Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تھر، پیاس اور پانی

November 22, 2014 0 1 min read
Thar
Thar

تحریر :۔محمد احمد ترازی

تھر میں بھوک، پیاس اور پانی وہ المیہ ہے جو صدیوں پرانا ہے۔”تھرپارکر سندھ کے جنوب میں واقع صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے،جس کا ہیڈ کوارٹر مٹھی ہے،اس کا کل رقبہ تقریبا 21ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی 13 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔کسی زمانے میں یہاں راجہ کی ریل چلا کرتی تھی، لہٰذاتھر کی زندگی باقی سندھ سے کٹی ہوئی تھی۔

اس وجہ سے تھر کی زبان، ثقافت اور رسم ورواج باقی ماندہ سندھ سے الگ ہیں۔ قدیم دور میں یہ علاقہ سرسوتی دریا کے ذریعے سیراب ہوتا تھا۔بعد ازاں” مہرانوں نہر“ کے ذریعے اسے سیراب کیا جاتا رہا۔اس کے علاوہ تھر پارکر کی سیرابی کیلئے دریائے سندھ سے ایک بڑی نہر ”باکڑو“نکلا کرتی تھی ،جسے سترھویں صدی میں کلہوڑا حکمرانوں نے سیاسی مخالفت کی بنیاد پر بند کروا دیا، جس کے سبب تھر مزید خشک سالی کا شکار ہوا۔ان جزوی اقدامات کے باوجود پانی کی دستیابی تھر کا صدیوں سے اہم مسئلہ ہے۔

تھر کے حوالے سے مندرجہ بالا اقتباس ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی نئی کتاب”تھر،پیاس اور پانی“سے لیا گیا ہے۔کتاب کا عنوان اپنے اندرتھر میں بھوک، پیاس بیماری ، سسکتی ہوئی انسانیت اور حکمرانوں کی سنگدلی اور بے حسی کی مکمل داستان سموئے ہوئے ہے۔ڈاکٹر آصف محمود جاہ جو ایک معالج، مورخ، مصنف اور حقیقت نگاربھی ہیں، نے ”تھر پیاس اور پانی“ کے تین لفظوں میں تھر کی مظلومیت کی پوری کہانی بیان کردی ہے۔

ہمارے مہربان جناب جبار مرزا کے مطابق ”روحانی اعتبار سے تھر کی مسلم آبادی پیری مریدی کے زیر اثر ہے، الیکشن مئی 2013 ءمیں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 230 تھر پارکر ٹو جہاں سے پیپلز پارٹی کے پیر نور محمد شیر جیلانی نے 61903 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی اُن کے مدمقابل ملتان کے مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر 59852 ووٹ لے کر دوسری پوزیشن میں رہے۔یہ سارے ووٹ انہیں نظریاتی یا پارٹی کی وجہ سے نہیں بلکہ روحانی حلقوں کی سپورٹ کی وجہ سے ملے تھے۔اسی طرح این اے 229 تھر پارکر ون میں بھی پہلی دفعہ پیپلز پارٹی کے فقیر محمد بلالانی 88218 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ دوسری پوزیشن پر ارباب تگاچی فواد رزاق نے آزاد حیثیت میں 86097 ووٹ لیے ۔تھرپارکر کے یہ دونوں حلقے دراصل ارباب خاندان کے ہیں اگر کوئی دوسرا کامیاب ہوبھی تو اسے اربابوں کی حمایت ضرور حاصل ہوتی ہے۔“

ارباب خاندان گزشتہ ایک صدی سے تھر کی سیاست میں اہم کردار کرتا رہا ہے،ارباب کے علاوہ تھر کی دیگر مسلم برادریوں میں جونیجو،راحموں،سمیچواوربجیر شامل ہیں جبکہ ہندو برادریوں میں میگواڑ، کولہی، بھیل، لہانا، مہراج اور راجپوت شامل ہیں،تھر کی 80 فیصد آبادی ریگستان میں آباد ہے ،اُن کی ثقافت، بودو باش، رہن سہن اور طرز حیات مسلم وغیر مسلم سب کایکساں ہے، بھوک، ننگ اور غربت نے تھر میں صدیوں سے ڈیرا ڈالا ہوا ہے ۔ علاقے کی مجموعی زندگی آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم اور سسکتی ہوئی انسانیت کا نوحہ سناتی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ اِن تمام تلخ حقائق کا فہم وادراک رکھنے کے باوجود ہر حکومت نے تھر کے حوالے سے بے رخی ،لاپروائی ، سرد مہری اور سنگدلی کا مظاہرہ کیاہے۔آج بھی تھرکے70 فیصد مراکزصحت بند پڑے ہیں،گزشتہ دنوں قحط سے متاثرہ علاقے تھر کی ایک مقامی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کو قحط کی صورتحال سے متعلق ایک رپورٹ ارسال کی،جس میں کہا گیا ہے کہ عمر کوٹ کے صحرائی علاقوں کی 25 دیہات کے 35450 خاندانوں کے 167230 افراد متاثر ہوئے ہیں،اِس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے

صحرائی علاقوں میں 29 مراکز صحت میں سے 18 مراکز ڈاکٹر نہ ہونے کی باعث بند پڑے ہیں، جبکہ سول اسپتال عمر کوٹ میں 46 ڈاکٹروں کی اسامیاں 2007 سے خالی ہیں اور ضلع بھر میں 401 اسامیوں میں سے صرف 130 پر ڈاکٹرز کام کررہے ہیں۔سیشن جج نے رپورٹ میں صحت کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ضلع کی سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو غیرمعیاری ادویات فراہم کی جارہی ہیں جبکہ سول اسپتال عمرکوٹ کی ایکسرے مشین گزشتہ دو سال سے خراب ہے۔

Sindh
Sindh

خیال رہے کہ تھر میں غذائی قلت کے علاوہ بھی کئی مسائل اور ہیں، جن میں بے روزگاری، صحت کی ناکافی سہولتیں، ذرائع نقل و حمل کی عدم دستیابی جس کے باعث بیشتر لوگ اسپتالوں تک رسائی نہیں رکھتے ۔ اکیس ہزار مربع کلومیٹر رقبے اور تقریباً تیرہ لاکھ نفوس کی آبادی پر مشتمل تھرپارکر صوبہ سندھ کے 23 اضلاع میں سے سب سے پسماندہ ضلع ہے۔ پینے کے صاف پانی سمیت زندگی کی تمام بنیادی سہولتوں کا فقدان اِس صحرائی علاقے کا مستقل مسئلہ ہے۔جن پر توجہ دینے کی شدید ضرورت کے باوجود ملک کی 67 سالہ تاریخ میں کسی حکومت نے بھی اِس طرف توجہ نہیں دی ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر سال دو سال بعد یہاں بارشیں نہ ہونے کے سبب شدید قحط کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ،جس کے ساتھ ساتھ مختلف مہلک بیماریاں بھی پھوٹ پڑتی ہیں اور سینکڑوں افراد فاقہ کشی اور مناسب علاج کی سہولت نہ ملنے کے سبب موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اِن میں چھوٹے بچوں کی تعداد خاص طور پر بہت زیادہ ہوتی ہے۔

لمحہ فکریہ یہ ہے کہ خشک سالی سے متاثرہ ضلع تھر پارکر میں غذائی قلت سے ہونے والی ہلاکتوں پہ تاحال قابو نہیں پایا جا سکاہے۔رواں ہفتے کے ابتدائی تین دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے جبکہ اِس سال کے پونے گیارہ مہینوں میں قحط اور بیماریوں کے سبب تھر میں ہونے والی اموات کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق 900 سے زائد ہے ،صرف 16 دن کے دروان غذائی قلت سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 24 ہے۔ تھرکے سرکاری اسپتالوں میں غذائی قلت اور اِس سے متعلقہ بیماریوں کے باعث سال 2011 ءسے تاحال 1608 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

جبکہ ذرائع ابلاغ میں اِس قسم کی رپورٹوں کا بھی چرچا رہا کہ پچھلے سال صحرائے تھر کے علاقے میں مرکزی اور صوبائی حکومت کی طرف سے مہیا ہونے والی اشیاءخورو نوش گوداموں میں پڑی پڑی ضائع ہو گئیں اور انہیں مستحقین میں تقسیم نہیںکیا جا سکا۔یہ بھی سننے میں آیا کہ مخیراداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی پانی کی بوتلیں بھی متاثرین تک پہنچنے کے بجائے راستے ہی میں غائب ہوگئیں۔جب میڈیا نے تین سو گندم کی بوریاں مٹی میں ملانے کی خبر دی تو سرکاری وضاحت جاری کی گئی کہ تین سو نہیں دو سو بیانوے بوریاں تھیں۔ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ بدانتظامی ،لاپروائی اوربے حسی کی وجہ سے یہ اشیاءضرورت مندوں کے استعمال میں آنے کے بجائے ضائع ہو جائیں اور پڑے پڑے سڑ جائیں۔ہمارا ماننا ہے کہ یہ بنیادی طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے اور تمام صوبائی حکومتیں اپنے گوداموں میں اناج اور دیگر اشیاءخورو نوش کا ذخیرہ رکھتی ہیں تا کہ انہیں وقت پڑنے پر استعمال میں لایا جا سکے۔

لیکن افسوس صوبے کے انتظامی سربراہ ذمہ داری محسوس کرنے کے بجائے بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی کی طرح عجیب وغریب بیانات جاری کررہے ہیں،کبھی فرماتے ہیں کہ تھر میں اموات بھوک سے نہیں بلکہ غربت سے ہوئیں ہیں، کبھی کہتے ہیںبچوں کی اموات زچگی کی وجہ سے ہوئی ہیں۔تو کبھی کہتے ہیں کہ مرنے والوں کو خدا ہی بچاسکتا ہے، انسان کے بس کی بات نہیں۔کبھی ارشاد ہوتا ہے کہ تھر میں قحط کی ذمہ دار سابقہ حکومتیں ہیں، جن کی عدم توجہی سے موجودہ صورت حال پیدا ہوئی ہے،کبھی وہ اپنی حلیف جماعت کے سابق صوبائی وزیر پر کوتاہی کا الزام لگاتے ہیں اورکبھی دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہزار کا نوٹ متاثرین کو دیتے ارشاد فرماتے ہیں کہ اسے آپس میں تقسیم کرلو۔اَمر واقعہ یہ ہے کہ اگر حکومت سندھ کے ان موقف کو تسلیم بھی کرلیا جائے

تو بھی وہ کسی طور اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی حکومت اور حکمران ِوقت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ غربت ، بھوک ، افلاس اور بے روزگاری کا خاتمہ کرے اور صوبے کی تمام صوبے عوام کو یکساں بنیادی سہولیات فراہم کرے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر سندھ حکومت کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ تھر میں اموات غربت کی وجہ سے ہوئی ہیں تو کروڑوں کی تعداد میں غریب لوگ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بستے ہیں۔ اُن کے مسائل بھی اسی طرح سے ہیں، یہ درست ہے کہ اُن کے حالات تھر جیسے نہیں ، لیکن پھر بھی انہیں بھی اِس قسم کے حالات کا سامنا تو ہو گا، لیکن اللہ کا کرم ہے کہ ملک کے طول و عرض میں تھر جیسی صورت حال نہیں ہے، اِس لیے تھر کے مسئلے کو اُس علاقے کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تھر ِاس قسم کے حالات سے پہلی بار دو چار نہیں ہوا بلکہ اکثر اسے اِس قسم کے حالات سے وابستہ پڑاہے۔گزشتہ تین سالوں سے تھر میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی چھائی ہوئی ہے،لیکن اِس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ تھر قدرتی وسائل سے محروم ہے، یہ دنیا کا واحد زرخیز صحرا ہے جہاں بارش کی صورت میں لوگ اپنی اور اپنے مویشیوں کی ضرورت کیلئے بعض فصلیں بھی کاشت کرلیتے ہیں، یہ زمین معدنی وسائل سے بھی مالا مال ہے،گرینائٹ اور دوسرے قیمتی پتھر وں کے علاوہ کوئلے کے وسیع ذخائر صرف تھر ہی نہیں پورے ملک کیلئے ترقی اور خوش حالی کی ذریعہ بن سکتے ہیں، اِس علاقے میں گیس اور تیل کے ذخائر کی موجودگی کے امکانات بھی پائے جاتے ہیں

اِس لیے تھر میں ذرائع آمد ورفت کو بہتر بناکر نیز صحت اور تعلیم کی خاطر خواہ سہولتیں فراہم کرکے مقامی آبادی کے لئے ترقی کی راہیں کھولی جاسکتی ہیں۔صرف ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ اچھی منصوبہ بندی اور اُس پر سنجیدگی اور ذمہ داری سے عمل درآمد کیا جائے۔اِس سلسلے میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ،ڈاکٹر صاحب اور اُن کے رفیقوں نے حکومتی امداد اور سرپرستی کے بغیر تھر کے لوگوں کیلئے قابل مثال کام کرکے ثابت کیا ہے کہ نیت صالح ہو ، عزم جواں ہو اور اخلاص موجود ہو تو کوئی رکاوٹ آپ کے راستے کی دیوار نہیں بن سکتی۔ہماری صاحب ثروت اور مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا حصہ ڈالیں، ساتھ ہی ہماری سندھ اور وفاقی حکومت کے ذمہ داران سے بھی استدعا ہے کہ وہ تھر کو تباہی وبربادی سے بچانے کیلئے عملی اقدامات کی طرف فوری توجہ دیں تاکہ بھوک،پیاس ،بے روزگاری اور بیماری سے تھر کے معصوم بچوں کی ہلاکتوں کا روح فرسا سلسلہ ختم ہو اور یہ مظلوم خطہ بھی قومی ترقی اور خوش حالی کے فوائد سے پوری طرح مستفید ہوسکے۔

Mohammad Ahmad Tarazi
Mohammad Ahmad Tarazi

تحریر:۔محمداحمد ترازی
mahmedtarazi@gmail.com

Share this:
Tags:
humanity hunger narrative pakistan Thar thirst Water انسانیت بھوک پاکستان پانی پیاس تھر داستان صدیوں
Previous Post امریکی فوجی 2015 میں بھی افغانستان میں جنگی کارروائیوں میں شامل رہیں گے
Next Post ایران جوہری معاہدہ: ’تعطل کے خاتمے کے لیے نئی تجاویز پر غور‘

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close