Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

والدین کی نا انصافی نے ایک اور جان لے لی

April 17, 2017 1 1 min read
Suicide
 Suicide
Suicide

تحریر: افضال احمد
والدین کے حقوق کیلئے تو بہت سے مضامین منظر عام پر لا چکاہوں’ جیسے والدین کے بے شمار حقوق ہیں ایسے ہی اولاد کے بھی کچھ حقوق ہیں’ آج اللہ تعالیٰ نے اولاد کے حقوق پر لکھنے کی توفیق دی۔ دین نے والدین کو اُف تک کہنے سے منع کیا ہے تو دوسری طرف والدین کو بھی اولاد کے حقوق سے مکمل آگاہ کیا ہے’ فرق بس اتنا ہے کہ ہم سب والدین کے حقوق کی کتابوں کا تو ڈھیر لگائے بیٹھے ہیں’ لیکن اولاد کے حقوق کے بارے میں معلومات حاصل کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے’ دَور حاضر میں والدین کے حقوق پر تو بہت لوگ ”فوکس” کر رہے ہیں لیکن بیچاری اولاد کے بھی کچھ حقوق ہیں جنہیں زبردست طریقے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے’ جس سے معاشرے میں تباہی پھیل رہی ہے’ والدین خود دین کو اچھی طرح نہیں سمجھ رہے تو اولاد کی کیا تربیت کریں گے؟ یہی وجہ ہے کہ نسل در نسل غلط تربیت کا رواج چل نکلا ہے۔

بات دراصل یہ ہے کہ جب سے ہماری امت پر سیاسی اور سماجی زوال کا آغاز ہوا، اس وقت سے یہ عجیب و غریب فضا بن گئی کہ دین کو ہم نے دوسرے مذاہب کی طرح صرف چند عبادتوں کی حد تک محدود کر دیا ہے، جب تک ہم مسجد میں ہیں یا اپنے گھر میں عبادت انجام دے رہے ہیں، اس وقت تو ہمیں اللہ اور اللہ کے رسولۖ کے احکام یاد آجاتے ہیں’ لیکن جب ہم زندگی کی عملی کشاکشی میں داخل ہوتے ہیں تو بازار میں پہنچتے ہیں’ یا سیاست کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں’ یا معاشرے کے دوسرے عملی گوشوں میں داخل ہوتے ہیں تو اس وقت دین کے احکام اور دین کی تعلیمات ہمارے ذہنوں میں نہیں رہتیں۔

ہمارے گھر کے قریب چند روز قبل ایک نوجوان نے گھریلو حالات سے تنگ آکر خودکشی کر لی’ اس نوجوان کو خودکشی تک لے جانے والا عمل اس کے والدین کا نا انصافی والا سلوک تھا۔ یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں ہے آج کل توتقریباً ہر تیسرا گھر اس بیماری میں مبتلا ہے’ اس کی وجہ صرف اور صرف والدین کی اپنی غلط تربیت ہے’ والدین تو بن گئے لیکن تربیت میں منافقت بھری ہوئی ہے’ جب والدین کی اپنی تربیت میں منافقت بھری ہو گی تو آگے اولاد میں کیسے انصاف والا سلوک کر سکتے ہیں؟ یاد رہے میں تمام والدین کی بات نہیں کر رہا ہوں بہت سے والدین اولاد میں برابری کا سلوک روا رکھتے ہیں’ جن کی وجہ سے سماج ابھی باقی ہے’ اولاد میں انصاف کا سلوک کرنے والے تمام والدین کو میں سلیوٹ کرتا ہوں’ نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اپنے والدین سے بے پناہ محبت کریں’ والدین کا نعم البدل دنیا میں کوئی نہیں۔

اب اس نوجوان کی خود کشی کی کیا وجہ ہو سکتی ہے آپ خود فیصلہ کرکے بتائیں’ میرے ذہن میں جو کاشف کی مختصر کہانی ہے بیان کر دیتا ہوں’ فیصلہ آپ لوگ کریں گے’ خودکشی کی حقیقت کیا ہے میں نہیں جانتا۔ کاشف اور عامر دو بھائی ہیں جس نے خودکشی کی اس کا نام کاشف ہے اور یہ گھر میں بڑا تھا اور دوسرا بھائی جو چھوٹا ہے اس کا نام عامر ہے۔ کاشف کو بچپن سے ہی میں دیکھ رہا تھا کہ وہ بہت محنتی تھا’ اپنے ماں باپ کا گھر کے اخراجات میں اس وقت سے ہاتھ بٹا رہا تھا کہ جب اس کے منہ پر داڑھی موچھ بھی نہ تھی’ یعنی تقریباً کاشف پانچویں جماعت کا طالب علم ہو گا۔ وقت گزرتا گیا کاشف صبح سکول جاتا سکول سے آتے ہی ایک دکان پر کام کیلئے چلا جاتا جہاں وہ رات گئے تک چند ٹکوں کی خاطر سخت محنت مزدوری کرتا تھا۔

کاشف والدین کی خدمت کا اتنا زیادہ جذبہ رکھتا تھا کہ جس کی کوئی انتہاء نہیں’ اپنے چھوٹے بھائی سے اتنی محبت کرتا تھا کہ کبھی اُسے اُٹھ کر پانی بھی نہیں پینے دیتا تھا’ اور اپنے بھائی کو کہتا تھا عامر آپ میرے چھوٹے لاڈلے بھائی ہو آپ کو کسی فکر میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے’ دل لگا کر پڑھائی کرو’ بڑے آدمی بنو’ گھر کا نظام میں اور ابو چلا لیں گے’ آپ کی سکول’ کالج کی فیس کا انتظام میرے ذمے ہے’ اب جب تک کاشف محنت کرتا رہا’ پیسہ کماتا رہا تو اس کے والدین نے اسے اپنی آنکھوں کا نور ‘سر کا تاج بنا رکھا تھا۔

گھریلو اخراجات کی فکر نے کاشف کو سکول’ کالج کی پڑھائی سے دور کر دیا بلکہ کالج کی تو شکل بھی بیچار ہ نہ دیکھ سکا’ میٹرک تک مر کھر کر تعلیم حاصل کی اور پڑھائی چھوڑ کر فل ٹائم محنت مزدوری کرنے لگا’ کاشف کے والد بہت کم کما پاتے تھے ‘ قصہ مختصر کہ کاشف نے پڑھائی چھوڑی’ چھوٹے بھائی کی کالج کی فیس’ ماں باپ کی دوائیاں و دیگر اخراجات کا بیڑا اٹھانے کیلئے دن رات محنت مزدوری کرنے لگا۔
کاشف اپنی تنخواہ میں سے تھوڑے تھوڑے پیسے اپنی بہن کی شادی کیلئے جوڑتا رہا’ اب ایک بہن تھی اس کی شادی کا وقت آگیا تو کاشف نے اپنے سارے سنبھالے ہوئے پیسے نکالے اور کچھ ادھار اُٹھایا اپنے چھوٹی بہن کے نکاح پر خرچ کر دیئے’ دھوم دھام سے بہن کی شادی کی’ اتنے میں عامر نے اپنی تعلیم ”ایم بی اے” مکمل کی اور ایک بڑے بینک میں نوکر لگ گیا’ اب کاشف کو یہ سن کر کہ چھوٹا بھائی اچھی ملازمت پر لگ گیا ہے’ جس کی تنخواہ بھی تقریباً 50 ہزار ہے تو بہت خوش ہوا’ کہ اب عامر گھریلو اخراجات میں میرا ہاتھ بٹائے گا’ لیکن یہ کاشف کی غلط فہمی تھی۔ خیر کاشف نے عامر کو کہا کہ آپ 6 مہینے گھر کے اخراجات میں مدد نہ کرو اپنے گھومنے پھرنے کے سب خواب پورے کرو’ بھرپور انجوائے کرو ‘ تا کہ آپ کی کوئی خواہش میری خواہش کی طرح ادھوری نہ رہ جائے’ گھر کا خرچہ میں دیکھ لوں گا’ اتنے میں کاشف کے والدین نے کاشف کی شادی کر دی۔

کاشف کی شادی کے ٹھیک 8 دن بعد گھر میں فساد شروع ہو گئے’ کاشف بیچارہ سارا دن کام کاج سے تھک ہار کر گھر آتا تو والدہ ماجدہ اسے اس کی کی بیوی کے خلاف غلط بھڑکاتی تھیں’ حالانکہ میں خود گواہ ہوں کہ کاشف کی بیوی بہت اچھی خاتون تھی۔ دراصل ماں باپ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ ہمارا بیٹا جو کماتا تھا ہمیں دیتا تھا’ اب بیوی کو بھی دینے لگا ہے ‘ ماں نے ٹھان لی کہ کاشف کی بیوی کو اس گھر سے نکالنا ہے’ مہینے کے شروع میں کاشف حسب معمول اپنی تھوڑی بہت جو تنخواہ تھی ماں کو دینے لگا’ تو ماں نے آگے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ”دفعہ ہو جائو ہمیں تمہارے پیسے کی کوئی ضرورت نہیں اپنی بیوی کو دو جا کر اپنا پیسہ’ ہمارا خرچہ اُٹھانے کیلئے ہمارا پیارا بیٹا عامر موجود ہے”۔ جلتی پر تیل ڈالنے کیلئے ماں نے کاشف کو کہا کہ تم چند ٹکے تو کماتے ہو’ عامر دیکھو ہمارا اتنا خیال رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اُسے کتنا وسیع رزق دیا ہے’ تم تو ساری عمر چند ٹکوں پر ہی ملازم رہو گے۔

وقت گزرتا گیا کاشف کو جلی کٹی سنانے کے باوجاد تنخواہ بھی لیتے رہے’ روز بروز لڑائیاں جھگڑے بڑھتے گئے’ والدہ ماجدہ نے کاشف کے باپ کو بھی اپنے ساتھ اس سازش میں شامل کر لیا’ اور باپ بھی کاشف اور اس کی بیوی کے خلاف ہو گیا۔ کاشف کی بیوی گھر میں سخت گرمی میں بغیر پنکھا چلائے بیٹھا کرتی تھی’ پنکھا چلاتی تو کاشف کے والدین اسے یہ کہہ کر ٹوک دیتے کہ ”تیرا شوہر دو ٹکے تو کماتا ہے” ہم بجلی کا بل کہاں سے دیں گے’ بند کرو پنکھا’ قصہ مختصر کہ ان دونوں میاں بیوی میں بے حد محبت تھی’ ان بیچاروں نے بہت کوشش کی کہ ہمارا گھر بسا رہے’ کاشف کی بیوی بہت اچھی خاتون تھی کاشف کا ہر پریشانی میں بھرپور ساتھ دیتی تھی’ کاشف بیچارا اتنا پیسہ تو کماتا نہیں تھا کہ کرائے پر مکان لے کر اپنی بیوی کے ساتھ الگ رہ سکے۔

انجام یہ ہوا کہ بیچاروں کی 7 ماہ کے اندر اندر طلاق ہو گئی’ طلاق کے فوراً بعد کاشف کے والدین نے عامر کی شادی کر دی اور اُس کی بیوی بہت تیز طرار ہے’ سیدھے لفظوں میں کہا جائے تو عامر کی بیوی نے عامر کے والدین کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں’ لیکن عامر زیادہ پیسہ کماتا ہے اس لئے اس کے والدین اس کے اور اس کی بیوی کے آگے چوں تک نہیں کرتے’ یہ سارا سلسلہ دیکھ کر کاشف نے ٹینشن لی’ کاشف کہتا تھا بچپن سے لیکر آج تک میں نے اس گھر کیلئے اپنی جان مار ڈالی’ ماں باپ کا سہارا بنا ‘ اپنے چھوٹے بھائی کو کبھی کوئی کام نہیں کرنے دیا’ اسے اعلیٰ تعلیم دلوائی’ اور آج ان سب نے میری طلاق کروا کر مجھے ادھورا کر دیا’ یہی سوچیں کاشف کو موت کے منہ میں لے گئیں۔
میرے ناقص مشاہدے میں یہ بات دیکھنے میں آرہی ہے کہ جو اولاد بچپن سے لیکر جوانی تک اپنے گھر کی خوشیوں کیلئے اپنی خواہشات و جوانی قربان کر دیتی ہیں’ وہی اولاد آگے جا کر ماں باپ’ بہن بھائیوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوتی ہے’ عامر چاہتا تو اچھا خاصا پیسہ کماتا تھا کاشف کو نوکری چھڑوا کر چھوٹی موٹی دکان کروا دیتا’ لیکن جہاں والدین پیسوں کے پجاری ہوں وہاں کسی اور رشتے سے کیا امید رکھنی؟ جب اولاد اپنے حقوق کی بات کرے تو والدین اولاد کو بدتمیز قرار دے دیتے ہیں۔ ذرا سوچو! یہ صرف کاشف کی کہانی نہیں’ ہر تیسرے گھر میں والدین اولاد کے ساتھ نا انصافیاں کر رہے ہیں۔والدین کے نزدیک کم کمانے والے کی گھر میں کم عزت’ زیادہ کمانے والے کی گھر میں زیادہ عزت ہوتی ہے’ گزرا ہوا برا وقت ہر کوئی بھول جاتا ہے۔ والدین ہوش کے ناخن لیں رزق اللہ تعالیٰ کی دین ہے’ اللہ کی زمین پر نا انصافیاں نہ کریں’ والدین اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق پر خود اور اولاد کو شکر کرنا سیکھائیں’ سماج میں کاشف جیسے بے شمار نوجوان موجود ہیں’ اولاد کی لاشوں پر ماتم کرنے سے کچھ نہیں ملے گا’ زندگیوں کو سنواریں۔

Afzaal Ahmad
Afzaal Ahmad

تحریر: افضال احمد

Share this:
Tags:
Afzaal Ahmad books parents rights suicide teenager اولاد حقوق خود کشی کتابوں نوجوان والدین
Justice
Previous Post انصاف
Next Post پاکپتن کی خبریں 17/4/2017
Mian Ahmed Raza Khan Maneka

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close