Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

رد ا لفساد فی الارض کی ضرورت

September 16, 2017 0 1 min read
Terrorist
Terrorist
Terrorist

تحریر : قادر خان افغان
بھارت نے پراکسی وار کیلئے دہشت گردوں کو استعمال کرنے کا اظہار کچھ یوں کیا تھا کہ “بھارت کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دہشت گردوں کا استعمال کرنا چاہیے”۔ بھارت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر کے اس بیان کی تائید بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی کی تھی ۔ دو سال قبل دیا جانے والا یہ بیان محض ایک سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ یہ بھارت کی نئی ڈاکٹرائن پالیسی کا حصہ تھا جس میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرکے ایک جانب تو ہندو انتہا پسندی فروغ دیا جاسکے تو دوسری جانب اپنے مخالفین کے خلاف اسی ہتھیار کو استعمال کرکے اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے ۔ بھارتی وزیر دفاع یہ بھی کہہ چکے تھے کہ “ضروری نہیں کہ دشمن کے خلاف ہمارے فوجی ہی لڑیں “۔پاکستان عالمی استعماری قوتوں کے ہاتھوں جس طرح استعمال ہوا اُس کے مُضر اثرات تادیر قائم رہیں گے ۔یوم دفاع پاکستان کے موقع پر پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فکر انگیز ایک بیان دیا کہ”جہاد ریاست کا حق ہے ۔بھٹکے ہوئے لوگ جہاد کے نام پر فساد کررہے ہیں۔

پاکستان نے بہت کرلیا اب دنیا ڈومور کرے۔”بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی موجودہ سوچ مختلف اور روشن ہے ۔بد قسمتی سے پاکستان کو ایسے فسادیوں کے لئے تجربہ گاہ بنا دیا گیا تھا جن کی وجہ سے پاکستانی ریاست مسلسل خطرات سے دوچار ہوتی چلی گئی ۔ پاکستانی فوج تو کسی پرائی جنگ میں براہ راست ملوث نہیں رہی ، لیکن سویلین فوج کی وجہ سے ماضی کی پالیسیوں نے پاکستان کو نقصان زیادہ پہنچایا ہے ۔ افغانستان ۔سوویت یونین کی جنگ میں پاکستان نے براہ راست فوجی مداخلت کے بجائے سویلین فوج کا طریقہ اپنایا اور پاک۔افغان سرحدیں سوویت یونین کے خلاف اس طرح کھول دیں کہ دنیا بھر سے “جہاد”کے نام پر غیر ملکی پاکستان کے راستے افغانستان جاتے اور گوریلا جنگوں میں اپنا کردار ادا کرتے ۔ جہا د کے نام پر بننے والی غیر ملکی عسکری تنظیموں نے پاکستان میں اس طرح ڈیرے ڈال دیئے کہ پشاور کے قہوہ خانوں میں غیر ملکی یوں جوق در جوق بیٹھے ہوتے جیسے یہ خرطوم یا مغادیشو کے کوئی ہوٹل ہیں۔سوویت یونین کے جانے کے بعد ان غیر ملکی عسکری تنظیموں کے مطالبات پورے نہیں ہوئے اور ان کی شاخیں در شاخیں پھیلتی چلی گئیں ۔

مقبوضہ کشمیر میں سیاسی مزاحمت نے مسلح تحریک کا علَم بلند کیا اور پاکستان کی اخلاقی حمایت کے پس نظر میں مقبوضہ کشمیر میں مسلح مزاحمت کرنے والی تنظیموں نے پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کرلئے ، جس سے دنیا کو یہ تاثر گیا کہ پاکستان نے اپنی باقاعدہ فوج کے بجائے شہری فوج مقبوضہ کشمیر میں بھیجی ہوئی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے معروف حریت پسند تحریکوں کے دفاتر پاکستان میں ہونے کے سبب بھارت کو یہ موقع ملا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تحریک آزادی کو دہشت گردتنظیمیں ثابت کیا جائے جس میں اُسے کامیابی ملی اور امریکہ نے حریت پسند تنظیموں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دینا شروع کردیا اور اِن آزادی پسند تحریکوں کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو رہا ہے جو سوویت۔افغان جنگ کے درمیان غیر فوجی مسلح مزاحمت کاروں و آزادی پسند وں کے ساتھ ہوا ۔برکس تنظیم کے مشترکہ اعلامیہ میں چین نے وہی موقف اپنایا جو بھارت دنیا کے سامنے دیکھا رہا تھا، اسی وجہ سے امریکہ ان حریت پسند تحریکوں اور اُن کے رہنمائوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے پاکستانی احتجاج کو نظر انداز کرچکا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب پاکستان سے ان تنظیموں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ بھارت ہی نہیں بلکہ امریکہ اور پاکستان کے قریب ترین دوست ملک چین کو بھی کرنا پڑا۔بھارت نے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے ذریعے عدم استحکام اور بے امنی کی پالیسی اپنائی۔

بھارت نے بلوچستان میں اپنے ملک سے سویلین فوجی نہیں بھیجے بلکہ پاکستانیوں کو ہی بھرتی کرکے ریاست کے خلاف کھڑا کردیا اور ان کا سہولت کار بن گیا ، صوبہ پختونخوا میں بھارت سے مسلح جھتے نہیں گئے بلکہ اپنے بھارتی ایجنٹوں سے کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کو خریدا اور پاکستانیوں کو ہی پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی پالیسی کو اپنایا۔ کیا کسی بھی “جہادی تنظیم” میں بھارتی مسلمانوں کی تعداد موجود ہے۔جو پاکستانی ریاستی اداروں نے پکڑے ہوں۔ را کے ایجنٹ ضرور پکڑے گئے ہیں لیکن” بھارتی جہادی” نام کے پرندے پاکستان میں نہیں پائے گئے۔ پاکستانی انتہا پسندوں نے اپنے جتھوں کے ساتھ بھارت کے کسی پہاڑی علاقے میں نہیں بلکہ مسلم ملک افغانستان میں ہی ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔لیکن ان کا نظریہ فساد،پاکستانی نوجوانوں کو راہ سے بھٹکا رہا ہے۔ آزادی کے لئے اسلام کا نام استعمال کرکے جہاد کی غلط تشریح کی بنا پر پڑھے لکھے اعلی تعلیمی اداروں کے تربیت یافتہ نوجوان بھی محفوظ نہ رہ سکے اور ریاست کے خلاف ملک دشمنوں کے آلہ کار بن گئے ۔ کراچی میں بھارت کے مسلح جھتے نہیں تھے کہ کئی عشروں سے کراچی میدان جنگ بنا رہا ، بلکہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کے تربیت و حلف یافتہ دہشت گردوں کو سیاسی جماعت کے عسکری ونگ کا حصہ بنا دیا گیا ۔ سادہ لفظوں میں یہ کہہ کر جان چھڑا لی گئی کہ کراچی آپریشن کے نتیجے میں اگر کچھ نوجوان بھارت چلے گئے تھے تو اس کی ذمہ داری اُن پر عائد نہیں ہوتی ۔ سادہ لفظوں میں یہ کہہ دیا گیا کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک رکھا جا رہا ہے اس لئے پہاڑوں میں جانے والے ناراض پاکستانی ہیں ۔ سادہ لفظوں میں یہ کہہ دیا گیا کہ عالمی استعماری قوتوں نے ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف قوم کے مذہبی جذبات کو استعمال کیا اس لئے اب اگر کچھ ہو رہا ہے تو یہ محض ردعمل ہے۔

بھارت کے اندر ان گنت علیحدگی پسند مسلح تحریکیں ہیں لیکن اُن کی مدد کے لئے دنیا بھر سے ہندو یا مسلم نہیں جاتے بلکہ وہ اپنے حقوق کی جنگ کیلئے خود پر بھروسہ کرکے جبر کو شکست دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ سر ی لنکا جو خود کش حملوں کا گڑھ تھا ، اُن ناراض گروپ کے خلاف سری لنکا حکومت بھرپور کوشش کرتی رہی اور بالا آخر کامیاب ہوگئی ۔بھارت کی مسلح تحریکیں اس کی مملکت کے اندر ہی رہیں ، سری لنکا کی مسلح تحریکیں اپنے حدود میں رہیں ۔ لیکن جب ہم پاکستان کو دیکھتے ہیں تویہاںافغانستان، ایران، لبنان، شام ، عراق ، یمن ، الجزائز ، چیچینا ، چین میں مختلف عسکری گروہوں کی کوئی نہ کوئی شاخ نکل آتی ہے۔ ستم بلائے ستم مغربی ممالک میں دہشت گردی کرنے والوں کا تعلق بھی کسی نہ کسی توسط سے پاکستان کے ساتھ جوڑ جاتا ہے ۔ سعودی عرب میں 34ملکی فوجی اتحاد کی سربراہی کا معاملہ ہو تو پاکستان کے کردار پر سب سے زیادہ انگلیاں اٹھ جاتی ہیں ۔ موجودہ حالات میں جہاں دیکھیں کہ اگر شام ، یمن اور عراق میں خانہ جنگیاں ہو رہی ہیں تو مختلف مسلح جتھوں میں پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد کی شمولیت کوئی پوشیدہ راز نہیں رہی ہے۔

سوشل میڈیا اٹھا کر دیکھ لیں تو ہر مسلک کا گروہ اپنے ہم مسلک کو کسی دوسرے مسلک کے خلاف “جہاد”کے فتوی جاری کرتا نظر آتا ہے۔ ان تمام مسائل کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ اگر جنرل قمر جاوید باوجوہ کے مطابق عمل کیا جاتا کہ “جہاد ریاست کا حق ہے” ، تو اس پر عملی طور پر کاربند ہونا چاہیے ۔ پراکسی وار کا استعمال جس طرح بھارت کررہا ہے وہ انتہائی مکروہ عمل ہے، جس میں اس کے بھرتی کئے گئے دہشت گرد مساجد ، بازاروں ، عوامی مقامات ، سرکاری عمارتوں اور سیکورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں لیکن اس کا یہ چہرہ دنیا کے سامنے ہم بے نقاب کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔آج ہمارے سیاسی رہنما جب قبائلی علاقوں کی صورتحال کو کشمیر اور برما کی صورتحال کو کراچی سے مماثلت دینے لگنے تو پاکستان تو اپنا مقدمہ پہلی سماعت میں ہار جاتا ہے کہ پہلے اپنے گھر کو درست کرو پھر ہم سے بات کرنا ۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر ان قوم پرستوں جماعتوں نے کبھی احتجاج نہیں کیا اور ان کی احتجاجی ریلی عالمی ابلاغ میں ریکارڈ نہیں ہوئی ۔ روہنگیائی مسلم کے خلاف ہونے والے مظالم کو کراچی کے مہاجروں سے تشبہہ دینے والوں نے جب بھی کوئی احتجاجی ریلی نکالی تو وہ مملکت کے اداروں کے خلاف زہر افشانی یا پھر مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے کیلئے تنازعات کی پیدا وار ثابت ہوئیں۔ہم نہیں کہتے کہ پاکستانی حکومت بھی بھارت کی طرح دہشت گردی کا جواب دہشت گردی سے دینے کی پالیسی اپنائے ، لیکن اتنا ضرور ہر پاکستانی چاہتا ہے کہ پہلے پاکستان کی عوام میں اداروں کا اعتماد بحال ہو ، رہنمائوں کے قول و تضاد کا خاتمہ ہو اور مسلم امہ کے لئے سفارتی ذرائع چینل استعمال ہو۔اگر مقبوضہ کشمیر ، میانمار سمیت کسی بھی ملک میں مسلمانوں کے خلاف ظلم کی انتہا ہو رہی ہے تو او آئی سی کے پلیٹ فارم کوفعال کرائیں۔ عالمی استعماری قوتوں کے ڈومور مطالبات کوپاکستانی پارلیمنٹ اور او آئی سی کی اجازت سے مشروط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان عالمی استعماروں قوتوں کے درمیان سینڈوچ بن چکا ہے ۔ ہمارے نوجوانوں و عوام میںرد الفساد فی الارض کا سپاہی بننے کا جذبہ ابھارنا وقت اور پاکستان کی اصل ضرورت ہے۔

Qadir Khan Afghan
Qadir Khan Afghan

تحریر : قادر خان افغان

Share this:
Tags:
government institutions pakistan اداروں پاکستان حکومت
America
Previous Post امریکہ کو دن میں تارے دیکھا دئیے
Next Post خاموشی کب تک
Kashmir

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close