Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پتنگ چینی فوج نے ایجاد کی

April 1, 2016 0 1 min read
Kite flying
Kite flying
Kite flying

تحریر : محمد ارشد قریشی
پتنگ بازی ایک وہ شغل ہے جو دنیا کے تمام ممالک میں پایا جاتا ہے ہاں اس کے انداز ضرور مختلف ہو نگے پاکستان کا میں بھی شائید ہی ایسا کوئی علاقہ ہوگا جہاں پتنگ نہ اڑائی جاتی ہو پاکستان میں تو پتنگ سازی ایک چھوٹی انڈسٹری کی شکل اختیار کرگئی ہے ، پاکستان کے گاؤں دیہاتوں میں میں تو پتنگوں کے میچ رکھے جاتے ہیں ان کی خوب زوق وشوق سے تیاری کی جاتی ہے پتنگ کی ڈور کو تیزدھار بنایا جاتاہے تاکہ پیچ لگتے ہیں حریف کی پتنگ کاٹ دی جائے پاکستا ن کے بڑے شہروں میں تو پتنگ ، مانجھا اور چرخی وغیرہ خرید کر اس شوق کو پورا کیا جاتا ہے جبکہ گاؤں دیہاتوں میں پتنگ، مانجھا اور چرخی خود تیار کی جاتی ہیں اور ان کی تیاری کے بڑے دلچسپ مراحل دیکھنے کو ملتے ہیں پتنگ کی تیاری تو اس کی شکل و صورت سے واضح ہوجاتی ہے لیکن پتنگ کو اڑانے والے مانجھے کی تیاری کچھ اس طرح کی جاتی ہے کہ سوتی دھاگے کی ریلیں یا گولا لیا جاتا ہے اور اسے کسی بھی سہارے یا درختوں کے گرد گھما دیا جاتا ہے جس طرح الیکڑک کی تاریں ایک کھمبے سے دوسرے کھمبے تک لگائی جاتی ہیں اب کسی بھی عام قسم کا چاول لے کر اسے ابال لیا جاتا ہے پھر شیشوں کے ٹکڑے لئیے جاتے ہیں اور اسے باریک کوٹ لیا جاتاہے جب شیشوں کا سفوف تیار ہوجاتا ہے تو اسے ابلے ہوئے چاول میں ملا دیا جاتا ہے پھر تھوڑا سے کپڑے رنگنے والا رنگ ملا دیا جاتا ہے مانجھے پر زیادہ تر کالا رنگ پسند کیا جاتا ہے

اب اسے خوب اچھی طرح مکس کر کے ایک لئی بنالی جاتی ہے پھر ہاتھوں پر کوئی دستانے پہن کر اس لئ کو ہاتھ میں لے کر اس دھاگے کو اس طرح پکڑا جاتا ہے کہ دھاگہ اس لئی کے بیچوں بیچ آجائے اب جہاں جہاں تک دھاگے باندھے ہوئے ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ چلا جاتا ہے تاکہ تمام باندھے گئے دھاگوں پر یہ لئی اچھی طرح لگ جائے اس مرحلے کے ختم ہونے کے بعد ان دھاگوں کو سوکھنے کے لیئے چھوڑ دیا جاتا ہے جب یہ دھاگے اچھی طرح سوکھ جاتے ہیں تو پھر اسے چرخی پر یا ایک گولے کی شکل میں لپیٹ لیا جاتا ہے اور جب یہ تیار ہوتا ہے تو اس کی دھار کو چیک کرنے کے لیئے اس تیار مانجھے کو کسی دوسرے مانجھے سے ٹکرایا جاتا ہے اور وہ معمولی سی رگڑ سے دوسرے مانجھے کو کاٹ دیتا ہے ۔

Pakistan
Pakistan

پتنگ کے دنیا میں بہت سے نام ہیں لیکن وطن عزیز پاکستان میں زیادہ تر لوگ پتنگ اور گڈی یا گڈے کے نام سے زکر کرتے ہیں ۔اب آتے ہیں بلاگ لکھنے کے اصل مقصد کی طرف آپ نے یہ سوالیہ جملہ تو ضرور سنا ہوگا کہ دنیا میں مرغی پہلے آئی یا انڈہ اب ہم سوچتے ہی رہتے ہیں کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ دنیا میں انڈہ پہلے آیا یا مرغی لیکن جو چیز انسان نے قدرت کی جانب سے عطاء کردہ عقل اور علم سے تیار کی اس کی کوئی نہ کوئی ابتدائی وجہ یا ضرورت ضرور ہوتی ہے اور انسان کی بنائی کسی بھی چیز کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں بلکل اسی طرح میں جب پتنگ کو اڑتے یا اڑاتے دیکھتا تھا تو یہ سوال زہن میں ضرور آتا تھا کہ سب سے پہلے پتنگ کس نے بنائی ہوگی اور اسے یہ بنانے کی کیا سوجھی ہوگی یا پھر جب پہلی بار پتنگ بنائی گئی ہوگئ تو وہ اسی شکل کی ہوگی وغیرہ وغیرہ جب اس بارے میں معلومات اکٹھا کرنا شروع کی تو بہت ہی دلچسپ اور حیران کن معلومات میسر آئیں ۔

تاریخِ عالم میں پتنگ اڑانے کا اولّین تحریری حوالہ سن 200 قبل مسیح میں ملتا ہے جب چین میں سپہ سالار ہان سینگ نے دشمن کے ایک شہر کے باہر پڑاؤ ڈال رکھا تھا لیکن وہ براہِ راست حملے کا خطرہ مول لینے کی بجائے ایک سرنگ کھود کر شہر میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ لیکن اسے یہ اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ سرنگ کتنی لمبی کھودنا پڑے گی اس لیئے اس نے پڑاؤ کے مقام سے شہر کی فصیل تک کا فاصلہ ناپنے کی ٹھانی اس نے دیکھا کہ ہوا اس سمت کی ہی چل رہی ہے جہاں وہ سرنگ کے ذریعے حملہ آور ہونا چاہتا ہے اور وہ یہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے پڑاؤ والے علاقے سے اس جانب ہوا کے ساتھ کاغذ اڑتے جاتے ہیں بس یہ دیکھ کر اس نے ایک کاغذ لیا اور اس میں ایک درخت کے چند تنکے باندھ دیئے تاکہ اسے ہوا کا دباؤ حاصل ہو سکے جو اس کے اڑنے میں مدد گار ثابت ہوگا اور پھر ایک لمبے دھاگے کی مدد سے اسے اڑا دیا جب وہ کاغذ مطلوبہ مقام تک پہنچ گیا تو اسے ناپ کر واپس کھینچ لیا اور ڈور کو ناپ کر فاصلہ معلوم کر لیا۔یہی دنیا کی پہلی پتنگ تھی جو ایک جنگی مقصد حاصل کرنے کے لیے اڑائی گئی تھی پھر قدیم چین میں پتنگ سازی فوجی استمال کے لیئے کی جانے لگی جس میں فوج کا جاسوسی کا کام بھی تھا اپنے ہی فوجیوں کو ایک پڑاؤ سے دوسرے پڑاؤ تک پیغام رسانی کے لیئے استمال کی گئی اپنے ساتھیوں کو اپنے ہونے کی جگہ بتانے کے لیئے پتنگیں اڑائی گئیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ چھوٹے ہتھیار تک ایک جگہ سے دوسری جگہ ان پتنگوں سے پہنچائے گئے پھر اسکے بعد چین سے پتنگ سازی کا یہ فن کوریا پہنچا۔

وہاں بھی ایک جرنیل کی کہانی ملتی ہے جسکی فوج نے آسمان پر ایک تارا ٹوٹتے دیکھا اور اسے برا شگون سمجھ کر میدانِ جنگ سے منہ موڑ لیا۔ جرنیل نے اپنی فوج کا وہم دور کرنے کے لئے سپاہیوں کو بہت سمجھایا بجھایا لیکن وہ مان کے نہ دئیے۔ آخر جرنیل نے ایک ترکیب سوچی۔ اس نے ایک بڑی سی سیاہ پتنگ تیار کی اور اسکی دم سے ایک شعلہ باندھ کر رات کے اندھیرے میں اسے اڑایا تو فوج کو یقین آگیا کہ آسمان سے جو تارا ٹوٹا تھا وہ واپس آسمان کی طرف لوٹ گیا ہے، اور اسطرح محض ایک پتنگ کے زور پر جرنیل نے اپنی فوج کا حوصلہ اتنا بلند کر دیا کہ وہ لڑائی جیت گئی۔فوج کے بعد یہ کارگر نسخہ بودھ راہبوں کے ہاتھ لگا جو بدروحوں کو بھگانے کے لئے عرصہء دراز تک پتنگوں کا استعمال کرتے رہے۔

چین اور کوریا سے ہوتا ہوا جب پتنگ بازی کا یہ فن جاپان پہنچا تو عوام میں اتنا مقبول ہوا کہ اُس زمانے میں جاپان میں ایک سخت قانون نافذ ہوگیا جس کے تحت صرف شاہی خاندان کے افراد، اعٰلی سِول اور فوجی افسران اور چند مراعات یافتہ معزز شہریوں کو پتنگ اڑانے کی اجازت دی گئی ۔مشرقِ بعید سے پتنگ بازی کا مشغلہ کب اور کسطرح برصغیر پاک و ہند پہنچا، اس بارے میں تاریخ کوئی واضح اشارہ نہیں دیتی البتہ اس ملک میں پتنگ بازی کی اولّین دستاویزی شہادتیں مغل دور کی مصوری میں دکھائی دیتی ہیں۔سولھویں صدی کی ان تصویروں میں اکثر یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے کہ عاشقِ زار اپنے دل کا احوال کاغذ پر لکھ کر ایک پتنگ سے باندھتا ہے ، پھر یہ پتنگ ہوا کے دوش پر سوار ہوکر کوچہء محبوب کی فضاؤں میں پہنچتی ہے اور معشوقہء دلنواز کی چھت پر منڈلانے لگتی ہے۔

Europe kites
Europe kites

اہلِ یورپ نے پتنگوں کا احوال پہلی مرتبہ تیرھویں صدی میں مارکو پولو کے سفر ناموں میں پڑھا۔ اس کے بعد سترھویں صدی میں جاپان سے لوٹنے والے یورپی سیاحوں نے بھی پتنگ بازی کے رنگین قِصے بیان کئے۔ایشا کے برعکس یورپ اور امریکہ میں بیسویں صدی کے آغاز تک پتنگوں کا استعمال تفریح کی بجائے موسمیاتی تحقیق اور جنگی جاسوسی کے لئے ہوتا رہا البتہ پچھلے بیس پچیس برس کے دوران مغربی ملکوں میں اسے تفریح کے طور پر بھی اپنایا گیا ہے اور امریکہ میں تو اب پتنگ بازوں کی ایک قومی انجمن بھی بن چکی ہے۔لیکن گزشتہ ربع صدی کے دوران جس ملک میں یہ تفریح ایک صنعت کی شکل اختیار کر گئی ہے وہ ہے پاکستان ،جہاں اب لاکھوں افراد کا روزگار “گُڈی کاغذ” بانس‘ دھاگے اور مانجھے سے وابستہ ہے لیکن اب اس شغل کو بھی کچھ غیرقانونی طریقوں کے استمال اور ان استمال سے انسانی جانوں کے ضائع ہونے کے بعد بہت سی پابندیوں کا سامنا ہے جس سے بسنت کے موسم کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں

گلی محلّے کے کھیل کو عمائدین میں اتنی پذیرائی کیسے مل گئی؟ اسکا جواب شاید ملک کی حالیہ تاریخ میں مل سکتا ہےکہ بھٹو دور کے خاتمے پر‘ سن اسّی کی دہائی میں ادب‘ آرٹ‘ کلچر اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائد ہو چکی تھیں۔ فلم اور تھیٹر بھی سخت ترین سینسر کی زد میں تھے۔گھٹن کے اس ماحول میں تفریح کی فطری خواہش اتنی شدید تھی کہ پتنگ بازی کو لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔

پتنگ کے کھلاڑی ڈھیروں کے حساب سے پتنگیں ، ڈور اور چرخیاں خریدتے نظر آتے ہیں لیکن ہر پتنگ کو تول کر اس کا توازن دیکھ کر کہ یہ کنی تو نہیں کھاتی اور ڈور پر انگلی پھیر کر اندازہ لگاتے ہوۓ کہ اس کا مانجھا نرم تو نہیں پڑ گیا۔ہر موقع اور ہر موسم کے لیے پتنگ کی الگ الگ قسمیں ہیں۔ ایک تو پتنگ ہے اور دوسرے گڈی۔ ماہر کھلاڑی عام طور سے پتنگ یا کُپ اڑاتے ہیں اور اس کے پیچ لڑاتے ہیں۔ پتنگ آٹھ کے ہندسے سے ملتی جلتی شکل کی ہوتی ہے جبکہ ُکپ ایسی پتنگ ہوتی ہے جس کا نچلا حصہ خاصا چوڑا ہوتا ہے۔تکونی شکل کو گڈا یا گڈی کہتے ہیں۔ مذکر گڈے کی آدھی تکون کی چھوٹی سی دم ہوتی ہے جبکہ مؤنث گڈی کی دم ذرا بڑی ہوتی ہے۔ رات کو صرف سفید رنگ کی پتنگ یا گڈی اڑائی جاتی ہے۔ رنگوں ، شکلوں اور پتنگ کی اڑتے وقت آواز کی مناسبت سے اس کی او ربھی قسمیں ہیں جیسے پری، مچھر، تیرا، شسترو، گلہری ، پد وغیرہ۔ مچھر پتنگ ہوا میں اڑتے ہوۓ مچھر کی طرح بھیں بھیں کی آواز پیدا کرتا ہے۔

پتنگ بازی کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ اچھا پتنگ باز جانتا ہے کہ مختلف موسموں میں کس قسم کی پتنگ اڑانی ہے۔ جب ہوا تیز ہو تو چھوٹی پتنگ اور بھاری ڈور استعمال کی جاتی ہے اور جب ہوا ہلکی ہو تو بڑی پتنگ اور ہلکی ڈور۔پتنگ کو ہاتھ سے ناپا جاتا ہے جسے گٹھ کہتے ہیں۔ ایک پتنگ آدھی گٹھ سے لے کر پچاس گٹھ تک ہوسکتی ہے۔ ماہر پتنگ باز عام طور پر پانچ سے آٹھ گٹھ کی پتنگ اڑاتے ہیں۔ پہلے عام طور پر کھلاڑی چار گٹھ کی پتنگ اڑایا کرتے تھے لیکن اب چھوٹی پتنگ اڑانا پنسد نہیں کیا جاتا۔پتنگ کاغذ اور بانس کی لکڑی سے بنائی جاتی ہے۔ اچھی پتنگ کا کاغذ جرمنی سے آتا بنگلہ دیش سے آیا ہوا بانس پتنگ بنانے کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ایک عام کاریگر ایک دن میں درجنوں پتنگیں بنالیتا ہےلیکن جو ماہرین ہیں اور پیشہ ور کھلاڑیوں کے لیے پتنگیں بناتے ہیں وہ ایک دن میں دو سے زیادہ پتنگیں نہیں بناتے۔ اب بڑےکاروباری اداروں کی نظریں اس پر جمی ہیں کہ وہ پتنگوں کو مشینوں سے بڑے پیمانے پر بنائیں اور اسے دستکاری سے صنعت بنادیں۔

Bamboo kites
Bamboo kites

اساتذہ فن کا کہنا ہے کہ ایک اچھی پتنگ وہ ہے جو اڑانے والے کی تابعدار ہو۔ اس کو بننے والا اس میں یہ خوبی پیدا کرتا ہے کہ یہ پتنگ فضا میں بلند ہوکر اُڑانے والے کا کہنا مانےایک اچھی پتنگ وہ ہے جو اس سمت میں جاۓ جس سمت میں اسے اڑانے والا لے جانا چاہتا ہے۔ اچھی پتنگ بنانے گُر اساتذہ کے سینوں میں ہیں۔ جو بات سب کو معلوم ہے وہ یہ ہے کہ پتنگ کا معیار اس کے چار بانس کی لکڑیوں میں ہے جس سے کاغذ کو چپکایا جاتا ہے۔ اس بانس کو سرسوں کے تیل میں بھگو کر رکھا جاتا ہے تاکہ اس میں لچک پیدا ہو اور پھر انھیں سُکھانے کے لیے دھوپ میں یا گرمایش کے قریب رکھا جاتا ہے۔ بانس کو جس نفاست سے چھیلا جاۓ گا پتنگ اتنی اچھی بنے گی۔ بانس کو اس طرح چھیلا جاۓ اور انہیں اس طرح موڑا جاۓ کہ بانس کے اندر کا گودا خراب نہ ہوجاۓ۔ پتنگ کی طاقت کا انحصار بانس کے اسی گودے پر تو ہے۔ جو عام پتنگ بنتی ہے اس میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا اس لیے اس میں اور کھلاڑیوں کی پتنگ کے معیار میں فرق ہوتا ہے۔پتنگ بازی ایک کھیل ہے ، ایک آرٹ ہے جس کو سیکھنا پڑتا ہے اور مشق کرنی پڑتی ہے۔ اس کے مقابلوں کے لیے قواعد و ضوابط ہیں۔

ایک پتنگ کو ہوا میں اڑاتے ہوۓ ایک یا دو میل دور تک لے جانا ایک مہارت کا کام ہے۔ اس کے لیے ڈور کو خاص طریقے سے سنبھالنا پڑتا ہے جس میں انگلیاں، ہاتھ اور بازو کی حرکت پر قابو رکھنا ہوتا ہے۔
پتنگ بازی کے مقابلہ دو پتنگ باز ایک دوسرے سے کچھ فاصلہ پر ایک چھوٹے سے کپڑے پر کھڑے ہوتے ہیں اور اس سے باہر نہیں جاسکتے۔ وہ دونوں اپنی پتنگوں کی ڈوریں ایک دوسرے پر سے گزارتے ہیں اور یوں پتنگوں کا پیچ پڑجاتا ہے۔ اس مقابلہ میں ایک پتنگ باز اپنی پتنگ اور ڈور کو آگے کی طرف لےجاسکتا ہے لیکن پیچھے کی طرف نہیں لاسکتا۔ جس کی پتنگ کی ڈور کٹ جاۓ وہ جیت گیا۔ اس مقابلہ میں پتنگ باز ایک جھٹکے سے دوسرے کی پتنگ کی ڈور نہیں کاٹ سکتا۔ پتنگ باز صرف اپنی ڈور کو ایسے تیزی سے آگے بڑھا سکتا ہے کہ دوسری ڈور پر ا س کی کاٹ لگے اوروہ کٹ جاۓ۔

پتنگ بازی کے دنگلوں کی مختلف قسمیں ہیں۔ ایک تو روایتی قسم ہے جو آگو دنگل کہلاتا ہے جس میں دو پتنگ باز ایک سال تک ایک دوسرے سے پیچ لڑاتے رہتے ہیں اور بوں مقاموں میں سے جو سب سے زیادہ پیچ جیتے وہ کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔ابھی چند روز پہلے چین کے شہر بیجنگ کے ایکسپو پارک میں ایک عالمی پتنگ میلہ 2015 منعقد کیا گیا جس میں دنیا بھر سے پتنگ بازی کے شوقین حضرات نے شرکت کرکے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔اسی عالمی پتنگ میلے کے حوالے سے اپنے ایک چینی دوست سے بات چیت کے دوران چینیوں کے پتنگ کے بارے میں حیران کن اور دلچسپ عقائد جاننے کا موقع ملا کہ چینیوں کا عقیدہ ہے کہ پتنگ جتنی اونچی اڑے گی آپ کی پریشانیاں آپ سے اتنی ہی دور ہوجائینگی، کسی کی چھت پر کٹی پتنگ گرجائے تو اسے بدشگونی سمجھا جاتا ہے اور اس پتنگ کو پھاڑ کر جلادیا جاتا ہے ۔

ہمارے وطن عزیز پاکستان میں بدقسمتی سے اس مشغلے کا کئی غیرقانونی طریقوں کے استمال کی وجہ سے زوال شروع ہوچکا اور اب اس پتنگ بازی پر کئی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں جس کی وجہ سے غیر ملکی اب چین کا رخ کرتے ہیں ہر کھیل کے قوائد و ضوابط ہوتے ہیں اگر ان پر سختی سے عمل کیا اور کروایا جائے نہ کہ اس پر پابندی لگادی جائے اگر پاکستان میں بھی پتنگ بازی کے لیئے سال میں ایک دفعہ کوئی کھلی جگہ مخصوص کردی جائے اور پتنگ کی ڈور کی حد پیمائیش متعین کردی جائے تو اس کھیل کو جو اب ہماری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے نہ صرف بچایا جاسکتا ہے بلکہ غیر ملکی سیاح کے لیے باعث کشش ہوسکتا ہے جس سے لاکھوں لوگوں کو روزگار مل سکتا ہے اور پوری دنیا میں ہماری ثقافت متعا رف کرائی جاسکتی ہے ۔

Muhammad Arshad Qureshi
Muhammad Arshad Qureshi

تحریر : محمد ارشد قریشی

Share this:
Tags:
electric kite pakistan پاکستان پتنگ دلچسپ
Karachi
Previous Post آل کراچی کورنگی بلوچ چیلنج کپ فٹ بال ٹورنامنٹ میں مزید 3 میچوں کے فیصلے ہوگئے
Next Post پاکستان میں سرچ آپریشن میں تیزی آ رہی ہے : رانا ثنا اللہ
Rana Sanaullah

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close