
ہم نے پڑھا تھا یہ سبق پہلی جماعت میں
کرتے ہیں نماز عشق ادا ایک رکعت میں
ترک وفا کے جرم میں مصلوب ہوں میں مگر
شامل تھا وہ بھی لیکن اس واردات میں
اقلیم کرب کے تنہا وارث نہیں ہیں ہم
وہ بھی ہے حصہ دار ان شاملات میں
یوں تو چاند چہروں سے مزین ہے کائنات
اس سا مگر کہاں کوئی کائنات میں
اوروں کی سمت انگلی اٹھانا سہل سہی
کچھ نقص نکالیے جمال اپنی ذات میں
شاعر: انور جمال فاروقی
