Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کیا ہم واقعی آزاد جمہوری معاشرے کے آزاد شہری ہیں؟

August 22, 2016 0 1 min read
Democracy
Democracy
Democracy

تحریر: رقیہ غزل
پاکستان کو وجود میں آئے ایک عرصہ بیت چکا ہے اور اگر ان بیتے ہوئے سالوں کا غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو ہم پر آشکار ہوگا کہ پاکستان میں بالا دست طبقات اور ہمارے سیاستدانوں کے ذہن جمہوری کلچر سے بہت دور تھے جس کی وجہ سے رفتہ رفتہ عوام الناس کی آزادی اور جمہوری عمل میں فاصلے بڑھتے گئے کیونکہ پاکستان کو وڈیرہ شاہی اور مادر پدر آزادشاہی کلچر آغاز سے ہی اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا جس کی وجہ سے تعلیمی شعور اور شخصی آزادی کا تصور بھی انہی گھرانوں تک محدود تھا نتیجتاً عوام جمہوریت کا مطلب محض ”ووٹ ڈالنا اور ان ووٹوں کے نتیجے میں جیتنے والی نمائندہ حکومت کو ہی برسر اقتدار رہنا جمہوریت سمجھتے رہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی عوام کو جمہوری نظام کی خرابیاں نظر آئیں تو ایک نجات دہندہ کی ضرورت محسوس ہوئی جو کہ مسیحا بن کر ان کے مسائل کا حل کرے مگر ہمیشہ مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے پاکستان نہ ایک مضبوط جمہوری ریاست بن سکا اور نہ ہی آمریت کا ہی بول بالا ہوا مگر اس سے یہ مطلب ہر گز نہیں لینا چاہیئے کہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو روز اول سے سیاسی تھپیڑے کھا رہا ہے بلکہ آج پوری دنیا میں جمہوریت کا مفہوم اور اغراض و مقاصد بدل چکے ہیں۔

سیاسی طور پر اگر دیکھا جائے تو دنیا میں دو قسم کے جمہوری نظام رائج ہیں ایک وہ کہ جس میں اخلاقی قانون سے بالا تر ہو کر خود ساختہ نظریہ ضرورت کے تحت دوسروں کو آزاد دیکھنا چاہتاہے اگرچہ یہ سوچ ذاتی مفادات کے حصول کے ہی گرد گھومتی ہے اس سوچ میں شخصی آزادی سلب کرنے کے ساتھ اپنے خود ساختہ نظام کی ترویج بھی ہوتی ہے اور دوسرا وہ جو اخلاقی قانون کے تابع ہو کر آزادی اور جمہوری عمل سے سرفراز ہونا چاہتا ہے اس سے آمرانہ طرز کا تصور ابھرتا ہے یعنی یہ طے ہوا کہ جمہوری عمل کی جو خود ساختہ شکلیں ہمیں نظر آتی ہیں ان میں نہ جمہور کے لیے جگہ ہے اور نہ حریت کا کوئی وجود ہے یہی وجہ ہے کہ آج آزادی اورحق خودارادیت کا نعرہ جو کہ پوری دنیامیں گونج رہا ہے اور جو ممالک سب سے زیادہ یہ راگ آلاپ رہے ہیں وہاںبھی اقلیتیں پریشان اور تباہ حال ہیں اور اس متعلقہ انسانی حقوق کے سب سے بڑے دعوے دار بھی خاموش ہیں کیونکہ طاقت کوقانون وانصاف پر غلبہ حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے نام لیوا بھی جمہوریت کی اساس سے خائف ہیں چونکہ یہ بالواسطہ یابلا واسطہ عوام کی رضا اور شخصی آزادی سے جڑا ہوا ایک ایسا شفاف نظام ہے جس کے پیش نظر حکمرانوں کو آقا نہیں عوام کا خادم بنانا ہے جو کہ مسند پر برا جمان کسی بھی حکمران کو قابل قبول نہیں ہے اس لیے جمہوریت پس پردہ آمریت کی بگڑی شکل بن کر اپنی قدر و قیمت کھو چکی ہے یعنی کہنے کو تودنیاکھوپڑیوں کے میناروں سے باہر نکل آئی ہے مگر اس سوچ کا خاتمہ نہیں ہوسکا جو کہ کھوپڑیوں کے مینار سجا کر نا شتہ کرنے کا سبب بنتی تھی چونکہ آج شعور اور آگاہی کا بول بالا ہے یہی وجہ ہے کہ کہیں نہ کہیں کم و بیش آدھی دنیا میں بغاوت کی فضا پیدا ہوچکی ہے نتیجتاً اکثر دیکھا گیا ہے کہ کسی نہ کسی ریاست میں جمہوریت پسند با شعور افراد حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جس سے مزید مسائل جنم لیتے ہیں عمیق نظری سے دیکھا جائے تو دنیا کو جس تیسری جنگ عظیم کا خطرہ لاحق ہے وہ اسی انتشار اور عدم اعتماد کا پیش خیمہ ہے تا دیر عدم مساوات کی اس فضا کو ختم نہ کیا گیا۔

Democratic system
Democratic system

سوال تو یہ ہے کہ اصل جمہوری نظام سے خواص خائف کیوں ہیں جبکہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جن قوموں میں جمہوری نظام ہوتا ہے وہ دن بدن ترقی کرتی ہیں چونکہ عوام پرسکون اور خوشحال ہوتے ہیں کیونکہ جمہوریت میں عوام کی نمائندہ حکومت عوام کی خدمت اور وطن عزیز کی محبت سے سرشار ہوتی ہے اس لیے مسائل پیدا ہونے سے پہلے ان کا حل تلاش کر لیا جاتاہے ،تمام فیصلے پارلیمینٹ سے پوچھ کر ہوتے ہیں، قانون سازی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا، عدلیہ اور صحافت مکمل آزاد ہوتی ہے ،آزادی رائے کی آزادی ہوتی ہے ،تمام ادارے اپنے اپنے فرائض خلوص سے سرانجام دیتے ہیں اور ہر ادارہ سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہوتا ہے ،یہاں تک کہ وزارت یا اعلی مناصب پراگر کسی کو بھی فائز کیا جاتا ہے تو عوام کی رضا مندی سے اس عمل کو سرانجام دیا جاتا ہے یعنی عوام کی رضامندی ہر معاملے میں اہمیت کی حامل ہوتی ہے جو کہ زبردستی سے نہیں خوشی سے لی جاتی ہے ،اقلیتیوں کو آزادی اور تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں، عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے اور انصاف کا طوطی بولتاہے، احتساب کا مضبوط ادارہ قائم ہوتا ہے جو کہ دلجمعی اور دیانتداری سے اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے تاکہ شفاف نظام کا بول بالا ہواور ملک و قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہو یعنی صرف ایک چیز ہے جو نظام کو شفافیت فراہم کرتی ہے اور وہ ہے ”جواب دہی ” کا خوف جو کہ احتسابی اداروں یا پھر خوف الہی کا ہوتا ہے یعنی طے ہوا کہ جب شتر بے مہار نظام ہوگا’ خدا کا ڈر نہیں ہوگا’کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوگاتو آزادی اور جمہوری عمل کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

حیرت کی بات ہے کہ جس پاکستان کا مطلب لاالہ اللہ قرار دے کر اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا یعنی اس لیے حاصل کیا گیا کہ دنیا میں ایک ایسی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں لانا مقصود تھا جو مکمل طور پر قرآن و سنت کے مطابق ہو اور اسلام کا ایسا مضبوط قلعہ ہو جس کی مثال خلافت راشدہ کے دور سے دی جاتی ہواس کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ بانئی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے انداز حکومت کی بابت وا شگاف الفاظ میں فرمایا تھا کہ” مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کاطرزحکومت کیا ہوگا؟پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں،مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن حکیم نے وضاحت سے بیان کر دیا تھا۔

Quran
Quran

الحمداللہ قرآن حکیم ہماری راہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا۔”اس کے بعد کسی انحراف اور کسی حیل و حجت کی ضرورت نہیں رہ جاتی اور اس بارے ایک اور جگہ فرمایاکہ مملکت کے امورومسائل بارے میں فیصلے باہمی بحث و تمحیص اور مشوروں سے کیا کرو!مگر افسوس کہ ہم فرنگیوں سے تو آزاد ہوگئے مگر فرنگیوں کے قوانین اور انداز فکر سے نجات نہیں حاصل کر سکے اور یہ تو طے ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے وحدت کو چھوڑا تواپنی اصل کو کھو دیا’ اسلاف کے پیغامات کو دور جدید میں رکاوٹ پایا یعنی اپنی تاریخ سے انحراف کیا تو وقت نے عبرت ناک سزا دی’ یہ سزا ہی تو ہے کہ آج انسانیت شرمندہ ہے دو لوگ جھگڑتے ہیں تو تیسرا صرف ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرتا ہے ،سر عام کوئی زخمی ہوجاتا ہے تو لوگ چپ چاپ گزر جاتے ہیں ،زندہ انسانوں کو جلا دیاجاتا ہے اور دوسرے تماشا دیکھتے رہتے ہیں ،عزتوں کے لٹیرے تاک لگائے بیٹھے رہتے ہیں مگر کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈالتا ،نا حق قتل و غارت ہوتی ہے اور دانشوران اور سول سوسائٹی کے باشعور افراد دسوشل میڈیا پر بیٹھ کر تصویریں سیاہ کر کے دکھی سٹیٹس اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں اور شکر ادا کرتے ہیں کہ اس آگ سے ان کے گھر محفوظ رہے اس قدر بے حسی۔۔ پہلے تو نہیں تھی جو آج اس ملک کے استخوانوں میں بول رہی ہے اور کوئی نہیں سوچتا کہ ”یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں اس کا گھر نہ ہو ”۔

بہر حال یہ افسوسناک ہے کہ اسلامی معاشرے میں نظریاتی محاذپر انتہا پسندی نے اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں فرقہ واریت اور نسلی تعصب ہر شخص کی رگ و پے میں دوڑنے لگا ہے عدم مساوات کا بول بالا ہے ایک بے ہنگم اور منتشر نسل تیار ہو رہی ہے جسے سوشل میڈیا اورالیکٹرانک میڈیا کی بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور مغربی اقدار اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اس پر طرہ یہ کہ جب بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اقتدار کی مسندوں پر بیٹھے حکمران مذمتی بیانات کے ساتھ میدان میں اتر آتے ہیں اوربد قسمتی یہ ہے کہ وطن عزیز کی محبت سے سرشار اگر کوئی اس پر تنقید کرے تو حکومتی رفقا اور ترجمان بڑی برحمی سے پیش آتے اور پھر ایک روایتی بیان دیا جاتا ہے کہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی سازش کرنے والوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور امن کے راستے میں آنے والوں کو بھی معاف نہیں کریں گے گویا کہ ایسے نقاد ہی تمام جرائم کی جڑ ہیں جو لیڈران کو وقتاً فوقتاً حلف نامے یاد کرواتے رہتے ہیں یا عذاب الہی سے ڈراتے رہتے ہیں یہ بڑی مزحکہ خیز صورتحال ہے یہی وجہ ہے کہ ستر سال پورے ہونے کے بعد بھی ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ہم تہی دست اور مایوس بھی ہیں جبکہ کل ہم تہی دست ضرور تھے مگر مایوس نہیں تھے ہمیں امید تھی کہ ہم کھویا ہوا وقار تشخص واپس پا لیں گے مگر مغربی یلغار کی لپیٹ میں ہمارے افکار اور ہماری روایات سب آچکے ہیں اور آج ہم ستر سال پورے ہونے پر یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا واقعی ہم آزاد ہیں اور جمہوری ریاست کے پروردہ ہیں ؟مگر پھر بھی ہمارا مذہب ہمیں حکم دیتا ہے کہ ”اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں ” لہذا اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں ۔۔۔کہ بر سر اقتدار لوگ کچھ ایسا کریں کہ ہمار ا آزادی کا بھرم نہ ٹوٹنے پائے !

Ruqayya Ghazal
Ruqayya Ghazal

تحریر: رقیہ غزل

Share this:
Tags:
civil society Democratic independent pakistan آزاد پاکستان رقیہ غزل شہری
Mufti Mohammad Naeem
Previous Post مدارس کی رجسٹریشن اور آڈٹ سے کوئی اعتراض نہیں، مفتی محمد نعیم
Next Post ٹیکسلا رہبر کالونی میں لوگ گندا پلید پانی پینے لگے، سیاستدانوں کے لئے ڈوب مرنے کا مقام

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close