لاہور : مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ قیام امن کی خاطر عمران خاں کو مذاکراتی کمیٹی کا حصہ رہنا چاہیے تھا، طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے پوری قوم دعا کرے، طرفین کی طرف سے مذاکراتی کمیٹیوں کے تمام ارکان ملک وقوم سے مخلص ہیں۔
کس کو کس کی کمیٹی میں ہونا چاہیے یا نہیں اس غیر ضروری بحث میں پڑنے کی بجائے مقصدیت پر توجہ دینی چاہیے اور مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہیے۔ مرکز 106 راوی روڈ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں تمام جماعتیں حکومت اور طالبان سے مذاکرات کی کامیابی چاہتی ہیں۔
قیام امن کے لیے حکومت کی طرف سے سب سے سنجیدہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔امریکہ اور بھارت نہیں چاہتے کہ ملک میں امن قائم ہو، انکے ایجنٹ بھی مذاکرات کی مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں مگر اس بار مذاکرات کی کامیابی کے امکانات قوی دکھائی دیتے ہیں۔ مل کو اس وقت امن کی ضرورت ہے ،معاشی استحکام اور اقتصادی سرگرمیاں امن کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ امن کے قیام کے لیے تمام طبقات کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔
وفاق المدارس سلفیہ نے بھی طالبان سے مذاکراتی عمل کا خیرب مقدم کیا ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس عمل کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کرے گی۔پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ طالبان کی طرف سے مذاکرتی کمیٹی کی تشکیل ایک بڑی پیش رفت ہے۔ پوری قوم کو مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
