Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تمام محب وطن پاکستانیوں کے نام ایک ماں کا پیغام

March 8, 2015 0 1 min read
Army School Peshawar Attack
Army School Peshawar Attack
Army School Peshawar Attack

تحریر: ایم ابوبکر بلوچ چوک اعظم
16 دسمبر کے سانحہ پاک آرمی سکول پشاور نے تمام پاکستانیوں اور اہل اسلام کو ہلا کر رکھ دیا ہے سکول کا وہ ہال جہاں عقل و دانش اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی باتیں ہوتیں تھیں وہاں دہشتگردوں نے خون کی ایسی ہولی کھیلی کہ چاند چہرے ،روشن آنکھیں اور پھول و کلیاں خاک و خون میں لتھڑ گئیں فرش پہ ہر طرف خون ہی خون بکھرا ہوا تھا حتیٰ کہ کتابیں اور بستے بھی خون سے بھیگ گئے اور گولیوں سے چھلنی دیواریں تک ظلم و بربادی کا منظر پیش کر رہی تھیںپاکستان کا کوئی بچہ کوئی ماں اور کوئی باپ ایسا نہیں جو غمزدہ نہ ہو کوئی ایسی آنکھ نہیں جو اشکبار نہ ہو وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور پاکستان کی تمام تنظیموں نے سانحہ کی مذمت کی ہے۔شہداء کے حق میں شمعیں روشن کی گئیں ہیں ۔پاکستان کے تمام شہروں میں شٹر ڈائون ہوا ہے اور مذمتی قراردادیںمنظور کی گئیں ۔اس موضوع پہ لکھنے کو بہت دل چاہتا تھا لیکن الفاظ نہیں ملتے دل خون کے آنسو رو رہا ہے لکھنے سے پہلی قلم آنسوئوں سے بھیگ جاتی ہے کچھ روز سے سوشل میڈیا پہ ہماری ایک ماں کی ویڈیو نے ہر سننے والے کو رونے پہ مجبور کر دیا اوردل چاہا کہ اپنی اس ماں کا پیغام ہی انہی کی زبانی آپ تک پہنچا دوں کہ شاید ہماری عوام ہوش کے ناخن لے۔

آج میں آپکے سامنے چند سوال رکھنا چاہتی ہوں اور آپ لوگوں سے انکا جواب چاہتی ہوں کیوں کہ آپ سب لوگ ان چیزوں کے ذمہ دار ہیں جی ہاں آپ سب لوگوں کے ساتھ میں بھی شامل ہوں آج صبح میں نے یہ خبر دیکھی اور ہر بڑے اینکر کو یہ بولتے سنا کہ وہ وقت آچکا ہے جب ہم نے اٹھکر کچھ کرنا ہے جب ہم نے کوئی تبدیلی لانے کے بار ے میں سوچنا ہے سچ میں کچھ کر کے دیکھانا ہے لیکن افسوس بہت افسوس کے ساتھ مجھے کہنا پڑ رہا ہے بے شک میرا تعلق بھی میڈیا سے ہے میرا بھی میڈیا سے ایک سوال ہے کہ وہی پرانی شکلیں، وہی پرانے لوگ ، وہی پرانے سیاستدان ، وہی پرانے مولناٰ ، وہی پرانے مفتی ، وہی پرانے صحافی بیٹھے ہیں وہی پرانی باتیں کی جارہی ہیں ان میں سے کوئی بات مجھے نئی نہیں لگی وہی باتیں جو ہر سانحے پہ کی جاتی ہیں وہی باتیں جو واہگہ بارڈ ر کے سانحے پہ کی گئی تھیں ،وہی باتیں جو اس دہشتگردی سے ملتے جلتے جتنے واقعات ہوتے ہیں ان پہ کی جاتی ہیں دہشگردی کا بدلہ لیا جا ئے گا دہشتگردوں کو مٹا دیا جائے گا ان موقعوں پہ میں ایک سوال اپنے دل میں کیا کرتی تھی میں آپ لوگوں سے کرنا چاہتی ہوں کہ اگر پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایسا لیڈر آ بھی جاتا ہے پاکستان واقعی اگر ترقی یافتہ ملک بنتا ہے کیا ان مائوں کے بچے واپس آ جائیں گے جو جا چکے ہیں ہر وہ گھر جو اس اذیت کو سہہ رہا ہے کیا اس پہ پاکستان میں اس تبدیلی سے فرق پڑ جائے گا ؟مجھے بتایئے یہ میڈیا ہمارا ان سیاستدانوں کو کیوں دکھا رہا ہے جنکی باتیں ہم روزانہ سنتے ہیں ان مائوں کو کیوں نہیں دکھا رہا جنکے کلیجے پھٹے ہیںآج، انکو کیوں نہیں دکھا رہا صرف اس لئے کہ لوگ برداشت نہیں کر پائیں گے۔

کیا ہم ابھی برداشت کر پا رہے ہیں ہم سے وہ چیزیں چھپائی جا رہی ہیں میں کہتی ہوں اگر آج وہ ظلم و ستم دکھا دیتے میڈیا والے جو سکول میں بچوں کے ساتھ کیا گیا ہے کسی لیڈر کو ہمیں آواز دینے کی ضرور ت نہ پڑتی ہم خود سڑکوں پہ ہوتے ہم خود انکے گریبان پکڑتے ۔ یہ کون ہوتے ہیں ہماری مائوں سے انکے بچے چھیننے والے؟اگر آپ ماں ہیں مجھے بتایئے جب آپ صبح اٹھکر اپنے بچے کی الماری کھو لیں گی تو آپ کے دل پہ کیا گزرے گی ہر و ہ ماں جب اپنے بچے کی پسندیدہ ڈش بنائے گی وہ اس دن بھی روئے گی جس دن اسکی سالگرہ کا دن آئے گا وہ اس دن بھی روئے گی اس کی ہر فرمائش کو یاد کر کے روئے گی وہ مرتے دم تک اسے نہیں بھو ل سکتی میں جانتی ہوں کہ ایک ماں کا مرا ہوا بچہ پیدا ہوتا ہے وہ اس کو بھی مرتے دم تک نہیں بھولتی اگر اس کی یاداشت کسی بیماری کی وجہ سے چلی جائے وہ پھر بھی اپنے بچے کو نہیں بھولتی اور خاص طور پر ان بچوں کو جو اس سے جدا ہو جاتے ہیں ۔پلیز خدا کے لیے !میرا آج اپنے صحافی بھائیوں سے بھی ایک سوال ہے سب بہت اچھی باتیں کر رہے تھے ٹھیک ہے بہت دلاسے دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے آ ج پلیز کسی قسم کا جشن کا سماں نہ ہو کوئی ہوٹلنگ نہ ہو اگر آپ نے کسی قسم کے کھانے رکھے ہیں تو ان کو کنسل کر دیجیے ہاں ہمارا میڈیا ذمہ داری نبھاہ رہاہے میڈیا کے اسی شو کی بریک کے اندر میوزک کے ساتھ Addasچلائے گئے ٹھیک ہے آپ میڈیا پہ بیٹھ کے اپنی عوام کو تو سب کچھ بتا رہے ہیں کہ آج آپ یہ سب کچھ ختم کر دیں کیا آپ اپنے چینل کو ایڈ بند کرنے پہ مجبور کر سکتے ہیں جن گھروں کے بچے گئے ہیں وہ تو ٹی وی دیکھ ہی نہیں رہے نہ وہ ٹی وی دیکھ سکتے ہیں یہ سب ہم دیکھ رہے ہیں ہمارے دلوں پہ گذر رہی ہے اور ہم سے وہ چیزیں چھپائی جا رہی ہیں کہ آپ سب لوگ برداشت نہیں کر پائیں گے میرا خیال ہے اگر کسی ایک سانحے کی اصل تصاویر کبھی ٹی وی پہ دکھائی گئی ہوتیں تو شاید اگلا سانحہ نہ ہوتا ہر بندہ سمجھتا ہے کہ وہ خود ان سب چیزوں کا ذمہ دار ہے وہ اپنے ارد گرد کے ماحول پہ نظر رکھتا اپنے پڑوسیوں پہ نظر رکھتا میرے پڑوس میں کون آ کر رہ رہا ہے کیونکہ وہ نہ چاہتا کہ اس طرح کا کوئی سانحہ دوبارہ پیش آئے وہ کبھی نہ چاہتا کہ جس طرح بچوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے یا جس طرح بڑوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی کسی اور کو دیکھنا پڑے لیکن نہیں۔

ہم تو جی میڈیا کی پالیسی کی وجہ سے بڑوں کی وجہ سے بچوں کی وجہ سے کیونکہ کمزور دل حضرات ہیں ان کو کچھ ہو سکتا ہے تو کچھ بھی نہیں دکھائیں گے لیکن ہمارے ہی ملک کے انٹر نیٹ پہ ہر طرح کا مواد جو بچوں کے دیکھنے کے لیے ضروری نہیں ہے موجود ہے۔ پاکستان ہمیشہ نمبر ون پہ آتا ہے کیا وہ سب چیزیں بچوں کے لیے دیکھنی اچھی ہیں کیا وہ بچے دیکھ سکتے ہیں اور یہ بچے نہیں دیکھ سکتے میں کہتی ہوں کہ اگر آپ آج کے بچوں کو یہ دکھائیں تو شاید آج وہ ہمارے والدین جیسی غلطیاں نہ کریں جس کی سزا ہم بھگت رہے ہیں یہ ہمارے والدین ہیں جنہوں نے آج اس حال تک پہنچایا ہے ۔جس طرح کی حکومتیں ہمارے ملک میں آتی رہی ہیں مجھے نہیں پتہ میں نہیں جانتی میں نے بچپن سے پاکستان کو ایسے ہی دیکھا ہے چند سوال جو میں آپ سے کرنا چاہتی ہوں مجھے اس کے بارے میں بتایے ہم بہت بڑے ہیروز کو روزانہ ٹی وی پہ دیکھتے ہیں کسی بھی فیلڈ میں ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن اصل ہیروز کو ہم نہیں جانتے نہ ہمارے بچے جانتے ہیں آپ مجھے بتایے جن کے بھی بچے پڑھ رہے ہیں سکولز میں ان میں سے کتنے بچے ہیں جو نشان حیدر لینے والے فوجیوں کو جانتے ہیں ہم آٹھ فوجیوں کے نام جانتے ہیں کیونکہ ہم نے ان آ ٹھ کو اپنے کورس میں پڑھا ہمارے بچوں نے تو ان آٹھ کو بھی نہیں پڑھا یہ آٹھ سے بارہ ہو گئے ہیں لیکن چار کے نام مجھے بھی نہیں پتا کیونکہ کبھی میڈیا پہ ان کو دکھایا نہیں گیا کبھی وہ باربار دہرائے نہیں گئے ایک چیز ہمارے ذہن میں ڈال دی جاتی ہے کوئی بھی ایڈ ہو کچھ بھی ہو ہمارے ذہن میں چلا جاتا ہے کیا چھوٹے چھوٹے نغمے بنا کے ہمارے بچوں کے ذہن میں نہیں ڈالے جا سکتے کہ ہمارے بچوں کے خون میں گرم جوشی پیدا ہو جیسے ہمارے دلوں میں پیدا ہوتی تھی ہم ایسے ڈرامے دیکھا کرتے تھے جو راشد منہاس سے تعلق رکھتے ہوتے تھے میجر عزیز بھٹی کو بھی اس میں دکھایا گیاہم آج تک اس دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں لیکن ہمارے بچوں کو نہیں پتہ کہ نشان حیدر ہے کیا چیز؟ انہیں موبائل اورآسکر ایوارڈ کا تو پتہ ہو گا لیکن انہیں نشان حیدر کا نہیں پتہ کیونکہ ان کو بتایا ہی نہیں گیا آپ مجھے بتائیے سوات میں ایک بچہ شہید ہوا ایک سکول کو اڑانے کے لیے جو دہشت گرد آ رہا تھا اس سے لپٹ کر بچے نے اپنی جان دے دی کیا اس کا نام آپ کو یاد ہے مجھے نہیں یاد کیونکہ کبھی اس کا ذکر ہی نہیں کیا گیا کبھی ٹی وی پہ اس کے لیے کچھ الفاظ نہیں بولے گئے کبھی اس کی شکل نہیں بنائی گئی اس کی کوئی خاص بات مجھے نظر نہیں آتی تو کیسے یاد رہے گی ہمارے جو بچے بڑے ہو رہے ہیں ان کو کیسے پتہ چلے گاآج کا جو بچہ تین سال کا ہے کل چھ سال کا ہو گا انکو کیسے پتہ چلے گا کہ ہمارے پاکستان میں ایسے اچھے لوگ بھی تھے فوج کا عام آدمی عام سپاہی جب مرتا ہے اسکے بارے میں ہماری میڈیا پہ کیا کہا جاتا ہے۔

Pak Army
Pak Army

پاک فوج کا ایک جوان شہید ہو گیا کون تھا وہ؟اسکا بھی گھر تھا اسکے بچے تھے اسکے بھے خواب تھے اسکے بھی ماں باپ تھے اپنا بیٹا ملک کے حوالے کیا ۔کیا صرف ایک تنخواہ کی خاطر ،تنخواہ تو ہر جاب میں ملتی ہے کیا آپ لوگوں نے کبھی سوچا ہے آرمی کے بڑے بڑے لیڈرز کے نام توآ جاتے ہیںنو ڈائوٹ میں ان سب کی عزت کرتی ہوںکیونکہ مجھے لگتا ہے آج اگر ٹی وی پہ میں نے کسی کے بیان میں کچھ تھوڑی سی طاقت دیکھی ہے جن میں عمل بھی نظر آیا تو وہ ہمارے ڈی آئی جی ،آئی ایس پی آر تھے اور مجھے سب کے بیان ایک جیسے نظر آئے اس لئے میں دل سے عزت کرتی ہوں اور میں پوچھنا چاہتی ہوںکبھی آپ نے سوچا ؟سیاچن پہ رہنے والے سپاہی کیسے اپنا ٹائم گزارتے ہیں کبھی کسی نے انکے بارے میں نہیں سوچا اور آپ اس نواز،اس عمران یا زرداری کے بارے میں باتیں کرتے تھکتے نہیں ۔آپ چار لوگ جب کہیں بیٹھتے ہیں سوائی برائی کے چاہے وہ سیاستدان ہوں چاہے وہ ہمارے مفتی ہوں چاہے وہ ہمارے مولناٰ ہوں اور کسی کی بات نہیں کرتے ۔کبھی کسی نے بتایا کہ ہمارے پاک آرمی کے جوان چاہے نیوی سے تعلق رکھتے ہوں یا پاک فضائیہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ کیسے زندگی گزارتے ہیں وہ کس قسم کی غذا کھاتے ہیں کیا انکا دل نہیں چاہتاوہ اپنے بچوں کے ساتھ گھومیں پھریں ہو ٹلنگ کریں لیکن نہیں وہ ہمارے ملک کی خاطر وہاں پر راتیں گزارتے ہیں دن گزارتے ہیں انکو عجیب طرح کی غذا دی جاتی ہے۔

وہ ان جگہوں پہ یہ سب کچھ نہیں کھا سکتے آپ اس پہ ریسرچ کر سکتے ہیں آپکو علم ہو جائے گا میرا کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بڑے آرام سے ٹی وی پہ بیٹھ کے کہہ دیتے ہیں پچاس ہزار لوگ مر گئے ایک سال سے تو میں پچاس ہزار سن رہی ہوں جبکہ اس ایک سال میں پچاس ہزار سے زائد مرے ہیں ۔ اب ہم امریکہ کو تو بہت باتیں سناتے ہیں امریکہ کے دو ٹاورز گئے تھے دو ٹاورز جانے پہ اس نے دو ملک اڑا دیئے کیا کہیں گے آپ اسکو؟اسکو آپ غیر ت نہیں کہیں گے ۔ آپ جو اپنی نام نہاد غیرت لے کے پھرتے ہیں مجھے اسکے بارے میں بتایئے وہ غیرت کب جوش مارے گی ؟کب جوش مارے گی ،کتنی مائوں کی گودیں اجاڑ نے کے بعد جو ش مارے گی ؟آج معصوم بچے مرے ہیں تو میرا دل پھٹ گیا ہے میں آپ لوگوں کے سامنے آنے پہ مجبور ہو گئی ہوں ۔یہاں پہ لوگ روز مرتے ہیں وہ بھی لخت جگر ہوتے ہیں چاہے انکی عمر زیادہ ہوتی ہے ۔ یہ تو بچے تھے یہ کبھی بھی برداشت نہیں ہونگے کسی سے بھی، کسی ماں سے بھی، میں کتنا روئی ہوں اپنے بچوں دیکھ دیکھ کر،اپنے بچوں کی باتیں یاد کر کے کیونکہ مجھے احساس تھا لیکن ایک ماں بھی مجھے ٹی وی پہ روتی ہوئی نظر نہیں آئی کیونکہ دیکھایا ہی نہیں گیااس طرح دیکھایا ہی نہیں گیا کہ کسی کو احساس ہو تا اور لوگ خود سڑکوں پہ نکلتے وہ دہشتگرد ان مائوں کے حوالے کر دیں چھ لاشیں حوالے کرتے تو وہ ایک ایک بوٹی نہ کر دیتے تو پھر کہتے۔

ان دہشتگردوں کو عبرت کا نشان بنانا چاہئے تھا انکی لاشیں چوکوں پہ لٹکاتے تاکہ لوگوں کو پتہ چلتا نام نہاد جہاد کا یہ انجام ہو تا ہے لیکن نہیں ہم کچھ نہیں سیکھتے ہم کچھ نہیںسیکھتے ہر دفعہ ،ایک جیسی باتیں کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔مذمت کرتے ہیں مذمت کرتے ہیں مذمت کرتے ہیں ،کن کی مذمت ؟ان مائوں سے پوچھو جنکا بچہ گیا ہے انکا کیا حال ہو گا؟انکو ہوش نہیں ہو گا میں یقین سے کہتی ہوں جس نے بھی اپنے کا خون اپنے کسی کو مرتے دیکھا ہو وہ برداشت نہیں کر سکتا ۔میرا اپنا اگر مرا ہے میں اسکو سہہ رہی ہوں کیونکہ وہ طبعی موت تھی نا ۔ یہ تو ماں نے خود اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے بھیجا تھا وہ انتظار کر رہی تھی کہ وہ دوپہر کو آئے گا وہ پوچھے گی اسکے سکول میں پیپر تھا کیا ہوا۔اسکے سکول میں فنگشن تھا کیسا ہو ااسکے سکول میں آج کوئی ٹریننگ تھی وہ کیسی رہی ؟ اس کیلئے کھانا بنائے گی وہ ماں کیسے برداشت کریگی اسکی رات کیسے گزرے گی مجھے پتہ ہے ایسے ہوتا ہے انسان کی نیچر ہے انسان برداشت نہیں کر سکتا لیکن اس ماں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے پلیز خدا کیلئے !آپس میں لڑنا چھوڑ دیں میں آپکے آگے ہاتھ جوڑ تی ہوں مسلمان بن جائیں ہمارے نبی نے جو بولا ہے اس پہ عمل کریں ہم کن چکروں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ میں نہیں جانتی کسی مفتی کو کسی مولناٰ کو ،میںانکی شکلیں دیکھ دیکھ کے تنگ آگئی ہوں سوشل میڈیا پہ انکی شکلیں بنائی جاتی ہیں انکے فنی ویڈیو کلپس چلتے ہیں اور وہی میڈیا پہ آکے باتیں کر رہے ہوتے ہیں کیا یہ منافقت نہیں ہے میڈیا کے نام نہاد منافقت نہیں کرتے کیا یہ سیاستدان منافقت نہیں کررہے ؟یہ سب منافقت ہی تو ہے پلیز مجھے بتائے یہ سب کب ختم ہو گا ؟کب ہم سب اپنی نفرتیں بھلا کے نکلیں گے ۔مجھے بتایئے جو بچے مرے ہیں وہ شیعہ نہیں تھے وہ سنی نہیں تھے وہ اہلحدیث نہیں تھے بلکہ وہ سب صرف بچے تھے انکو دہشت گردی کے مطلب کا ہی نہیں پتہ تھا انکو تو صحیح طریقے سے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ دہشتگردی کے نام پہ انکے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے ۔ہم اپنے بچوں کو کیا دکھا رہے ہیں میرے بچے مجھ سے سوال کرتے ہیں جب کبھی میں کہتی ہوں کہ ہمارے بچپن میں لائٹ نہیں جاتی تھی بہت کم جاتی تھی ہم خود سکول جاتے تھے ہمارے ماں باپ کو اتنی فکر نہیں ہوتی تھی تووہ حیران ہوتے ہیں کہ پاکستان کبھی ایسا تھا ۔پاکستا ن کی کیا پالیسیاں ہیں میں نہیں جانتی۔ کون لوگ ہیں جن کو خوش کرنے کیلئے پاکستان کے حکمران خوش کرنا چاہتے ہیں۔

میں نہیں جانتی کس کو خوش کرنے کیلئے پاکستان میں سزائے موت مو خر کی گئی لیکن پلیز اگر آج آپ ان بچوں کی لاشیں دیکھ لیتے کیسے ایک دوسرے کے اوپر گر ے ہوئے تھے اگر آپ لوگ انکی شکلیں دیکھتے کہ انکا یہ حال ہو رہا ہے تو شاید یہ لوگ اپنی نفرتیں بھول جاتے انکو بھی اپنے بچے یاد آجاتے ۔خدا کیلئے خدا کیلئے آپ لوگ بھی ماں باپ ہیں پلیز آپ لوگوں سے میری التجا ء ہے سب کچھ بھول جائیں صرف یہ یاد رکھیں کہ پاکستان کے صرف دشمن ہی دشمن ہیں ہمیں ان دشمنوں سے اکٹھے ہو کے لڑنا ہے ۔کبھی بچپن میں ہمیں یہ کہانی سنائی جاتی تھی اتفاق میں برکت ہے لیکن نہیں ا ب بڑے ہو کے کیا دیکھا ،کون بناتا ہے یہ کورس ؟یہی لوگ بناتے ہیں جو اتنی بڑی سیٹوں پہ بیٹھے ہوئے ہیں کیا یہ منافقت نہیں ہے ہمیں کورس میں جو پڑھایا جاتا ہے یہ لوگ خود اس پہ عمل نہیں کرتے ۔مجھے بتایئے یہ سب کب ختم ہو گا میرا آپ لوگوں سے سوال ہے ایک دوسرے کو گالیاں دینے سے کیا ہوتا ہے ایک فرقے کے لوگ فیس بک پہ پوسٹ لگاتے ہیں دوسرے فرقے کے لوگ اسے گالیاں دیتے ہیں بڑی بڑی گالیاں اتنی بڑی گالیاں جن کو سن کے دماغ پھٹ جائے کلیجہ پھٹ جائے کس کو دی جاتی ہیں وہ گالیاں ،عور ت کو ماں اور آج وہی ماں تڑپ رہی ہے پلیز چھوٹی چھوٹی باتوں پہ لڑنا چھوڑ دیں اتنے سے مسئلے کو بہت بڑا کر کے دکھاتے ہیں اور بہت بڑے مسئلے کو چھوٹا سا بنا کے پیش کرتے ہیں آج دوڑ لگی ہوئی ہے سب جگہ ۔میڈیا کے لوگوں کو اتنی بڑی خبر مل گئی ہے سب لوگ بہت پرجوش ہیں میڈیا کے اینکرز مختلف مہمانوں سے رابطے کر رہے ہیں سب نے بولنا ہے سب نے مذمت کرنی ہے لیکن نہیں میں ان چیزوں کو نہیں مانتی آج ان لوگوں کا دن تھا جنکے بچے مرے ہیں انکو میڈیا پہ دکھا یا جاتا انکا غم دکھایا جاتا کہ سب لوگوں کو عقل آتی میرے جیسے لوگوں کو آپ جیسے لوگوں کو ہوش آتا لیکن نہیں وہی چپقلش وہی الفاظ سن کے میرے کان پک گئے ہیں میں نے بہت کوشش کی کسی نیوز چینل پہ میری لایئو کا ل مل جائے لیکن بے سود اور نہ ہی کوئی چینل مجھے اتنا ٹائم دیتا اس لئے میں مجبور ہوئی کہ آپ لوگوں کو جگانے کیلئے تھوڑی سی کوشش کروں ۔مجھے نہیں پتہ میری بات آپکے دل پہ اثر کریگی یا نہیں کرے گی کیونکہ پاکستان میں عورتوں کی بات پہ زیادہ توجہ نہیں دی جاتی لیکن میں عورت بن کے نہیں ایک ماں بن کے بات کررہی ہوں میرے اند ر مزید حوصلہ نہیں ہے ہاتھ جوڑ کے آپ لوگوں کی منت کرتی ہوں پلیز سب نفرتیں بھلا دو۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

Abubakar Bloch
Abubakar Bloch

تحریر: ایم ابوبکر بلوچ چوک اعظم

Share this:
Tags:
message mother name پاکستانیوں پیغام ماں محب وطن نام
Books
Previous Post کچھ باتیں کتابوں کی
Next Post دیپکا باجی راؤ مستانی میں 20 کلو وزنی آہنی لباس پہنیں گی
Deepika Padukone

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close