
تحریر: منظور فریدی
وطن عزیز مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان جو کہ خالصتا اسلام اور کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا انگریز ہندو اور دیگر دوسری قوموں کے ساتھ رہ کر وہ معاشرہ تشکیل نہ پاسکتا تھا جسے اسلامی معاشرہ کہا جاسکتا اس لیے جونہی تحریک پاکستان کی قیادت نے اپنی جدو جہد میں یہ نعرہ مستانہ شامل کیاکہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ تو دنیا نے ایک عجیب تماشہ دیکھا مسلمان جہاں جہاں بھی آباد تھے۔
تحریک میں شامل ہوتے گئے اور اس کارواں نے آزادی کے سفر کا آغاز کردیا جس کی منزل ایک علیحدہ ریاست تھی ایسی ریاست جس میں اسلامی نظام ہو اسلام کا تشکیل کردہ معاشرہ ہو یہود ونصاریٰ کی چھاپ نہ ہو ہندوئوں کے رسم و رواج نہ ہوں اس ریاست کے باسیوں کو اسلامی قوانین اور اسلامی بھائی چارہ میسر ہو اس وقت کے نام نہاد ملائوں نے بھی تحریک کا ساتھ دینے کے بجائے مخالفین کا ساتھ دیا مگر ان مستانوں نے اپنی شبانہ روز محنت سے ایک الگ ریاست حاصل کرلی جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دیکر دنیا کے نقشہ پر لکھا گیا۔

اس تحریک میں شامل ہونے والے تمام لوگ سوائے چند ایک کے سب اسلام دوست تھے اور اسلام کے نام پر ہی اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرکے پاکستان کے حصول میں قائدین کے شانہ بشانہ کام کیا اور اپنے ذہنوں میں پاکستانی معاشرہ کی وہ تصویر سجا لی جو معاشرہ ہجرت مدینہ کے بعد انصار و مہاجرین نے آقاکریم محمد مصطفیۖکے حکم پر قائم کیا جب ہر انصار بھائی نے اپنی جائیداد مال دولت کا نصف اپنے مہاجر بھائی کو دیکر اپنے برابر کرکے وہ عزت دی کہ چشم عالم حیران رہ گئی اور آدم کی تخلیق پر مخالفت کرنے والا بھی ششدہ رہ گیا ۔مگر ہوا کیا آج کے پاسبان بھی شائد اس بات سے واقف نہ ہوں کیونکہ یہاں تو سب کچھ ہی الٹ ہوگیا مہاجرین کے لیے بنائے گئے کیمپوں سے جوان لڑکیاں رات کو غائب کروائی جانے لگیں وہ مہاجرین جنہیں ہجرت کرکے آتے ہوئے راستہ میں بھی وہ صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں جن کے ذکر سے روح تک کانپ جاتی ہے قافلہ آرہا ہو بلوائیوں نے حملہ کردیا۔
قافلہ میں شامل تمام جوان مردوں کے بازو کاٹ دیے بوڑھوں کو باندھ دیا اور پھر ان مجبور مردوں کے سامنے انکی بیٹیوں انکی بیویوں بہنوں کو بے آبرو کیا کچھ قافلوں نے بلوائیوں کو آتا دیکھ کر اپنے ہاتھوں اپنی بیٹیوں کو قتل کردیا اور خود مقابلہ کرکے مرگئے کتنے سہاگ اجڑے کتنے بچے یتیم ہوئے کتنی عصمتیں لٹیں اور اس کے بدلے میں یہ خطہ ارضی ہمیں ملا پھر ہم نے کیا گل کھلائے دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے سپاہیوں کو بے عزت کرکے الگ کردیا مولا ناشبیر احمد عثمانی کا شمار تحریک آزادی کے فقیدالمثال مجاہدین میں ہوتا ہے جب پاکستان کی پہلی اسمبلی وجود میں آئی تو علامہ صاحب چونکہ قائد کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے آپ تیار ہوکر اجلاس میں تشریف لائے تو آپ کو یہ کہہ کر اسمبلی سے باہر بھیج دیا گیا کہ،،،مولانا یہ ملک ہم نے مولویوں کے لیے نہیں بنایا جب کوئی مسئلہ پوچھنا ہوا تو آپکو بلا لیں گے ،،،اسلامی ملک میں اسلامی قوانین بنانے کے لیے ایک ہندو کو پاکستان کا پہلاوزیر قانون بنایاگیا انہیں تو شرم نہ آئی۔

مگر وہ ہندو شرم کے مارے چند دن کی رخصت کے بہانے چلا گیا اور واپس نہ لوٹا اس ملک کی باگ ڈور روز اول سے ہی ایسے طبقہ کے ہاتھ آگئی جنہیں اسلامی تعلیمات سے واقفیت تھی اور نہ انہوں نے اس سے غرض رکھی ان کا مطمع نظر مال بنانا تھا اور غریب عوام کو اس حد تک ذلیل کرنا تھا کہ وہ اقتدار میں شامل طبقہ کا احتساب نہ کرے اپنی روٹی کی فکر میں مبتلا پاکستانی عوام کبھی بھی حکمران کا گریبان پکڑنے کی ہمت ہی نہ کرے اور وہ اس چال میں سو فی صد کامیاب ہوئے آج بھی ہمارے سروں پہ مسلط ہیں اپنے اس دعویٰ کی دلیل میں اتنا عرض کرونگا کہ اگر کوئی ترقی پسند لیڈر نماز بھی پوری سنا دے تو میں اس دعویٰ سے دستبردار ہو جائونگا ۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہم ابھی تک آزاد نہیں ہوئے ہندوئوں کی ثقافت یہود و ہنود کی نقل اور دوسرے غیر مسلموں کی گہری چھاپ ہم میں موجود ہے اسلام کی سمجھ اور اللہ کا خوف ہم میں آجاتا تو اقتدار کی جنگ میں ایک دوسرے پر کیچڑ نہ اچھالے جاتے کیونکہ اسلام میں اقتدار تو خدمت کا نام ہے قوم کی بیٹیوں کو یوں اشتہارات کی زینت نہ بنایا جاتا اور آج کی نوجوان نسل اسلام سے واقف ہوتی تو ڈرون حملوں کے ہوتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ ہوتے ہوئے بھوک مٹانے کے لیے بچوں کو زہر پلاتے والدین کی حالت دیکھتے ہوئے انصاف کے حصول میں تذلیل ہونے پر خود سوزیاں کرنے والی دوشیزائوں کی پکار سنتے ہوئے بھی موٹر سائیکلز کے سائلینسر نکال کر طوفان بدتمیزی برپا کرکے آزادی کا جشن یوں نہ مناتے پھرتے بلکہ سچ میں یہ وطن ہمارا ہوتا اور پاسبان ہوتے والسلام

تحریر: منظور فریدی
