
تحریر : وقار النسا
جی کیا سمجھے؟؟ آج پلاؤ کی ترکیب بیان ہونے لگی ہے ؟آپ کونسا پلاؤ شوق سے کھاتے ہیں؟کیونکہ اس کی بہت سی اقسام ہیں مرغ پلاؤ مٹن یا بیف پلاؤ مٹر پاؤ یا سبزیوں کا مکس پلاؤ –بھئی قیمہ پلاؤ کی تو کیا ہی بات ہے نئے دور کی نئی باتیں جنگلی پلاؤ ہریالی پلاؤ اس کے علاوہ آپ جو چيز آپ کا دل چاہے شامل کر کے پلاؤ بنا لیں وہ کوفتہ ہو یا کباب سب بن جاتا ہے بس کچھ محنت کرنی پڑے گی -لیکن ايک اور پلاؤ بغیر محنت کے ہی بن جاتا ہے اور وہ ہم آپ جیسے دنیا داروں کی مرغوب غذا ہے-جی اللہ آپ کا بھلا کرے آپ کچھ ٹھیک ہی سمجھےاور وہ ہے خیالی پلاؤ ! ہر ایک کا من بھاتا کھا جا آپ کو اس کے بنانےکے لئے کچھ خریدنے کی بھی ضرورت نہیں بس آپ کو وقت چاہیے اگر تو آپ گھر کے کام دھندوں میں مصروف ہیں بچے چھوٹے ہیں ميل ملاقات والوں کی بہتات ہے تو پھر آپ کو کئی دفعہ خیالات کی ٹوٹی کڑیاں ملانی پڑیں گی
اس کے لئے آپ کو زیادہ وقت درکارہو گا بہت دفعہ بچوں کی چیخ وپکار ٹیلی فون کی بجتی گھنٹی آپ کو سراسیمہ کرے گی تو کوئی بات نہیں آپ دو کام کر سکتے ہیں يا تو کسی بات کی پرواہ نہ کریں جو ہو گا دیکھا جائے گا یا اپنی خیالی دیگ کو چھوٹے دیگچوں میں تقسیم کر دیں جو ساتھ ساتھ تیار ہوتی جائے –گھر کے کام کاج کے دوران بھی آپ یہ دیگ بخوبی تیار کر سکتی ہیں-آپ سسرال میں جوائنٹ فیملی کے ساتھ رہتی ہیں یا میاں جی کا مزاج کیسا ہے آپ کو اپنے گھر کے ماحول کا خوب پتہ ہو گا یہ نہ ہو کہ خیالی دیگ تو پکتی رہی اور شام کو گھر میں تھیٹر شروع ہو جائے یہ ذمہ داری آپ کی اپنی ہےآپ چاند پر ہو آئیں دنیا گھوم لیں آبشاروں کی آوازیں سنیں خوبصوت باغات میں چہل قدمی کریں
آپ کے پاس اللہ دین کا چراغ ہو اور آپ اپنی ہر خواہش اس جن سے پوری کروا لیں یہ آپ کے وقت پر منحصر ہے کتنا فارغ وقت آپ کے پاس ہے-جب آپ کو اپنے اسی گھر کے کسی فرد کی پکار حواس باختہ دے آپ حقیقت کی دنیا میں آجائیں آپ کے ارد گرد کے مناظر ایک چھناکے سے ٹوٹ جائیں تو اب یقین کر لیں کہ آپ اسی دنیا کی باسی ہیں حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے لیکن اس کو تسلیم تو کرنا ہی پڑتا ہے بچوں کی کہانیوں میں شیخ چلی کی کہانی تو سب نے پڑھی ہی ہو گی جس نے انڈوں کی ٹوکری سے لیکر آگے کی زندگی میں کار گھر دولت اس کے بعد شادی تک کر لی اور اس کے ساتھ ہی سوچا بیوی مجھ سے کچھ کہے گی اور میں ایک لات ماروں گا اس کے ساتھ ہی انڈوں کی ٹوکری میں رکھے انڈے لات مارنے سے ٹوٹ گئے–
اس کے ساتھ ہی وہ حقیقی دنیا میں واپس پلٹا تو اپنے زياں پر رونے اور پچھتانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کالج کی زندگی میں اردو کی لیکچرار ہر شعر کی وضاحت دو طرائق سے کرتی تھیں ایک عشق مجازی اور دوسرا عشق حقیقی یعنی ایک معنی دنیاوی طریقے سے اور دوسرا اخروی –یہی بات سمجھنے کی ہے -انسان جب کسی سے توقعات بڑھا لیتا ہے تواس کی یہ محبت متعلقہ بندے سے امیدوں کی وابستگی بڑھا کرخواہشوں کو جنم دیتی ہے اور خواہشات کا حد سے متجاوزہو جانا بربادی ہے تباہی ہے اس طرح ان خواہشات کی بہتات اللہ کی نعمتوں کو اس کی نظر میں حقیر کر دیتی ہیں وہ عمل کے بجائے خیالی پلاؤ پکاتا رہ جاتا ہے
عمل سے خالی انسان کا دماغ شیطان کی آماجگاہ ہے خیالات عمل کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں اور وہ ان کے تانے بانے بنتا رہ جاتا ہے خیالی پلاؤ پکانے کے بجائے ذہن کو مثبت کام میں لائیں اپنے پروردگار کے حضور سجدہ شکر بجا لائیں جس نے ھمیں مکمل انسان بنایا سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ودیعت کی بے انتہا نعمتوں سے ںوازا زندگی میں سکون کے لئے ھمیشہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھیں اور دین کے معاملے میں ھمیشہ اپنے سے اوپر دیکھیں اور ان کے طور اطوار اپنائیں شکر گزاری کا رویہ اپنائیں–
اللہ کے مقرب بننے کی کوشش کریں کيونکہ مال اولاد صحت عزت کے خزانے اسی کے پاس ہیں تو بيکار ذہن الجھانے کے بجائے اخلاص کے ساتھ سب اسی کے در سے مانگیں وہ ضرور دے گا خیالات کی رنگینیاں وقتی طور پر تو آپ کو بھلی لگیں گی لیکن اس ڈور کا سرا کبھی آپ کے ھاتھ نہ آئے گا –
تحریر : وقار النسا

