کراچی (اسٹاف رپورٹر) معروف ماہر تعلیم عمیرہ عقیل نے کہا کہ قرار داد پاکستان کے بنیادی مقاصد حاصل کرکے ہی ہم ترقی و کامرانی کی منزل سے ہمکنار ہوسکتے ہیںجس نظریے کی بنیاد پر ہمارا پیارا وطن وجود میں آیا تھا آج افسوس کہ ہم اسے بھول چکے ہیں ہمارے پیارے وطن نے ہمیں پہچان دی عزت دی اور وقار دیا مگر ہم اپنے خداد وطن کو جس کا وہ متقاضی تھا ہم اسے نہیں دے پائے آج کا دن 23مارچ یوم قرار داد پاکستان کی 75ویں سالگرہ ہم سے اس عزم کا متقاضی ہے کہ آج ہم عہد کریں کہ ہم اپنے پیارے وطن سے بھوک ،غربت ،دہشت گردی ،لاقانونیت اور جہالت کی عفریت کا خاتمہ کرکے خوشحال پاکستان بنا ئیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کھو کھرا آپار ملیر میں گرین پیس اسکول و کالج کے افتتاحی اور یوم قرار داد پاکستان کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب سے گرین پیس اسکول و کالج کے ایڈمنسٹریٹر و پرنسپل پروفیسر سلمان احمد عثمانی، وائس پرنسپل سائرہ جلیل نے بھی خطاب کیا عمیرہ عقیل نے کہاکہ آج کا دن پاکستان کی تاریخ کا سنہرا دن ہے اور آج کے دن اس اسکول کا افتتاح اس تاریخ کے سنہرے دن سے منسلک ہوجاتا ہے جو نہ صرف گرین پیس پبلک اسکول بلکہ یہاں پر تعلیم حاصل کرنے والے تمام طالب علموں کے لئے باعث فخر ہے اس موقع پر گرین پیس پبلک اسکول و کالج کے پرنسپل پروفیسر سلمان احمد عثمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 23مارچ 1940کو جہاں پاکستان کی بنیاد رکھی گئی وہاں 23مارچ 2015کوگرین پیس پبلک اسکول و کالج کی بنیاد رکھنا ہمارے لئے قابلِ فخر ہے گرین پیس پبلک اسکول و کالج کی بنیاد کا مقصد تعلیم کے دروازے ہر خاص و عام کے لئے کھولنا ہے پروفیسر سلمان احمد عثمانی نے کہا کہ ہمارے اس ادارے کو قابل اور تجربہ کار اساتذہ کی مددحاصل ہے جو کہ طلبہِ علموں کے مستقبل کو چار چاند لگانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں انہوںنے کہا کے جس طرح پاکستان حاصل کرنے کے لئے ہمارے بڑوں نے انتھک محنت کی اسی طرح ہمارے اساتذہ بھی گرین پیس پبلک اسکول و کالج کی ترقی کے لئے شب و روز کوشاں رہنگے افتتاحی تقریب کے آخری میں اسکول کی وائس پرنسپل سائرہ جلیل نے کہا کہ ان شااﷲ گرین پیس پبلک اسکول و کالج تعلیمی میدان میں انقلاب برپا کردے گاکیونکہ جہاں عمیرہ عقیل اور پروفیسر سلمان احمد عثمانی جیسے جہاندیدہ شخصیت موجود ہو وہاں سے کامیابی کی نوید آتی ے اس موقع پہ اسکول انتظامیہ طلبہ و طالبات اور علاقائی معزیزین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

