Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اجمل خٹک بابا

February 8, 2017 0 1 min read
Ajmal Khattak
Ajmal Khattak
Ajmal Khattak

تحریر : قادر خان
ایک بار پھر اجمل خٹک کی برسی خاموشی سے گذر جائے گی۔پاکستان کے ایک سیاست دان جو شاعر بھی تھے ، ادیب بھی اور قوم و ترقی پسند لیڈر بھی ، اکوڑہ خٹک میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے اجمل خٹک کے والد حکمت خان بھی قومی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے ، شائد یہی وجہ تھی کہ اجمل خٹک اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قومی خدمت کو اپنا نصب العین بنا لیا ۔ ریڈیو پاکستان میں بطور سکریپ رائٹر اور پشاور کے ایک نجی اخبار میں کافی عرصہ ایڈیٹر رہے۔نیشنل عوامی پارٹی کے سیکرٹری جنرل خان عبد الولی خان کی صدرات میں منتخب ہوئے ، 1973میں ذوالفقار علی بھٹون کی حکومت نے جب نیب پر پابندی لگائی اور کئی رہنمائوں کو گرفتار کرنا شروع کیا تو بابا اجمل خٹک افغانستان ہجرت کرگئے دوسری روایت کے مطابق لیاقت باغ میں بھٹو دور میں جب جلسے میں فائرنگ ہوئی اور خان عبد الولی خان پر گولیاں چلائیں گئیں تو ایک کارکن گولیاں لگنے سے ان کے سامنے دم توڑ گیا ۔اس واقعے نے ان پر گہرے صدمے کے نقوش ثبت کئے اور 17سالہ جلا وطنی کا سبب بھی یہی واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔ جلا وطنی کی زندگی بسر کی ، سوویت یونین کی تحلیل اور افغانستان میں اپریل1989میں شکست کے بعد ترقی پسند و قوم پرست رہنما واپس بے نظیر بھٹو کے عہد میں پاکستان واپس آکر سیاست میں حصہ لینے لگے ،1990تا 1993تک قومی اسمبلی کے رکن قومی اسمبلی رہے ۔مارچ 1994میں 6سال کیلئے صوبہ سرحد ( خیبر پختونخوا) سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔

اجمل خٹک بابا کافی عرصہ علیل رہے اور 7فروری 2010ء کو پشاور کے ایک مقامی ہسپتال میں انتقال کرگئے ۔ انھوں نے اپنے آخری ایام عملی سیاست سے دوری اور اپنے آبائی گائوں اکوڑہ خٹک میں گذارے۔انتقال کے وقت ان کے عمر85برس تھی ۔ انھوں نے اردو اور پشتو دونوں زبانوں نے عمدہ شاعری کی۔جمل خٹک کی اردو شاعری کا پہلا اور ہنوز آخری مجموعہ جلا وطن کی شاعری کے نام سے چھپا ہے۔ لمحۂ موجود تک اس کے دو ایڈیشن منظر عام پر آ چکے ہیں۔ مئی 1990ء میں اس کا پہلا ایڈیشن چھپا۔ ستمبر 1997ئمیں اس کا دوسرا ایڈیشن یونیورسٹی بک ایجنسی نے پشاور میں طبع کروایا، جو 171 صفحات کو محیط ہے۔ اس ایڈیشن میں 42 نظمیں، ایک غزل، قطعہ اور چند فردیات شامل ہیں۔ اجمل خٹک بابا کی سیاست ، شاعری ، ادین اور شاعری کا سفر 50برس کے قریب محیط ہے۔ان کی سیاسی زندگی کا سفر انگریزوں ے خلاف تحریک آزادی سے شروع ہوا اور “انڈیا چھوڑ دو”میں با حیثت طالب علم تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں انھیں اسکول سے بھی نکال دیا گیا تھا۔انھوں نے خدائی خدمت گار کی حیثیت سے باچا خان بابا کی تحریک کے پلیٹ فارم سے جنگ آزادی اور صوبہ سرحد سے انگریزوں کو نکالنے کی تحریک سے آغاز کیا۔

اجمل خٹک بابا پشتو و اردوزبان کے ایک نامور انقلابی شاعر تھے ان کے مجموعی طور پر13 کتابیں جس میں اردو زبان میں لکھی جانے والی کتب بھی تھی شائع ہوچکی ہیں ۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ”دی غیرت چغہ”( غیرت کی چیخ) کتابی شکل میں 1958میں شائع ہوا۔جس پر بعد میں پاکستان اور افغانستان میں پابندی بھی لگا دی گئی تھی۔ 2000ء میں بابا اجمل خٹک کو عوامی نیشنل پارٹی سے سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف سے علیحدگی میں ملاقات کی وجہ سے پارٹی سے نکال دیا گیا ۔تاہم اجمل خٹک بابا اس کی دوسری وجہ بتاتے ہیں کہ ان کا تعلق متوسط طبقے سے تھا ، شائد اس وجہ سے انھیں نکالا گیا۔پارٹی سے نکالے جانے کے بعد انھوں نے ایک نئی سیاسی جماعت بناکر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا لیکن ان کی جماعت کو پزیرائی نہیں مل سکی۔ تاہم کچھ عرصہ بعد عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمائوں نے انھیں مناکر دوبارہ شامل کرلیا ، لیکن اجمل خٹک بابا کا دل ٹوٹ چکا تھا اور وہ آہستہ آہستہ کنارہ کش ہوتے جارہے تھے ۔ اجمل خٹک بابا نے جہاں سیاست میں اپنا لوہا منوایا وہاں اردو زبانوں کے کئی اخبارات اور رسائل کے مدیر رہ کر بھی اپنے وجود کو ثابت کرتے رہے ، روزنامہ انجام ، شہباز ، عدل رہبر اور بگرام جیسے معروف جریدوں میں بطور صحافی منسلک رہے ، اجمل ختک بابا کا سیاسی فلسفہ ترقی پسند ی تھادو بار عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے قریب ترین ساتھیوں میں ان کا شمار کیا جاتا رہا ہے۔

Life
Life

ان کی زندگی کے کچھ گو شوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے معروف ادیب وکالم نگار سعداللہ جان برق لکھتے ہیں ”بیمار ہوئے تو یوں لگا جیسے انھیں کوئی جانتا تک نہیں تھا صرف چند ان جیسے ملنگ شاعر ہی تھے جو ان کا حلقہ احباب رہ گئے تھے، جس کاز کیلیے انھوں نے آغاز جوانی میں ہی زنجیریں پہن لی تھیں ان کو یاد بھی نہیں رہا۔ ہمیں یاد ہے کہ ایک دن ہم دس بارہ برس کی عمر میں اپنے دادا کے ساتھ بپی تھانے گئے، دادا تو اپنے کام سے اندر گئے ہم حوالات میں ایک جھاڑ جھنکار والے مخنی سے آدمی کو دیکھنے لگے جو سنتری کے کہنے کے مطابق پاگل تھا، ہمارے حافظے میں اس پاگل کی تصویر نقش ہوگئی اس وقت ہمیں سیاست سے نہ کوئی آشنائی تھی نہ شعر وادب سے۔ کئی سال بعد جب اجمل خٹک سے ملاقات ہوئی تو کوئی احساس نہیں ہوا وہ تو جب ہم نے ان کی کتاب”کیا میں پاگل تھا” پڑھی تو اس میں بپی تھانے میں اپنی پٹائی اور اذیتوںکا جو ذکر کیا ہے اس سے ہمارا ماتھا ٹھنکا۔ پھر ان سے پوچھا کچھ سن وسال ملائے تو جس پاگل کو بپی تھانے میں دیکھا تھا انھوں نے بتایا ہاں وہ میں ہی تھا،اصل میں اجمل خٹک کو سزا ملنی ہی چاہیے وہ شاعر بنا،مجنوں بنا،مفرور بنا، شاہان وقت کی صحبت میں رہا سیاہ و سفید کھیلا مگر وقت اور زمانے کا نبض شناس نہ بن سکا لوگوں اور چہروں کو پہچاننے کا سلیقہ نہ سیکھ سکا۔ بعد ازاں افغانستان چلے گئے وہاں حکمران سر داؤد خان نے ان کو ہاتھوں ہا تھ لیا ہر فیصلے میں انکو مشیر خاص بنایا، وہ کیا کچھ نہیں کما سکتے تھے اپنے کسی بیٹے کو ایک پرمٹ ہی دلا دیتے تو وارے نیارے ہو جاتے ہم نے خود وہاں ان کی قدر و منزلت دیکھی ہے لیکن ملنگ تخت شاہی پر پہنچ کر بھی ملنگ ہی رہا “۔

اجمل خٹک اپنی شاعری کے بارے میں کہتے ہیں کہ اتنی بات سمجھ میں آئی کہ جب ان نغموں کو اقتدار’دولت اور سونے چاندی کی قبروں کے فربہ مجاوروں نے سنا تو ان کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے وہ تما م عمر غربت اور افلاس کے مارے لوگوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے رہے’ جدوجہد کے مقصد کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ۔
غٹان غٹان’نیکان نیکان پیدا دی
دوی خو لہ زایہ جنتیان پیدا دی
زی ھغہ خوارو لہ جنت اوگٹو
سوک چہ لہ مورہ دوزخیان پیدا دی
ترجمہ۔ بڑے لوگ تو ہمیشہ ماں کی کوکھ سے نیک’ پاک اور جنتی پیدا ہوتے ہیں۔آؤ ان غریبوں کے لئے جنت کمائیں جو ماں کی کوکھ سے دوزخی پیدا ہوئے ہیں’ہم اسی مقصد کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ غربت کے مناظر دیکھ کر اپنی نظم”فریاد” میں خدا سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ۔
ستا د جنت د نعمتونو نہ زار
زہ درتہ اوگی پہ جہان ژاڑم
ستا د دوزخ لہ لڑمانو توبہ
زہ درتہ دا ”لڑمانان”ژاڑم
ترجمہ۔ یہ صحیح ہے کہ تیری جنت میں ہر قسم کی نعمتیں ہوں گی لیکن میں تیری توجہ دنیا کے غریبوں کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔تیری دوزخ کے بچھوؤں سے پناہ مانگتا ہوں لیکن میں تیری توجہ دنیا کے ان بچھوؤں کی طرف دلانا چاہتا ہوں جو ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔
دلتہ د گیڈے دوزخ تش گرزوؤ
ھلتہ شو ستا د دوزخونو خشاک
دلتہ ددغہ قصابانو خوراک
ھلتہ د ھغہ خامارانو خوراک
ترجمہ۔ دنیا میں غریبوں کی پیٹ کی دوزخ ہمیشہ خالی رہتی ہے۔وہاں جاکر وہ دوزخ کی خوراک بن جائیں۔دنیا میں سرمایہ دار اور جاگیر دار قصابوں کی طرح غریبوں کا گوشت نوچتے ہیں اور آخرت میں دوزخ کے سانپ ان کا گوشت نوچیں گے۔

ڈاکٹر عبد اللہ جان عابد کہتے ہیں کہ : معروف ترقی پسند شعرا کے ہاں دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ ایک معاملے میں اجمل خٹک دیگر ترقی پسند لکھنے والوں سے یوں مختلف ہیں کہ انھوں نے اپنی نظموں کا میڈیم تو اردو رکھا، لیکن لفظ سے لے کر اس کے استعمال تک اس کا فکری ماحول یا جس پیرایے میں انھوں نے اس فکر کو منضبط کرنے کی کوشش ہے، وہ سارے کا سارا مقامی اور اُس معاشرہ سے متعلق ہے، جو ان کے فکر کا مرجع اور مخزن ہے اور یہی اجمل خٹک کی اردو شاعری کا ایک خاص پہلو ہے کہ انھوں نے اپنی فکر اور اس کی ترجمانی میں لوکل کلچر کو جس خوبصورت انداز سے سمویا گیا ہے، وہ اردو شعرا کے مابین ایک انفرادیت کی مثال ہے۔جب ہم اردو زبان کے ترقی پسند شعرا کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی فکر میں ترقی پسندانہ حقیقت نگاری کے رویے، حقیقی زندگی میں عدم مساوات اور زندگی کے معاملات کی حقیقی تصویریں تو موجود ہوتی ہیں، لیکن وہاں پر جو کلچر دکھائی دیتا ہے، وہ کسی مخصوص قوم یا تہذیب کا کلچر نہیں ہے وہ براہ راست ”خان “سے مخاطب ہوتے ہیں جو پشتون معاشرے کی استحصالی قوت ہے”۔
اور
دھرتی کے محروم انسان
میر ے اپنے قصبے کے غریب
موچی، نائی، جُلاہا، دھوبی اور ترکھان، لوہار
یہ بچارے کسان
جن کی پوری نسلیں،
زندگی اور گھرانے،
خدمت، خواری اور مصیبت
خان کے استحصال کے سنگیں پنجے میں
سینہ لاکھوں زخم، درد، پکار
پر زبان خاموش
اس طرح کی کئی مثالیں جلا وطن کی شاعر ی میں موجود ہیں۔

Qadir Khan
Qadir Khan

تحریر : قادر خان

Share this:
Tags:
Community Development leaders pakistan poet politics پاکستان ترقی سیاست شاعر قوم لیڈر
Rozi Drama
Previous Post ’’روزی‘‘ عورت کو کھلونا سمجھنے والوں کے لئے آئینہ
Next Post عافیہ صدیقی اور ہماری بے حسی
Dr Aafia Siddiqui

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close