Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سلام اے ایدھی

July 12, 2016 0 1 min read
Abdul Sattar Edhi
Abdul Sattar Edhi
Abdul Sattar Edhi

تحریر : سالار سلیمان
بعض نقصانات معمولی سے ہوتے ہیں کہ جو ہو جائیں اور کوئی بھی پرواہ نہیں کرتا ہے اور بعض نقصانات قابل تلافی ہوتے ہیں ۔ تاہم کبھی کبھار ایسے نقصانات بھی ہوتے ہیں کہ جو اگر ہو جائیں تو پھر ان کی پھر پائی نہیں ہو پاتی ہے ، انکی تلافی ممکن نہیں ہوتی ہے۔ ایسے نقصانات پر دل پھٹ جاتا ہے، کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے اور انسان بس سوچتا ہی رہتا ہے کہ اب کیا ہوگا۔ عید کے تیسرے دن جب بابائے خدمت عبد الستا ر ایدھی کی خبر کراچی سے ایک دوست نے دی تو پہلے تو یقین نہیں آیا لیکن مختلف ذرائع کی تصدیق اور میڈیا میںاُن کے بیٹے فیصل ایدھی صاحب کے بیان کے حوالے سے آنے والی بریکنگ نیوز نے دل کو بتا دیا کہ ایدھی صاحب اب اس بے رحم دنیا کے غم سے آزاد ہو چکے ہیں۔ ساری زندگی انسانیت کی خدمت کرنے والے نے اٹھاسی سال کی عمر میں اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کی دی۔

تاریخ نے بھی کیا لکھا کہ جس وقت بابائے خدمت نے اس جہاں سے کوچ کیا تھا تو اسی وقت پاکستان کے حاکم اور بادشاہ جو کہ خود کو وزیر اعظم کہلوانے میں امان محسوس کرتے ہیں وہ پاکستان تشریف لا رہے تھے۔ ایک عبد الستار ایدھی کہ جس کو دنیا امیر ترین غریب آدمی کے نام سے جانتی ہے ‘ وہ ایک عام سی ایمبولینس میں قبرستان کی جانب محو سفر تھا اور ایک نواز شریف کہ جس کو آج پاکستان کی اکثریت نہایت ہی بڑے الفاظ سے یاد کرتی ہے، جس کے علاج تک کا سنجیدہ معاملہ ان کی حرکتوں کی وجہ سے ایک مزاح بن چکا ہے اور جس کی بونگیوں کا دفا ع کرنا اب اُن کے درباریوں کیلئے بھی مشکل ہو چکا ہے’ وہ تشریف لائے۔ ان کے خاندان نے عید الفطر ‘اپنوں میں ‘ یعنی لندن شریف میں منائی اور جب ان کو دل کیا کہ چلئے ذرا ملک کو دیکھ آتے ہیں تو انہوں نے رخت سفر بھی شاہی کروفر اور جاہ وجلال کے ساتھ باندھا۔ان کے خاندان کو لانے کیلئے پاکستان کی قومی ائیر لائن کے تمام شیڈول کو اوپر نیچے کیا گیا، نظام کو درہم برہم کیا گیا اور وہ قومی ائیر لائن کہ جس کی نجکاری کیلئے سمریاں تک ارسال ہو چکی تھی ‘ اس کو بہترین طیارہ نشستوں کی تبدیلی کے بعد لندن بھجوایا گیا تاکہ بادشاہ سلامت اور ان کا خاندان وطن واپس آ سکے ۔ اس سارے عمل میں قومی خزانے کو ایک ہی جھٹکے میں ایک یا دو نہیں بلکہ چالیس کروڑ روپے کا بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا ۔ جب بابائے خدمت اپنی مستقل آرام گاہ میں سادگی کے ساتھ ہی جا رہے تھے تو دوسری جانب بادشاہ سلامت اپنی عارضی آرام گاہ میں مکمل شاہی کروفر کے ساتھ تشریف لا رہے تھے۔

ایدھی صاحب 1928ء کو بھارتی گجرات میں پیدا ہوئے ۔جب آپ گیارہ برس کے تھے تو ان کی والدہ کو اسٹروک ہوا جس کے بعد وہ بستر سے لگ گئیں اور پھر آٹھ سال بیمار رہنے کے بعد وہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔اس آٹھ سال کے عرصے نے ایدھی صاحب کو انسانیت کی خدمت کیلئے پالش کر دیا تھا۔ آپ بتاتے ہیں کہ بچپن میں میری ماں مجھے دو آنے دیتی تھیں کہ ایک آنہ خود پر خرچ کرنا اور ایک آنہ کسی غریب اور نادار کو دے آنا۔ ایدھی صاحب میں سادگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور وہ پوری ایمان داری سے اپنی ماں کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ۔ انہوں نے اس دوران میں بہت سے تلخ تجربات بھی سہے تھے اور انہوں دم توڑتے ہوئے برٹش راج اور نوازئیدہ پاکستان میں سسٹم کی خرابیوں کو نہایت ہی قریب سے دیکھا تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سب کچھ حکومت پر ہی نہیں چھوڑیں گے۔ قیام پاکستان کے وقت انہوں نے ہجرت کے زخم سہے تھے اور پھر جب جلد ہی والدہ کا ساتھ بھی چھوٹ گیا تو ایدھی صاحب نے ان غموں کو انسانیت کی خدمت کے حوالے سے اپنی طاقت بنا لیا۔ انہوں نے جوانی میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ ‘ہمت مرداں ،مدد خدا ‘کی پیروی کرنی ہے ، انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اگر کچھ بدلنا ہے تو پہلے تو خود کو بدلنا ہے اور اس کے بعد ہی دنیا میں تبدیلی کے عمل کا آغاز ہوتا ہے۔کپڑ ے کے کام کو چھوڑ کر انہوں نے کراچی میں ایک ایمبولنس خریدی

Abdul Sattar Edhi Helping
Abdul Sattar Edhi Helping

اس پر اپنا نام اور نمبر لکھا اور اس کے بعد انسانیت کی خدمت شروع کر دی۔ ایدھی صاحب نے ان مردوں کو بھی غسل دیا ہے کہ جن کو ان کے اپنے لواحقین بھی نہیں پہچانتے تھے ، انہوں نے ایسی لا وارث لاشوں کی تدفین بھی کی ہے جس میں کیڑے پڑ جاتے تھے ، جس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگاتا تھا اور ایدھی صاحب آستین چڑھا کر ان لاشوں کو غسل بھی دیتے تھے، ان کی نماز جنازہ بھی پڑھاتے تھے اور ان کی تدفین بھی کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ نماز فجر کے بعد کسی نے بتایا کہ مسجد کی دہلیز پر کوئی لاوارث نوزائیدہ بچہ چھو ڑ گیا ہے ، انہوں نے اس بچے کو لیا اور پالنا شروع کر دیا۔ ایدھی صاحب نے معروف صحافی جاوید چوہدری کو 2003ء میں بتایا تھا کہ وہ بچہ آج ایک معروف بینک میں اہم اور اعلیٰ ترین افسر ہے ۔ وہ ناجائز بچوں کو بھی مکمل عزت کے ساتھ پروا ن چڑھاتے تھے ، ان کا کہنا تھا کہ ایک گناہ کو ناجائز تعلق قائم کرنے کی صورت میں کر دیا تو کم از کم دوسرا گناہ اس کو قتل کرنے کی صورت میں تو نہ کرو۔ میں نے لاہور مال روڈ پر اپنی آنکھوں کے سامنے لوگوں کو ایدھی صاحب کے سامنے روپوں کا ڈھیر چھوڑتے ہوئے ‘ عورتوں کو اپنے زیور عطیہ کرتے ہوئے اور بچوں کو اپنی عید ی دیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ کہنا ہر گز غلط نہیں ہوگا کہ انہوں نے تنہا ہی پاکستان میں ویلفیئر کا منظر نامہ تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔

ایدھی فاونڈیشن بلا مبالغہ پاکستان کا سب سے بڑا چیریٹی کا ادارہ ہے۔ اپنے قیام سے اب تک یہ ادارہ 20ہزار سے زائد ناجائز اور لاوارث بچوں اور بچیوں کو پال چکا ہے ، 50ہزار سے زائد یتیموں کی کفالت کر چکا ہے ، 40ہزار سے زائد نرسوں کی تربیت کر چکا ہے ۔ آج بھی ملک بھر میں لگ بھر چار سوایدھی سینٹر قائم ہیں، اس ادارے کے توسط سے اب تک ہزاروں بچیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں، میٹرنٹی ہومز ہیں، یتیم خانے ہیں، کچن ہیں، ایدھی جھولے ہیں۔ 2000ء میں ایدھی فاونڈیشن کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج ہو چکا ہے اور یہ ادارہ دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینس کا نیٹ ورک بھی چلاتا ہے ۔ بلامبالغہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بعد عبدالستار ایدھی پاکستان کی مشہور و معروف شخصیت تھے اور ان کی عزت اور ادب کا یہ عالم تھا کہ اگر کہیں دو متحارب گروپوں میں فائرنگ ہو رہی ہوتی اور ایدھی صاحب وہاں پہنچ جاتے تو دونوں گروپ فوراً ہی جنگ بندی کر دیتے تھے، لوگ ان کی جھولی کو کبھی خالی نہیں ہونے دیتے تھے ۔ معاف کرنے کی ایسی زبردست عادت تھی کہ 2014ء میں جب ان کے سینٹر میں ڈکیتی ہوئی ‘ جس میں ڈاکوں نے نا صرف عبدالستار ایدھی جیسے انسان کے سر پر پستول رکھا بلکہ مکمل منصوبہ بندی سے 5کلو سونا اور کروڑوں روپے ی ملکی اور غیر ملکی کرنسی لوٹ کر غائب ہوگئے تو انہوں نے اپنی مدعیت میں کوئی کاروائی نہیں کروائی بلکہ لوگوں کے مطابق تو انہوں نے ان ڈاکووں کی ہدایت کیلئے دعا ہی کی تھی ۔ ایدھی فاونڈیشن صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا میں جہاں بھی آفت آتی ہے

ریلیف آپریشن سر انجام دیتی ہے ۔ ایک مرتبہ امریکہ میں ایک رفاعی کام کے سلسلے میں جاتے ہوئے ایدھی صاحب کو ائیر پورٹ پر روک لیا گیا تھا اور ان سے آٹھ گھنٹے پوچھ گچھ ہوئی تھی ۔ایدھی صاحب کے مطابق ان سے یہ سلوک ان کے سادہ سے حلیے اور داڑھی کی وجہ سے ہوا تھا، پھر اسی امریکہ پر جب کترینہ طوفان آیا تو ایدھی صاحب اور اسکی فاونڈیشن نے تاریخی مدد کی۔ بابائے خدمت کی فاونڈیشن کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ملکی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے لیکن ایدھی صاحب کی نظر میں لوگوں کی جانب سے دی جانے والی عزت ہی ان کا حقیقی ایوارڈ ہے ۔

Controversial
Controversial

یہاں میں ایک اور بات بھی بتا دوں کہ سوشل میڈیا پر کچھ فتنہ باز ایدھی صاحب کی موت کے بعد بھی ان کو متنازعہ کرنے سے باز نہیں آئے ہیں ۔ کوئی دین کا ٹھیکے دار ان کے مسلک اور فرقہ کا تعین کر رہا ہے اور کوئی ان کو حکیم سعید کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے ۔ ایدھی صاحب ہم سے بہت اچھے مسلمان تھے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ انہوں نے ساری زندگی اللہ کے بندوں کی خدمت کی ہے۔ ان کا مسلک اور فرقہ خدمت خلق تھا۔ اب اس سے آگے کی تما م تر بحث ایک فروعی بحث اور وقت کا ضیاع ہے ، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ اللہ نے ان کا حساب خود کرنا ہے اور ان کا بھی کرنا ہے جو کہ دین کے ٹھیکے دار ہیں اور جنت اور دوزخ کے ٹکٹ اس دنیا میں بانٹ رہے ہیں۔

حکیم سعید کے قتل کے حوالے سے عرض ہے کہ جب نادیدہ قوتوں نے دیکھا کہ ایم کیو ایم اب ایک عفریت میں بدل چکی ہے اور اس کو روکنا بہت ہی ضروری ہے کیونکہ وہ اب بھارت اور برطانیہ کی انٹیلی جنس کی باتیں زیادہ سنتی ہے تو انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکیم سعید، عبد الستار ایدھی ، حمید گل، عمران خان اور ان جیسے دیگر افراد پر مشتمل ایک الگ سے گروپ تیار کر یں گے تاکہ کراچی کی سیاست کو درست سمت میں لگایا جا سکے۔ اس ضمن میں عبدالستار ایدھی سے بھی بات کی گئی ۔ انہوں نے فوراً ہی انکار کر دیا اور کہا کہ میرا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں ہے اور نہ ہی میں سیاست کروں گا۔ ایدھی صاحب جیسا بندہ پاکستان کے گندے تالاب میں خود کو گندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس ملاقات اور اس میں ہونے والی گفتگو کی خبر کسی طرح ایم کیوایم کو پہنچ گئی اور انہوں نے نادئیدہ قوتوں کے سامنے اپنی طاقت کے اظہار کیلئے حکیم محمد سعید کو قتل کر دیا۔ اس حوالے سے جو بھی ایدھی صاحب کو ان کی موت کے بعد متنازعہ بنا رہا ہے اور یاں اس آڑ میں دیگر سیاست دانوں پر کیچڑاچھا ل کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کر رہا ہے ، ان کو ویسے ہی چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئے اور وہ بھی پہلی فرصت میں یہ کام کر کے قوم پر احسان کر دیں۔

Abdul Sattar Edhi
Abdul Sattar Edhi

جب ایدھی صاحب کی طبعیت سخت ناساز ہوئی تو سابق وزیر رحمان ملک ‘ سابق صدر آصف زرداری کے حکم پر ان سے ملاقات کیلئے پہنچے ۔ انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب کا کہنا ہے کہ ایدھی صاحب بیرون ملک جہاں بھی علاج کی غرض سے جانا چاہتے ہیں ، وہ ان کو اپنے خرچے پر وہاں لے جائیں گے اور اپنے ہی خرچے پر ان کا مکمل علاج کروائیں گے ۔ ایدھی صاحب نے انکار میں سر ہلا دیا اور ہاتھ کے اشار ے سے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی ۔ انہوں نے صاف بتا دیا کہ جس ملک کیلئے انہوں نے دن رات خدمت کی ہے، وہ اپنا علاج بھی اسی ملک سے کروائیں گے۔

خدمت، ایثار، قربانی کا دوسرا نام عبد الستار ایدھی تھے ۔ خدمت خلق کا جب بھی نام لیا جائے گا تو ایدھی صاحب کا ذکر خیر ضرور ہوگا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اپنی مدد آپ کے تحت بھی نامساعد حالات سے نبرد آزما ہوکر عوام کی خدمت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ہر وہ کام کیا ہے جو کہ ہر دور کی حکومت وقت کو کرنا چاہئے تھا۔ پاکستان میں چیریٹی کا مترادف عبد الستار ایدھی تھے ۔ جاتے ہوئے بھی انہوں نے اپنی آنکھیں عطیہ کر دی کہ ان کی وصیت تھی کہ ان کے جسم کا ہر قابل استعمال عضو عطیہ کر دیا جائے ۔ میر ی رائے میں ان کی آنکھیں حکمرانوں کو لگانی چاہیے تھیں تاکہ ان کی نظر ٹھیک ہوتی، ان کو اس ملک کے مسائل نظر آتے ، ان کو اس ملک کی غریب عوام نظر آتی، ان کو اس ملک کے ہر چوڑاہے میں ناچتی ہوئی بھوک، غربت ، افلاس اور موت کا ننگا ناچ نظر آتا اور پھر شاید وہ اس ملک کی حقیقی خدمت کرنے کے قابل ہوتے، وہ خدمت جو کہ عبد الستا ر ایدھی نے کی۔

ان کی تدفین پورے اعزاز کے ساتھ ہوئی ہے اور آرمی چیف سمیت فوج کے اعلیٰ افسران نے ان کو سفر آخرت میں سیلوٹ پیش کیا ہے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت ان کی شخصیت اور خدمت کو نصاب کا حصہ بنائے اور 8جولائی کو ہر سال ایدھی ڈے منائے۔ اس دن سرکاری چھٹی نہ ہو بلکہ اس دن ایدھی صاحب کی خدما ت کو اجاگر کیا جائے ، سرکاری سطح پر دن کے دو گھنٹے چیریٹی ورک کیا جائے ۔ وزراء پر لازم ہو کہ وہ دو گھنٹے ایدھی سنٹر پر جا کر گزاریں گے اور لوگوں کے ساتھ ایدھی فاونڈیشن کیلئے عطیات اکھٹے کریں گے۔ تاریخ لکھے گی کہ آدمی تو مرتے رہتے ہیں
لیکن 8 جولائی کو انسان مر گیا ۔
سلام اے ایدھی ۔۔۔!

Salaar Sulaman
Salaar Sulaman

تحریر : سالار سلیمان

Share this:
Tags:
faisal humanity losses Peace service انسانیت ایدھی خدمت سلام عید فیصل نقصانات
M Imran Salfi
Previous Post مصطفی آباد/للیانی کی خبریں 12/07/2016
Next Post سید حسنین رضوی عمیر ثناء فائونڈیشن میں تھیلیسمیا سے متاثر بچو کی عیادت کر رہے ہیں
Social Students Forum

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close