Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دعوت اور عام زندگی

October 31, 2013 0 1 min read
Mohammad Siddiq Madani
Allah
Allah

دعوت ایک غیر معمولی عمل ہے جس کو آج کچھ نا سمجھ لوگوں نے معمولی اور اسان سمجھ لیا ہے جبکہ دعوت ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ دعوت ایک خدائی فرمان اور انبیائی عمل ہے جو اس فریضہ کو انجام دینے والوں کے اندر ایمانی، روحانی اور عرفانی جذبہ چاہتا ہے، اخلاص چاہتا ہے، ہمدردی چاہتاہے اور غرباپروری چاہتا ہے۔ اس کے بغیر نہ تو دعوت کا حق ادا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی دعوت کی اس روحانی تاثیر اور ایمانی اثر کو برقرار رکھا جا سکتا ہے جو دعوت کا اصل مقصد ہے۔ اس عمل کے لیے اللہ تبارک و تعالی ہمیشہ سے اپنے محبوب بندوں کا انتخاب فرماتا رہا ہے، جنھوں نے اپنے اس دعوتی عمل سے ملک و سماج اور انسانی زندگی میں ایک عظیم انقلاب برپا کیا ہے۔ حضرت آدم علیہ الصلاة والسلام کی پیدائش سے ہی اس انقلابی عمل کا رواج پڑ چکا تھا جس کا سلسلہ مختلف انبیا و مرسلین علیہم الصلاة و التسلیم سے ہوتا ہوا، اللہ ج کے برگزیدہ اور نیک بندوں تک پہنچا ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دعوت کے اندر اس قدر انقلاب پیدا کرنے کی صلاحیت ہے تو موجودہ زمانے میں اس کا مظاہرہ کیوں نہیں ہو پار ہا ہے اور مسلمانوں پر اس دعوت کا کچھ اثر کیوں نہیں ہوتا، جبکہ آج بھی اس دعوت کا عمل جاری ہے؟ اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ آج کل دعوت، دعوت محض بن کررہ گئی ہے اور اس کے اندر کی روحانی تاثیر کو نکال کر باہر کر دیا گیا ہے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ دعوت دینے والے تو ہیں مگران کے دلوں میں وہ جذبہ، وہ اخلاص اور وہ یقین نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔ ان کے اندرعلم ہے تو عمل نہیں اور عمل ہے تو علم نہیں۔ نہ تو وہ دعوت کے مزاج سے واقف ہیں اور نہ ہی جن کو وہ دعوت دے رہے ہیں ان کے حال سے آگاہ ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ پہلے اپنے آپ کو منوائیں، اپنی باتوں کو منوانے پر تلے ہوئے ہیں۔ الغرض ان کے کہنے اور کرنے میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ سیدھے لفظوں میں کہا جائے تو وہ حق و صداقت کی تبلیغ کم اور اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کا پرچار زیادہ کرتے ہیں۔

چنانچہ سب سے پہلے دعوت کا مزاج اور اس کی ذمے داری کو سمجھنا ہوگا تبھی جا کر دعوت سے انقلابی عمل لیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں اور اس کے لیے کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کو نگاہوں میں رکھنا ہی کافی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ خاتم الانبیائ، سرورکونین صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اللہ کے نزدیک کوئی محبوب و مقبول نہیں، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی عابد و زاہد ہے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ انسانیت کا ہمدرد و غمگسا رہے۔ پھر کیا وجہ تھی کہ خداوند قدوس نے اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں مبعوث فرماتے ہی دعوت کا حکم نہ فرمایا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کامل چالیس سال تک انسانی معاشرے میں زندگی گذار لیا، تب جاکر حکم دیا کہ اے محبوب! اب انسانوں کو اپنی رسالت اور ایک خدا کی دعوت دیجئے۔

Muhammad PBUH
Muhammad PBUH

ذرا سا غور فرمائیں تو یہ بات بالکل صاف ہو جائے گی کہ خالق کائنات نے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور ذات کو عربوں کے درمیان منوایا۔ ان کے اخلاق حسنہ، عفت و پاک دامنی اور امین و صادق ہونے کی گواہی دلوائی۔ ہر چھوٹے بڑے کے دلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ومحبت کا سکہ بٹھایا اور پھر جب اپنے اور بیگانوں نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جہت بشری سے تسلیم کرلیا تو حکم خداوندی ہوا کہ اب دعوت وتبلیغ کا عمل شروع کیا جائے۔ لہٰذا عرب قوم کے اندر جو ایمانی، سماجی اور اخلاقی انقلاب پیدا ہوا، اس کے پیچھے اسی دعوت کا مکمل عمل دخل تھا جس نے ایک جنگجو اور لڑاکا قوم کو امن وآشتی کا پیامبر بنا کر دم لیا اوردنیا نے دیکھا کہ ایک وحشی قوم جس کو انسانیت کے خانے میں معمولی جگہ بھی بڑی مشکل سے دی جاتی تھی،اس نے پوری انسانیت کی مسیحائی کا فریضہ انجام دیا۔

پھر جب اسلام کا زمانہ آیا اور دعوت کا دامن وسیع ہونے لگا تو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہر چہار جانب بھیجنا شروع کیا اور حق و صداقت کی دعوت عام سے عام ترہونے لگی لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اصحاب کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کو دعوتی عمل کے لیے تربیت دی۔ انھیں دعوت کے ہر طور و طریقے سے آگاہ فرمایا، اب وہ چاہے زبان مبارک سے ہو یا عمل صالح کے ذریعے۔ پھرصحابہ کرام میں سے ان ہی نفوس قدسیہ کا انتخاب فرمایا جودعوت کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہوسکتے تھے، جو نہ صرف علم و عمل کے سمندر تھے، بلکہ عام سے عام انسانوں کو سمجھانے کی عمدہ صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ بالخصوص جن علاقوں اور جن ملکوں میں اصحاب کرام رضی اللہ عنہم بھیجے جاتے، تو اس بات کا ضرور خیال رکھا جاتا تھا کہ وہ ان علاقے کی بودوباش، عوامی بول چال اور تہذیب وتمدن سے آگاہ ہوں، تا کہ دعوت کے فریضے کو کامل طور سے انجام دیا جاسکے۔ اکثر تو ایسا بھی ہوتا تھا کہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جس علاقے سے تعلق رکھتے تھے انھیں اسی علاقے میں دعوت و تبلیغ پر بحال فرما دیا کرتے تھے۔

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے عہد میں بھی یہی طریقہ رائج رہا کہ یہ حضرات ہر پل اور ہر لمحہ دعوتی فرائض انجام دیتے رہے۔ خانگی زندگی ہو چاہے معاشرتی زندگی، کسی بھی وقت غافل نہیں رہے۔ پھر تابعین اور تبع تابعین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اس عمل کو آگے بڑھایا اور سیاست سے لے کر معاشرت تک تمام شعبوں میں دعوت کا پرچم بلند کرنے سے یک سرمو بھی انحراف نہیں کیا، بلکہ کچھ نیک بندے تو دنیاوی معاملات میں مشغول رہے اور بڑی خوبی سے دعوتی فریضہ بھی ادا کرتے رہے۔

خود امام اعظم رضی اللہ عنہ نے تجارت کے بہانے دعوت کا جو آفاقی فریضہ ادا کیا ہے، وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ ایک زمانہ وہ بھی آیا جب صوفیائے کرام رحمةاللہ تعالیٰ علیہم کی جماعت نے دعوت کے فریضے کو بحسن و خوبی انجام دینا شروع کیا اور اس کے ذریعے انسانوں کے دل ودماغ میں ایمانی، روحانی اورہمدردی کا انمول جذبہ پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے جو آج بھی جاری و ساری ہے۔ ان کے اس عمل سے انسانوں کا تاریک دل اوربے یقینی کا شکار دماغ مذہب کے لیے مضبوط تر ہوا۔

صوفیا ئے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے معمولات سے واضح ہوتا ہے کہ ان برگزیدہ بندوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں دعوت کی روشنی بکھیرنے کا کام کیا ہے اور حسن معاملات کی ترغیب دی ہے۔ کچھ اللہ والوں نے عوام میں گھل مل کر اس فریضہ کو پورا کیا ہے، تو کچھ برزگوں نے حکومت میں گھس کر حکمرانوں کو حق وصداقت کی دعوت دی ہے اور اپنے حسن عمل سے انھیں رعایا کی حق تلفی اور ان کے خون ناحق سے باز رکھا ہے، یہاں تک کہ کچھ نیک بندوں نے تو افواج میں شامل ہو کر بھی دعوت کا بے مثال نمونہ پیش کیا ہے۔ اس سے جہاں دعوت کی عظمت کا احساس ہوتا ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کا عمل محض مدرسے، مساجد اور مذہبی اداروں میں رہ کر ہی نہیں پورا ہو سکتا ہے بلکہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں رہ کر بھی اس کو بخوبی پورا کیا جا سکتا ہے۔ چاہے اسکول کا آفس ہو، چاہے فیکٹری کا دفتر، ایوان عدالت ہو یا ایوان پارلیمنٹ، بازار کی دوکان ہو یاگائوں محلے کا کھیت کھلیان، شہر کی بھاگتی دوڑتی زندگی ہو یا پھر دیہات کی الھڑ زندگی، ہر جگہ اور ہر ماحول میں دعوت کی روحانی خوشبو پھیلائی جا سکتی ہے، بشرطیکہ دعوت کی روحانیت سے داعی کا دل سرشار ہو، ہمہ گیر پیغام سے اس کا دماغ لبریز ہو، ”بَلّغْوا عَنّی وَلَوایة?ََ”کے جذبے سے اس کا قلب پرجوش ہو، اور اس کی زندگی ”لم تقولون مالا تفعلون۔”کی عملی تفسیر ہو۔

بالخصوص آج اس مطلبی اور خود غرض دنیا میں،جب ہر طرف انسانیت سسک رہی
ہے۔ مروت و ہمدردی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اخلاقی بے راہ روی اور بے حیائی حد سے بڑھ گئی ہے۔ حلال و حرام کی ہر تمیز مٹتی جا رہی ہے، ایسے میں دعوت کی ضرورت شدید ہو جاتی ہے۔ اس لیے اولاََ تو یہ بات ذہن میں رکھنی ہو گی کہ دعوت کی ذمہ داری ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے۔ پھر اس فریضے کو بہتر طور پر ادا کرنے کے لیے اسے اپنے اندر وہ صالح فکر، پاکیزہ خیالات اور اخلاص و للہیت والا جذبہ پیدا کرنا ہو گا جو انبیا و مرسلین، صدیقین و صالحین اور اولیائے کاملین کی صحبت میں رہ کر حاصل ہوتا ہے۔

انبیا و مرسلین کا سلسلہ تو موقوف ہو چکا ہے۔ صحابہ، تابعین، تبع تابعین کا زمانہ بھی اب نہیں رہا لیکن اولیا ئے کرام اور صوفیائے عظام کے روحانی اور عرفانی فیض کا دریا آج بھی رواں ہے اورتا قیامت جاری رہے گا۔ پس ا?ج کاہر وہ جوان جو زندگی کے موڑپر اچھے برے حالات سے ہمیشہ دوچار ہوتا رہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی نیک وبرگزیدہ شخصیات اور درویش صفت نفوس قدسیہ کی صحبت اختیار کرے، کیونکہ ان بزرگوں کی روحانی صحبت میں بیٹھنے سے نہ صرف دل کی گندگیاں دور ہو جاتی ہیں اور نفس کی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے، بلکہ عام زندگی سے لے کر کاروباری لین دین میں بھی ایمانداری اورسچائی کی تحریک ملتی ہے۔ اس طرح دعوت کا جو آفاقی تصور انبیا و مرسلین، سلف صالحین اور اولیائے کاملین نے دیا ہے، اسے کافی حد تک زندگی کے تمام شعبوں میں یش کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ دعوتی عمل آج بھی اس بدعنوان ملک و سماج میں حقانی، ایمانی، اخلاقی اور اصلاحی انقلاب کا ایک پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

Mohammad Siddiq Madani
Mohammad Siddiq Madani

تحریر : محمد صدیق مدنی

Share this:
Tags:
Capacity life Mohammad Siddiq Madani Muhammad (PBUH) party révolution انقلاب دعوت زندگی
Hub
Previous Post حب : فیکٹری میں دھماکا، ایک شخص جاں بحق، کئی مزدور زخمی
Next Post امریکی دبائو کب تک؟

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close