Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ہمارا پاکستان

January 2, 2016 1 1 min read
Pakistani Peoples
Pakistani Peoples
Pakistani Peoples

تحریر : بنت اسحاق
پاکستان کا مطلب کیا “لا الہ الا اللہ” یہی وہ نعرہ ہے جو برصغیر کے ہر چھوٹے بڑے کی صرف زبان پر ہی نہیں بلکہ دل میں رچ بس گیا تھا۔اسی نعرے کی اساس پر مسلمانان ہند نے حصول پاکستان کے لیے جدوجہد کی جس میں بالآخر وہ کامیاب ہوئے۔ 1857ء کے بعد مسلمان سیاسی طور پر کمزور ہوگئے۔ہندو سکھ اپنی فرقہ ورانہ شرارتوں سے مسلمانوں کو تنگ کرنے لگے۔اور ہر مذہبی تہوار پر فساد برپا کرنے لگے۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت و وفات کے دن مسلمان چاند ستارے والا سبز رنگ کا جھنڈا پکڑ کر امرتسر کی گلیوں سے گزرتے۔ آج کے نوجوان کی طرح ناچ گانا نہیں کرتے تھے بلکہ نعرہ تکبیر کی آوازیں گونجا کرتی تھیں اور مسلمان اس طرح سینہ تان کر فخر سے چلتے کہ دشمنوں پر فتح پاکر آرہے ہیں۔ہندو مسانوں کی اپنے نبی(صلی اللہ علیہ وسلم ) سے عقیدت دیکھ کر دب جاتے اور ان پر ہندو لڑکے چھپ کر پتھروں کی بارش کرتے تھے۔ بزدل قوم کھل کر سامنے نہیں آتی تھی۔انیسویں صدی کے آخر میں مسلمانوں کو جینا ہندوؤں اور سکھوں نے دشوار کردیا۔ہندوستان میں انتہا پسند تحریکیں پیدا ہوگئیں۔جن میں آریہ سماج خاص طور پر قابل ذکر ہے اس ہندو تحریک کا نعرہ تھا۔ “ہندوستان ہندوؤں کا ہے اس لیے مسلمان ہندو مت قبول کرلیں ورنہ ملک چھوڑ جائیں۔” وہ مسلمانوں کو ملیچھ یعنی “ناپاک” کہتے تھے۔کانگرس بظاہر تو ہندو مسلم اتحاد کے لیے تھی لیکن اندر خاطے مسلمانوں کی جڑیں کاٹی جا رہی تھیں۔

ہندوؤں کے مسلمانوں کو ہندو بنانے کی شدھی تحریک شروع کردی۔ لالہ ہردیال نے ایک بیان میں واضح طور پر یہ کہا کہ”ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا صرف ایک حل ہے کہ مسلمانوں کو شدھی کے ذریعے ہندو قوم میں شامل کرلیا جائے۔ چنانچہ مسلمانوں کے اپنے تحفظ کے لیے 1906ء میں مسلمانوں کی ایک سیاسی جماعت مسلم لیگ کا قیام کیا اس جماعت نے ثابت کردیا کہ مسلمان اور ہندو الگ قوم ہیں اور کانگرس مسلمانوں کے مفادات کی نگہداشت نہیں کرسکتی۔ جلد ہی اس جماعت کو قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت 1913ء کو میسر آگئی۔ 1916ء میں قائداعظم کی کوششوں سے میثاق لکھنؤ کا معاہدہ طے پایا۔ جس میں پہلی بار مسلمانوں کو الگ قوم تسلیم کیا گیا۔ 1929ء آپ نے مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانوں کے تمام مطالبات کو وضاحت کے ساتھ یکجا کردیا۔ یہ قائداعظم کے مشہور چودہ نکات کہلاتے ہیں۔1930ء میں علامہ اقبال نے خطبہ آلہ آباد میں کہا: “مجھے ایسا نظر آتا ہے کہ اور نہیں تو شمال مغربی ہندوستان کو بالآخر ایک الگ ریاست قائم کرنا پڑے گی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام بحیثیت تمدنی اور زندہ رہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرے۔ میں صرف ہندوستان میں اسلام کی فلاح و بہبود کے خیال سے ایک منظم اسلامی ریاست کا مطالبہ کر رہا ہوں۔”

قائد اعظم نے دو میز گول کانفرسوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کی لیکن ہندوؤں کی تنگ نظری کی وجہ سے یہ بے نتیجہ رہی جس سے مایوس ہوکر آپ نے لندن میں قیام کا فیصلہ کیا۔ 1933ء میں یورنیورسٹی کے طالب علم چوہدری رحمت علی نے ایک پمفلٹ (Now or Never) شائع کیا جس کے اندر پاکستان کا نام تجویز کیا۔1934ئ میں قائداعظم علامہ اقبال کے بلانے پر واپس آئے۔ٰٰ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے اجلاس اکتوبر 1939ء میں قائد اعظم نے فرمایا:”مسلمانو! میں نے دنیا کو بہت دیکھا، دولت، شہرت اور عیش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے۔ اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کو جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی۔ میں آپ کی داد اور شہادت کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ کرتے ان میرا اپنا دل،ایمان اور میرا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے مدافعت اسلام کا حق ادا کردیا۔ جناح تم نے مسلمانوں کی حمایت کا فرض بجا لایا۔ میرا خدا یہ کہے کہ بیشک تم مسلمان پیدا ہوے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں علم اسلام کو سربلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔

1939 War
1939 War

“دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں کانگریسی وزارتوں نے احتجاج کے طور پر استعفی دیدیئے۔ تو مسلمانوں نے قائد اعظم کی اپیل پر 22 دسمبر 1939ء بروز جمعہ کو یوم نجات منایا اور ہندو راج سے نجات ملنے پر تمام مساجد میں شکرانے کی نماز ادا کی گئی۔ مسلمانان ہند میں یہ ایمان کا جذبہ تھا کہ اسی دن سجدہ شکر ادا کرنے کے لیے مساجد بھر گئیں۔قرارداد کو مسلم لیگ نے قرارداد لاہور کو نام دیا لیکن ہندو اخبارات نے طنزا اسے قرارداد پاکستان کا نام دیا۔مسلمانوں کو یہ کام بہت پسند آیا اور پھر اسی قرارداد کا قرارداد لاہور کی بجائے قرارداد پاکستان کے نام سے 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں منظور ہوئی۔ جس میں واضح کیا گیا کہ برصغیر کے مسائل کا واحد حل ہندوستان کی تقسیم اور مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے قیام میں ہے۔ جس پر گاندھی کے کہا کہ “ہندوستان ہماری ماتا ہے اور ہم اپنی ماتا کے ٹکڑے نہیں ہونے دیں گے مسلم علمائے اکرام مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا ظفر احمد انصاری نے قرارداد کا بھرپور ساتھ دیا۔ جب قرارداد پاکستان کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا تو قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے سیکرٹری مطلوب الحسن سید سے مخاطب ہوکر فرمایا:”اقبال وفات پا چکے ہیں اگر آج وہ ذندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے کہ آج ہم نے انکی خواہش پوری کردی ہے۔

“قائداعظم کے نزدیک اسلام اور اسلامی اقدار کی بہت قدر و قیمت تھی۔ وہ قوم کو اسلام کا اسلامی اقدار کے تحفظ کے ہمہ تن کرتے رہتے تھے۔ 10 مارچ 1941ء کو انجمن اتحاد طلبہ سے ایک جلسہ میں فرمایا کہ ” عملی لحاظ سے پاکستان ہی آپ کا وہ واحد مقصد ہے جس کے ذریعے سے آپ اس ملک میں اسلام کو قطعََا فنا ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اسی طرح 21 نومبر 1942ء کو ٹاون ہال لاہور میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے عدل و انصاف کے بارے میں فرمایا ” ہم اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے علاقہ مانگتے ہیں جس میں ہم اسلامی عدل و انصاف کی تاریخ دہرائیں گے ” غرض کہ قائد کے دل میں ہمیشہ یہ خواہش تھی کہ پاکستان میں حضرت عمر فاروق کے دور کا نظام حکومت قائم ہو۔یہ ستمبر 1944 کا ذکر ہے۔ ان دنوں تحریکِ پاکستان زوروں پر تھی۔ فرخ نگر کی ایک ہندو خاتون نے اسلام قبول کرلیا اور اس کا نکاح مسلمان مرد سے ہوگیا، پھر کیا ہونا تھا ہندو آبادی میں غیظ و غضب کی لہر دوڑ گئی۔ قلعہ فوجدار خاں میں ہندو پنچایت ہوئی اور فیصلہ ہوا کہ مسلمانوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے اس وقت تجارت سازی ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی۔ بائیکاٹ کا مطلب تھا کہ انہیں ضروریات زندگی سے محروم کردیا جائے۔ آخر کار میں خونریز تصادم ہوا اور چھ مسلمان شہید کردیئے گئے۔یہ پہلی خون ریزی تھی جو ہندو شدت پسندی کی وجہ سے ہوئی۔بعض لوگ ہمارے قائد کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اچھے انسان تھے لیکن اسلامی تعلیمات سے نابلد تھے۔ میں نے بانئی پاکستان کو کبھی نہیں دیکھا لیکن جتنا مشاہدہ کیا ہے اس سے یہ بات وثوق سے کہ سکتی ہوں کہ قائد اعظم پر اس سے بڑھ کر کوئی الزام نہیں ہوسکتا۔ 1945ء کو کلکتہ میں جمعیت علمائے پاکستان کے افتتاحی اجلاس میں قائد اعظم نے اسلامی ذندگی کے بارے میں اپنا نظریہ واضح الفاظ میں قرآن پاک کا انگریزی میں منتقل شدہ نسخہ نکال کر فرمایا :

“اس کتاب میں فوجی، انتظامی، معاشی غرض کہ زندگی کے ہر شعبہ کے بارے میں قوانین موجود ہیں۔ یہ ایک ایسا آئین ہے جو مکمل اور جامع ہے۔ میں ایک مثال دینا چاہوں گا اس میں کئی جگہ باری تعالی نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہر جرم کی سزا اس کی نوعیت کے مطابق ہونی چاہیے۔ یہ کس قدر عالی اور ابدی اصول ہے۔”مولانا غلام مرشد مرحوم فرماتے ہیں کہ اسلام سے قائد اعظم کے عشق کا تو میں پہلے ہی معترف تھا۔ اب میں انکی قرآن فہمی پر حیرت زدہ رہ گیا اور ساتھ ہی انکی دینی بصیرت بھی مجھ پر واضح ہوگئی۔ 1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی جو کہ مسلمانوں کے لئے بہت بڑی کامیابی تھی۔ مسلمانان ہند کو 3 جون 1947ء کی شام کا جس بے چینی سے انتظار تھا۔ اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ ہر مسلمان نے اپنے اپنے گھروں میں ریڈیو سیٹ ٹھیک کروائے۔ ان کی خاطر خواہ مرمت کرائی ریڈیو کے ایریل درست کئے اور جن لوگوں کے گھروں میں ریڈیو نہیں تھے انہوں نے اپنے دوست احباب کے گھر ریڈیو پر پاکستان کے اعلان اور حضرت قائد اعظم کی جاں افروز تقریر سننے کے لئے انتظام کیا۔ بہت سی مسلم ایجنسیوں اور اداروں نے لائبریریوں اور بازاروں میں ریڈیو لگا دئیے تاکہ کوئی مسلمان یہ اعلان سننے سے محروم نہ رہے۔ مسلمانوں نے دن بھر مٹھائیاں تقسیم کیں۔ کھانے کی دیگیں پکائیں جو مستحق لوگوں میں باٹی گئیں اور ایک دوسرے کو گلے لگ کر مبارکباد دی۔ خدا خدا کرکے وہ گھڑی آئی جب مسلمانوں کے سیاسی اور محبوب ترین رہنما حضرت قائد اعظم کی تقریر کا وقت آیا اور ہر مسلمان کے کان ریڈیو کی آواز پر لگے ہوئے تھے۔ آخرکار قائد اعظم کی آواز گونجی۔

Quaid e Azam
Quaid e Azam

گوکہ قائد اعظم کی تقریر انگریزی میں تھی لیکن ہر مسلمان ایک ایک لفظ غور اور انہماک سے سن رہا تھا۔ قائد اعظم نے اپنی ایمان افروز تقریر کے بعد “پاکستان ذندہ باد ” کا نعرہ بلند کیا تو مجمع میں ہر مسلمان نے ان کی ہمنوائی کی اور “پاکستان ذندہ باد” اور “اللہ اکبر” کے نعرے ہر مکان اور بازار میں گونجنے لگے۔جب 3 جون 1947ء کو لارڈ ماؤنٹ بینٹن اور قائد اعظم نے قیام پاکستان کا اعلان کیا اور یہ بھی اعلان کیا گیا کہ 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک اسلامی ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرے گا۔ مسلمانوں نے اس بات کو مسرت و انبساط کے ساتھ سنا مگر ہندوؤں اور سکھوں کے دلوں میں نفرت کی آگ بھڑک رہی تھی۔ سکھ لیڈر تارا سنگھ نے پنجاب اسمبلی کے سامنے کریان لہراتے ہوئے اعلان کیا کہ “پاکستان ہماری لاشوں پر بنے گا۔”پاکستان کے قیام کا خواب ایک بہت بڑا اور مثبت خواب تھا۔ ایک خواب کی قیادت ایک پر عزم، بے لوث ، دیندار مرد آہن کے ہاتھ میں تھی۔ جس نے کانگرس کے مکر و فریب کے پردے کو چاک کر کے اللہ کے دین اسلام کا پرچم بلند کیا۔پاکستان کے قیام کے بعد قائد اعظم نے فرمایا کہ”ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔”مہاجر ٹرین ہندوستان سے پاکستان آتی تو راستے میں کوئی علاقے ایسے نہیں ہوتے تھے جہاں شہیدوں کی لاشیں یا ڈھانچے نہ پڑے ہوں۔ یہ آنکھیں کس کس مسلمان کی شہادت پر اشکبار ہوں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو نیزوں پر اچھالا گیا۔ جوان لڑکیوں کے منہ پر کالک مل دی گئی تاکہ جان جائے تو چلی جائے لیکن عزت و عصمت نہ جائے۔

ماؤوں کے جوان جو ہندوستان کی گلیوں میں سینہ تان کر چلتے تھے ان کے سینوں میں گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی۔ ہندوستان میں خون کی نہریں بہ رہی تھیں۔ کٹے ہوئے سر پانی کے ساتھ بہتے ہوے کناروں پر آجاتے۔ ہر طرف فائروں کی آواز گونج رہی تھیں۔ فضا میں جلی ہوئی لاشوں کی بو تھی غرضیکہ ہر طرف مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی۔ ہر طرف “پانی پانی” کی پکار تھی۔ بچے پیاسے تڑپ رہے تھے ، ہزاروں مسلمان پانی مانگتے مانگتے شہید ہوگئے۔ کئی نوجوانوں کی شہ رگ سے خون فوارے کی صورت نہ رہا تھا۔ سینکڑوں کنوے مسلمانوں کی لاشوں سے پاٹ دیے گئے۔کاش جو لوگ پاکستان کو ایک الگ اسلامی ریاست کے طور پر آج بھی دل سے تسلیم نہیں کر سکے وہ مسلمانان ہند کی قربانیاں دیکھ کر مسلمانوں کے جزبہ ایمانی کا اندازہ لگائیں کہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دین اسلام کی شریعت کے نفاذ کی خاطر انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کردیا لیکن نیزے کی دھار دیکھ کر بھی کفریہ کلمہ نہ کہا۔بالآخر علامہ اقبال کا خواب پورا ہوگیا اور مسلمان ایک الگ اسلامی ریاست کو حاصل کرنے میں سرخرو ہوگئے۔ پاکستان کا مکمل نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیا گیا۔ میرا پیارا وطن اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔

ہماری قومی زبان اردو ھے جو کئی زبانوں کے خوبصورت امتزاج سے وجود میں آئی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں پنجابی، سرائیکی، سندھی، گجراتی، بلوچی، براہوی، پہاڑی، پشتو اور ہندکو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہمارا قومی کھیل ہاکی ہے۔ پاکستان چار دفعہ ہاکی ورلڈ کپ میچ جیت چکا ہے۔ ہمارا قومی پھول یاسمین ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ پاکستان کا قومی پرندہ چکور ہے اور مارخور قومی جانور ہے۔ اور حکیم الامت حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہمارے قومی شاعر ہیں۔پاکستان ایک بہت ہی خوبصورت اسلامی ریاست ہے جس میں اللہ کی قدرت سے چاروں موسم ایک ہی سال میں آتے ہیں۔ یہاں رنگ برنگے پھول کھلتے ہیں شمالی علاقہ جات میں تو لگتا ہے جیسے پھولوں کی شہزادی رہتی ہو، جب بھی جاو? ہر موسم استقبال کے لیے تیار ہوتا ہے۔ سر سبز لہلہاتے میدان ، بلند و بالا پہاڑ جو کہیں برف کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں اور کہیں اپنے اندر معدنیات کا دریا سموئے ہوئے ہیں۔ خوبصورت وادیاں وادی نیلم ، وادی سوات، ناران، کاغان، ہنزا، مری نتھیا گلی جن کے درمیاں دلکش جھیل بہتی ہیں۔ لوگ دور دور سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں صرف اللہ کی قدرت کے دلکش مناظر دیکھنے آتے ہیں اور کچھ تو پاکستان کی خوبصورتی میں کھو کر سب کچھ چھوڑ کر ادھر ہی زندگی گزار دیتے ہیں۔ جب کے۔ٹو اور ننگا پربت کی برف سے ڈھکی ہوئی بلند چوٹیوں پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں تو ایسا دلکش منظر پیش کرتی ہیں کہ آنکھیں اللہ کی قدرت پر حیران رہ جاتی ہیں۔ بلتستان میں زندگی پھولوں میں مسکراتی ہے۔

Holy Quran
Holy Quran

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا کلچر سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے۔پاکستانی مسلمان اپنی مذہبی کتاب”قرآن پاک” سے بہت زیادہ عقیدت رکھتے ہیں اسی لیے ہر زمانے میں قرآن پاک کی کتابت اور تحریر کو خوب سے خوب تر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بہت سی تاریخی جگہ ہیں جن کی تعمیرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو فن تعمیر منفرد ہے۔ قلعہ لاہور ، قلعہ اٹک، شالامار باغ، شاہی مسجد لاہور، مسجد وزیر خان، جامع مسجد ٹھٹھہ اور بھی بہت سی جگہ ہیں جو تاریخ میں اپنی اہمیت آ پ رکھتی ہیں۔پاکستانیوں کی اکثریت کھیتی باڑی کرتی ہے۔ پاکستانی معاشرت روایت پسند ہے، جس میں شرم و حیا بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستانی حیا دار لباس پہنتے ہیں۔ مرد اور عورت زیادہ تر شلوار قمیص پہنتے ہیں۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں عورتیں دوپٹہ پہنتی ہیں اور یہی ہماری پہچان ہے۔ شہروں میں مردوں کی اکثریت انگریزی لباس پہنتی ہے اور انگریزوں کی تقلید کرنے والے لوگ انگریزوں کے ہاتھوں ہی رسوا ہو رہے ہیں۔پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور اسے بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ اللہ پاک نے ھمارے وطن کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے۔ لیکن ایک مدت گزرجانے کے باوجود پاکستان معاشی نظام کے میدان وہ ترقی نہیں کرسکا۔ قائد اعظم نے ہمیں اللہ کی مدد سے یہ آزاد اسلامی ریاست اس لیے دی ہے تاکہ ہر مسلمان اس میں اسلامی شریعت کا نفاذ کرسکے۔ یکم جولائی 1948ء کو قائد اعظم نے سٹیٹ بینک کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا:ـ

“مغرب کا معاشی نظام انسان کے لیے ناقابل حل مسائل پیدا کر رہا ہے اور یہ لوگوں کے درمیان انصاف قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہمیں دنیا کے سامنے ایک ایسا معاشی نظام پیش کرنا چاہئیے جو اسلام کے صحیح تصور مساوات اور سماجی انصاف کے اصولوں پر مبنی ہو۔” آج ہمارے پیارے وطن کے آئین تو اسلامی شریعت کے مطابق بن گئے لیکن وہ قوانین آج تک نافذ نہ ہو سکے۔ آج ہمارا معاشی نظام مغرب کے معاشی نظام کے مطابق رواں دواں ہے ہم نے یہ آزاد ریاست، یہ وطن لا الہ الا اللہ کے نام پر حاصل کیا تھا۔ یہاں پر اللہ کے دین اسلام کے قوانین ہی نافذ ہونے چاہئیے۔ قائد اعظم سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایک موقع پر سوال کیا گیا کہ پاکستان کا آئین کس طرح کا ہوگا؟ تو آپ نے جواب میں کہا کہ ” میں کون ہوتا ہوں آپکو آئین دینے والا۔ ہمارا آئین ہمیں آج سے تیرہ سو سال پہلے ہی ہمارے عظیم پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیدیا تھا۔ ہمیں تو صرف اس آئین کی پیروی کرتے ہوئے اسے نافذ کرنا ہے اور اس کی بنیاد پر اپنی مملکت میں اسلام کا عظیم نظام حکومت قائم کرنا ہے۔ اور یہ پاکستان ہے۔ہم اہل وطن مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں وہ وطن، وہ اسلامی ریاست ہر حال میں قائم کرنی چاہئیے جس کے حصول کے لیے مسلمانوں نے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔

سوال ہے کہ کیوں کیا؟ کیا صرف ایک آزاد ریاست کے لیے؟ نہیں بلکہ اس لیے کہ ہم اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔ قائد اعظم نے پاکستان کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ” ہمارا منشا اپنے لیے ایک آزاد مملکت کا حصول ہی نہیں تھا بلکہ اصل منشا ایک ایسی مملکت کا حصول تھا جہاں ہم اپنی روایات اور تمدنی خصوصیات کے مطابق ترقی کرسکیں۔ جہاں ہمیں معاشرتی عدل کے اسلامی اصولوں کے نفاذ کے آزادانہ مواقع حاصل ہوں۔ جہاں اسلام کے معاشرتی انصاف کے اصول جاری و ساری ہوں۔ ہمارے قائد نے ہر جگہ واضح طور پر یہ بات کہی ہے تو آج ہمارے حکمران اور سیاستدان کو اپنی فکر کیوں ہے

Pak Army
Pak Army

ہماری فوج کو فکر ہے کہ کوئی سرحد پر آکر حملہ نہ کردے۔ ہم غیر مسلم سے دفاع تو کرسکتے ہیں لیکن ان کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکتے کیونکہ جب تک ہم اللہ اور اسکے رسول سے جنگ جو کہ سود کی صورت میں ہے بند نہیں کریں گیں اس وقت تک ہمارا وطن کبھی بھی ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ چند ہی مہینوں میں کتنی ہی دفعہ زمین ہل چکی ہے۔زمیں بھی التجا کر رہی کہ آزاد اسلامی ریاست میں اللہ اور اسکے رسول سے جنگ نہ کرو۔ آج ہمارے جسٹس جن کی زمہ داری ہے قانون کی پاسداری کروانا کہتے ہیں “جس کو سود نہیں لینا وہ نہ لے اور جس کو سود لینا ہے وہ لے لے اللہ خود پوچھ لے گا۔” آج آپکو گھر سے بے گھر کردیا جائے یا نعوذباللہ آپکے بیٹے کو آپکے سامنے قتل کردیا جائے تو کیا آپ اس کو یہ کہ کر چھوڑ دیں گیں کہ اللہ اسکو خود دیکھ لے گا؟ جب عوام کہہ رہی ہے کہ سود کو ختم کردو خدارا خدارا اللہ اور اسکے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ بند کردو۔

کراچی میں ایک موقع پر قائد نے یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کردی کہ “اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیشے نظر دینا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفا کشی کا مرجع خدا کی ذات ہے۔ جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن مجید کے احکام اور اصول ہیں۔اسلام میں اصلاََ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمنٹ کی، نہ کسی شخص اور ادارے کی قرآن کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کرسکتے۔ دوسرے الفاظ میں اسلامی حکومت قرآن کے اصول و احکام کی حکومت ہے۔جب قائد اعظم نے وضاحت کردی کہ پاکستان میں وہی ہوگا جو دین اسلام نے، قرآن نے ہمیں درس دیا ہے۔ تو ہم لوگ کون ہوتے ہیں اونچی اونچی کرسیوں پر بیٹھ کر پاکستان کو اپنی مرضی سے چلانے والے۔ہمارے حکمران، سیاستدان جسٹس لوگ کہتے ہیں کہ اگر سود ختم کردیا تو ہمیں بہت معاشی نقصان ہوگا ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔اسی حوالے سے فروری 1948ء میں قائد اعظم نے ایک امریکی نامہ نگار کو انٹرویو میں کہا تھا ” کہ پاکستان کا دستور اسلامی اصولوں کی روشنی میں ترغیب دیا جائے گا۔

Democracy
Democracy

ان اسلامی اصولوں اطلاق آج کی عملی زندگی پر بھی اس طرح ھو سکتا ھے جیسے آج سے 13 سو سال پہلے ہوا تھا اسلام اور اسکے نظریات سے ہم نے جمہوریت کا سبق سیکھا ہے۔”میں اور آپ ہم سب چاہتے ہیں کی پاکستان کے حالات اچھے ہوجائیں۔ ہمارے تمام مسائل حل ہوجائیں تو ہمیں قائد اعظم کے 14 فروری 1947ء میں سبی بلوچستان کے شاہی دربار کو خطاب کرتے ہوئے الفاظ پر غور کرنا چاہئے جس میں آپنے کہا کہ ” میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اسوہ حسنہ پر چلنے میں ہے، جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے بنایا ہے۔” اللہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو دن دگنی رات چگنی دین اسلام کی راہ پر ترقی عطا کرے۔ آمین ثم آمین

تحریر : بنت اسحاق

Share this:
Tags:
Enemies mean Movement muslims pakistan political slogan پاکستان تحریک دشمن سیاسی قوم کانگرس مسلمان مطلب نعرہ
Invitition Card
Previous Post گری راج کالج نظام آباد میں شعبہ انگریزی کے تحت قومی سمینار
Next Post افسوس

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close