
تحریر: سردار منیر اختر
چند دن پہلے میرئے ایک بہت ہی قریبی دوست مجھے اپنے ساتھ لے کہ کہنے لگے میری زمین کی رجسٹری بنی ہوئی ہے تو اس رجسٹری سے انتقال بنواناہے راستے میں ان کے ساتھ گپ شپ ہوتی رہی وہ ملازمت کرتے ہیں اور اپنی تنخواہ سے تھوڑئے تھوڑے پیسے اکھٹے کر کہ انہوں نے اپنے بچوں کا مستقبل بنانے کے لیے تھوڑی سی زمیں خریدی تھی جس کی رجسٹری وغیرہ ان کے پاس موجود تھی چونکہ مجھے بھی زمین کے کاغذات کا اتنا علم نہیں تھا اس لیے میں ان کو کچری میں اپنے ایک اسٹام فروش دوست کے پاس لے گیا اور اسے ساری بات بتائی کہ ہم نے رجسٹری لائی ہے۔
اب ہم نے اس سے انتقال بنانا ہے وہ ہمیں ساتھ لے کہ پٹواری کے پاس آگیا اور اسے بتایا کہ یہ کاغزات بنوانے ہیںپٹواری صاحب نے تو ہماری طرف کوئی توجہ نہیں دی لیکن دو تین بار ان کو مخاطب کرنے اور تمام ماجراکہنے پر ان کے ساتھ ان کا ایک چیلا اٹھا اور ہمیں کمرئے کی ایک طرف لے گیا اور رجسٹری دیکھنے کے بعد واپس آیا اور خود ہی رجسٹر چیک کرنے کے بعد مخاطب ہوا کہ آپکا کام بہت لمبا ہو گیا ہے اور آج کل ریکارڈ تمام کا تمام کمپیوٹرائزڈ ہو رہا ہے اس لیے آپ کے کام میں کم ازکم دو ماہ لگ جائیں گئے آپ کے کاغذات کا اندراج ہمارئے پاس موجود نہیں ہیں یہ سن کہ میرئے ان دوست نے کہا کہ جناب جب میں نے زمین خریدی تھی تو اس وقت میرا صرف تمام کاغزات کی تیاری پہ تیس ہزار روپیہ لگا تھا میں نے سب اندراج کروا دیا تھا۔
جس پر پٹورای صاحب کا چیلا کہنے لگا کہ میرئے پاس وقت نہیں ہے کام کروانا ہے تو بتا دیں جس پر ہم نے کہا کہ کام کروانا ہے اسی لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس پر وہ کہنے لگا کہ پانچ ہزار روپے دیں اور کل آ کے کاغذات ہم سے لے جائیں نہیں تو اگر ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو گیا تو آپ کا خرچہ اور زیادہ ہو گا اور ٹائم بھی ضائع ہو گا وہ اسٹام فروش ہمیں ایک طرف کر کہ کہنے لگا کہ اسے پیسے دئے کر اپنا کام کروا لیں نہیں تو اگر اس نے آپ کے نام میں اگر ایک نقطے کا بھی فرق کر دیا تو آپ کے کاغذات بھی لیٹ بنے گئے اور پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑئے گا ۔تب مجھے زندگی میں پہلی بار یہ احساس ہو اکہ پٹواریوں سے متعلق لوگوں کی کی گئی باتیں تمام کی تمام درست اور سچائی پر مبنی ہیں۔

وطن عزیز میں پٹواری کلچر اتنا پھیل گیا ہے کہ آپ سے پٹواری معلومات لینے کے بھی پیسے چارج کرتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ عوام ان پٹواریوں کے آگے اتنی مجبور ہے کہ اگر وہ ان کو پیسے نہ دہیں تو ان کا کام نہیں ہوتا حکومتی حلقوں کی طرف سے بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جا رہا کہ عوام کو ان رشہوت خور وں کے چنگل سے نکالا جائے،اس ضمن میں حکومت خیبر پختونخواہ کی تعریف کرنا کچھ حد تک ٹھیک ہو گا کہ وہاں پر بھی پٹورای کلچر تو موجود ہے لیکن جو پٹواری ہزاروں روپے مانگ کر کام کیا کرتے تھے اب وہ ہزار روپے میں بھی کام کر دیتے ہیں۔
اگر کے پی کے کی حکومت اسی طرح کرپشن کے خاتمے کے لیے سرگرم رہی تو انشاء اللہ کم ازکم ایک صوبے سے تو پٹوری کلچر کا خاتمہ ہو جائے گا البتہ پنجاب حکومت کو ابھی اس ضمن میں بہت بڑئے قدم اٹھانے ہوں گئے،ایک غریب انسان اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کاٹ کر کچھ جمع پونجی سے زمین تو خرید لیتا ہے لیکن اس زمین کے کاغذات بنواتے بنواتے وہ بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن پٹوواریوں کے چھوڑے ہوے طرح طرح کے ٹیکنکل مسائل ختم نہیں ہوتے،حکومت کو چاہیے کہ ان پٹواریوں کے اوپر کوئی ایسی کمیٹی قائم کرئے جو ان کو چیک کرئے تا کہ غریب عوام ان پٹواریوں کے اس ظلم سے بچ سکے کیونکہ اپنا جائز کام کروانے کے لیے بھی اتنی قیمت کی زمین نہیں ہوتی ہے جتنے پیسے پٹواری بٹور لیتے ہیں۔

تحریر: سردار منیراختر
چیف ایڈیٹر نیشنل میڈیا سروس (این ایم ایس) ٹیکسلا
