کما رہے ہیں۔ اے آر وائے، اے پلس، اے آر وائے زندگی، اے ٹی وی، ایکسپریس انٹرٹینمنٹ، جیو کہانی، جیو ٹی وی، ہم ٹی وی، ہم ستارے اور بہت سے دوسرے ٹی وی چینلز نے اپنے دروازے باصلاحیت فنکاروں کے لیے کھول رکھے ہیں۔

ایک وقت تھا جب مواقع نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی اداکار پڑوسی ملک کا رخ کرتے تھے اور وہاں چھوٹے موٹے رولز کرنے کو بھی اپنی خوش قسمتی سمجھتے تھے۔ مگر بلندیوں کو چھوتی اس ڈرامہ انڈسٹری نے اداکاروں کا معیار بھی بلند کر دیا ہے۔ اب اگر وہ کسی دوسرے ملک میں کوئی پروجیکٹ کرتے ہیں تو معیار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ عدنان صدیقی پاکستان کے واحد اداکار ہیں جو بالی وڈ اور ہالی وڈ کی فلموں میں بھی کام کر چکے ہیں۔ ہالی وڈ فلم ”اے مائٹی ہارٹ“ میں اینجلینا جولی، عرفان خان، اور علی خان کے ساتھ اسکرین شئیر کرنا ہو یا بالی وڈ فلم ”موم“ میں سری دیوی، اکشے کھنہ اور نواز الدین صدیقی کے ساتھ اداکاری کرنا ہو۔ عدنان صدیقی جہاں بھی گئے ان کی خوب پذیرائی ہوئی۔ اس کے علاوہ ماورا حسین نے بھی پڑوسی ملک کی ایک فلم میں ہیروئین کے کردار میں خوب داد سمیٹی۔

پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں اداکاروں کے لیے بڑھتے ہوئے مواقع دیکھتے ہوئے کئی غیر ملکی فنکار بھی پاکستانی ڈراموں میں کام کرنے کے خواہشمند ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ ان میں ترک اداکار ارتغرل، بنسی اور عبدالرحمن سر فہرست ہیں۔ ایک وقت تھا کہ ترکی ڈراموں کو پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا تھا مگر اب صورتحال بدل چکی ہے اور ترک اداکار خود پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

ڈرامہ انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے مواقع نے جہاں اداکاروں کو معاشی طور پر خوش حال کیا ہے، وہیں ان میں کچھ منفی رویے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ سینئر ہدایت کارہ مہرین جبار نے اداکاروں کے رویوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ایک اداکار ڈرامے کے سیٹ پر دوپہر ایک بجے سے پہلے نہیں پہنچتا اور پوری ٹیم اس کا انتظار کرتی رہتی ہے۔

انہوں نے اداکاروں کے ایسے رویوں کو باقی پوری ٹیم کی بے عزتی بھی قرار دیا اور کہا کہ اوپر سے ٹی وی چینلز مالکان کا ٹیم پر دباؤ رہتا ہے کہ وہ وقت پر انہیں منصوبے پیش کریں۔ ایک اور ہدایت کار کا کہنا ہے کہ بعض اداکار لگژری ہوٹلوں سے کھانا آرڈر کرتے ہیں جبکہ وہیں پر ان کے ساتھی سادہ بریانی کھا رہے ہوتے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک منفی رویہ ہے۔ اگر بات کریں کہانی کی تو پاکستانی ڈراموں کی بیشتر کہانیاں ساس بہو کے جھگڑوں کے گرد گھومتی ہیں۔ ڈرامہ نگاروں سے لے کر ہدایت کار، پروڈیوسرز حتیٰ کہ پروڈکشن ہاؤسز بھی کہانیوں کی اس یکسانیت کا ذمہ دار چینلز کو ٹہراتے ہیں جو ان کے بقول ”ٹی آر پیز“ کے چکر میں کسی نئی کہانی کو موقع دینے سے کتراتے ہیں۔ ٹی وی چینلز کا موقف ہے کہ ان کا ڈرامہ عورتیں دیکھتی ہیں اور وہ انہی کے لیے ڈرامہ بناتے ہیں۔ ڈرامہ نگار ابو راشد کہتے ہیں ”کہانیوں پر کام کرنے کے لیے ڈرامہ نگار کو آزادی نہیں دی گئی۔ سکرپٹ اور لیرکس بتاتے ہیں کہ یہ چلے گا یا نہیں چلے گا۔“

Pakistan Drama Industry
Pakistan Drama Industry

گزشتہ دہائی سے پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کامیابی کی نئی بلندیوں کی جانب گامزن تھی۔ سال 2020ء کے پہلے ہی مہینے میں ہمایوں سعید کے سپر ہٹ ڈرامے ‘میرے پاس تم ہو’ کی آخری قسط سنیما اور ٹی وی پر بیک وقت پیش کی گئی۔ اس کے بعد تو وباء کی وجہ سے جیسے زندگی کو بریک لگ گئی۔ ڈرامہ انڈسٹری بھی اس کی زد سے محفوظ نہ رہ سکی۔ اس جھٹکے کو بڑے اداکار تو جھیل گئے لیکن چھوٹے فنکاروں نے بہت مشکل وقت دیکھا۔ دراصل فلم اور ڈرامے سے وابستہ ہر شخص کو شکایت ہے کہ پاکستان میں ان کی انڈسٹری نہیں ہے۔ نوجوان پروڈیوسر سعدیہ جبار نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ”حکومت اسے ایک انڈسٹری کا درجہ دے تا کہ ٹیکس سے لے کر تکنیکی سہولیات تک ریاستی سپورٹ حاصل ہو اور پروڈیوسرز اور سرمایہ کاری کرنے والے بلا خوف کام کر سکیں۔“ ہدایت کار احتشام الدین نے حکومتی سرپرستی اور کسی اکیڈمی کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ”ارتغرل غازی ڈرامہ جس نے شہرت کے ریکارڈ توڑے ہیں دراصل حکومتی سر پرستی کے باعث ہی ممکن ہو سکا ہے۔“ ان حالات میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حکومت انڈسٹری اور فنکاروں کی سرپرستی کرے تا کہ اس انڈسٹری سے ٹیکس حاصل کیا جا سکے اور ملکی ترقی پر خرچ کیا جائے۔ اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا جائے اور اداکاروں کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹرز اور تکنیکی عملے کی تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے۔ آج اگرچہ ٹی وی چینلز کی بھر مار کے باعث اداکاروں کو بہت سے مواقع حاصل ہیں مگر ڈرامہ انڈسٹری کا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر : انیلہ افضال ایڈووکیٹ

Share this:
Tags:
Actors drama entertainment opportunities pakistan Pakistani people اداکاروں انٹرٹینمنٹ پاکستان پاکستانی ڈرامہ عوام مواقع
Supreme Court
Previous Post سپریم کورٹ کے فیصلے کے خطرناک مضمرات ١
Next Post جرائم پیشہ افراد کی ہیڈمنی، سندھ رینجرز کو سب سے زیادہ انعامی رقم ملے گی
Sindh Rangers

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close