Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کارنیوال

February 15, 2015May 24, 2015 0 1 min read
Rio De Janeiro
Rio De Janeiro
Rio De Janeiro

تحریر۔۔۔ شاہد شکیل
ریو ڈی جینیرو جیسا ٹریڈیشنل تو نہیں لیکن اس سے کم بھی کولون کارنیوال نہیں ہوتا ہر سال گیارہ نومبر کو گیارہ بج کر گیارہ منٹ اور گیارہ سیکنڈ پر اس تہوار کا شاندار افتتاح کولون کے مئیر کی موجودگی میں تقریباً ستر ہزار افراد سے ہوتا ہے یہ تہوار تقریباً ساڑھے تین ماہ تک جاری رہتا ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کو مقناطیس کی طرح جرمنی کے پانچویں بڑے شہر کولون کھینچ لاتا ہے ایک نظر اس کے پس منظر اور تاریخ پر۔

پانچ مارچ سن تیرہ سو اکتالیس میں کولون اور ڈسل ڈورف کی سٹی کونسل نے باقاعدہ اس تہوار کا افتتاح بیک وقت دونوں شہروں میں کیا اور چھوٹے بڑے تجارت پیشہ افراد کو اس بات پر آمادہ کیاکہ اس تہوار کو بہتر اور پُر کشش بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیوں کہ اس تہوار سے عوام کو تفریح حاصل ہوگی اور کاروبار میں بھی ترقی کے مواقع پیدا ہونگے طویل بحث و مباحثہ کے بعد ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا جس میں مختلف کمیونٹی کے پروگرامز شامل کئے گئے اور عوام میں تشہیر کرنے کے بعد اسی سال گیارہ نومبر کو افتتاح ہوا تہوار کے آغاز سے ہی ہلچل مچ گئی ہر گھر گلی کوچے میں جوش وخروش پایا جانے لگا دوکان داروں نے اپنی حیثیت کے مطابق چندہ دیا

تہوار کے افتتاح میں ہی رنگ برنگے مختلف سٹائل کے (جوکر) ٹائپ کپڑے پہنے گئے خواتین و بچوں میں اس تہوار کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی اور یوں ہر سال نت نئے فیشن ، ڈیزائن اور میک اپ سے اس کا آغاذ ہونے لگا ،صدیوں سے قائم اس تہوار کو پہلے کولون اور ڈسل ڈورف میں منایا جاتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اسکی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور جرمنی کے دیگر شہروں بون ، کوبلینز ،ویز بادن اور مائینز تک ایک ٹریڈیشنل تہوار سمجھ کر منایا جانے لگا۔

اٹھارہ سو اکہتر میں جرمن فرانس جنگ، انیس سو پندرہ اور انیس سو چھبیس میں دیگر جنگوں کی وجہ سے روکاوٹ پیدا ہوئی ،دوسری جنگِ عظیم میں انیس سو چالیس سے انیس سو اڑتالیس تک ہٹلر نے کرکٹ کی طرح اس تہوار پر بھی پابندی عائد کر دی لیکن جمہوریت کا سورج طلوع ہونے پر دوبارہ نئے طور طریقوں سے اس کا آغاز ہوا آخری بار انیس سو اکانوے میں گولف جنگ بھی آڑے آئی۔یہ تہوار سرکاری طور پر ہر سال نومبر میں شروع ہوتا ہے کولون اور ڈسل ڈورف کے مختلف علاقوں میں مزاح اور رقص و موسیقی سے بھر پور پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں اور ہر علاقے میں منظم طریقے سے اورگنائیز کیا جاتا ہے

خاص طور پر ویک اینڈ پر لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اس تہوار کے آخری ہفتہ میں جمعرات کے دن جسے خواتین کا کارنیوال کہا جاتا ہے اپنی پوری آب و تاب سے شروع ہوتا ہے تقریباً ہر فرد رنگ برنگے لباس میں اور خاص میک اپ سے تیار ہو کر پارٹیوں میں شریک ہوتا ہے،کنڈر گارڈن اور سکولز کے بچوں کو خاص طور پر سنوارہ جاتا ہے چہروں پر رنگ برنگے سٹائل سے میک اپ کیا جاتا اور بچے اپنے پسندیدہ کوسٹیوم پہنتے ہیں جن میں سپائیڈر مین ، سپر مین ، آئیرن مین ، بہری قزاقوں اور باربی ڈول وغیرہ سر فہرست ہیں ،سکولز میں رقص و موسیقی کے فنکشن ہوتے ہیں جس میں شامل ہو کر سب انجوائے کرتے ہیں رات گئے تک پارٹیاں جاری رہتی ہیں مختلف مشروبات کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے۔اس دن شہر کی پولیس اور فائیر بریگیڈ خاص طور پر ہائی الرٹ رہتی ہے

Music
Music

کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے، دونوں شہروں کے سرکاری حکام ، کمپنیز اور دوکانوں کو جزوی طور پر بند کر دیا جاتا ہے ،شہر کے ہر چھوٹے بڑے کلبز اور ہالز میں میوزک کنسرٹ ہوتے ہیں اور سب مل جل کر اس تہوار کا جشن مناتے ہیں جمعہ اور ہفتہ کے دن بھی اسی طرح کے مختلف رنگا رنگ پروگرامز جاری رہتے ہیں دوسرے شہروں سے آئے آرٹسٹ اپنے روائتی انداز میں ہنسی مزاح اور میوزک پروگرامز کے ذریعے لوگوں کو تفریح مہیا کرتے ہیں اتوار کو ایک بڑا اجلاس منعقد کیا جاتا ہے جس میں پیر کو چلنے والی کارنیوال پریڈ کے روٹس بنائے جاتے ہیں اور پیر کی صبح دس بجے اس تہوار کی آخری تقریب کولون شہر کے مختلف علاقوں سے جلوسوں کی شکل میں شروع ہوتی ہے

اس خاص تقریب کیلئے شائقین سارا سال بے چینی سے انتظار کرتے ہیں، اس پریڈ میں ہر علاقے کے لوگوں نے اپنے روایتی رنگ برنگے ملبوسات پہنے ہوتے ہیں یہ پریڈ جلوس کی شکل میں شہر کی بڑی شاہراہوں سے ہوتی ہوئی چھوٹے علاقوں میں داخل ہوتی ہے اور تمام راستوں ،سڑکوں گلیوں کے دائیں بائیں کھڑے شائقین پر چاکلیٹس ، ٹافیاں ، رنگ برنگے پھول اور مختلف تحائف کی بوچھاڑ کرتے ہیں شائقین ان تحائف کو اپنی طرف آتا دیکھ کر پکڑتے ہیں اس عمل میں تقریباً ہر فرد اپنے ساتھ لائے ہوئے دو تین پلاسٹک بیگ بھر بھر کر اپنے ساتھ گھر لے جاتا ہے اور سارا سال چاکلیٹ یا ٹافی سپر مارکیٹ سے خریدنے کی نوبت نہیں آتی خاص طور پر چھوٹے بچے بہت خوش ہوتے اور خوب انجوائے کرتے ہیں،جہاں جہاں سے جلوس گزرتا ہوا آگے کی طرف رواں ہوتا ہے جلوس کے پیچھے پیچھے میونسپل کارپوریشن والوں کی صفائی کرنے والی گاڑی صفائی کرتی رہتی ہے اور یوں ہر علاقے کا یہ جلوس رات گیارہ بجے کولون شہر کے اس علاقے میں اختتام پذیر ہوتا ہے

جہاں سے گیارہ نومبر کو گیارہ بج کر گیارہ منٹ اور گیارہ سیکنڈ پر آغاز ہوا تھا۔ ہر سال اس تہوار کی تقریبات پر تقریباً چار لاکھ ساٹھ ہزار یورو کا خرچ آتا ہے جن میں سے ایک لاکھ پینسٹھ ہزار یورو کیٹیر نگ اور ہوٹلز کے علاوہ پچھتر ہزار یورو ٹرانسپورٹ پر خرچ کئے جاتے ہیں ، پچاسی ہزار یورو کے کوسٹیوم بنوائے جاتے ہیں تقریباً پانچ لاکھ یورو سرکاری خزانے سے استعمال کئے جاتے ہیں تین ہزار کمپنیز مختلف انٹر ٹینمنٹ کا اہتمام کرتی ہیں ، تین سو تین ٹن ٹافیوں ، کینڈیز ، سات لاکھ چاکلیٹ کے پیکٹ اور دو لاکھ بیس ہزار مختلف اقسام کے تحائف سڑکوں پر شائقین کے سروں پر پھینک دئے جاتے ہیں

اس تہوار کی سپانسرز مختلف کمپنیز ہوتی ہیں کولون شہر میں کارنیوال کے چار سو اسی کلبز ہر معاملے میں شئیر کرتے ہیں ،دو میلین سے زائد افراد پڑوسی ممالک خاص طور پر بیلجیم ، فرانس ، نیدر لینڈ ،پولینڈ اور انگلینڈ سے ہر سال یہ تہوار دیکھنے آتے ہیں ،ان کی آمد سے کولون شہر کو آٹھ میلین یورو کا فائدہ ہوتا ہے، اس تہوار کے آنے سے بے روزگاری بھی کم ہوجاتی ہے ایک مطالعے کے مطابق دوہزار آٹھ میں منائے گئے کارنیوال سے پانچ ہزار لوگوں کو روزگار حاصل ہوا تھا ٹیکسی والے خاص طور پر بہت مصروف ہوجاتے ہیں ان آخری چار دنوں میں نو لاکھ ستاون ہزار لوگوں کے شراب خانوں اور ڈسکوز میں انجوائے کرنے سے اڑتالیس لاکھ یورو کی کمائی ہوتی ہے اور ظاہر ہے اسی حساب سے حکومت کو ٹیکس بھی جمع ہوتا ہے جو ملک اور قوم پر ہی خرچ کیا جاتا ہے ۔اسے کہتے ہیں ایک ٹکٹ میں دو مزے۔حکومت پانچ لگا کر پچاس کماتی ہے ،مزے کا مزہ ،کمائی کی کمائی۔

یاد رہے کارنیوال اور ویلنٹائن ڈے دو مختلف تہوار ہیں ،کارنیوال ہر سال برازیل اور جرمنی میں فروری یا مارچ میں منایا جاتا ہے جبکہ ویلنٹائن ڈے ہر سال چودہ فروری کے دن ہی منایا جاتا ہے۔پاکستان میں ہر تہوار پر حکومت ہر چیز کا بحران پیدا کر دیتی ہے غریب عوام کے منہ سے روٹی ،پانی ،تیل ،بجلی پیٹرول ،گیس ،سب کچھ چھین کر بھی چین سے نہیں بیٹھتی،لوگ تفریح کیا کریں اگر کوئی بچ گیا تو قانون کے رکھوالے اژ دہے کی طرح منہ کھولے نگلنے کیلئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔جائیں تو جائیں کہاں ؟؟۔۔

Shahid Shakeel
Shahid Shakeel

تحریر۔۔۔ شاہد شکیل
visit official site:
http://www.aghaz.eu/

Share this:
Tags:
Crisis entertainment gas law Oil pakistan power بجلی بحران پاکستان پیٹرول تفریح قانون گیس
Karachi
Previous Post کراچی:گلشن اقبال مسکن چورنگی کے ریسٹورنٹ میں سلنڈر دھماکا
Next Post الیکشن سیل کمیٹی کے رکن کی گرفتاری پر ایم کیو ایم کی مذمت
MQM

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close