
لاہور (جیوڈیسک) وزیر قانون پنجاب رانا مشہود احمد خاں کی زیر صدارت ایک اجلاس میں خواتین کے لیے وراثتی حقوق کا حصول آسان تر بنانے کے سلسلے میں پنجاب اربن ایموویبل(غیر منقولہ) پراپرٹی لا مجریہ 2012 کے ترمیمی مسودہ قانون کا جائزہ لیا گیا۔ خواتین کے وراثتی حقوق کے حصول کو یقینی بنانے اور اپنے خاندان کی وراثتی جائیداد میں سے بہنوں اور بیٹیوں کا شرعی حصہ قرآن مجید میں نازل ہونے والے احکامات خداوندی کے مطابق بروقت ادا کرنے کے سلسلے میں عوامی شعور اجاگر کرنے کے علاوہ اس حوالے سے عدالتی طریقہ کار کی پیچیدگی ختم کرنے کے لیے نئے مسودہ قانون کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔
جس کی پنجاب اسمبلی سے باقاعدہ منظوری کے بعد خواتین کے وراثتی حقوق کی بروقت ادائیگی کسی ناروا مشکل سے گزرے بغیر ممکن ہوجائے گی۔ رانا مشہود احمد نے اس ضرورت پر زور دیا کہ نئے قانون میں یہ لازم کر دیا جائے کہ خاتون والدین اور شوہر کی جائیداد میں اپنا شرعی حصہ وصول کرنے کے لیے دائر کیے گئے دیوانی مقدمات کی سمری پروسیڈنگ ہوگی اور 6 ماہ سے کم عرصے میں مقدمے کے فیصلے اور وراثتی انتقال کو یقینی بنایا جائے گا۔
