Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ستر سالہ جشن قومی شعور کا امتحان

August 12, 2017 0 1 min read
Jashn-e-Azadi
Jashn-e-Azadi
Jashn-e-Azadi

تحریر : شیخ خالد زاہد
پاکستانی قوم پچھلے ستر سالوں سے مسائل کے ساتھ ساتھ امتحانات سے بھی نمٹتے چلے آرہے ہیں۔ ہم نے بحیثیت قوم ہمیشہ مسائل سے نمٹنے کیلئے وقتی فیصلے کئے ، ہم نے کبھی بھی مکمل نجات کی جانب دھیان نہیں دیا۔جس کی وجہ سے وہ مسائل پھر اسی طرح سے ہمیں ستاتے چلے آرہے ہیں۔

سیلاب ہر سال ہی ہمارے علاقوں میں تباہی مچاتے ہیں ہم ہر سال ان سیلابوں کی وجہ سے کتنا نقصان برداشت کرتے ہیں ، ہم ہر سال وقتی سدِ باب کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں مگر کوئی با قاعدہ انتظام نہیں کرتے کوئی ڈیم نہیں بناتے اپنے نہری نظام پر دھیان نہیں دیتے کیونکہ عوام وہ لوگ جو متاثرین ہوتے ہیں کوئی مطالبہ ہی نہیں کرتے بس جیسے بھی ہو وہ وقت گزر جائے ۔ دہشت گردی کو لے لیجئے آئے دن کہیں نا کہیں کوئی ایسا واقع ہوجاتا ہے جس میں لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے انتظامیہ کچھ دنوں کیلئے بہت سختی کرتی ہے پھر آہستہ آہستہ سب ویسے ہی رواں دواں ہوجاتا ہے ۔ ایسی بے تحاشہ مثالیں ہم سب کے اردگرد موجود رہتی ہیں کیونکہ یہ ہمارا قومی المیہ ہے۔ ہم انفرادی طور سے لے کر اجتماعی طور تک ایسے ہی ہیں۔

ہم میں بہت پڑھے لکھے اپنے آپ کو باشعور سمجھنے والے لوگ بھی مزاجاً ایسے ہی ہوتے ہیں۔اب سب سے بنیادی مثال لیجئے جسکے لئے اپنے سیاسی رہنماؤں یا سیاسی جماعتوں کے چناؤ میں اپنا رویہ دیکھ سکتے ہیں، ہم سال ہا سال سے ایک ہی سیاسی جماعت کو ووٹ دئیے جا رہے ہیں جب کہ ہمارے علاقے کی حالت میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں آرہا۔ ہم نے ایک ہی جماعت کو تین تین بار اپنے ووٹ جیسی کی طاقت سے ایوانوں کی زینت بنایا مگر ہر بار ہی کسی نا کسی وجہ سے معینہ مدت کئے بغیر ایوان سے بے عزت طریقے سے نکالا گیا۔ان نکالنے والوں میں کبھی صدور تھے ، کبھی جنرل تھے اور کبھی عدلیہ ، اب ہم ان مستحکم اداروں پر شک کرنے سے قاصر ہیں کیوں کہ پاکستان میں یہی وہ ادارے ہیں جو تقریباً ملک کی سمت کا تعین کرتے ہیں اور ہر برے بلکہ بد ترین حالات میں سینہ سپر کھڑے ہوتے ہیں۔ انہی اداروں کی بدولت پاکستان ابھی تک اپنے وجود کو سنبھالے ہوئے ہے۔واپس آجائیے! مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں ایک سوراخ سے ایک سے زیادہ دفعہ ڈسے جانے کو نہیں کہا گیا یعنی جب ایک جگہ سے آپ کو دھوکہ دیا جائے تو مومن کی پہچان ہے وہ دوبارہ وہاں سے دھوکا نہیں کھائے گا۔ یہاں ہم پاکستانیوں نے دو دو اور تین تین بار ڈسے جانے کے بعد بھی عقل کے ناخن نہیں لئے ہیں اور شعور کا تانا بانا تلاش کرنے میں ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔

جب سے ہوش سنبھالا ہے اور جب سے پڑھنے کے لائق ہوئے ہیں تویہی سن اور پڑھ رہے ہیں کہ پاکستان تاریخ کے اہم ترین موڑ پر کھڑا ہے اور پاکستان تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے ۔آج جب پاکستان کو وجود میں آئے ستر سال ہونے کو آگئے ہیں تو بھی ایسی ہی باتوں کا راگ سماعتوں سے ٹکرا رہا ہے ۔ یہ الفاظ دھرانے والے ہمارے ملک کے نامور سیاست دان ہوا کرتے ہیں۔ ایک سوال ذہن میں اٹھ رہا ہے کہ کیا ہم آج بھی وہیں تو نہیں کھڑے جہاں سے چلے تھے یعنی ۱۹۴۷ میں کیونکہ ہم جہاں سے چلے تھے وہی سب سے اہم ترین موڑ تھا ۔ پاکستان اہم ترین موڑ سے آگے کیوں نہیں بڑھ رہا اور ہمارے سیاستدان اسے کیوں آگے نہیں بڑھا رہے اب تک پاکستان میں جتنی بھی بڑی (ملک گیر)سیاسی جماعتیں ہیں سب ہی اپنے اپنے حصے کا اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوچکی ہیں مگرعوام کی بدقسمتی سے ملک پھر بھی اہم ترین موڑ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ پاکستان کو ایسے حالات و واقعات میں کس نے الجھا کے رکھا ہوا ہے ،ہم اس کی ذمہ داری کاسہرا کسی دشمن ملک پر نہیں ڈال سکتے بلکہ یہ سہرا عوام کے سر پر ہی سجتا اچھا لگے گا۔ سیاست دانوں کو جب جب موقع ملا اقتدار میں آئے اور جو اقتدار کا حصہ نہیں بن سکے انہوں نے اقتدار والوں کی ٹانگیں کھینچنے میں سارا وقت نکال دیا اور ایسا ہوتا رہا ہے اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔

پاکستان کا دفاعی بجٹ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور رکھنے کی ضرورت بھی رہی ہے کیونکہ ہمارے ہمسائے ہمیں سکھ کا سانس ہی نہیں لینے دیتے لیکن اگر صرف ایک دفع پاکستان اپنا سارا کا سارا بجٹ تعلیم پر لگا دے اور سارے کے سارے سیاستدان تعلیم کی ترویج اور بھرپور عملداری کیلئے میدان میں آجائیں (بغیر کسی قسم کی تفریق کے)تو پاکستان راتوں رات ترقی کی سیڑھیاں چڑھ جائے گا۔ ہمارے ملک میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر نہیں کیا گیا اور جو لوگ تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے نکلے تو انہیں کہیں کا کہیں بھٹکا دیا گیا۔ تعلیم کا بنیادی مقصد شعور کی بیداری ہے اور شعور کی بیداری کا مطلب ہوتا ہے اچھے اور برے کی تمیز آنا اپنے بنیادی حقو ق کا پتہ چلنا اور انکے لئے آواز اٹھانا ، اپنے عقائد کے بارے میں حقیقی معلومات کیلئے کوشش کرنا روائتی اقدار سے جان چھڑانا، غرض یہ کہ تعلیم ملک و قوم کی ترقی کی بنیادی اکائی ہے اس اکائی کو حاصل کئے بغیر آپ کتنے ہی آگے بڑھ جائیں ایک دم سے واپس اپنی جگہ پر آجائینگے جیسے بغیر بنیاد کے گھر کی تعمیر شروع کردینا۔ کسی بھی معاملے پر غور کرنے کیلئے بھی آپ کو علم کی ضرورت پڑیگی، غور کرنے کیلئے صرف اور صرف جذبات کافی نہیں ہیں۔ مسجد صرف روحانی عبادت کیلئے نہیں جاتے وہاں جانے کا مقصد بھی علم سے شناسائی رکھنا ہے۔

ہم پاکستانی گزشتہ ستر سالوں سے پاکستانی ہونے کا جواز ڈھونڈ رہے ہیں کبھی ہم پنجابی بن کر رہے جاتے ، کبھی ہم سندھی بن کر رہے جاتے ہیں، کبھی ہم بلوچ بن کر اپنی محرومی کا رونا روتے رہتے ہیں، کبھی ہم پشتون بن کر احسان جتاتے ہیں اور کبھی ہم مہاجر بن کر اپنی حیثیت ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں مگر ہم پاکستانیت تک کبھی نہیں پہنچ پاتے۔ ہمیں تعصب کا تو شعور ہے مگر پاکستان کا نہیں ہے ہم پاکستان کے لئے دی گئی قربانیوں کو بھی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ہمیں اللہ نے وہ سرزمین عطاء کی جہاں قدرت کی ہر نعمت رحمت کی طرح دستیاب ہے مگر ہم نے ان نعمتوں کے ساتھ بھی وہ رویہ روا رکھا ہوا ہے جو پاکستان سے کم ازکم محبت کا احساس نہیں دلاتا۔

پاکستان کو ہمیشہ سے ہمارے شعور کی ضرورت تھی مگر ہمارے شعور سے سیاستدانوں کو خوف آتا ہے وہ چاہتے ہی نہیں کہ عوام کو انکی حقیقت کا علم ہو کیونکہ اگر عوام کو پتہ چل گیا کہ اصل میں ہمارے سیاستدان کیا ہیں تو عوام کبھی بھی انہیں ووٹ جیسی چیز سے نہیں نوازے گی۔ تعلیم کو اتنا مہنگا کردیا کہ عام آدمی اپنے بچوں کو پڑھانے کی بجائے بھیک مانگنے یا پھر محنت مزدوری میں لگادے یا پھر ان سیاستدانوں کے آگے پیچھے ان کے حق میں نعرے لگانے کیلئے چھوڑ دئیے جائیں۔ ہمیں اب تو اپنے حق کو سمجھ لینا چاہئے، ہمیں اب تو سوچ سمجھ کر شعور کی مشاورت سے آنے والے دنوں میں پاکستان کیلئے فیصلہ کرنا پڑے گا تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو یہ جملہ نا سننا پڑے کہ پاکستان تاریخ کہ اہم ترین موڑ پر کھڑاہے ہمیں اپنے تدبر سے یہ موڑ کاٹ لینا چاہئے اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھنا چاہئے اور یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم تیسری یا چوتھی دفعہ ایک ہی سوراخ سے ڈسنے سے اپنے آپ کو بچالیں ۔ آئیں دم ہلانا بند کردیں (معذرت کیساتھ) پاکستان کا ستر سالہ جشن قومی شعور کو اجاگر کر کے منائیں اور دنیا کوبتائیں ہمارے لئے صرف وہی نظام اہمیت رکھتا ہے جو پاکستان کو سنبھال لے اور پاکستانیوں کو سکون کا سانس لینے دے۔
ہماری جانب سے تمام باشعور ہوتی پاکستانی قوم کو جشن آزادی کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔

Sh. Khalid Zahid
Sh. Khalid Zahid

تحریر : شیخ خالد زاہد

Share this:
Tags:
nation Pakistani public slogan پاکستانی جشن آزادی عوام قوم نعرے
Judiciary
Previous Post حساب چاہیے بلا تفریق چاہیے
Next Post پنڈی تقریر کا جواب
Nawaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close