Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

امن فاؤنڈیشن سماجی ذمہ داریوں کی روشن مثال

February 10, 2018 0 1 min read
Aman Foundation Ambulance
Aman Foundation Ambulance
Aman Foundation Ambulance

تحریر : محمد ارشد قریشی
یوں تو پاکستان کو آزاد ہوئے 71 سال ہونے کو آئے ہیں پھر بھی وطن کے باسیوں کو کئی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ تعلیم، روزگار اور صحت انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہیں ۔ حکومتوں کا اولین فرض ہے کہ وہ اپنی عوام کو یہ بنیادی سہولیات فراہم کریں اور کئی ممالک میں یہ سہولیات حکومت کی جانب سے عوام کو میسر بھی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ بنیادی سہولیات اگر کہیں برائے نام میسر بھی ہیں تو ان کو برا حال ہے۔ سرکاری اسکولوں، سرکاری شفا خانوں اور بیروز گاری کے معاملات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ خدا بھلا کرے ان لوگوں کا جو حکومت کی اس نالائقی پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے میدانِ عمل میں اترے اور عوام کے دکھوں کا مداوا کیا ، یہی وجہ ہے کہ آج وطن عزیز میں کئی نجی ادارے عوام کو یہ سہولیات فراہم کررہے ہیں جہاں یہ ادارے تعلیم اور صحت کی سہولیات عوام کو فراہم کررہے ہیں وہیں ان اداروں کے قائم ہونے سے عوام کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئے۔

کراچی جو منی پاکستان اور ملک کا معاشی حب کہلاتا ہے ، دو کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں بسنے والوں کو 70 سال گذرنے کے باوجود بھی حکومتی سطح پر ایمبولینس کی سہولت ہی میسر نہیں ۔ کراچی شہر میں بہت سے فلاحی ادارے شہریوں کو یہ سہولیات فراہم کررہے ہیں ان میں ہی سے ایک فلاحی ادارہ ہے امن فاؤنڈیشن جو کراچی شہر میں نہایت سرگرمی سے عوام کو طبی اور تربیتی سہولیات فراہم کررہا ہے۔ امن فاؤنڈیشن ان میں منفرد اس وجہ سے بھی ہے کہ کراچی شہر میں امن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والی ایمبولینس دوسرے فلاحی اداروں کے تحت چلنے والے ایمبولینس سے مختلف ہیں۔ گذشتہ دنوں ایک مطالعاتی وفد کے ہمراہ امن فاؤنڈیشن کے مرکز جانے کا اتفاق ہوا جہاں اس ادارے کے بارے میں سیر حاصل معلومات میسر آئیں ۔ جو قارئین کے گوش گزار کرنا چاہوں گا ۔ امن فاؤنڈیشن نے اپنے سفر کا آغاز سن 2007 ء میں امن گھر اور مستحقین کو کھانے کی فراہمی سے شروع کیا ، سن 2009ء میں امن ایمبولینس سروس کا آغاز کیا اس وقت ایمبولینس کی تعداد دس تھی جب کہ اس وقت ادارے کے پاس 80 ایمبولینس ہیں جن میں سے 60 ایمبولینس آن روڈ ہیں جس میں زندگی بچانے والی ادویات اور تمام جدید سامان موجود ہوتا ہے اور ان کی باقاعدگی سے اپ گریڈیشن اور دیکھ بھال کی جاتی ہے ۔ان ایمبولینس کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے درجے میں آنے والی ایمبولینس کو اے سی ایل ایس یعنی ایڈوانس کارڈیو لائف سپورٹ کہا جاتا ہے ایسی ایمبولینس میں ایک ڈاکٹر، ایک نرس اور ڈرائیور موجود ہوتے ہیں ، دوسرے درجے میں آنے والی ایمبولینس کو اے ایل ایس کہا جاتا ہے یعنی ایڈوانس لائف سپورٹ اس ایمبولینس میں نرس، معاون اور ڈرائیور موجود ہوتے ہیں اسی طرح تیسرے درجے میں آنی والی ایمبولینس کو بی ایل ایس یعنی بیسک لائف سپورٹ کہاجاتا ہے ایسی ایمبولینس میں نرس اور ڈرائیور موجود ہوتے ہیں ۔ جوں ہی مریض کی جانب سے ایمبولینس کے لیئے کال آتی ہے تو ادارے کا نمائیندہ مریض کی کیفیت کے بارے میں دریافت کرتا ہے اور اسی مناسبت سے ایمبولینس کو روانہ کردیا جاتا ہے ۔ پورے شہر کراچی میں ادارے کی ایمبولینس 90مقام پر ہر وقت تیار کھڑی رہتی ہیں ،کسی بھی مریض تک پہنچنے کے لیئے پورے کراچی شہر میں اوسط وقت 12 سے 18 منٹ کے درمیان ہوتاہے اس دوران جدید ٹیکنالوجی کا استمال کرتے ہوئے اس ایمبولینس کو مریض کے گھر پہنچنے تک اس کی نگرانی کی جاتی ہے ، ایمبولینس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آنے یا ٹریفک جام ہونے کی صورت میں ادارے کی جانب سے قائم ریپڈ ریسپانس یونٹ کے کارکن جو موٹرسائیکل پر سوار ہوتے ہیں وہ مریض کو بنیادی طبی امداد دینے پہنچ جاتے ہیں اور اس وقت تک طبی امداد جاری رکھی جاتی ہے جب تک ایمبولنس مریض کے پاس نہ پہنچ جائے ، ریپڈ ریسپانس یونٹ کا عملہ ان علاقوں میں ہر وقت موجود ہوتا ہے جہاں اکثر ٹریفک جام کے مسائل درپیش رہتے ہیں ۔ اس وقت کراچی میں کسی بھی مجموعی ہنگامی صورت حال میں ادارے کے پاس 35 فیصد لوگوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ اسپتالوں میں منتقل کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ اپنے قیام سے اب تک ادارے کی ایمبولینس نو لاکھ پچپن ہزار سے زائد سروس فراہم کرچکی ہے ۔

امن فاؤنڈیشن کے تحت صرف ایمبولینس کے ذریعے ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے شعبوں کے ذریعے بھی سماجی زمہ داریاں احسن طریقہ سے پوری کررہا ہے ۔ادارے کے تحت ٹیلی ہیلتھ کے نام سے ایک شعبہ نہایت فعال انداز سے کام کررہا ہے ، ادارے کے اس شعبہ کے بارے میں شائید لوگوں کو زیادہ آگاہی نہیں ہے ، ٹیلی ہیلتھ جس کا ہیلپ لائن نمبر 9123 ہے یہ مفت طبی مشورے کا شعبہ ہے جہاں کال کرنے والے کا فوری طور پر میڈیکل ہیلتھ کونسلر سے رابطہ ہوتا ہے جہاں کالر کو مفت طبی مشورے دئیے جاتے ہیں ٹیلی ہیلتھ کئیر اٹرائی ایج سسٹم کے زیر نگرانی فعال ہے جہاں کسی بھی اہم طبی معاملے کو ضرورت پڑنے پر میڈیکل کونسلر کے ذریعے سرٹیفائیڈ ڈاکٹر کو بھی ریفر کیا جاتا ہے ، پورے پاکستان سے 23 ہزار سرٹیفائیڈ ڈاکٹروں کا ڈیٹا اس شعبہ میں موجود ہے ان میں سے 800 ایسے ڈاکٹر وں کا ڈیٹا بھی موجود ہیں جن سے طبی معائینہ کرانے کا وقت بھی اسی شعبہ سے لیا جاسکتا ہے۔ اس شعبہ کی جانب سے نہایت قابل تعریف بات یہ ہے کہ اس ہیلپ لائن پر کال کرنے والے تمام مریضوں کا ڈیٹا محفوظ کرلیا جاتا ہے اور انہیں کال کرکے نہ صرف ان کی صحت کے حوالے سے دریافت کیا جاتا ہے بلکہ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے انہیں بذریعہ ایس ایم ایس احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں آگاہی اور مشورے دیئے جاتے ہیں ۔

امن فاؤنڈیشن کے تحت قائم اربن ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ جو آئی ایس او سرٹیفائیڈ تربیتی مرکزہے جہاں امن ایمبولینس میں کام کرنے والے پیرا میڈیکل عملے کو تربیت دی جاتی ہے ، اس کے تربیتی پروگرام جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی ، ڈاؤ اور امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن سے منسلک ہے ۔ امن فاؤنڈیشن کے تحت امن ٹیک کے نام سے ایک شعبہ قائم ہے جہاں کراچی کے نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے انہیں مختلف شعبوں میں مہارت فراہم کی جاتی ہے ۔ جس کے لیئے کم از کم تعلیمی قابلیت میٹرک اور کم از کم عمر 17 سال مقرر کی گئی ہے ۔ امن ٹیک 12 مختلف شعبہ جات میں نوجوانوں کو تربیت فراہم کررہا ہے جس میں آٹو موبائلز، میکینکل، الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانکس ، ریفریجریشن اینڈ ائیرکنڈیشنگ، ویلڈنگ اینڈ پلمبرنگ ، آٹو باڈی ریپیرنگ ٹیکنیشن ، آٹو پینٹ ریپیرنگ ٹیکنیشن، خواتین کے لیئے سلائی کڑھائی سرِ فہرست ہیں جبکہ سوفٹ اسکل پروگرام کے تحت کئی کورس کرائے جاتے ہیں

اس شہرِ بدنصیب کو جہاں بہت سے مسائل کا سامنا ہے وہیں یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کہ جہاں آبادی کے لحاظ سے اس شہر کو ایسی 230 جدید ایمبولینس کی ضرورت ہے وہاں 60 ایمبولینس دستیاب ہیں ۔ اگر حکومت خود ایسی سہولیات عوام کو فراہم نہیں کرسکتی تو کم از کم ایسی سہولت فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرکے ان سہولیات کو مزید بہتر اور وسیع کرسکتی ہے اور بہت سی قیمتی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے ۔ اکثر حادثوں یا بیماری میں دیکھا گیا ہے کہ مریض کو اسپتال لے جاتے ہوئے اس کی موت واقع ہوجاتی ہے کیوں کہ اسے ابتدائی طبی امداد نہیں مل پاتی۔ یہاں ضرورت چند انتہائی اہم اقدامات کی بھی ہے جن کے کرنے سے کئی انسانی زندگیا بچائی جاسکتی ہیں ۔ شہر میں ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے اور اس صورتحال میں ایمبولینس کا مریض کو اسپتال تک پہنچانا بہت دشوار ہوجاتا ہے ، افسوس اس شہر میں حکومتی سطح پر یا نجی سطح پر کوئی ائیر ایمبولینس موجود نہیں ، 90 کی دہائی میں ایدھی کی ائیر ایمبولینس سروس تھی لیکن نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر وہ بھی ختم ہوگئی ۔حکومت کو فوری طور پر اس شہر میں ائیر ایمبولینس کا آغاز کرنا ہوگا یا پھر اس کے لیئے نجی فلاحی اداروں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ حکومت کو فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر اوبر یا کریم طرز کا ایک ایسا جدید سسٹم متعارف کرانا ہوگا تاکہ کوئی بھی ایسی ایمبولینس جو کسی ایسے مریض کو اسپتال منتقل کررہی ہو جس کی جان کو شدید خطرہ ہو تو اس نظام کے تحت شہر میں اس مریض کے علاقے سے جس اسپتال میں اسے منتقل کیا جانا ہے تمام راستے کو ہنگامی بنیاد پر ٹریفک کا عملہ کلئیر کراسکے یہ زیادہ مشکل کام نہیں کیوں کہ الحمداللہ ہماری دسترس میں ایسی ٹیکنالوجی ہیں کہ بیک وقت فلاحی ادارہ اور ٹریفک پولیس کا عملہ ایسی گذرنے والے ایمبولینس کی نگرانی کرسکتے ہیں اور اسے کلئیر راستہ فراہم کرسکتے ہیں ۔

اس شہر میں ایک جانب کئی اموات اور حادثات وی آئی پی مومنٹ کی وجہ سے رونما ہوئے ہیں تو دوسری جانب ان کی آمد و رفت عوام کے لیئے بھی باعث اذیت بنتی ہے ، اکثر وی آئی پیز قائداعظم انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے روڈ کا سفر کرتے ہیں جس سے ٹریفک شدید جام ہوجاتا ہے ، کیا ہی بہتر ہو کہ تمام وی آئی پیز ائیرپورٹ سے کراچی شہر کا سفر بذریعہ ہیلی کاپٹر کریں حکومت سندھ کے پاس ہیلی کاپٹر موجود ہیں یا پھر صرف وی آئی پیز مومنٹ کے لیئے ائیرپورٹ پر ایک ہیلی کاپٹر مختص کیا جاسکتا ہے شہر کے کئی مقامات پر ہیلی پیڈ کی سہولیات پہلے ہی موجود ہیں ۔ ان اقدامات پر عمل کرکے جہاں شہریوں کو پریشانی سے بچایا جاسکتا ہے وہیں بہت سی قیمتی جانوں کو بھی بچا یا جاسکتا ہے۔ کسی بھی ملک کے لیئے یہ بات نہایت افسوس ناک اور قابل شرم ہے کہ ٹریفک جام ہونے کے باعث راستوں میں مریضوں کی ہلاکتیں ہوں یا ایمبولینس اور گاڑیوں میں بچوں کی ولادتیں ہوں۔

Muhammad Arshad Qureshi
Muhammad Arshad Qureshi

تحریر : محمد ارشد قریشی

Share this:
Tags:
government Muhammad Arshad Qureshi pakistan responsibilities social پاکستان حکومت ذمہ داریوں سماجی مثال
Star
Previous Post میں سرِ دار بھی ہوں کتنی بلندی پہ یہ دیکھ
Next Post افغان جنگ سے واپسی بھی پاکستان کے بغیر ناممکن
Afghan War

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close