Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔ زندہ باد

June 1, 2015 0 1 min read
Pakistan
Pakistan
Pakistan

تحریر : ابن نیاز
فضا میں ایک زوردار نعرہ گونج اٹھا۔ کسی نے نہیں دیکھا کہ نعرئہ تکبیر کی صدا بلند کرنے والا کون تھا، بس جواب میں شاید ہی وہاں کوئی موجود لوگوں میں سے خاموش رہا ہو۔ اور کیوں جواب نہ دیتا۔ سب کے جذبات اس وقت ایک جیسے تھے۔ سب اس وقت ٹیلی ویڑ ن کے سامنے بیٹھے خبریں سن رہے تھے۔ کہ نیوز کاسٹر نے تازہ خبر کا کہہ کر خبر سنائی کہ ” پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا ‘ ‘۔ پھر چند منٹ کے بعد تفصیل سے بتایا کہ 3 بج کر 16 منٹ پر پہلا دھماکہ کیا اور پھر چند منٹ کے وقفے سے چار دھماکے مزید کر دیے تھے۔ تو کیوں نہ پاکستانی عوام جذبات میں آتی۔ وہ آئی اور ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود ایاز نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز کے مصداق سب کیا مسلمان، کیا پاکستان کے ہندو، کیا سکھ، سب کے سب بھنگڑے ڈالنے لگے۔ اگر کوئی مسجد کا طالبعلم تھا یا سکول کالج یا یونیورسٹی کایا کوئی دکاندار یا نمازی۔ سب کے لبوں پر صرف ایک ہی نعرہ تھا، نعرئہ تکبیر، اللہ اکبر۔

جب 12مئی کو انڈیا نے ایٹمی دھماکے کیے تو ساتھ ہی پاکستان کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی تھیں۔ کہ گویا اب وہ علاقے کا تھانیدار بن گیا ہے۔ اور اس زعم میں اس نے لاکھوں کی فوج بھی پاکستان کے مشرقی سرحدوں پر لا کھڑی کر دی تھی۔ لیکن اسے نہیں معلوم تھا یا پھر وہ بھول گیا تھا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔1965 کی جنگ کے زخم اسکے دماغ سے نکل گئے تھے۔ لگتا تھا کہ اس نے ایک دفعہ پھر منہ کی کھانے کے لیے پاکستان سے پنگا لینا چاہا ہے۔ انڈیا کے دھماکوں کے ساتھ ہی پاکستان کی عوام نے اپنے حکمرانوں پر دبائو ڈالنا شروع کر دیا تھا کہ اگر 1976 سے اب تک پاکستان ایٹمی پروگرام پر عمل کرتا رہا ہے تو یہ ہی موقع ہے کہ انڈیا پر بالخصوص اور تمام دنیا پر بالعموم ایٹمی دھماکے کر کے دبائو ڈالا جا سکتا ہے۔ حکمران تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کے محاورے پر عمل کرنے کی سوچ رہے تھے۔ ان پر غیر مسلم قوتوں کا بیرونی دبائو بڑھ گیا تھا کہ پاکستان صبر سے کام لے۔اور بظاہر حکمرانوں کے رویے سے پتہ چلتا تھا کہ شاید وہ بیرونی دبائو میں آ جائیں گے۔لیکن اندرونِ خانہ کیا کھچڑی پک رہی تھی، یہ یا تو خدا جانتا تھا یا پھر کھچڑی پکانے والے۔

12 مئی سے آج16 مئی ہو گئی تھی۔ لیکن شیراز شاید ایک منٹ بھی سکون سے نہ سو سکا تھا۔وہ پاکستان کے ایک خفیہ ادارے میں کام کرتا تھا۔ اور اس کا دل ہر وقت پاکستان کے نام کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ دھماکہ تو اسی وقت ہو جانا چاہئے تھا جب انڈیا نے دھماکہ کیا تھا۔ لیکن حکمرانوں کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس نہج پر جا رہے تھے۔ اسکو ایک پل بھی چین نہیں تھا۔ جیسے حالات اس کے تھے، اسی طرح کے خیالات اور جذبات اسکے سینئرز افسران کے تھے۔ لیکن سب ملک کے قانون کے آگے مجبور تھے کہ جس نے انھیں یہ سبق سکھایا تھا کہ حکومت وقت کی ماننی ہے۔ اگر وہ نہ بھی مانتے تو بھی کیا کر سکتے تھے۔ حکمرانوں کی طرف سے ا ن کے ادارے پر بہت زیادہ دبائو تھا کہ وہ ہر حال میں خاموش اور پر سکون رہیں۔ ورنہ تو انکا دل اور خاص طور پر شیراز کا دل چاہتا تھا کہ وہ انڈیا کے اندر گھس کر ان کو وہ زخم دے کر آئے کہ وہ برسوں اپنے زخم چاٹتے رہیں۔ لیکن وہ مجبور تھا۔ پھر اس پر پریشر اتنا بڑھا کہ وہ برداشت نہ کر سکا اور تین ہفتوں کی چھٹی کے لیے درخواست دے دی۔اسکی چھٹی منظور ہو گئی۔ کیونکہ اسکے سارے سینئر آفیسرز جانتے تھے کہ اگر اس وقت شیراز کو ذہنی آرام نہ دیا گیا تو شاید وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

Youm e Takbeer
Youm e Takbeer

چھٹی منظور ہوتے ہی وہ گھر آگیا۔ لیکن یہاں بھی وہ نچلا نہیں بیٹھا۔ بلکہ اس نے ایک مشن بنا لیا۔ اس نے اپنے کالج کے ، یونیورسٹی کے زمانے کے سارے دوستوں سے رابطہ کیا۔ سب کو قائل کیا کہ اگر وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں تو اپنے اپنے لیڈران کو قائل کریں کہ وہ حکمرانوں پر دبائو ڈالیں کہ امریکہ اور دوسرے ممالک کے دبائو میں نہ آئیں بلکہ انڈیا کے پانچ دھماکوں کے مقابلے میں کم از کم پانچ ہی دھماکے کر کے منہ توڑ جواب دیں۔ “لیکن ہو گا کیا؟ ایٹمی دھماکہ کرنے سے آخر پاکستان کیا فائدہ اٹھا لے گا؟” عامر نے جو کہ ایک بزنس مین تھا، شیراز سے پوچھا۔”کیا مطلب؟ یہ فائدہ کم ہو گا کہ دنیا کی نظر میں پاکستان کا ایک مقام بن جائے گا۔امریکہ، انڈیا، اسرائیل اور دوسرے دشمن ممالک پاکستان کے بارے میں اپنے ذہن میں غلط خیال لانے سے قبل سو بار سوچیں گے۔” شیراز نے جواب دیا۔”لیکن یہ بھی تو دیکھو یار کہ پاکستان پر جو پابندیاں لگیں گی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی معشیت بہت پیچھے رہ جائے گی۔” عامر اپنے بزنس کے نقطہ نظر سے ہی سوچ رہا تھا۔”کچھ نہیں ہوگا۔ کیا ہم ہمیشہ امریکہ کے غلام رہیں گے۔ کیا ہمارے دلوں میں اللہ کا خوف ختم ہو گیا ہے۔رزاق اللہ ہے یا امریکہ۔” شیراز کو غصہ آگیا۔

“ارے ارے مت لڑو یار۔ بس جو کچھ ہو وہ پاکستان کے حق میں بہتر ہو۔”سہیل ثانی نے ان کے بیچ میں آتے ہوئے کہا۔ “ٹھیک ہے۔ پھر کوئی پلان بنائو۔ہمیں بتائو کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔”فضلو فٹ بالر جو کالج سے آگے نہ پڑھ سکا تھا، لیکن پکا پاکستانی تھا، شیراز کے کندے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ شیراز نے کامران کو دیکھا تو وہ بھی مسکرا رہا تھا اور آنکھوں میں شیراز کو اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔ “تو ایسا کرتے ہیں کہ کچھ جلسے جلوس نکالتے ہیں، لیکن پر امن۔ اور یہ سب کے ذہن میں رہے کہ کسی کو علم نہ ہو کہ ان جلوسوں کے پیچھے میرا ہاتھ ہے۔اگر آپ نہیں بتائیں گے تو کسی کو علم نہیں ہو گا۔ “شیراز نے فوراً سے ایک پلان بتا دیا۔ “اوکے ڈن۔تم جو کہو گے اسی طرح ہو گا۔”سب نے حامی بھری اور شیراز کے آگے بڑھے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر گویا عہد کیا۔چونکہ شیراز کا تعلق خفیہ سے تھا تو اپنی ٹریننگ سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ روزانہ کسی نہ کسی روپ میں کسی ایک جگہ جلسہ نما جلوس اکٹھا کر لیتا اور باقاعدہ ایک جذبات سے بھرپور تقریر شروع کر دیتا۔ عوام کو بھرپور دلائل دیتا کہ آج اگر ہم لوگ چپ بیٹھ گئے تو کل اسی انڈیا نے ہم کو کچا چبا دینا ہے۔

کیونکہ آج جس طرح باقی غیر مسلم ممالک انڈیا کا ساتھ دیتے ہوئے پاکستان کے حکمرانوں کو کوئی بھی قدم لینے سے روک رہے ہیں۔ اسی طرح کل ایٹمی طاقت ہونے کے زعم میںاس نے ہم پر حملہ کر دینا ہے اور اپنا اٹوٹ انگ کا راگ الاپتے ہوئے پاکستان کو اپنا حصہ بنانے کے لیے سر توڑ کوشش کرنی ہے۔ اور یاد رہے کہ سب نے اسکا ساتھ دینا ہے چاہے وہ امریکہ ہو، برطانیہ ہو یا فرانس۔ سب مل کر اس انڈیا، ہمارے ازلی دشمن کو ہر قسم کی امداد دیںگے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے شیراز کی ان باتوں کا برا منایا اور اسے کہا کہ اگر ہم نے ایٹمی دھماکہ کر دیا تو امریکہ ہماری امداد بند کر دے گا۔ اقوام متحدہ ہم پر پابندیاں لگا دے گا۔ پھر ایٹمی دھماکہ کر کے ہمیں ملے گا بھی کیا۔ کچھ نہیں۔ شیراز نے کہا کہ ہمیں بہت کچھ ملے گا۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ دھماکے صر ف پاکستان کے ہی نہیں ہو ں گے بلکہ بہت سے اسلامی ممالک کی دلی خواہش ہے۔ پھر دوسری بات یہ کہ انڈیا کو کم از کم اتنی جرات بھی نہیں ہو گی کہ وہ اونچی آواز میں بات کر سکے چہ جائیکہ کہ وہ پاکستان کی سرحدو ں پر اپنی فوجیں کھڑی کر دے۔

Indian Nuclear Missile
Indian Nuclear Missile

جو بھی شیراز سے اس معاملے پر بحث کرتا وہ اسکو بھرپور دلائل دیتا۔ اسکا ساتھ دینے کے لیے اسکے دوست آگے بڑھ آتے او ر اپنے اپنے انداز میں پاکستان کے دھماکہ کرنے کے حق میں بات کرتے ۔اس طرح کرتے کرتے اس نے بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ پھر اکثر شام کو وہ ایک بڑی تعداد لے کر ایک انتہائی پر امن جلوس نکالتا۔ شہر کے کھیلوں کے میدان میں پہنچ کر وہاں باقاعدہ پھر انکے جذبات کو ابھارتا۔ اور پھر پر امن طریقے سے جلوس منتشر ہو جاتا۔ کیا مجال کہ کبھی ایک آنے کا کسی کا بھی نقصان ہوا ہو۔ وہ جب بھی جلوس کا آغاز کرتا تو ایک بات ضرور کرتا کہ یہ جلسہ ہم اپنے جذبات کے لیے کر رہے ہیں، اپنے حکمرانوں تک اپنی بات پہنچانے کے لیے کر رہے ہیں۔اس لیے کسی کا بھی کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ نہ ہی کوئی چلتی ٹریفک میں خلل واقع ہونا چاہیے۔ اسکے جلسوں کی شہرت اسکے شہر سے نکل کر قریبی شہروں تک پھیل گئی۔ اسکی پیروی کرتے ہوئے دوسرے شہروں میں بھی پرسکون جلوس ہونے لگے۔ ایک خاص وقت پر شروع ہوتے،

تقریریں ہوتیں، بارگاہِ خدا وندی میں دلی آہ و زاری ہوتی، آہوں سسکیوں کی آوازیں شاید سیٹلائٹ کے ذریعے ، انٹر نیٹ کے ذریعے امریکہ تک بھی جاتی ہوں گی۔ اگرچہ صرف 10, 9 دن ہی گزرے تھے مگر عوام کی جائید اد کو رتی بھر بھی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ البتہ انکے دل ہر گزرے دن کے ساتھ دھک دھک کی صدا بڑھاتے جا رہے تھے۔ وہ 28 مئی کا دن تھا۔ روز کی طرح اپنے جلوس سے فارغ ہو کر وہ بازار میں کچھ گھرکے لیے خریدو فروخت کر رہا تھا۔کہ اچانک اسکے کانوں میں ایک آواز آئی۔ ” پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا ”۔ اسکو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ فوراً ایک قریبی دکان میں گھس گیا جہاں ٹیلی ویڑن لگا ہوا تھا اور نیوز کاسٹر خبریں سنا رہا تھا۔ شد ت جذبات سے اسکی آواز بھی مشکل سے نکل رہی تھی۔جب شیراز نے اپنے کانوں سے سنا اور آنکھوں سے لکھا ہو اپڑھا تو اسے اپنے آپ قابو نہ رہا۔ جھٹ دکان سے نکلا اور انتہائی بلند آواز میں نعرئہ تکبیر کی صدا بلند کی۔ اس وقت بازار میں جتنے بھی لوگ تھے چاہے دکاندار تھے یا خریدار۔ سب نے ایک آواز ہو کر اسکا جواب دیا ” اللہ اکبر”۔ پھر ایک صدا گونجی ” نعرئہ تکبیر۔ اللہ اکبر۔ نعرئہ تکبیر، اللہ اکبر۔

شیراز خوشی سے اور جذبات سے بے قابو ہو چکا تھا۔ اسکو اپنی محنت کا پھل مل چکا تھا۔ اسے یقین ہو چکا تھا پاکستان کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ وہ فوراً اللہ کی بارگاہ میں سر بسجود ہونے کے لیے بازار میں موجود ایک مسجد میں گھس گیا۔ دیکھا تو وہاں ایک جم غفیر جمع تھا اور کوئی سجدے میں تھا کوئی رکو ع میں تھا تو کوئی ہاتھ اٹھائے ، آنکھوں سے آنسو بہائے اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا۔جس نے آج پاکستان کو اسلامی دنیا میں میں سرخرو کر دیا تھا۔ اس نے بھی سجدے میں سر رکھ دیا اور خدا کے حضور آنسوئوں کے نذرانے پیش کرنے لگا۔ پاکستان زندہ باد۔

Ibn e Niaz
Ibn e Niaz

تحریر : ابن نیاز

Share this:
Tags:
India pakistan people slogan space Zindabad انڈیا پاکستان جواب دھماکے زندہ باد فضا لوگ نعرہ
Budget
Previous Post بجٹ
Next Post انسداد دہشت گردی میں مزید تعاون کیا جائے‘ پاکستان طالبان کیخلاف سخت کارروائی کرے : افغان صدر
Ashraf Ghani

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close