Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

امن اور انسانیت کے قیام کا مشترکہ پلیٹ فارم

August 23, 2016August 23, 2016 0 1 min read
Peace
Peace
Peace

تحریر : محمد آصف اقبال، نئی دہلی
دنیا میں دو طبقات ہر زمانے میں پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو اقتدار پر قابض ہے تو دوسرا وہ جو کسی اقتدار کے زیر سایہ ہے۔ وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ برسراقتدار طبقہ عموماً اپنے اختیارات کا صحیح استعمال نہیں کرتا ہے۔ نتیجہ میں ملک و سماج میں کمزور اور مظلومین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔مظلومین کی تعداد میں اضافے کے ایک معنی یہ ہیں کہ اُن کے ساتھ جاری ظلم و زیادتیوں کا فیصلہ عدل و انصاف کے پیمانہ سے گرا ہوا ہے تو وہیں یہ بھی ہیں کہ راست یا بلاواسطہ اُن انتہا پسند، شرپسند اور گنڈہ عناصر کو برسراقتدار طبقہ کی خاموش حمایت حاصل ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ جب سے ممالک کی حد بندیاں کی گئیں اور بین الاقوامی سطح پر ایک ملک کو دوسرے ملک کے اُن داخلی امور سے روکا گیا ،جہاں عوام ظلم و زیادتیوں کے شکار تھے،اسی وقت سے سرد جنگ اور پروکسی وارکے الفاظ بھی تخلیق پائے ہیں۔ویسے تواصطلاحی معنی میں ‘سرد جنگ’ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین اور ان کے متعلقہ اتحادیوں کے درمیان 1940ء سے 1990ء کی دہائی تک جاری رہنے والے تنازع، تناؤ اور مقابلے کے لیے استعمال ہواہے۔جس عرصہ میں یہ دو عظیم قوتیں مختلف شعبہ ہائے حیات میں ایک دوسرے کی حریف رہیں جن میں عسکری اتحاد، نظریات، نفسیات، جاسوسی، عسکری قوت، صنعت، تکنیکی ترقی، خلائی دوڑ، دفاع پر کثیر اخراجات، روایتی و جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور کئی دیگر شعبہ جات شامل ہیں۔

یہ امریکہ اور روس کے درمیان براہ راست عسکری مداخلت کی جنگ نہ تھی لیکن یہ عسکری تیاری اور دنیا بھر میں اپنی حمایت کے حصول کے لیے سیاسی جنگ کی نصف صدی تھی۔ اس کے باوجود کہ امریکہ اور سوویت یونین دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے خلاف متحد تھے لیکن بعد از جنگ تعمیر نو کے حوالے سے ان کے نظریات بالکل جدا تھے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بعد کی چند دہائیوں میں سرد جنگ یورپ اور دنیا کے ہر خطے میں پھیل گئی۔ امریکہ نے اشتراکی نظریات کی روک تھام کے لیے خصوصاً مغربی یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا میں کئی ممالک سے اتحاد قائم کیے۔ اس دوران کئی مرتبہ ایسے تنازعات پیدا ہوئے جو دنیا کو عالمی جنگ کے دہانے پر لے آئے جن میں برلن ناکہ بندی (1948 ـ1949ء )، جنگ کوریا (1950 ـ1953ء )، جنگ ویتنام (1959 ـ1975ء )، کیوبا میزائل بحران (1962ء ) اور سوویت افغان جنگ (1979 ـ1989ء ) قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ ایسے ادوار بھی آئے جس میں دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی واقع ہوئی۔ 1980ء کی دہائی کے اواخر میں سرد جنگ اس وقت اختتام پذیر ہونے لگی جب سوویت رہنما میخائل گورباچوف نے امریکی صدر رونالڈ ریگن سے متعدد ملاقاتیں کیں اور ساتھ ساتھ اپنے ملک میں اصلاحاتی منصوبہ جات کا اعلان کیا۔ اس دوران روس مشرقی یورپ میں اپنی قوت کھوتا رہا اور بالآخر 1991ء میں تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔

America and Russia
America and Russia

سرد جنگ کی اس مختصر تاریخ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ذہنوں میں یہ بات خوب اچھی طرح واضح ہو جائے کہ دو ممالک یا ایک ہی ملک کے اندر دو مختلف نظریہ ہائے حیات کے درمیان جو دوریاں اورنفرتیں محسوس ہوتی ہیں، ان کے پس پشت برسراقتدار طبقہ کا اہم کردار ہوتا ہے۔اس کی شہادت نہ صرف ان کی پالیسیاں دیتی ہیں بلکہ اقدامات شواہد بنتے ہیں۔چونکہ یہ نفرتیں اور دوریاں ہی سماج کو اکثریت اور اقلیت میں تقسیم کرتی ہیںلہذا ملک میں ایک طبقہ ہمیشہ خوف کے ماحول میں رہتا ہے تو دوسرا پر اطمینان زندگی گزارتے ہوئے مادی ترقی اور وسائل پر قبضہ کرتاہے۔نتیجہ میں ایسے مواقع پر برسراقتدار طبقہ کے افکار و نظریات بھی تیزی سے فروغ پاتے ہیں ۔وطن عزیز ہند وستان میں بھی یہ کھیل آزادی سے قبل ہی جاری رہا ہے۔لیکن چونکہ ملک انگریزوں کا غلام تھااس لیے اس مدت میں ملک کے مختلف طبقات غلامی کا طوق اپنی گردن سے نکالنے کے لیے کسی حد تک متحد تھے۔

اِس کے باوجود کہ اُس مدت میں بھی ایک قلیل تعداد انگریزوں کی غلامی کو اپنے لیے عافیت سمجھتی تھی۔اوریہ تلخ حقیقت ہے کہ اس قلیل تعداد میں ہندومسلمان،دونوں ہی شامل تھے۔لیکن جب سے ملک تقسیم کے نام پر ،آزاد ہوا،تب ہی سے ان دوممالک کے درمیان نہ صرف جنگیں ہوئیں بلکہ سرد جنگ اور پروکسی وار،حد درجہ بڑھی ہوئی ہر شخص محسوس کر سکتا ہے۔سرد جنگ کی مختصر تاریخ میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اس کی ابتدا ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ہوئی تھی۔لیکن سوویت یونین کے شیرازہ بکھرتے ہی سرد جنگ نے اپنا دائرہ مزید وسیع کیا ۔اور اب یہ دائرہ دنیا کی دو طاقتوں کے درمیان نہیں بلکہ دنیا کی واحد ترین طاقت اور اس کے ہمنوائوں نے ،اپنے ذاتی مفاد کی خاطر دنیا وسیع سے وسیع تر کیا ہے۔نتیجہ میں آج دنیا دوواضح حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔

اسی تقسیم کا نتیجہ ہے کہ دنیا میں امن و امان غارت ہو اہے،چہار جانب فساد برپا ہے ،اورانسان اپنے ہی جیسے انسانوں کے خون کا پیاسا ہو گیا ہے۔ہر گروہ دوسرے کو زیر کرنے میں مصروف ہے۔اور پورے عمل میں سب سے زیادہ نقصان معصوم بچوں کی شکل میں آئندہ آنے والی نسلوں کا ہو رہا ہے۔جن کی زندگیاں آج خون و آگ کے شعلوں پر ،پروان چڑھ رہی ہے۔

دنیا کی موجودہ صورتحال کا پس منظر جو یہاں بیان ہواہے ۔اس کے پس پشت ایک اور اصطلاح و عمل جاری ہے،جسے ‘عظیم چالبازیاں’ ( The Great Game) کہتے ہیں۔یہ اصطلاح 19 ویں اور 20 ویں صدی میں وسط ایشیا پر بالادستی کے حصول کے لیے سلطنت برطانیہ اور سلطنت روس کے درمیان ہونے والی مسابقت اور تنازع کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اولین ‘عظیم کھیل ‘کا دور عام طور پر 1813ء کے روس فارس معاہدے سے 1907ء کے انگریز روس معاہدے تک تسلیم کیا جاتا ہے۔ 1917ء میں بالشیوک انقلاب کے بعد ایک دوسرے ،لیکن کم شدت کے دور کا آغاز ہوا۔اس دور میں عظیم کھیل کی اصطلاح کو عموماً آرتھر کونولی (1807 – 1842ء ) سے منسوب کیا جاتا ہے۔جو برطانوی شرق الہند کمپنی کے چھٹے بنگال گھڑ سوار دستے میںجاسوس افسر تھا۔ اس اصطلاح کو عوامی سطح تک برطانوی ناول نگار روڈیارڈ کپلنگ کے ناول ،کم (Kim) (1901ء ) نے پہنچایا۔فی الوقت دنیا میں جاری عالمی قوتوں کی ریشہ دوانیوں اور مفادات کے باعث اب بھی سمجھا جاتا ہے کہ عظیم کھیل جاری ہے جس کا مقصد اُن ممالک کے قدرتی وسائل پر قبضہ جمانا ہے،جو وافر مقدار میں وہاں موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس جدید ‘عظیم کھیل ‘میں امریکہ کی زیر قیادت نیٹو اور روسـچین اتحاد برسر پیکار ہیں۔

Wars
Wars

واقعہ یہ ہبھی ہے کہ بین الاقوامی اصطلاحات اور اس کے اثرات سے اندرونی و بیرونی سطح پر آج دنیا کا ہر ملک نہ صرف متاثر ہے بلکہ نئے اصطلاحات کے ساتھ اس کو فروغ بھی دے رہاہے۔اُسی کا نتیجہ ہے کہ مختلف ممالک کے اندر ون خانہ موجود مختلف گروہوں کے درمیان نہ صرف سرد جنگ جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں بلکہ عظیم چالبازیاں نئے پیرایوں میں بڑے پیمانہ پرجاری ہیں۔کچھ ایسے ہی حالات آزادی کے بعد سے وطن عزیز ہندوستان میں بھی کبھی منظم تو کبھی غیر منظم انداز میں جاری ہیں۔لیکن اس پورے کھیل میں یہ واضح کرنا حددرجہ مشکل ہے کہ مختلف اوقات میں موجود برسراقتدار طبقہ نے کیا اور کیسے اپنا خاموش کردار ادا کیا ہے ۔تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ جس طرح آج واضح انداز میں ملک میں فرقہ پرست طاقتیں اپنے آپ کو مضبوط سمجھ رہی ہیں،تنازعات اور اختلافات نے تشددکی شکل اختیار کر لی ہے،کہا جا سکتا ہے کہ یہ ٹکرائو آج سے پہلے اس قدر بڑھا ہوا نہیں تھا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے پر امن افرادو گروہ بھر پور اندا زمیں ان حالات کا مقابلہ کریں۔مقابلہ اُنہیں کے طرز عمل کو اختیار کرکے نہیں بلکہ مقابلہ اس صورت میں کہ زبان و علاقہ اور مذہب و نسل سے اوپر اٹھ کر ملک میں امن اور انسانیت کے قیام اور ظلم و زیادتیوں کے خاتمہ کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے ساتھ ہی اسے استحکام بھی حاصل ہو۔کیونکہ ظلم و زیادتیوں پر خاموشی اختیار کیے رہنا،خود ظلم و زیادتیوںکے فروغ میں شامل ہونے جیسا ہی ہے۔

یہ طرز عمل ،ہمیں ، ہمارے خاندان،بستی و قریہ،علاقہ اور شہر اورپورے ملک کو ،کب اپنی چپیٹ میں لے لے؟کچھ کہا نہیں جا سکتا۔لہذا ضرورت ہے کہ قبل از وقت ہم ہوش میں آئیں، کیونکہ جس وقت آگ اور خون کی ہولی سے ہم خود متاثر ہوں گے،اور دنیا خاموش تماشائی بنے افسوس بھرے کلمات دہرائے گی،اس وقت جس قدر درجہ کرب و اذیت میں ہم مبتلا ہوں گے،اسے بروقت سمجھنا مشکل ہے۔ اس کے باوجود ہوش مند وہی کہلائے گا جو قبل از وقت امن اور انسانیت کے قیام میں مصروف عمل ہو جائے۔

Mohammad Asif Iqbal
Mohammad Asif Iqbal

تحربر : محمد آصف اقبال

maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
creation humanity Mohammad Asif Iqbal Peace Wars World امن انسانیت پلیٹ فارم دنیا قیام مشترکہ
Security
Previous Post یورپ میں داعش کے خلاف حفاظتی تدابیر میں اضافہ کیا جا رہا ہے
Next Post سندھ اسپورٹس بورڈ اینڈ یوتھ افیئر جشن آزادی اسپورٹس فیسٹیول
Jashan e Azadi Spots Festival

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close