Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

درد وچھوڑے دا حال:سچی کہانی

November 11, 2014 0 1 min read
Pakistan
Pakistan

تحریر:شاہ بانو میر

دیارِ غیر میں بسنے والے ہیجانی کیفیت میں زندگی کی تیز ترین کاوش کرتے ہوئے کسی نہ کسی طرح پاکستان سے دور کسی بھی مُلک میں اپنی جگہہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں٬ اور پھر زندگی کی تمام رعنائیاں دیکھتے ہیں حتّٰی کہ عمر بِیت جاتی ہے اور صحت مند جسم زندگی کی جنگ ہار کر لاتعداد پریشانیوں کے انبار کو سمیٹ کر مکمل ساکت وجود کے ساتھ کسی نہ کسی تابوت میں کسی بُت کی طرح ساکت دکھائی دیتا ہےـ اور پھر عازمِ سفر ہوتا ہے ٬وہاں پہنچتا ہے جہاں اُس کا خمیر تھا٬

لاکھوں کروڑوں کمانے والا خالی ہاتھ جیسا کہ قرآن میں اللہ پاک بھی کہتے ہیں کہ زمینی خزانے میرے ہیں ٬ بظاہر تم انہیں اپنی محنت سے حاصل کرتے ہو٬ اور اسے بڑھا چڑھا کر اس پے فخر کرتے ہو لیکن میرا نظام ایسا ہے کہ سب وہیں کا وہیں پھر تم چھوڑ آتے ہو٬ واپسی خالی ہاتھ ہوگی اور جو ساتھ جائے گا وہ ہمارے شعور کا حصہ ابھی تک نہیں بنا٬ یہ تو ذکر تھا اُن جسموں کا جو روح سے مبّرا ہوں تو لاش کہلاتے ہیں یا میّت اور انہیں جہاز کے نچلے مخصوص حّصے میں رکھا جاتا ہے جہاں پاکستان پہنچتے ہی ان کے عزیز رشتے دار بیتابی سے ان کے مُنتظر ہوتے ہیں اور پھر بڑے احترام سے انہیں آخری آرماگاہ قبرستان تک پہنچا دیا جاتا ہے٬

لیکن کبھی کبھار پاکستان کے لئے تابوت میں ساکت جسم روانہ نہیں کیے جاتے
بلکہ زندہ لاشیں بھی بھجوائی جاتی ہیں ٬ جو جہاز کے اوپر والے حصّے میں عام مسافروں کے ساتھ بیٹھی دکھائی دیتی ہیں٬ لیکن ان کے چہرے ہر تاثر سے عاری ٬ سلوٹ زدہ لباس اور متحیّر قدرے پھٹی پھٹی نگاہیں یوں جہاز کے چاروں جانب مسافروں کوہونّقوں کی طرح تکتی دکھائی دیتی ہیں٬ جیسے اپنی شناخت پوچھتی ہوں؟
پاکستان میں ذہنی پسماندگی اور سوچ کی سطح بہت نچلی سطح پے ہے عام انسان کی زندگی ایک خواب کے گرد گردش کرتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ پاکستان سے باہر نکل جائے٬ دور کے ڈھول سہانے ایک ماں کے لئے وہ وقت خوش نصیبی کا سندیس لیے ہوئے آتا ہے جب اُسکی بیٹی کے لیے باہر کا کوئی رشتہ آئے٬
مڈل کلاس ہو یا غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے تقریبا ایک جیسا ماحول رکھتے ہیں٬

جہاں گھر کی پہچان گھر کا سربراہ ہے اور بیٹا اس گھر کی جان ٬ “” بیٹی “” صرف وجود ہے ٬ جس کی تعلیم ہوئی نہ ہوئی کوئی فکر ہی نہی ٬ دال روٹی پے پلنے والی یہ بچی زندگی کی تلخیوں سے کہاں آگاہ ہوتی ہے جس نے زندگی صرف جھاڑو پوچا کرتے اور ماں کے ساتھ روٹی پکاتے ہوئے گزاری ہو٬ ایسے میں جب کوئی رشتہ ملتا ہے تو ضروری تحقیق کی رسمی کاروائی پوری کی جاتی ہے٬ اور اگر اُس موقعے پے کسی عزیز رشتے دار نے کسی عیب کی نشاندہی ی تو وہ مطعون ٹھہرایا جاتا ہے٬ جو حسد کا شکار ہے ٬ بچی دل میں پیارے پیارے سادہ سے ارمان سجائے جب بیاہ کر سسرال اور پھر ــ امیگریشن ــ ہونے تک سسرال کی جو جیل کاٹتی ہے ٬ آدھے ارمانوں کا خون تو وہیں ہوجاتا ہے٬ شوہر کا سرد رویہ بالعموم بھرے پُرے گھرمیں دیگر رشتوں سے مُنسلک کر کے لڑکی بیرون ملک تنہا شوہر کے ساتھ خوشگوار زندگی کا سوچ کر صبر کر لیتی ہے٬

جب دشوار گزار مراحل سے گزر کر یہ لڑکیاں گاؤں اندرونِ شہر کی پُرپیچ تاریک گلیوں سے ایکدم رنگ و نور سے مزّین الگ دنیا میں آ جاتی ہیں توآخری سانس تک سراپا حیرت ہی رہتی ہیں٬ جہاز کا دروازہ کھلتے ہی دنیا کا بدلا ہوا انداز ان کے دل کی دنیا کو اتھل پتھل کر دیتا ہے٬ چمکتی یہ لمبی لمبی کاریں گوری چِٹیّ بااعتماد خواتین صاف ستھرا شفاف ماحول اور نِکھرے اُجلے روشن چہرے ہر لمحے بھاگتے دوڑتے انتھک محنت کر کے اس ملک کو پاکستان سے مختلف بنانے والے یہ معمار اس بچی کے ذہن پے انمٹ نقوش ثبت کر دیتے ہیں٬ سارے خواب چکنا چورہو کر کرِچی کرچی بن کر یوں ریزہ یزہ ہو کر بکھرتے ہیں ٬ جب شوہر کے چہرے پے چڑھا ہوا ماسک یہاں اترا وہ دیکھتی ہے٬ ( یہ سب کے ساتھ نہیں ہوتا) وطن سے دور ان پڑھ سادہ لوح نہ کوئی عزیز رشتے دار پاس نہ راستوں کا پتہ نہ کسی دفتر کا ٬ نہ ہی زبان آتی کہ مُدّعا بیان کر سکے٬

ایسے میں زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے٬ جو اس محدود سی زندگی گزارنے والی لڑکی کے لئے ہر روز ایک نئے درد کی کہانی اور دکھ کی گھڑی لے کر آتا ہے بات بات پے شرابی شوہر گالی گلوچ کے ساتھ بِلا وجہ دُھنک کے رکھ دیتا٬ اور یہ سسکیاں بھرتے خاموشی سے اپنے دکھ اپنے دامن میں سمیٹے جب کبھی والدین سے بات ہوتی تو اظہار س قاصر رہتی ٬ حلق سے ابھرتی چیخیں دبائے وہ “” سب اچھا “” کی رپورٹ دے کر بوجھ اتار کر پھینک دینے والے والدین سے کہتی بھی تو کیا؟

واپسی پر اضافی بوجھ اور دو وقت کی روٹیاں کہاں کوئی کھِلاتا؟ بظاہر زندگی کی ہر ممکن آسائش کے ساتھ آراستہ و پیراستہ گھر میں ایک شقی القلب انسان کے ساتھ زندگی گزارنا کتنا کٹھن ہے٬ اس کا اندازہ وہ پل پل مرتی بنتِ حوا شائد ابنِ آدم کو کبھی بتا نہ پائے٬ کیونکہ اس کی ذات سے منسوب یہ ذہنی ذلّت کا دکھ اُسے ماں ورثے میں دان کرتی ہے٬ ایسی ہی ایک زندہ لاش کی یہ کہانی ہے ٬ جسے تنہائی مارے جارہی تھی ٬ ایسے میں اللہ نے اولاد کی خوشخبری دی تو جیسے زندگی نے نئے سِرے سے کروٹ لی ٬ موہوم سی امید ابھری کہ شائد اب پردیس میں اس ننھی جان کی وجہ سے شوہر کی توجہ حاصل کر سکے٬ تخلیق کا مرحلہ عورت کی تکمیل کا لمحہ ہوتا ہے

وہ اس مرحلے سے گزر کر جب دنیا کی سب سے بڑی نعمت بیٹےکی شکل میں ہاتھ میں آئی تو یکلخت اسے لگا سارا جہاں تسخیر کر چکی٬ لیکن جونہی شوہر کی آمد ہوئی اور بڑی حسرت و یاس سے اس نے اُسکی جانب دیکھا کہ شائد آج تو قسمت کی دیوی مہربان ہو اور وہ اسے بھی قابلِ اعتنا سمجھتے ہوئے دو حرف ہمدردی کے تسلّی کے کہے؟

Woman
Woman

لیکن ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پے دم نکلے کے مِصداق یہ خوشی بھی دم توڑتے ہوئے نیا چرکا لگا گئی٬ اب اُسے پتہ چلا کہ اولاد بھی عورت کو خوشی کا احساس نہیں دیتی اگر ذہن میں اطمینان نہ ہوتو٬ گھر کی طرف سے مسلسل لاپرواہی بچوں کی طرف سے وہی غفلت اس کے شوہر کا وطیرہ رہا ٬ ایک روز گھر میں دودھ ختم ہو چکا تھا ٬ بچہ ابھی سویا تھا باہر قیامت خیز سردی تھی ٬ بچےّ کو ٹھنڈ نہ لگ جائے یہ سوچ کراس نے بچے کے سونے کا انتظار کیا٬ اور اس کے سوتے ہی گھر سےنکلی ٬ سٹور تک آنے جانے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا تھا٬

گھر سے نکلنے سے واپسی تک کا سفر اس کی زندگی کا رُخ موڑ چکا تھا واپسی پر گھرکے سامنے ایمبولینس فائر بریگیڈ پولیس کار اس کو اندیکھے وسوسوں میں جکڑ گیا٬ اور اس وقت اس کی چیخیں آسمان تک جا پہنچیں جب ُاس نے سٹریچر پے بچے کی خون آلود لاش دیکھی٬ بد نصیبی سے اس کے گھر سے نکلتے ہی بچہ جاگ گیا اور رونے لگا٬ چھوٹے چھوٹے کاغذی دیواروں جیسے گھروں کی سرگوشیاں بھی اکثر ساتھ والے گھر سنی جاتیں ٬ ہمسائے میں رہنے والی خاتون جو اسے جاتے دیکھ چکی تھی ۔ بیس منٹ تک تو بچے کی چیخ و پکار پے ضبط کیے بیٹھی رہی پھر نہ رہ سکی تو پولیس کو فون کر دیا بچے کی عمر بتائی تو پولیس فوری طور پر پہنچی ٬

لیکن ان کے پہنچے تک بچہ بیڈ سے نیچے گِر کے بیڈ کے قریب پڑے ہیٹر کے اوپر گر چکا تھا ٬ ہیٹر کا کونا اس کے ماتھے میں شگاف ڈال چکا تھا٬ خون کی فوارہ یوں نکلا کہ لمحوں میں معصوم اپنے ہی خون میں لت پت اس دنیا سے رخصت ہوگیا٬
ہنستے کھیلتے بچےّ کی خون میں لت پت لاش بنتِ حوا کے حواس گُم کر گئے٬ پولیس نے تحقیقات کیں اور حادثہ قرار دے کر کیس ختم کر دیا ٬ لیکن یہ حادثہ کسی بے بس کو زندگی کی الجھنوں سے بے نیاز کر گیا٬ اضافی وجود کا تصور ہمیشہ سے اسے رہا اپنے والدین کے گھر ٬ اور یہاں آکر بالکل نظر انداز کۓ جانے کا دکھ کسی حد تک بچے کے گُل گوتھنے وجود میں گُم ہوچکا تھا٬

وہ پوری شدّت سے حاوی ہوا اور اب کئی سال ہوئے وہ جو پردے کی پابند تھی اب کھُلے منہ در در رُل رہی تھی٬ جو منہ میں آتا کہہ دیتی ٬ بے ربط جُملے اور بے بنیاد الزامات کی بھرمار گھُٹے ذہن کی گِرہ کھلی تو زبان یو چلنا شروع ہوئی کہ قینچی قرار پائی٬ شوہر نجانے کب سےکسی سنہرے موقعے کی تلاش میں تھا٬ پُراسرار انداز میں گھر سے بوریا بستر سمیٹ کر غائب ٬ اور ویران گھر بچے کی یادوں کے عکس اور ٹھنڈی دیواروں سے بآواز بلُند خوف کو مات دیتے دیتے ہرخوف سے عاری ہوگئی٬

بلند وبالا عمارت میں بسنےوالے پاکستانی ہمدردی کے بعد ابا گلے دور میں داخل ہو چکے تھے ٬ اس کی فراٹے بھرتی زبان ہر حد اور قید سے مُبّرا ہو چکی تھی٬ سننے والے کانوں میں انگلیاں ٹھونستے کہ اس قدر واہیات گفتگو نہیں سُن سکتے
وہ ایک تماشہ بن چکی تھی ٬ لوگ زِچ ہونے لگے تو بات ہاتھ اٹھنے پے آگئی جب سر کا سائیں سر پے نہ ہو تو دنیا تپتا ریگستان ہے ٬ جس میں ہر کوئی مالک بن بیٹھتا ہے٬ یہی کچھ اس کے ساتھ ہو رہا تھا٬

قصہ مُختصر سب لوگوں نے کسی نہ کسی طرح اس کے گمشدہ کاغذات کو تلاش کر کے اس کے والدین سے بات کی اور ماں کے کہنے پر اس کو پاکستان روانہ کیا٬ آج سے دس سال پہلے شگفتہ کھِلے ہوئے چہرے والی ہنستی مُسکراتی یہ بنتِ حوّا زندہ لاش کی صورت کسی اور کی نگرانی میں واپس جا ری تھی٬ ذہن ختم سوچ ختم نہ رُکنے والی زبان جو اوٹ پٹانگ جُملوں کے درمیان کہیں کہیں خود پے ہوئےتمام مُظالم جو بچپن سے ماں کے گھر سے شروع ہوئے اور پردیس میں شوہر نے اس کو منطقی انجام تک پہنچایا٬

بکھرے بال زرد چہرہ پچِکے ہوئے گال٬ وحشت زدہ باتوں میں بار بار بیٹے کا ذکر اور پھر اُس کی فکر٬ مجھ سمیت ہر دیکھنے والےکو خون کے آنسو رونے پے مجبور کر دیتی ہے خُدارا!! پردیس کی رونقوں سے متاثر ہو کر بغیر سوچے سمجھے بیٹیوں کے مقدرداؤ پے نہ لگائیں٬ سادہ ماحول میں رہنے والی اس سادہ نازک کونپل کو پردیس کی سخت زندگی میں کھِل کر پھول بننے سے پہلے کمہلانے کے لیے دیارِ غیر میں نہ بھیجیں نا مانوس ماحول سادہ ذہنیت ٬ رشتوں سے ملا دکھ ٬ اور ذہنی گھٹن کم مائیگی کا احساس کسی بھی زندہ وجود سے زندہ لاش کا سفر جاری رکھے گا

Shahbano Mir
Shahbano Mir

تحریر:شاہ بانو میر

Share this:
Tags:
Billions hard Passengers problems ship Success پریشانیوں جہاز کامیاب کروڑوں محنت مسافروں
Previous Post آپریشن خیبر ون کامیابی سے جاری، اہم کمانڈروں سمیت 135 دہشتگرد ہلاک، 250 گرفتار
Next Post دامن کو ذرا دیکھ

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close