Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پارلیمانی نظام کا بھرم حکومتی اور اپوزیشن نے قائم کرنا ہے

November 28, 2016November 28, 2016 0 1 min read
Parliament
Mian Raza Rabbani
Mian Raza Rabbani

تحریر : محمد اشفاق راجا
چیئرمین سینٹ میاں محمد رضا ربانی نے کہا ہے کہ جب تمام ادارے بشمول فوج پارلیمنٹ کے تابع ہیں تو پھر سول ملٹری تعلقات پر سوال کیوں اٹھائے جاتے ہیں’ ہمیں اشرافیہ کے پھیلائے اس تاثر کو زائل کرنا ہے’ پارلیمنٹ کو اپنے اختیارات کیلئے اٹھنا ہوگا۔ گزشتہ روز دولت مشترکہ کی پارلیمانی ایسوسی ایشن کے تحت ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینٹ نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی سیاست دان فوج کیخلاف نہیں’ ہر دور میں کسی نہ کسی حیثیت سے پارلیمنٹ کو پانچ چیلنجز کا سامنا رہا ہے’ ان میں سول ملٹری تعلقات’ پارلیمنٹ اور حکومت کے مابین مسئلہ’ پارلیمنٹ اور عدلیہ اور پارلیمنٹ کے دونوں ہاوسز کے مابین مسائل شامل ہیں جبکہ پارلیمنٹ کو اپنے اختیارات کے حوالے سے حکومتوں سے مسائل اور مشکلات کا سامنا رہا ہے’ کوئی اختیار منتقل کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات میں سیاسی کے ساتھ مالیاتی اور معاشی معاملات بھی کارفرما ہیں۔ پاکستان میں بار بار مارشل لاء لگنے کی وجہ سے ناکام جمہوریت کا تاثر پیدا ہوا جبکہ اشرافیہ چاہتی ہے کہ جمہوریت کے بارے میں ایسا تاثر برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پارلیمنٹ اب بھی اپنے اختیارات کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔

اس تاثر کو زائل کرنے کی ضرورت ہے کہ پارلیمنٹ صرف ڈیبیٹنگ کلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین’ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے بغیر ریاست کو نہیں چلایا جاسکتا۔ جمہوریت بجلی کی طرح نہیں کہ سوئچ آن کریں اور روشنی ہو جائے۔ انہوں نے اس امر کا بھی اظہار کیا کہ احتساب کا قانون امتیازی نہیں ہو سکتا’ یہ قانون صرف سیاست دانوں کیلئے مخصوص نہیں ہو سکتا۔ہمارے آئین کے تحت اس وقت ملک میں وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام رائج ہے جس میں بلاشبہ عوام کے منتخب نمائندہ فورم پارلمینٹ کو دوسرے آئینی اداروں پر بالادستی حاصل ہے۔ آئین میں ریاست کے ستونوں مقننہ’ عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات متعین ہیں اور ان میں مقننہ (پارلیمنٹ) کو اس لئے بالادستی حاصل ہے کہ اسے آئین میں ردوبدل اور آئین سازی کا اختیار بھی حاصل ہوتا ہے جبکہ دوسرے ادارے مقننہ کے وضع کئے گئے قوانین کے تابع ہوتے ہیں۔

موجودہ آئین ایک منتخب جمہوری حکومت کے ماتحت 1973ء میں وضع ہوا جبکہ اس سے قبل 1956ء کے آئین میں پارلیمانی جمہوری نظام کی بنیاد رکھی گئی تاہم یہ نظام دو سال سے زیادہ عرصہ تک نہ چل سکا اور جنرل ایوب خان نے سکندر مرزا کے اقتدار کی بساط الٹا کر اکتوبر 1958ء میں ملک پر پہلا مارشل لاء مسلط کر دیا۔ اسکے بعد صدارتی طرز حکومت پر مبنی 1962ء کا آئین بھی جنرل ایوب خان نے اپنے دور اقتدار میں وضع کیا جو درحقیقت مارشل لائہی کا تسلسل تھا اور اسے آئینی کور دیا گیا تھا۔ ایوب خان نے 1969ء میں اپنے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریک سے زچ ہو کر اقتدار سے علیحدگی کا فیصلہ کیا مگر اقتدار کی منتقلی کیلئے انتخابات کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے مارشل لاء کے تسلسل کی خاطر اقتدار دوسرے جرنیلی آمر یحییٰ خان کے سپرد کردیا جس میں پارلیمنٹ کا وجود ہی ختم ہو گیا اور ایوب خان کی طرح یحییٰ خان کی انتظامیہ بھی پورے سسٹم پر غالب آگئی جبکہ عدلیہ نے نظریہ ضرورت کے تحت اسی تنخواہ پر جرنیلوں کے ساتھ کام کرنا قبول کیا۔ اس وقت تک عدلیہ جرنیلی آمریتوں کو آئینی کور اور تحفظ بھی فراہم کرتی رہی۔

Yahya Khan
Yahya Khan

جرنیلی آمر یحییٰ خان کے دور اقتدار میں سقوط ڈھاکہ کی شکل میں قوم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا’ اور پھر باقیماندہ پاکستان میں 71ء کے انتخابات کے مینڈیٹ کی بنیاد پر ہی ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سونپ دیا گیا جنہوں نے اپنے آمرانہ رویوں کے باوجود تعمیری کام قوم کو 73ء کے متفقہ آئین کا تحفہ دے کر کیا۔ اس آئین میں ہی وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کی بنیاد رکھی گئی تاہم جولائی 1977ء میں وفاقی حکومت اور آئین پاکستان تیسرے جرنیلی آمر ضیاء الحق کے ہاتھوں تاراج ہوا جنہوں نے مسلسل گیارہ سال تک بلاشرکت غیرے جرنیلی آمر کی حیثیت سے اقتدار کے مزے چکھے تاوقیکہ انہیں فضائی حادثہ درپیش آیا۔ انہوں نے اپنے یکاوتنہاء اقتدار کی خاطر آئین کو بھی فضا میں تحلیل کر دیا اور یہ بڑ بھی ماری کہ آئین تو محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جسے وہ جب چاہیں پھاڑ کر پھینک دیں۔ عدلیہ نے ضیاء آمریت کو بھی نظریہ ضرورت کے تحت تحفظ فراہم کیا جبکہ متفقہ آئین کا ملک کو تحفہ دینے والی شخصیت ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد خان کے قتل کے ایک پرانے مقدمے میں الجھا دیا گیا جنہوں نے مرتے دم تک جمہوریت اور جمہوری اقدار کی وکالت کی اور پھر ضیاء الحق نے اپنی سہولت کیلئے 1985ء کا عبوری آئین وضع کیا جس میں پارلیمانی جمہوری نظام کی پخ لگائی اور اسکے ماتحت اپنی من مرضی کے غیرجماعتی انتخابات کرائے اور پھر 85ء کی اسمبلی سے اپنی ذات میں صوابدیدی آئینی اختیارات مرتکز کراکے 73ء کا آئین بحال کیا۔

اس طرح یہ آئین انکے صدارتی صوابدیدی اختیارات کے تابع ہوگیا جنہیں بروئے کار لا کر انہوں نے اپنی ہی لائی گئی غیرجماعتی اسمبلی کا گلا گھونٹا چنانچہ ملک میں وفاقی پارلیمانی نظام بحال ہونے کے باوجود ملک اور سسٹم پر صدر کا صوابدیدی آئینی اختیار مسلط رہا جسے بروئے کار لا کر جنرل ضیاء کے جانشیں غلام اسحاق خان نے بھی دوبار صوابدیدی آئینی اختیار استعمال کرکے بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کی حکومتیں الٹائیں جبکہ بے نظیر بھٹو کے اقتدار کی دوسری ٹرم بھی انکے منتخب کردہ صدر فاروق بھائی کے ہاتھوں اسی صوابدیدی آئینی اختیار کی بھینٹ چڑھی۔ پھر نوازشریف نے اپنے دوسرے دور اقتدار میں پارلیمنٹ میں اپنی بھاری اکثریت کے بل بوتے پر پارلیمانی جمہوری نظام کو صدارتی صوابدیدی آئینی اختیار کے شکنجے سے آئین میں ترمیم کرکے نجات دلائی مگر اسکے بعد وہ مشرف کی جرنیلی آمریت کے ہتھے چڑھ گئے اور اس طرح وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام ایک بار پھر پٹڑی سے اتر گیا جسے ٹریک پر چڑھانے کی راہ سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جرنیلی آمریت کیخلاف سول سوسائٹی کی تحریک کے ذریعے ہموار کی۔

اس تناظر میں چیئرمین سینٹ نے پارلیمنٹ کے کردار کے حوالے سے جن تلخ حقائق کی جھلک دکھائی ہے وہ بدقسمتی سے ہماری تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں جبکہ پارلیمانی جمہوری نظام جرنیلی آمریت کے شکنجے سے نکلنے کے 9 سال گزرنے کے باوجود جرنیلی آمریت کے خوف میں ڈگمگاتا نظر آتا رہا ہے۔ اس میں یقیناً پارلیمانی جمہوری نظام سے وابستہ حکمرانوں کی اپنی کمزوریوں کا بھی عمل دخل ہے کہ انہوں نے جرنیلی آمریت کے مقابل پارلیمنٹ اور پارلیمانی جمہوری نظام پر عوام کیلئے مسائل کے پہاڑ کھڑے کرکے اور قومی وسائل کی لوٹ مار میں کوئی کسر نہ چھوڑ کر عوام کا اعتماد مستحکم ہی نہیں ہونے دیا۔

Parliament
Parliament

جمہوری حکمرانوں کی ان کمزوریوں سے ہی جرنیلی آمریت کے راستے ہموار کرنیوالے غیرجمہوری عناصر کو جمہوری نظام کیخلاف پراپیگنڈا کا موقع ملتا رہا ہے چنانچہ انہوں نے پیپلزپارٹی کے سابق اور مسلم لیگ (ن) کے موجودہ جمہوری اقتدار کیخلاف سازشیں پروان چڑھانے اور عسکری قیادتوں کا ”ہر درد کی دوا” والا تاثر اجاگر کرنے کیلئے جمہوریت مخالف پراپیگنڈا میں کوئی کسر نہ چھوڑی جبکہ اس پراپیگنڈا کے دبا? میں آئی زرداری حکومت آرمی چیف جنرل کیانی کو دوسری ٹرم کیلئے توسیع دینے پر مجبور ہوئی جس کا سابق صدر آصف زرداری آج بھی اعتراف کررہے ہیں۔ یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ جنرل کیانی کے جانشیں جنرل راحیل شریف نے ایک خالص پیشہ ور جرنیل کی حیثیت سے اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پہچانا اور خود کو ان آئینی ذمہ داریوں کے ہی تابع رکھا۔ اگرچہ انکے دور میں جمہوریت کو ڈی ٹریک کرانے کی سازشیں انتہاء تک پہنچیں اور ان سازشوں کے کپتان عمران خان نے اپنی دھرنا تحریک اور پھر اسلام آباد بند کرو تحریک کے دوران فوج کی سرپرستی حاصل ہونے کا تاثر دینے کی ہر ممکن کوشش کی مگر جنرل راحیل شریف نے ایسی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے ہی اپنے منصب کی ٹرم پوری ہونے سے 9 ماہ قبل ہی اس منصب پر توسیع نہ لینے کا اعلان کردیا اور پھر اس اعلان پر کاربند رہ کر بھی دکھایا۔

گزشتہ روز اس حوالے سے وزیراعظم ہاوس میں آرمی چیف کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ کا اہتمام ہوا تو اس سے جمہوریت کے مستحکم ہونے کا ٹھوس پیغام بھی قوم کو ملا۔ جنرل راحیل شریف نے اس تقریب میں جہاں پیشہ ور جرنیل کی حیثیت سے بھارتی گیدڑ بھبکیوں کا مسکت جواب دے کر قوم کے حوصلے بلند کئے وہیں انہوں نے آئین پاکستان کے تحت وفاقی جمہوری پارلیمانی نظام کے پائیدار ہونے کے پیغام پر مبنی تحفہ بھی قوم کی جھولی میں ڈالا۔ چنانچہ آج ہماری ماضی کی تاریخ کے تناظر میں آئینی اداروں کے باہم مل کر چلنے کی ایک صحت مند روایت بھی قائم ہوگئی ہے۔ چیئرمین سینٹ نے اس حوالے سے پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے جن ممکنہ اقدامات کا تذکرہ کیا ہے ان پر عمل پیرا ہو کر ہی آئین اور اسکے ماتحت قائم پارلیمنٹ کی بالادستی کا خواب شرمندہ¿ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کرانے کا کریڈٹ وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ ساتھ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو بھی جاتا ہے تاہم اب پارلیمانی جمہوری نظام کو عوام کیلئے قابل قبول بنانے کی ساری ذمہ داری قومی سیاسی قائدین اورحکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے پارلیمنٹیرین حضرات پر عائد ہوتی ہے۔ وہ اگر پالیسی سازی کے معاملات اور عوام کے مسائل کے حل کیلئے پارلیمنٹ کو خود ہی فوقیت نہیں دینگے اور پارلیمنٹ کے اجلاس میں شریک ہونا بھی اپنی شان کے منافی سمجھیں گے تو جرنیلی شب خونی اور اسے آئینی کور دینے والے عدالتی نظریہ ضرورت کے پھر زندہ ہونے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ پارلیمنٹ کا بھرم بہرصورت اس سے وابستہ قوم کے منتخب نمائندوں نے ہی قائم کرنا اور نبھانا ہے۔

Ishfaq Raja
Ishfaq Raja

تحریر : محمد اشفاق راجا

Share this:
Tags:
government Judiciary opposition parliamentary problems relationships system اپوزیشن پارلیمانی تعلقات چیئرمین حکومتی عدلیہ قائم مسائل نظام
Inferiority Complex
Previous Post احساس
Next Post پائی خیل کی خبریں 28/11/2016
Pai Khel

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close