Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پاکستان میں طبی تعلیم کی زبوں حالی اور عملی تربیت کا فقدان

October 20, 2017 0 1 min read
Medical Education
Medical Education
Medical Education

تحریر: ڈاکٹر سید صلاح الدین بابر
یہ گذشتہ برس کی بات ہے۔ لندن ،نیو یارک میں برقی قمقموں کی روشنی میں نہاتے کلینکوں اور دوا خانوں تک، فضامیں عام طور پرایک نیا فقرہ دعوت سماعت دے رہا تھا: ”مریض کی عزت کریں۔”جب کبھی ہم مغربی ممالک سے شائع ہونے والے میڈیکل میگزین میں طبی اخلاقیات سے متعلق اس قسم کی کہانیاں اور خبریں پڑھتے ہیں تو بے ساختہ یہ سوال ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے کہ خود کو سب سے زیادہ مہذب اور انسانی قدروں کا محافظ کہنے والے والے ترقی یافتہ مغربی سماج کے ان اسپتالوں میں آخر ایسی کون سی مجبوری درآ ئی ہے کہ وہاں”مریض کی عزت کیجئے” جیسی مہم چلانے کی ضرورت درپیش آ رہی ہے۔میں سمجھتاہوں کہ وہاں اس کی تربیت اور مہم کو مستقبل اور باقاعدگی سے کروایا جاتا ہے۔

جب ہم مسلمانوں کی تاریخ کا مطالعہ اور تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ایک وہ یادگار دور تھا جب مسلمان ساری دنیا میں معزز و معتبر سمجھے جاتے تھے۔ مشرق و مغرب میں وہ احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی تحقیقات سے پوری انسانیت استفادہ کرتی تھی۔ اس دور میں کئی مسلم دانشور پیدا ہوئے جنہوں نے سائنس اور فلسفے’ طب اور مذہب’ شاعری اور موسیقی’ نفسیات اور سماجیات کے علوم میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ بو علی سینا نے طب کے بارے میں جو کتابیں تخلیق کیں وہ کئی صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی تھیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ساری دنیا کے جدید علوم کا مطالعہ اور ان سے استفادہ کریں۔ بو علی سینا نے نفسیات کے بارے میں بھی ایک کتاب لکھی جس کا نام ‘کتاب النفس’ تھا۔

اس کتاب میں انہوں نے ذہنی بیماری ”مالیخولیا” کے بارے میں’جو اب ڈیپریشن کے نام سے جانی جاتی ہے’ ایک اہم باب رقم کیا۔ مغربی دنیا میں بو علی سینا کا اتنا احترام کیا جاتا ہے کہ وہ انہیں سقراط اور جالینوس کی طرح طب کا شہزادہ سمجھتے ہیں۔یہ دور نویں صدی عیسوی سے بارھویں صدی عیسوی کا دور ہے۔ اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی! طب (میڈیکل )ایک ایسا شعبہ ہے جسے مذہب کے بعد سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اس میں کسی شک و شبے کی گنجائش باقی نہیں رہی کہ اس کا تعلق انسانی زندگی کے علاج اور بچائو سے ہے۔پاکستان میں طبی تعلیم کو جس طریقے سے لیا جاتا ہے ۔میرا تجربہ یہ ہے کہ دنیا سمیت پاکستان میں بھی اس شعبے کو اسے عزت کے نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اگرچہ اس شعبے میں کمائی(آمدن) دیگر شعبوں سے کم ہے۔ اس شعبے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ انتہائی ذہین اور قابل طالب علم اس شعبے کا انتخاب کرتے ہیں۔والدین کی مالی حیثیت مضبوط ہو یا کمزور مگر وہ اپنے بچوں کو میڈیکل کے شعبے میں دیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔شعبہ تدریس اگرچہ بہت عمدہ اور مثالی شعبہ ہے تاہم خوش قسمتی سے میڈیکل میں طب اور تدریس ایک ساتھ آ جاتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں، بحیثیت ڈاکٹر میرا مشاہدہ ہے کہ میڈیکل کے شعبے میں داخلے سے قبل ان سے اس شعبے میں آنے کی بنیادی وجہ ایک تحریری بیان کی صورت میں لی جاتی ہے جس میں طالب علم سے پوچھا جاتا ہے کہ زندگی میں عملی طور پر کبھی اس نے میڈیکل کے شعبے میں جزو وقتی کام کیا ہے؟ یا کوئی تجربہ حاصل کیا ہے؟۔وہاں اے ۔لیول کی تعلیم کے دوران اس بات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے کہ طب سے متعلق بنیادی اخلاق و ضوابط بارے طلباء کو آگہی دی جائے ۔وہاں انٹرن شپ کا رواج ہے طلباء وہاں سرکاری و نجی ہسپتالوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ کام کر کے اپنے تجربے اور اہلیت میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو خیر الٹی گنگا بہتی ہے یہاں نظام تعلیم ہی قابل اعتبار نہیں کہ ایف ایس سی کا امتحان عمدہ نمبروں سے پاس کرنے کے باوجو میڈیکل میں داخلے کے لیے انٹری ٹیسٹ لیا جاتا ہے جس کا بیرون ممالک میں کوئی رواج نہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ۔وہاں بورڈ کے امتحان پر اعتبار اور یقین کیا جاتا ہے۔پاکستان میں مبینہ تفصیلات کے مطابق انٹری ٹیسٹ کی تیاری کروانے والی اکیڈمیاں انٹری ٹیسٹ قبل از ٹیسٹ آئوٹ کر دیتے ہیں جس سے معیار فوت ہو جاتا ہے ا ور صرف چند مخصوص افراد کے چشم و چراغ ہی ڈاکٹر بن پاتے ہیں۔

ہمارے ملک میں میڈیکل کالجوں کا قیام ایک بہت بڑا منصوبہ بنا دیا گیا ہے اس کا بڑا مقصد بڑی اور شاندار عمارت کا دکھاوا ہے ۔ میڈیکل کی تعلیم کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام متعلقہ عمارتوں کو ایک ہی جگہ تعمیر کر دیا جائے، انہیں الگ الگ جگہوں پر تعمیر کرنا ممکن ہے۔ جب کوئی طالب علم تمام مراحل طے کر لیتا ہے اور اسے داخلہ مل جاتا ہے ۔وہ میڈیکل کالج کے اندر داخل ہوتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں وہ سب کچھ سرے سے ہے ہی نہیں،جس کی وہ توقع کر رہا تھا اس سے طالب علموں کا ذہنی معیار کم ہوتا ہے اور احساس کمتری میں اضافہ ہوتا ہے۔ میڈیکل کالجز میں اعلیٰ عہدوں پر فائز پروفیسر صاحبان غیر شائستہ ریوں سے طلباء و طالبات خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور یہ خوف دوران تعلیم آخری دن تک ان پر طاری رہتا ہے۔

میڈیکل میں اساتذہ اور طلباء کے مابین ابلاغ کا بڑا اور طویل وقفہ رہتا ہے جو کہ ایک منفی علامت ہے۔ جب ایسی کیفیت ہو گی تو طالب علم سوال کیا خاک پوچھے گا۔میڈیکل کے طلباء کوعذاب میں ڈال دیا جاتا ہے جس سے طالب علم کا ذہنی معیار اور زوال پذیر ہوتا ہے۔مجھ سے آسان لفظوں میں پوچھیں تو میں یہ کہوں گا کہ یہاں پڑھانے والا آسمان پر براجمان ہوتا ہے اور طلباء فرش پر،تو ابلاغ اور فہم کیسا؟سونے پر سہاگہ یہ کہ امتحان میں طالب علم سے وہ وہ سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کا جواب دینا طالب علم کے لیے ممکن نہیں ہوتا ۔اس کی اصل وجہ امتحانات کے عملے اور اساتذہ کے خوف کی وجہ سے طلباء درست جوابات نہیں دے پاتے؟

ہمارے ہاں میڈیکل کالجز میں طریقہ تعلیم بہت ہی قدیم ہے جس کا رواج تمام دنیا سے تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ طلباء کے ان امور میں دلچسپی لیتے ہیں جن کا طبی نکتہ نظر سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا۔طلباء کی تربیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ طلباء کو پتہ ہو کہ انہوں نے مریض اور ان کے لواحقین سے کیسے بات کرنی ہے۔اسے اصطلاح میں طبی ظابطہ اخلاق کہا جاتا ہے مگر یہاں وطن عزیز میں اس کا قطعاً کوئی رواج نہیں۔ طبی ظابطہ اخلاق میڈیکل کا ایک اہم شعبہ ہے جو طب اور مذہب و معاشرتی زندگی میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ اخلاقیات طب میں سب سے اہم کردار خود اس پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد یعنی اساتذہ کا ہوتا ہے۔ دنیا کے قریباً تمام معاشروں میں ہی طب کو ایک اعلیٰ اور قابل عزت پیشے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے اس شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی اخلاقیات بھی بلند ہونے کی توقع رکھی جاتی ہے۔

طب کے امتحانات میں عموماً پسند اور نا پسند کا عمل دخل لازمی طور پر ہوتا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ طلباء و طالبات جو بڑے شہر کے باسی ہوتے ہیں اور استاد ان کے اپنے شہر کا ہوتا ہے لہذا ان کی کامیابی تو یقینی ٹھہری،تاہم دور افتادہ علاقوں سے آنے والے طلباء کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔میری حکمران بالا اور متعلقہ افراد سے گزارش ہے کہ خدارا! آنے والی نسلوں کی تعمیر نو کے لیے میڈیکل کی تعلیم کو بہتر بنایا جائے۔ ابلاغ کے وقفے کو ختم کیا جائے۔طلباء کو طبی ظابطہ اخلاق کی بھرپور تربیت دی جائے۔کلینیکل ٹریننگ کا عمدہ اہتمام کیا جانا چاہئے تاکہ آنے والے دور میں پاکستان کا نام بھی طب کے حوالے سے عالمی دنیا میں مقام حاصل کرے۔

یہاں پر بدقسمتی سے طبی تدریسی عملہ ہی صبح و شام اور رات گئے تک اپنے نجی کلینک دھڑلے سے چلاتے ہیںاور اندرونی سیاست کی بناپر اگاڑ پچھاڑ میں لگے رہتے ہیں جس سے وہ مالی اعتبار سے خوب مستفید ہوتے ہیں مگر ان کی ترجیحات میں کہیں بھی طبی تعلیم و تدریس و تربیت سرے سے شامل ہی نہیں ہے اور ایک بدقسمتی یہ بھی ہے تعلیمی تدریسی عملہ اپنے آپ کو بیوروکریٹ سمجھتا ہے اور اسپتال میں ماہر اور سینئر ڈاکٹرز سے خود تربیت لینا اور طلباء کو تربیت دلوانا اپنی بے عزتی خیال کرتا ہے حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں متعلقہ شعبے کے ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹرز ہی میڈیکل کے طلباء کو تربیت فراہم کرتے ہیں اور میڈیکل اسکول کے تدریسی عملے کا عملی تربیت میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔

ایک اور اہم بات جس کا ذکر کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ یہاں میڈیکل کی تعلیم اور تربیت نہ تو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے راہنما اصولوں پر پوری اترتی ہے اور بین الاقوامی معیار سے تو کوسوں دور ہے۔پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے منتخب ا رکان خود کسی معیار پر پورے نہیں اترتے بلکہ پوری پی ایم ڈی سی کئی مقدمات میں ملوث ہے اور وہاں پر تو جوتوں میں دال بٹ رہی ہے وہ سب پر عیاں ہے ۔ پی ایم ڈی سی کے دفتر اور عمارت کو ممنوعہ علاقہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔دفتر کے کسی ذمہ دار افسر سے بات کرنا تو جوئے شیر لانا ٹھہرا۔

Dr.Salahuddin Babur
Dr.Salahuddin Babur

تحریر: ڈاکٹر سید صلاح الدین بابر

Share this:
Tags:
Medical pakistan Poverty پاکستان فقدان میڈیکل
Depressed Life
Previous Post ہار جانے کا حوصلہ رکھا
Next Post روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ
Bilawal Bhutto

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close