Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نظریہ پاکستان اور حصول پاکستان کے مقاصد

March 20, 2017 0 1 min read
The Ideology of Pakistan
The Ideology of Pakistan
The Ideology of Pakistan

تحریر: عبیداللہ لطیف
ساری دنیا میں فقظ دو ممالک ہی نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آئے ہیں ایک اسرائیل اور دوسرا وطن عزیز پاکستان۔ ابھی پاکستان معرض وجود میں آیا ہی تھا کہ اس کی سالمیت کے خلاف دشمنان پاکستان کی طرف سے سازشوں کے جال بچھائے جانے لگے یہاں تک کہ پاکستان کی نظریاتی اساسوں کو ہی متنازعہ بنایا جانے لگا ۔ اس لیے ہمیں نظریہ پاکستان کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کرنے کیلئے مصور پاکستان علامہ محمد اقبال اور بانی پاکستان کے فرمودات کے ساتھ ساتھ ان بزرگوں سے بھی رہنمائی حاصل کرنا ہوگی جنھوں نے قیام پاکستان کے وقت بے پناہ قربانیاں پیش کی ہیں۔

محترم قارئین! سب سے پہلے علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے صدارتی خطبہ میں ایک جداگانہ اسلامی ریاست کا تصورپیش کیا جسے ہندوؤں کی طرف سے شاعر کا خواب کہہ کر مذاق اڑایا جاتا رہا اسی مطالبے کی بنیاد پر شاعر مشرق علامہ اقبال کو مصور پاکستان کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

20مارچ 1940ء کو مہاتما گاندھی نے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”میرے نزدیک ہندو، مسلم، پارسی اور ہریجن سب برابر ہیں ۔میں غیر سنجیدہ نہیں ہو سکتا جب میں قائداعظم کے بارے میں بات کروں کیونکہ وہ میرے بھائی ہیں۔”22مارچ 1940ء کو منٹو پارک لاہور میں ایک عظیم الشان تاریخی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے گاندھی کے بیان پر طنزیہ انداز میں کہا کہ ”لیکن میراخیال ہے کہ وہ(گاندھی) غیر سنجیدہ ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ بھائی گاندھی کے تین ووٹ (ہندو،پارسی اور ہریجن) ہیں اور میرا صرف ایک ووٹ (مسلم) ہے۔”

اپنے اسی خطاب میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک برطانوی اخبار کو ہدف تنقید بناتے ہوئے فرمایا
” لندن ٹائمز جیسے ایک مقتدر جریدے نے قانون حکومت ہند مجریہ 1935ء پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا :بلاشبہ ہندو اور مسلمانوں میں اختلافات صحیح معنوں میں صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ قانونی اور ثقافت کے اعتبار سے بھی ہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ فی الحقیقت دو بالکل نمایاں اور علیحدہ تہذیبوں کے نمائندے ہیں تاہم وقت کے ساتھ توہمات ختم ہو جائیں گے اور ہندوستان ایک قوم کی شکل اختیار کرے گا ۔پس لندن ٹائمز کے نزدیک یہ دشواریاں محض توہمات ہیں ۔ان بنیادی اور گہرے روحانی ، اقتصادی، معاشرتی،سیاسی اور اختلافات کو تکلفاًتوہمات کہہ کر جھٹک دیا گیا ۔یقینی طور پر معاشرے کے بارے میں اسلام اور ہندومت کے تصورات کے مابین فرق کو محض توہمات قراردینا برصغیر ہند کی ماضی کی تاریخ کو بیّن طور پر نظرانداز کر دیتا ہے ہزار سال کے گہرے روابط کے باوصف اگر قوموں میں اس قدر بعد ہے جتنا کہ آج ہے تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی بھی وقت صرف اس لیے ایک قوم بن جائے گی کہ ان پر ایک جمہوری دستور مسلط کر دیا گیا۔”

بانی پاکستان محمد علی جناح رحمة اللہ علیہ نے اسی خطاب میں یہ بھی فرمایا تھاکہ ” یہ سمجھنا بہت دشوار بات ہے کہ ہمارے ہندو دوست اسلام اور ہندومت کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں؟ یہ حقیقی معنوں میں مذاہب ہی نہیں ہیں فی الحقیقت یہ مختلف اور نمایاں معاشرتی نظام ہیں اور یہ ایک خواب ہے کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک مشترقہ قوم کی سلک میں منسلک ہو سکیں گے ۔ ایک ہندی قوم کا تصور حدود سے بہت زیادہ تجاوز کر گیا ہے اور آپ کے بہت سے مصائب کی جڑ ہے ۔اور اگر ہم بروقت اپنے تصورات پر نظر ثانی نہ کر سکے تو یہ ہند کی تباہی سے ہمکنار کر دے گا ۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کا دو مذہبی فلسفوں ، معاشرتی رسم و رواج اور ادب سے متعلق ہے ۔نہ وہ آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں ، نہ اکٹھے بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں ۔دراصل وہ دو مختلف تہذیبوں سے متعلق ہیں جن کی اساس متصادم خیالات اور تصورات پر استوار ہے ۔یہ بھی بالکل واضح ہے کہ ہندواور مسلمان تاریخ کے مختلف مأخذوں سے وجدان حاصل کرتے ہیں ان کی رزم مختلف ہے ، ہیرو الگ ہیں اور داستانیں جدا اکثر ایسا ہوتاہے کہ ایک کاہیرو دوسرے کا دشمن ہوتا ہے اور اسی طرح ان کی کامرانیاں اور ناکامیاں ایک دوسرے پر منطبق ہو جاتی ہیں۔”

(قائد اعظم :تقریر و بیانات ۔مترجم اقبال احمد صدیقی شائع کردہ بزم اقبال لاہور صفحہ 370,371) یہ تو تھے بانی پاکستان کے قرارداد پاکستان کے پاس ہونے سے ایک روز پہلے کے فرمودات ۔ انہی فرمودات سے نظریہ پاکستان بالکل واضح ہو جاتا ہے ۔ قبل اسکے کہ ہم بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح رحمةاللہ علیہ کے مزید فرمودات پیش کریں معروف ادیب اور دانشور آغاشورش کاشمیری کی سوانح حیات ”بوئے گل نالہ دل دودِ چراغ محفل ”سے اسی ضمن میں ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں چنانچہ آغاشورش کاشمیری رقمطراز ہیں کہ ”فرقہ وارانہ مسئلہ انگریزوں کی حکمرانی ، ہندوؤں کی تنگ نظری اور مسلمانوں کی پسماندگی سے پیداہوا انگریز اپنی حکومت کو طول دینے کے لیے اس مسئلہ کو بڑھا کر لایخل رکھنا چاہتے تھے ۔ ہندوؤں کا مجلسی نظام معاشی دستبرد اور تعلیمی برتری کچھ اس طرح گھل مل گئے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے وجود کو مشخص کرنے کا سوال پیدا ہوتا تو ہندو متحدہ قومیت کی آڑ لیتے ، حقوق یا سلوک کا مرحلہ آتا تو آنکھیں پھیر لیتے گویا مسلمانوں کا ہندوستان پر کوئی حق نہیں ، جناح نے سیاسیات میں ہندو ذہنیت کی تلخیاں چکھی تھیں ،مسلمانوں کی پسماندگی کابھی انہیں احساس تھا اور وہ جانتے تھے کہ اس پسماندگی کو اب تک مسلمانوں کے رجعتی عناصر نے اپنی موت ٹالنے کے لیے استعمال کیا ہے ، انہوں نے اس ہتھیار کو حکومت ، کانگریس اور رجعتی مسلمانوں کے ہاتھ سے اس طرح چھینا کہ فرقہ وارانہ مسئلہ جداگانہ انتخابات کی مسافت طے کرنے کے بعد پاکستان کا نصب العین ہو گیا اور جناح اس استقلال کے ساتھ اپنے مؤقف پر ڈٹ گئے کہ انہیں ہٹانایا جھکانا ناممکن ہو گیا۔ فرقہ وارانہ مسئلہ انگریزوں کاشوشہ تھا تووہ اس شوشہ کی مار اب خود کھارہے تھے کیونکہ اس کانام مسلمانوں کاحق خود ارادیت ہو گیا تھا۔

ہندو جو کل تک اس مسئلہ کو نظر انداز کررہے تھے بلکہ ایک زمانہ میں پنڈت مدن موہن مالویہ نے شملہ میں کہا تھا کہ: ”انہیں پہلی دفعہ معلوم ہواہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے فرقہ وارانہ حقوق بھی ہیں ” لیکن اب مہاتما گاندھی بھی اس مسئلہ کو تسلیم کر رہے تھے اور قائداعظم سے کسی حل کے خواہاں تھے ، قائداعظم کے نزدیک حل ایک ہی تھا ہندوستان کی تقسیم ۔۔۔۔۔۔۔۔مارچ 1940ء میں مسلم لیگ نے لاہور ریزولیشن پاس کیا ۔ اس ریزولیشن کو پاکستان کا نام ہندو اخباروں نے دیا ، قائد اعظم مارچ 1940ء سے پہلے لفظ پاکستان کے استعمال میں بڑے محتاط تھے لیکن جب ہندو اخباروں نے پاکستان کا ہوا کھڑاکیا تووہ اس ناؤ کے ملاح ہو گئے۔ انہوں نے اس لفظ کو اس گرمجوشی سے اپنایا کہ پاکستان اور قائداعظم ہم معنی ہو گئے۔”

آگے چل کر آغاشورش کشمیری مزید لکھتے ہیں کہ ”استعمار دشمن مسلمان رہنماؤں نے تب تک محسوس ہی نہیں کیا تھا کہ مسلمان قوم کہاں کھڑی ہے ؟ اسکی شکایات کیاہیں ؟ اور پاکستان کامطالبہ دراصل ہے کیا ؟ پاکستان کا مطالبہ ہندوؤں کی بالادستی کے خلاف مسلمانوں کی نفرت کااحتجاج و اظہار نہیں بلکہ گمشدہ اسلامی سلطنت کی بازیافت کاایک دلفریب تصور تھا ۔” محترم قارئین ! گمشدہ اسلامی سلطنت کا تصور بانی پاکستان فرمودات سے بھی واضح ہوتاہے چنانچہ انہوں نے پشاور میں اپنے ایک خطاب کے دوران ببانگ دہل فرمایا تھا کہ
”ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکرا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرناچاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں ۔” اسی طرح 1943ء میں کراچی میں ہونیوالے مسلم لیگ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ
”وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں ؟ وہ کونسی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے ؟ وہ کون سا لنگر ہے جس سے اس امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے؟ وہ رشتہ ،وہ چٹان، وہ لنگر خداکی کتاب قرآن مجید ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ہم میں زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔”

علی گڑھ میں مارچ1944ء کو اپنے ایک خطاب میں بانی پاکستان نے فرمایا کہ ” آپ نے غور فرمایا کہ پاکستان کے مطالبے کا محرک اور مسلمانوں کے لیے جداگانہ مملکت کی وجہ کیا تھی ؟ تقسیم ہند کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ اس کی وجہ ہندوؤں کی تنگ نظری ہے نہ انگریزوں کی چال بلکہ یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے ۔” اسی طرح 1947ء میں پاکستان کے افسران کوخطاب کے دوران بانی پاکستان نے اپنا نصب العین کچھ یوں بیان فرمایا کہ ”ہمارا نصب العین یہ تھا کہ ہم ایک ایسی مملکت کی تخلیق کریں جہاں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں جوہماری تہذیب و تمدن کی روشنی میں پھلے پھولے اور جہاں معاشرتی انصاف کے اسلامی تصور کو پنپنے کا موقع ملے ۔” کراچی میں جنوری 1948ء کو خطاب کرتے ہوئے بانی پاکستان نے کہا کہ ”اسلام محض چند رسومات اور روایات کا مجموعہ نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے اسلام سیاسی اور معاشی دونوں شعبوں میں ہماری رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کے اصولوں کی بنیاد احترام انسانیت ، آزادی اور انصاف پر مبنی ہے جو لوگ اس ملک میں پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت اسلامیہ کے مطابق نہیں ہوگا انہیں جان لینا چاہیے کہ شرعی قوانین آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح تیرہ سو برس پہلے تھے۔”

طلباء سے خطاب کے دوران 1944ء میں فرمایا کہ ”اسلام ہمارا رہنما ہے اور ہماری زندگی کامکمل ضبطہ حیات ہے ہمیں کسی سرخ یا پیلے کی ضرورت نہیں اور نہ ہمیں سوشلزم ، کیمونزم، نیشنلزم یاکسی دوسرے ازم کی ضرورت ہے ۔” 21مارچ1948ء کو ڈھاکہ میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایاکہ ”میں چاہتاہوںکہ آپ بنگالی ،سندھی،بلوچی، اور پٹھان وغیرہ کی اصطلاحوں میں بات نہ کریں ۔ کیا آپ وہ سبق بھول گئے ہیں جو تیرہ سو سال پہلے آپ کو سکھایا گیاتھا یہ کہنے کا آخر کیا فائدہ ہے کہ ہم پنجابی ہیں ،سندھی ہیں، پٹھان ہیں ۔ ہم تو بس مسلمان ہیں۔” یکم جولائی 1948ء کو کراچی میں سٹیٹ بنک کے افتتاح کے موقع پر فرمایا ”اگر ہم نے مغرب کامعاشی نظام اپنایاتو ہمیں اپنے عوام کے لئے خوشحالی حاصل کرنے میں مشکلات درپیش ہوں گی ۔ ہمیں اپنی تقدیر اپنے علیحدہ اور منفرد انداز میں بنانی پڑے گی ہمیں دنیا کے سامنے ایک ایسا مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہوگا جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی اصولوں پر قائم ہو۔”

قارئین کرام! بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح رحمةاللہ علیہ کے مندرجہ بالا فرمودات سے نظریہ پاکستان اورحصول پاکستان کے مقاصد بالکل واضح ہو جاتے ہیں۔ بانی پاکستان نے جہاں پر مسلمانوں کے حقوق کی بات کی ہے وہیں پر غیرمسلم اقلیتوں کے بارے میں بھی واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے فرمایاکہ ”ہم ہندوؤں کو کامل یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا ۔ اس کے ثبوت میں ہماری تاریخ شاہد ہے ۔اور اسلامی تعلیمات نے ہمیں یہی سکھایا ہے۔” اور پھر فرمایاکہ ”ہم پاکستان میں تمام اقوام کا خیر مقدم کرتے ہیں جوپاکستان کی تعمیروترقی میں ہمارے ساتھ شریک ہوناچاہتی ہیں ۔” ناظرین!یہ تھابانی پاکستان کاوطن عزیز پاکستان کے بارے میں نظریہ ۔ یہی وجہ تھی کہ قیام پاکستان کے وقت بس یہی نعرے زبان زدعام تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا لالہ الااللہ،لے کے رہیں گے پاکستان بن کے رہے گا پاکستان ، جی ہاں پھر دنیا نے دیکھا کہ پاکستان بن کے رہا لیکن یہ ایسے ہی نہیں بن گیاتھا بلکہ اس کے لئے خون کی ندیاں بہی تھیں ، ہزاروں مسلمان ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتیں تارتار ہوئی تھیں معصوم بچوں کو ان کی ماؤں کے سامنے نیزوں کی انیوں میں پرویا گیاتھا انہیںہولناک مناظر کاآنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے آغاشورش کاشمیری لکھتے ہیں کہ ” تمام برباد گاؤں ایک دوسرے سے مشابہ تھے۔

مثلاً ہم پٹنہ سے چند میل کے فاصلے پر ایک گاؤں میں گئے ساراگاؤں آباد شاد نظرآیا کھیت لہلہا رہے تھے ، درخت سنتریوں کی طرح کھڑے تھے ، پرندوں کی چہچہاہٹ سننے میں آرہی تھی ، کمسن بچے اڑے پھر رہے تھے لڑکے گلی ڈنڈا کھیل رہے تھے ، کنیائیں چوپال کے نزدیک زاویے بن رہیں تھیں سب کے چہرے ہشاش بشاش تھے ۔ کسی کے چہرے پر صدمے کا نشان تک نہ تھا کہ یہاں کوئی حادثہ ہواہے ۔ ہم ایک حویلی پر رک گئے باہر سے کچھ نہ معلوم ہوتاتھا کہ اس پر کیابیتی ہے؟ اندر قدم رکھاتو ویرانی ہی ویرانی تھی ، تمام چوبی دروازے نکال لئے گئے تھے ،سامان لوٹ لیا گیاتھا ، دیواروں پر لہو کی دھاریں تھیں ، کپڑوں کو آگ لگا دی گئی تھی معلوم ہوتا تھا تماش بین ایک عفیفہ کو لوٹ کر اسے ننگاکر گئے تھے اور اس کے جسم پر زخموں کی چنت پڑی ہے ۔ میں اس لرزہ خیز حالت کو دیکھ کر سہم گیا اور جب گاؤں کامسلمان محلہ دیکھاتو میرے بدن کا انگ انگ کانپ اٹھا ، جنگ کے دوران تباہ کاریوں کانقشہ یاد آگیا کہ فاتح قومیں کس طرح آبادیوں کو برباد کرتی ہیں، برقعوں میں دوڑتی ہوئی لڑکیوں کے کٹے ہوئے سر دیکھے ،پستانوں کاڈھیر،انگلیوں کی پوریں ،سروں کاانبار، منجمدچہروں کی پتھرائی ہوئی آنکھیں ،اوپلوں کی آگ سے جلی ہوئی لاشیں ، کتابوں کی راکھ، ٹوٹے پھوٹے برتن،پھٹی ہوئی دیواریں، چھتوں کے بڑے بڑے شگاف، مکانوں سے شہتیر غائب ، زنانے میں کنواں، اور کنویں میں تعفن ،انسان کے گوشت کی سرانڈ ، ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کا بجھا ہواالاؤ ، آگ کے ہاتھوں سازوسامان پر کٹی پھٹی عبارتیں فضامیں نالہ ناکشیدہ اور ہوامیں آہ نارسیدہ ، شقاوت، بربریت، تعدی، استبداد، ہلاکت، بے رحمی، سنگدلی اور خون ریزی کی منہ بولتی تصویریں ، کیلوں سے ٹھکے ہوئے بچے ، مقتول سہاگنوں کا لٹا پھٹا سہاگ ، مردہ چہروں پر خون آلود لٹیں ،سورہ والیل کا نالہ اضطراب ، بچوں کے پنجر، آنگنوںمیں حیاکی آخری ہچکی کا انجماد ، جان چھپاتی ہوئی عصمتوں کے پیازی آنسو، اور آنسوؤں میں خون کی ملاوٹ ، کٹے ہوئے کانوںمیں ٹھہری ہوئی بالیاں،اور ٹوٹے ہوئے ہاتھوں میں پٹی ہوئی تالیاں، یہ سب کچھ دیکھاتو میرے ہوش پرّاں ہو گئے ۔ سیاست کاطوفان اس حد تک چلاگیاتھا کہ خود خوف خداتھرارہاتھا۔ ہندو اس المیہ پر ہنستے اور مسلمان روتے تھے ۔ مرنے والے کون تھے کسان، مزارع، مزدور،محنت کش،کمیرے، اور ان کی مائیں ،بہنیں ،بیٹیاں۔بیویاں ،جگرپارے، نور نظر،برباد کون ہوا تھا۔ان کے سہاگ ،ان کی عزتیں،ان کے ناموس ، ان کی حمیت۔ ایک آگ تھی جو پہلے سلگائی گئی پھر بھڑکائی گئی ، آخربجھادی گئی،لیکن بقول غالبآگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا اس رات مجھے ایک ثانیہ کو نیند نہ آئی ، جاگتارہااور سوچتارہاانسان اتنادرندہ ہوگیاہے کہ صرف اختلاف مذہب کی بنیا پر آبادیاں قتل کی جاسکتی ہیں ۔”

(بوئے گل نالہ دل دودِ چراغ محفل از شورش کشمیری صفحہ 436تا438)
محترم قارئین! یہ تو شورش کشمیری صاحب نے صرف ایک گاؤں کا آنکھوں دیکھاحال بیان کیا ہے یہ کہانی تو ہر مسلمان گلی محلے میں دہرائی گئی تھی تب جاکر پاکستان معرض وجود میں آیا تھا افسوس کہ پاکستان ابھی نوآموز ہی تھا کہ بانی پاکستان اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور ان کی وفات کے بعدپاکستان کی باگ ڈور کچھ ایسے ناپاک ہاتھوں میں چلی گئی کہ پاکستان جسے اسلام کا قلعہ بننا تھا وہ استعمار کی کالونی بن گیا کبھی اس پاک وطن پر جنرل یحی جیسے شرابی حکمران مسلط ہوئے تو کبھی ایسے لوگ بھی اس وطن عزیز پر مسلط ہو گئے جنہیں سورہ اخلاص تک نہیں آتی تھی تو کبھی وہ لوگ بھی مسلط ہوئے جنہیں یہ تک معلوم نہیں تھا کہ آذان بجتی نہیں بلکہ دی جاتی ہے۔ وطن عزیز پر آج حکومت اس جماعت کی ہے جو بانی پاکستان کی مسلم لیگ ہونے کی دعویدار ہے اور جس جماعت کو دائیں بازو کی جماعت سمجھاجاتا تھا افسوس انہی حکمرانوں نے نہ صرف بانی پاکستان کے نظریہ پاکستان سے مکمل طور پر انحراف کیا ہے بلکہ دین اسلام کو بدلنے کی بھی کوشش کی ہے ۔

جہاں تک کہ صدر پاکستان ممنون حسین علماء کرام سے سود میں گنجائش پیدا کرنے کا کہتے نطر آتے ہیں تو دوسری طرف جناب وزیراعظم صاحب علماء کو جہاد کے قرآنی مفہوم کو بدلنے کی اپیلیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں سچ کہا تھا اقبال نے

حلقہِ شوق میں وہ جرأتِ اندیشہ کہاں آہ ! محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
ان کا یہ مسئلک ہے ،کہ ناقص ہے کتاب کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق

ایک طرف یہ صورتحال ہے تو دوسری طرف توہین رسالت کے مرتکبین کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کلبھوشن یادیوکی طرح انڈیا کے حاضر سروس افسران پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دینے میں مصروف گرفتار ہو جائیں تو ان کا نام تک لینا گوارانہیںکیاجاتا لیکن حافظ سعید جیسے محب وطن افراد کو نہ صرف پابند سلاسل کیاجارہاہے بلکہ ایک مذموم پراپیگنڈے کے ذریعے دہشت گردی کو صرف اور صرف مذہب اسلام سے جوڑنے کی ناپاک جسارتیں کی جارہی ہیں آج معاشرے میں نظریہ پاکستان کو فروغ دے کر دشمن کے ان ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کی ضرورت ہے آیئے آج اس بات کاعہد کریں کہ جس طرح وطن عزیز کے حصول کے وقت ہمارے اکابر نے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا تھا ہم بھی اس پاک سر زمین کے نظریاتی و جگرافیائی تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے ۔اور یہ وطن رہتی دنیا تک سلامت رہے گا ان شاء اللہ۔

Ubaid Ullah Latif
Ubaid Ullah Latif

تحریر: عبیداللہ لطیف
ubaidullahlatif@gmail.com

Share this:
Tags:
Conspiracies goals Pakistan ideology World دنیا سازشوں مقاصد نظریہ پاکستان
Iftikhar Chaudhry
Previous Post میں کہاں کہاں سے گزر گیا
Next Post کیا امیر ہونا بری بات ہے
Writing

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close