Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پاکستان میں غالب شناسی”اور ڈاکٹر شکیل پتافی

December 13, 2016December 13, 2016 0 1 min read
Pakistan Mien Ghalib Shanasi
Pakistan Mien Ghalib Shanasi
Pakistan Mien Ghalib Shanasi

تحریر: سلیم سرمد
اسے خالقِ کائنات کا معجزہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں کچھ شخصیات ایسی پیدا ہوتی ہیں، جن کا نام لیتے ہوئے کسی تفسیریا جامع تعارف کی ضرورت وقت کا قطعاَ تقاضا نہیں ہوتی۔ایسی شخصیات ہر دور میں آپ اپنا مکمل تعارف اور معتبر حوالہ ہوتی ہیں۔آج میں جس موضوع پراپنے قلم کو تقویت دینے کی کوشش کر رہا ہوںوہ ہے ڈاکٹر شکیل پتافی کا پی۔ایچ۔ ڈی کا مقالہ”پاکستان میں غالب شناسی”۔ بات اگر صرف حضرت غالب کی کی جائے جن کی شخصیت وفن پر سینکڑوں کی تعداد میں تذکرے،مضامین،منظوم و منثور تراجم،دواوین اور شرحیں کی صورت میں ان گنت کتابیں لکھی جا چکی ہیں، اور سلسلہ ہنوز جاری ہے۔لہٰذا میرا غالب کی شخصیت و فن پہ اپنے قلم کو جنبش دیناسوائے مقصدِ تدریس اور کچھ نہیں، ڈاکٹر شکیل پتافی اور ان کی اس تحقیق پر تبصرہ کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ مگر کیا کروں میرا ذوق ِتجسس مجھے لکھنے پرمجبور کرتااور اکساتا رہتا ہے۔کیونکہ میں اپنے اس تجسس اور کریدنے کے عمل میں بہت سے نئے مشاہدات میں سے گزرتا ہوںجو میرے ادبی سفر کے لیے بہت حد تک سود مند ثابت ہوتے ہیں۔

گو کہ آج تخلیق ہونے والے ادب اورشاعری میں جدید میتھڈ اپنایا جا رہا ہے مگر جو تخلیقی رنگ قدماء باندھ گئے اسے بے نظیر کہنا بے جا نہ ہو گا۔ ان متقدمین نے آفاقی ادب تخلیق کر کے ہمیں بیش بہا خزانے سے نوازا ہے۔مزیدبرآں مؤرّخین اور محقّقین حضرات کی تحقیق اور کدّو کاوش کی بدولت ان کی زندگی اور شخصیت و فن کے کئی اہم پہلو اور حقائق منظر ِعام پر آتے ہیں، مگر یہاں پر ایک شرط عائد ہوتی ہے وہ ہے محققین اور مؤرخین کا حقائق پسند اور غیر جانبدار ہونا۔ اور الحمداللہ محترم جناب ڈاکٹر شکیل پتافی نے جس طرح تحقیق کے اس فریضے کو محنت ،لگن اور ایمانداری سے سرانجام دیا ہے یقیناَ لائقِ صد تحسین ہے۔ نیز ان کی یہ عظیم کاوش آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ اور ادب کا گراںقدر سرمایا ہے،اور جب تک غالبیات پہ کام ہوتا رہے گا ڈاکٹر صاحب کا نام زندہ وجاوید رہے گا۔

اس سے قبل ڈاکٹر شکیل پتافی ہمارے قومی اور علاقائی ادب کوبیش بہا خزانہ شعری تخلیقات اور تحقیقات کی کی صورت میں عطا کر چکے ہیں لیکن ان کا یہ تحقیقی مقالہ”پاکستان میں غالب شناسی”سب سے بڑا اور منفرد و معتبر کارنامہ ہے۔مجھ ایسے طفلِ مکتب نے غالبیات کے حوالے سے اتنا جاندارلٹریچر پہلے کبھی نہیںدیکھاتھا۔خوبصورت مجلد کتابی شکل اور٨٤٠ صفحات کی طویل ضخامت پر مبنی یہ مقالہ مندرجہ ذیل٦(چھ)ابواب پر مشتمل ہے۔

١۔اردو میں غالب شناسی کی روایت۔۔۔۔۔۔۔١٩٤٧ء تک
٢۔ترتیب و تدوین
٣۔تحقیق و تنقید
٤۔ترجمہ و تشریح
٥۔متفرقات
٦ ۔پاکستان میں غالب شناسی کا مستقبل

جیسا کہ میں اوپر گزارش کر چکا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کی یہ ریسرچ طویل ضخامت پر مبنی ہے لہٰذا ہم یہاں پر صرف باب اوّل کے اجزاء و مضامین یعنی ”غالب شناسی کی روایت” اور” غالب شکنی کی روایت ”کے مباحث پر چیدا چیدا روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے یا مکمل باب کا مجموعی طور پر مختصر مشاہداتی جائزہ پیش کرتے ہوئے اقتسابات اور حوالہ جات درج کریں گے۔

باب اول:اردو میں غالب شناسی کی روایت۔۔۔۔۔١٩٤٧ء تک
یہ باب مندرجہ ذیل تحقیقی مباحث اور مضامین پر مشتمل ہے
(الف) غالب شناسی کی روایت
(ب) غالب شکنی کی روایت
حوالہ جا ت و حواشی

(الف)غالب شناسی کی روایت :
بابِ اول میں ڈاکٹر شکیل پتافی صاحب کی ریسرچ کی بدولت جہاں تذکرہ نگاری کی روایت سے آشنا ہوئے ،وہیں اس تذکرہ نگاری کی بدولت غالب شناسی کے ابتدائی عہد کا اندازہ بھی ہوجاتا ہے۔

بقول ڈاکٹر شکیل پتافی ،ایک روایت کے مطابق میر نے غالب کا کلام سن کر کہا تھا: ” اگر اس لڑکے کو کوئی کامل استاد مل گیا اور اس نے اس کو سید ھے رستے پر ڈال دیا تو لا جواب شاعر بن جائے گا ورنہ مہمل بکنے لگے گا”(١) ”میر کے اس بیان سے غالب شناسی کا آغاز ہو جاتا ہے۔غالب اس وقت بارہ تیرہ سال کے تھے جب میر نے ان کے بارے میں یہ رائے اختیار کی تھی۔غالب ١٢١٢ھ میں پیدا ہوئے اور میر کا سال وفات ١٢٢٥ھ ہے۔رہا یہ سوال کہ اس کم عمری میں غالب اتنت اچھے شعر کیسے کہنے کے قابل ہو گئے تھے کہ میر جیسے بلند پایہ شاعر اور تذکرہ نگار نے ان پر تبصرہ کرنے کی ضرورت محسوس کی ہو؟اس سوال کے جواب میں یہ حقیقت سامنے آ جاتی ہے کہ غالب فی ا لواقع کم عمری میں شعر کہنے لگ گئے تھے اور اپنی شاعری کے ابتدائی دنوں ہی میں انہیں ایک شناخت مل گئی تھی”(ڈاکٹر شکیل پتافی)۔ مولانا حالی فرماتے ہیں: ” مرزا کی شاعری اکتسابی نہ تھی بلکہ ان کی حالت پہ غور کرنے سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ملکہ ان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا تھا۔انہوں نے جیسا کہ اپنے فارسی دیوان کے خاتمے میںتصریح کی ہے۔گیارہ برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔” (٢) غالب کے بعض نامور محققین کا بیان بھی یہی ہے کہ انہوں نے کم عمری ہی میں شاعری کا آغاز کر دیا تھا۔اس سلسلے میں امتیاز علی خاں عرشی رقم طراز ہیں: ”وہ تقریباََ دس برس کی عمر سے شعر گوتھے کیونکہ کلیات فارسی کا اظہار جو سب سے قدیم ہے یہی ثابت کرتا ہے”(٤) یہی بات مالک رام نے بھی کہی ہے ۔وہ ایک جگہ لکھتے ہیں: ”وہ مولوی محمد معظم کے مکتب میں پڑھتے تھے اور ان کی عمر دس گیارہ سال سے زیادہ نہیں تھی کہ انہوں نے شعر کہنا شروع کر دیا تھا”(٥) میر اورمولاناحالیکے ان بیانات کے ساتھ ساتھ دیگر اساتذہ و متقدمین کی آراء سے اس بات کو تقویت پہنچتی ہے کہ غالب واقعی کم عمری میں اچھے شعر کہنے لکھنے لگ گئے تھے اور انہیں شاعری کے ابتدائی دنوں ہی میںایک شناخت مل گئی تھی۔ علاوہ ازیں اس باب میں ، تذکروں میں غالب کا مختصر تعارف،ان کی زندگی کے حالات و واقعات،ان کا شعری رجحان،اور شعری سفر کے ساتھ ساتھ تذکرہ نگاری کی بدولت غالب شناسی اور غالب شکنی(جو دراصل غالب شناسی کا حصہ ہے) کے موضوعات اور حالات و واقعات پہ روشنی ڈالی گئی ہے۔

میر کی اس رائے کے بعدغالب کا جامع تعار ف نواب ضیاء الدین احمد خان ایک تقریظ کی صورت میں سامنے لائے ان کے اس نثری تنقیدی نوٹ میں غالب کو ” سرخیلِ انجمنِ نکتہ دان”قرار دیا گیا اور ساتھ ہی چند فارسی اشعار بھی کہے جو کلامِ غالبپر باقاعدہ تنقیدی خیالات کی حیثیت رکھتے ہیں،یہ تقریظ مع اشعار کئی صفحات پر مشتمل تھی جسے سر سیّد احمد خان نے اپنی تصنیف” آثار الصنادید” میں بھی شامل کیا۔ تذکرہ نگاری کی بدولت پھر یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پرچل نکلا ،بڑے بڑے تذکرہ نگاروں نے اپنے اپنے نقطہء نظر کے حساب سے غالب پر کچھ نہ کچھ ضرور لکھا۔غالب شناسی کے حوالے سے چند تذکرے ملاحظہ فرمایئے۔

سید محمدصدیق حسین خان کا تذکرہ جو کہ ”شمع انجمن ”کے نام سے ١٨٧٦ء میں تصنیف ہوا ،جس میں غالب کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا :”خطاب نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ بہادر،شاہجہان آباد کے نامی سخنوروں میں سے ہے،قوتِ فکرِ خداد ادکا مالک ہے۔اشعار کی خوش وضع بنیاد تعمیر کرتا ہے اور دلکش معنی اختراع کرتا ہے۔ بیشہء سخن پروری کا شیر ہے اور معنی گستری کی ولایت کا فرمانروا۔نثر و نظم میں طرزِ خاص کا مالک ہے اور دلنشیں تراکیب ایجاد کرتا ہے ۔ان کے بہت سے معاصر نثر نویسی اور شعر گوئی میں ان کے کمال کے قائل ہیں”۔(٥٢) غالب شناسی کے حوالے سے سیّد نور الحسن کا تذکرہ” طورِ کلیم” بھی جو کہ ١٨٧٨ء میں شائع ہوا قابلِ ذکر ہے جس میں غالب اور ان کی علمی خدمات کے بارے میں بنیادی باتوں کو منظرِ عام پر لایا گیا: ” فخرِ عرفی و غیر ت طالب میرزا نوشہ اسداللہ خان المخاطب بہ نجم الدولہ،دبیر الملک، نظام جنگ بہادر افراسیاب کی نسل میں سے تھے۔اکبر آباد میں مولد تھااور دہلی مسکن۔ لفظ ”غریب” تاریخِ ولادت ہے۔وفات ١٢٨٥ھ میں واقع ہوئی۔ ”پنج آہنگ”، ”دستنبو”، ” مہر نیم روز” اور” قاطع برہان” ان کی تالیفات میں سے ہیں۔فارسی زبان میں بھی ایک دیوان رکھتے ہیں۔ابیات کا مجموعہ بھی ہے۔اوّل اوّل مرزا بیدل کی روش اختیار کی۔آخر الامربڑا پسندیدہ انداز ایجاد کیا۔اپنے دیوانِ ریختہ میں سے بہت سے اشعار نکال دیے ہیں اور قلیل تعداد میں انتخاب کر لیے ہیں۔پہلے اسد تخلص کرتے تھے، جو غزلیات کے بعض مقطعوں میں اب بھی موجود ہے۔پچاس سال ان کی مدتِ مشق ہے۔ فارسی گوئی میں ان کا پایہ فحول الشعراء سے کم نہیں اور ریختہ کی حالت بھی یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی ہم مرتبہ ہے تو سامنے لائیں۔ اگر حدیقہء نظم کے لیے نو بہار ہیں تو عرصہء نثر میں بھی مرد کار ہیں۔جمیع اصنافِ سخن پر جو قدرت انہیں حاصل ہے، بیان سے باہر ہے”(٥٤) مضمون ہذا میں غالب شناسی کے حوالے سے تمام مندرج تذکرہ نگاروں کا احاطہ کرنا تو ممکن نہیں لیکن یہاں پر چند تذکروں کے نام مع نامِ تذکرہ نگار درج ذیل ہیں۔

”نکات الشعر ائ” (میر)، ”عیار الشعرائ”(خوب چند ذکائ)، ”عمدہء منتخبہ” (اعظم الدولہ سرور)، ”گلشنِ بے خار” (نواب مصطفی خان شیفتہ) ، ”انتخابِ یادگار” (امیر مینائی )، ” آب ِ حیات ” (مولانا محمد حسین آزاد)۔ اس کے علاوہ مولانا حالی کا تنقیدی شاہکار ” یادگارِ غالب ”انتہائی ہمیت کا حامل ہے۔

مولانا حالی غالب کا موازنہ میر و سودا اور ان کے مقلدین سے کرتے ہوئے غالب کو ایک نئے طرز اور نرالی کیفیت کاشاعر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ” چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب میر و سودا اور ان کے مقلدین کے کلام میں ایک ہی قسم کے خیالات اور مضامین دیکھتے دیکھتے جی اکتا جاتا ہے اور اس کے بعد مرزا کے دیوان پر نظر ڈالتے ہیں ، تواس میں ہم کو ایک دوسرا عالم دکھائی دیتا ہے اور جس طرح کہ ایک خشکی کا سیاح سمندر کے سفر میںیا ایک میدان کا رہنے والاپہاڑ پر جا کر ایک بالکل نئی اور نرالی کیفیت کا مشاہدہ کرتا ہے،اسی طرح مرزا کے دیوان میں ایک اور ہی سماں نظر آتا ہے” (٦١)۔ اس عہد کے تذکروں میں ایک نہایت اہم تذکرہ، کریم الدین کا ” گلدستہء ناز نیناں ” قابلِ ذکر ہے۔

یہ تذکرہ دو باتوں سے نہایت منفرد حیثیت اور اہمیت کا حامل ہے۔ اوّل یہ کہ جتنازیادہ نمونہء کلام اس تذکرے میں ہے اور کسی تذکرے کے حصے میں نہیں آیا۔ دوم یہ کہ اس تذکرے کے ذریعے غالب کی ایک ایسی غزل برآمد ہوئی جو کسی مطبوعہ دیوان میں حتی کہ نسخہء حمیدیہ میں بھی شامل نہیں،جو کہ درج ذیل ہے:
اپنا احوال دلِ زار کہوں یا نہ کہوں
ہے حیاء مانع ِاظہار، کہوں یا نہ کہوں
نہیں کرنے کا میں تقریر ادب سے باہر
میں بھی ہوں محرمِ اسرار کہوں یا نہ کہوں
شکر سمجھو اسے یا کوئی شکایت سمجھو
اپنی ہستی سے ہوں بیزار کہوں یا نہ کہوں
اپنے دل ہی سے میں احوالِ گرفتاریء دل
جب نہ پاؤں کوئی غم خوار، کہوں یا نہ کہوں
دل کے ہاتھوں سے کہ ہے دشمنِ جانی میرا
ہوں اک آفت میں گرفتار کہوں یا نہ کہوں
میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غماز
گوش ہیں در پسِ دیوار کہوں یا نہ کہوں
آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسد
حسبِ حال اپنے پھر اشعار کہوں یا نہ کہوں (٢٣)

(ب) غالب شکنی کی روایت:
اب ذرا غالب شکنی کے حوالے سے تھوڑا سا جائزہ لیتے ہیں۔غالب شکنی کے حوالے سے ڈاکٹر شکیل پتافی کی تحقیقی کاوش کچھ اس طرح سامنے ہے: ” غالب کی زندگی میں جہاں ان کی تعریف و توصیف کی گئی اور ان کی حق و تائید میں لکھا گیا وہیں ان کے خلاف لکھے جانے کی روایت بھی قائم ہو گئی۔جس کے نتیجے میں غالب شکنی ایک مستقل موضوع کی شکل اختیار کر گئی۔غالب کے خلاف جو کچھ بھی لکھا گیا،اگرچہ وہ اس کا عشرِ عشیر بھی نہیںکہ جو اُن کے حق میں لکھا گیالیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ غالب شناسی کے ہر عہد میں ہندوستان کے اطراف و اکناف سے غالب شکنی کی آوازیں بھی سنی جاتی رہی ہیں۔کوئی دور ایسا نہیں کہ غالب کے خلاف نہ لکھا گیا ہو۔غالب کے خلاف لکھنے والوں نا صرف ان کے شعر و فن کو موضوع بنائے رکھا بلکہ غالب کی ذاتی اور شخصی زندگی کو بھی نشانہ بنانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا۔کچھ تحریریں مخالف برائے مخالف کے ضمن سامنے آئیں۔جبکہ بعض اہلِ قلم نے تو اس موضوع کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا کہ جب بھی لکھا، جو بھی لکھا،غالب کے خلاف ہی لکھا۔لیکن اگر دیکھا جائے تو غالب شکنی بھی دراصل غالب شناسی ہی کا ایک عمل یا ردِ عمل ہے جو غالبیات میں گراں قدر اضافے کا باعث بنا ہے۔

Dr Shakeel Pitafi
Dr Shakeel Pitafi

غالب کے خلاف سب سے پہلی آواز ان کے ایک ہم عصر تذکرہ نگار،قطب الدین باطن نے بلند کی۔” گلستانِ بے خزاں ” ان کا تذکرہ ہے جو دراصل شیفتہ کے تذکرے ” گلستانِ بے خار ” کے جواب میں لکھا گیا ہے۔شیفتہ سے باطن کی مخالفت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس نے اپنے تذکرے ” گلشنِ بے خار” میں باطن کے استاد نظیر اکبر آبادی کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اشعار کو بازاری لوگوں کی پسند قرار دیا تھا۔جواب میں باطن نے اپنے تذکرے میں نا صرف اس بلکہ اس کے استاد(غالب) کو بھی جی کھول کر برا بھلا کہا۔چنانچہ ” گلستانِ بے خزاں ” کا ذکر غالب شکنی کا نقشِ اوّل قرار پاتا ہے۔”

بقول ڈاکٹر فرمان فتح پوری: باطن کا بیان خاصا دلچسپ ہے اور غالب کے کلام اور شخصیت پر جائز ونا جائز،بہرحال اوّلین تنقیدی تحریر کی حیثیت رکھتا ہے”(١٨٤) ” گلستانِ بے خزاں ” میں سے غالب کے بارے ایک اقتباس ملاحظہ ہو: ” غالب و اسد تخلص،اسداللہ خان نام،ملقب بمرزا نوشہ،آپ دو تخلص کرتے ہیں۔انتخاب ِ زباں میں یکہ دوراں ہیں…جس طرح طبیعت آئی اس کی خاک اڑائی چنانچہ دفتر رز سے تاک لگائی تو وہ ظرف پیدا کیا کہ مینائے گردوں میں شرابِ شفق قاضیء آفتاب بہ ادب پیش کش لایا اور قمار بازی پر جو دھیان کیا تو چھٹے جواری ہوئے………..دہلی والے صاحب کو اپنے روبرو میں نہیں لاتے۔ مارے خودی اور تبختر کے جی میں پھولے نہیں سماتے پر جب کسی سے مقابلہ ہو تو دم بھر میں فیصلہ ہو۔ان کو شراب و شباب چاہیے۔روزے کے نام سے انہیں کیا کام، نماز کو ان کا ہر دم سلام،اصحابِ تذکرہ کی تحریر دیکھی اور ان کی تقریر دیکھی۔ کیا غرور ہیں ۔اپنے نزدیک کتنے دور ہیںیارانِ ہم صحبت ان سے زیادہ غرورمیں چور ہیں۔گویا ان کے یار خوشامد کے مزدور ہیں۔دہلی والے صاحبوں کے تذکرے جو عبارت رکھتے ہیں ۔متاع خیریت شعرائے ماضی و حال مصنف کے غارت رکھتے ہیں”(١٨٥) ” غالب پر ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے جو الزامات عائد ہوئے ہیں ان میںسے مے نوشی اور قمار بازی شامل ہیں۔چنانچہ غالب کے خلاف لکھنے والوں نے( جیسا کہ باطن کے محولہ بالا بیان سے ظاہر ہے) ان کی شخصی کمزوریوں کو منظرِ عام پر لانے کی کوشش کی گئی ہے۔غالب کے عہد میں جو اخبار شائع ہوئے ہیں ان میں بھی بعض خبریں غالب خلاف چھپی ہیں، جن سے غالب کی شخصیت کے منفی پہلوؤںپر روشنی پڑتی ہے جو آگے چل کر غالب شکنی کا روپ اختیار کر چکی ہیں۔

ذیل میں ٢٢ اگست ١٨٤١ کے ایک اخبار ” دہلی اردو اخبار” میںغالب کے بارے میں شائع ہونے والی خبر کا اقتباس پیش کیا جاتا ہے۔ملاحظہ ہو”(ڈاکٹر شکیل پتافی): ” سنا گیا ہے کہ ان دنوں گرز قاسم خان میں مرزا نوشہ کے مکان سے اکثر نامی قمار باز پکڑے گئے،مثل ہاشم خان وغیرہ کے جو سابق بڑی علتوں میں دور ہ تک سپرد ہوئے تھے،بڑا قمار ہوتا تھا،لیکن بہ سبب رعب و کثرتِ مردان کے یاکسی طرح سے کوئی تھانیدار اثر انداز نہیں ہو سکتا تھا۔اب تھوڑے دن ہوئے یہ تھانیدار قوم سے سیّد اور بہت جری سنا جاتا ہے،مقرر ہوا ہے…….. یہ مرزا نوشہ ،ایک شاعر، نامی رئیس زادہ نواب شمس الدین قاتل ولیم فریزر کے قرابت قریبہ میں سے ہے۔یقین ہے کہ تھانیدار کے پاس بہت رئیسوں کی سعی و سفارش بھی آئی لیکن اس نے دیانت کا کام فرمایا،سب کو گرفتار کیا۔عدالت سے جرمانہ علیٰ قدر مراتب ہوا۔مرزا نوشہ پہ سو روپے، نہ ادا کریں توچار مہینہ قید” (١٨٧) یہ خبر دوسرے اخبار ات میں بھی شائع ہوئی۔مثلاََ کلکتہ کے فارسی اخبار ” مہرِ منیر ”نے ٢ ستمبر ١٨٤١ء کے شمارے میں یہ خبر اس طرح شائع کی: ” از مکانِ مرزا نوشہ ،شاعرِ نامدار دہلی،یکے از عزیزانِ نواب شمس الدین خان مرحوم،تنے چند مقامرانِ نامدار کہ در لیل و نہار بجزقمار دیگر کارندا شتند،در حالتِ مقامرت بسعی تھانیدار اسیر و گرفتار شد ندوبر محکمہ حاکم حاظر گردیدند۔حاکمِ نصف شعار از شاعر یک صد روپیہ و از دیگران سی سی روپیہ جرمانہ گرفتہ آزاد فرمود ”(١٨٨) ” مہر منیر” کی اس خبر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غالب کو سو روپیہ جرمانہ ہوا تھا جبکہ دوسروں کو تیس تیس روپے۔قمار بازی کا یہ واقعہ ١٨٤١ء میں پیش آیا تھا۔ ١٨٤٧ء میں غالب پھر قمار بازی کے الزام میں پکڑے گئے۔جس سے ان کی شخصی زندگی بری طرح متاثر ہوئی اور دشمنوں کو ایک بار پھر ان کے خلاف منہ کھولنے کا موقع مل گیا۔اس سلسلے میں ٢٦ جون ١٨٤٧ ء کے ”احسن الاخبار” میں اس حواالے سے خبرشائع ہوئی جو یہاں طوالت سے بچتے ہوئے درج نہیں کر رہے۔

غالبکی زندگی میں علمی نوعیت کا بھی ایک واقعہ ایسا رونما ہوا جس کے نتیجے میں ان کے خلاف پورامحاذ کھل گیا۔اسے ”قضیہء برہان ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔١٨٥٧ء کے انقلاب کے بعد غالب عموماََ گوشہ نشین ہو گئے تھے۔اس دوران میں انہوں نے فارسی کی مشہور لغت ” برہانِ قاطع” مؤلفہ محمد حسین تبریزی کا بنظرِ غائر مطالعہ کیااور اس میں انہیں جوغلطیاں نظر آئیں ان پر اشارات قلمبند کرتے رہے۔بعدازاں ان اشارات کو یکجا کیا تو ایک رسالہ مرتب ہو گیا۔جس کا نام غالب نے ”قاطع برہان” رکھ دیا۔١٨٦٢ء میںیہ کتابی شکل میں شائع ہوا ” برہانِ قاطع ” کے حامیوں نے غالب کے خلاف ایک طوفان برپا کر دیا۔مخالفین کے طرزِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے مولانا غلام رسول مہر نے لکھا ہے:
” قاطع کے شائع ہوتے ہی جامد خیال مقلدوں کے لشکر غالب کے خلاف صفیں باندھ کرکھڑے ہو گئے۔ ان میں سے کوئی یہ سوچنے کے لئے تیار نہیں تھا کہ غالب نے کیا لکھا ہے یا اصولِ فارسی کے لحاظ سے اس کی حقیقی حیثیت کیا ہے۔سب محض اس وجہ سے جوش میں آگئے کہ غالب کو صاحبِ برہانِ قاطع کے خلاف زبان کشاہونے کی جرأت کیوں کر ہوئی؟اس سلسلے میں غریب غالب نے چھوٹے پیمانے پر وہ تمام مصیبتیں اور اذیتیں برداشت کیں جو تقلید و جمود کے راستے سے الگ ہو کر چلنے والوں کو ہر عہد اور ہر دائرے میں ہمیشہ آتی رہی ہیں”(١٩١) اور بقول مولانا حالی، ہر کس و نا کس مرزا غالب کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گیا(١٩٢) ”قاطع برہان” کے جواب میں جو کتابیں لکھی گئیں۔ان میں چار فارسی نثر میں ہیں جن کے نام یہ ہیں۔

١ ۔ محرق قاطع برہان، از سیّد سعادت علی ، دہلی: ١٨٦٣ئ
٢ ۔ ساطع برہان، از میرزا رحیم بیگ،میرٹھ: ١٨٦٥ء
٣ ۔ مئوید برہان، از مولوی احمد علی، کلکتہ: ١٨٦٦ئ
٤ ۔ قاطع القاطع ، از مولوی امین الدین پٹیالوی، دہلی: ١٨٦٦
ئ
غالب کے خلاف یہ کتابیں نا صرف خاص و عام میںتقسیم ہوئیں بلکہ اس عہد کے اخبارات نے بھی ان کتابوں کے اشتہارات کو نمایاں طریقے سے شائع کر کے مسئلے کو اور زیادہ ہوا دینے کا کردار ادا کیا۔
” چراغِ دہلی” غالب کا مخالف اخبار تھا۔اس نے ٦اکتوبر ١٨٦٦ء کے شمارے میں مولوی امین الدین پٹیالوی کی کتاب” قاطع القاطع” کا اشتہار ان الفاظ میں شائع کیا: ” ایک کتاب مسمی بہ”قاطع القاطع” من تصنیف مولوی امین الدین بجواب ”قاطع برہان”مصنفہ اسداللہ خان غالب کہ جناب ممدوح نے بہ ردِ لغات برہانِ قاطع تحریر فرما کراس مردہء دو صد سالہ کو بہ دشنام دہی یاد فرمایا تھا۔مولوی صاحب نے جملہ اقوال جناب مرزا صاحب کو تردید کرکے اور سند اور نظائر اس کے کلمات اساتذہء قدیم سے بہم پہنچا کر اقوال برہان کو بخوبی تمام پایہء ثبوت پہنچایا”(١٩٣) غالب کی شاعرانہ زندگی کے بارے میں یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ان کی فکر چونکہ ان کے ہم عصروں سے بلند و بالا تھی اس لئے ان کے ابنائے عصران کی بات کو پوری طرح نہیں سمجھ پائے یعنی غالب کے جوہرِ اندیشہ کو گرفت میں نہیں لا سکے۔ایسی صورت میں یوں ہوتا ہے کہ شاعر کی شاعرانہ قدر و قیمت کو گھٹا کر پیش کرنے کی روش چل نکلتی ہے۔جس سے قاری اور شاعر کے درمیان ایک بُعد سا پیدا ہونے لگتا ہے۔چنانچہ ابتداَغالب کے ساتھ ایسا کرے کی کوشش کی گئی۔اگرچہ غالب کو یہ شکوہ رہا کہ ناقدروں نے ان کے کمال فن کی کوئی خاطر خواہ قدر نہیں کی اور اس عہد میںغالب کے ہوتے ہوئے دلی میںذوق کو اورلکھنومیں ناسخ کو ان پر فوقیت دی جاتی رہی۔لیکن غالب کی وفات کے بعد بھی ابتداََیہی تعصب روا رکھا گیا۔اس سلسلے میں مولانا محمد حسین آزاد نے بھر پور کردارادا کیا۔ذوق چونکہ ان کے استاد تھے اس لئے انہوں نے ”آب ِحیات ” ذوق کے نام کے ساتھ ” ملک الشعرائ”ہونے کا اعزاز چسپاں کر کے غالب پر انہیں فوقیت دینے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر گیان چند کا کہنا ہے کہ ہے کہ مولانا آزاد نے اگرچہ غالب کی کافی مدح کی ہے لیکن اس مد ح کے پردے میں” ہجو ِملیح” کی بد گمانی ہوتی ہے(٢٠٢)۔آزاد لکھتے ہیں:

اکثر شعراء ایسے درجہء رفعت پر واقع ہوئے ہیں کہ ہمارے نارسا ذہن وہاں تک نہیں پہنچ سکتے”۔(٢٠٣) آزاد نے” اردوئے معلی ” محاوروں اور روزمرہ کی مثالیں دے دے کر اعتراض کیا ہے: ” بعض فقرے کم استعداد ہندوستانیوں کے کانوں کو نئے معلوم ہوتے ہیں ”(٢٠٥)

مندرجہ بالا دونوں عنوانات، غالب شناسی اور غالب شکنی (جو دراصل غالب شناسی ہی کاایک پہلو ہے ) کے لا متناہی ریفرنسز کو کسی مضمون میں سمونا ممکن نہ ہے اس کے لئے یہ کام ایک ضخیم کتاب کا مطالبہ کرتا ہے مگر باوجود کوشش کے بھی اختصار قائم نہ رہ سکا۔لہذا باقی ابواب کے ساتھ ان کے صرف اجزاء درج کرنے پہ اکتفاء کرتے ہیں۔

باب دوم:ترتیب و تدوین
(الف)اردو شاعری(ب) اردو نثر(ج)فارسی شاعری(د)فارسی نثر(ہ)متفرق، مجموعی جائزہ،
باب سوم:تحقیق و تنقید
(الف) تحقیق
۔ اردو کتب کا جائزہ ۔ دیگر زبانوں میں تحقیق ۔ جامعات میں تحقیق ۔ زیر تحقیق مقالات
۔ مجموعی جائزہ
(ب) تنقید
۔ اردو کتب کا جائزہ ۔ دیگر زبانوں میں تنقید ۔ مجموعی جائزہ ۔ حوالہ جات و حواشی
باب چہارم:ترجمہ و تشریح
(الف)ترجمہ
۔ منثور اردو تراجم ۔ منظوم اردو تراجم ۔ منثور انگریزی تراجم ۔ منظوم انگریزی تراجم
۔ علاقائی زبانوں میں تراجم ۔ مجموعی جائزہ
(ب)تشریح
۔ اردو کلام کی شرحیں ۔ متفرق اردو شرحیں ۔ فارسی کلام کی شرحیں ۔ مجموعی جائزہ ۔حوالہ جات و حواشی
باب پنجم:متفرقات
ہم طرح ۔ تضمین ۔ پیروڈی ۔ مزاح ۔ ناول ۔ ڈرامے ۔ لطائفِ غالب ۔ نصابی رہنمائی ۔ غالب شناسوں پر تحقیق ۔ غالبیات کے ادارے ۔ غالب شناس ۔ کتابوں میں غالب ۔ ادبی جرائد(غالب نمبر) ۔ قومی اخبارات (غالب ایڈیشن) ۔ متفرق مضامین (اشاریہ) ۔ مجموعی جائزہ ۔ حوالہ جات و حواشی
باب ششم:پاکستان میں غالب شناسی کا مستقبل
(الف)غالب پر لکھنے کی ضرورت
(ب)اردو زبان و ادب پر غالب کے اثرات
(ج)پاکستان میں غالب شناسی کا مستقبل
(د)چند تجاویز

قارئین کرام! یہ تو تھا غالب شناسی کے حوالے سے ڈاکٹر شکیل پتافی کے پی۔ایچ۔ڈی کے تھیسس ”پاکستان میں غالب شناسی” کامختصرتعارف ،میںنے اپنی طرف سے ہر ممکن سعی کی کہ حقائق اورحوالہ جات کو سوفیصد صحیح حد تک قلمبند کروں پھر بھی بشری تقاضوں کے تحت اگر کوئی دقیقہ فرو گزاشت رہ گیا ہو تواس کے لیے پیشگی معذرت۔اورمیں آخر میں اس مقالے کے مصنف و محقق ڈاکٹر شکیل پتافی کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہوں گا جن کی متحقق کاوش کی بدولت قومی علم و ادب کے سرمائے میں گراں قدر اضافہ ہوا۔اورنیز اس تحقیق اور ادبی شہ پارے سے نا صرف دورِ حاضر کے غالب شناسی کے طلباء فائدہ اٹھائیں گے بلکہ آنیوالا ہر عہد مستفید ہو گا۔

Saleem Sarmad
Saleem Sarmad

تحریر: سلیم سرمد
contact number(03326209296)
email address:saleemsarmad418@gmail.com

Share this:
Tags:
pakistan personalities poets Saleem Sarmad universe پاکستان ڈاکٹر شکیل شاعر شخصیات غالب کائنات
Teeth Pain
Previous Post دانتوں کے درد سے نجات پانے کیلیے آزمودہ گھریلو نسخے
Next Post دامن پر دھبے
Corruption

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close