Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عوام دوست بجٹ اور 12 ہزار تنخواہ

June 14, 2014 0 1 min read
M.Ahmed Tarazi
Ishaq Dar
Ishaq Dar

جب معمولات ِ زندگی آرام وآسائش اور وسائل کی فراوانی میں بسر ہوں،دور دور تک زندگی میں مسائل و پریشانیوں کا گزر نہ ہو،آدمی کوروزی روزگار اور ضروریات زندگی کی عدم دستیابی کا مسئلہ بھی درپیش نہ ہو تو ایسی حالت میں غیر متوقع صورتحال جس کا انسان کوفہم وادراک ہی نہ ہو، نہ ہی اُسے کبھی زندگی میں ایسے حالات سے واسطہ پڑا ہو ،اُس کا سٹپٹاجانا ایک قدرتی اَمر ہے، گذشتہ دنوں ہمارے وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار کو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا اُس وقت سامنا کرنا پڑا، جب پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے اُن سے یہ سوال کر لیا کہ ” آپ نے کم سے کم تنخواہیں 12 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آپ اِس تنخواہ میں ایک گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں۔”ظاہر ہے مصائب وآلام میں مبتلا ایک عام پاکستانی کے حالات زندگی کی نمائندگی کرتا یہ چھبتا ہوا سوال، وزیر موصوف کیلئے قطعی غیر متوقع تھا،لہٰذا پہلے تو انہوں نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ” عوام کو مصیبتیں ہم نے تو نہیں دیں، نہ یہ ہماری وجہ سے آئی ہیں۔” تاہم فوراً ہی انہیں اپنے رویئے کا احساس ہوگیا اور اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے گویا ہوئے”درحقیقت یہ مصیبتیں ماضی کی حکومتوں کی دی ہوئی ہیں ، اِن کو حل کرتے کرتے وقت لگے گا۔

اب کتنا وقت لگے، عوام کی مصیبتیں کب ختم ہونگی ،کب انہیں سکون و آسودگی کا لمحہ میسر آئے گا،اِس حوالے سے کچھ نہیںکہا جاسکتا ،اَمر واقعہ یہ ہے ہر آنے والی حکومت نے مشکلات و پریشانیوں کا رونا رویا اور عوام کے مصائب وآلام کا ذمہ دار پچھلی حکومتوں کو ٹہرایا،محترم وزیر خزانہ نے بھی وہی کیا، اپنی حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے اور کچھ کر دکھانے کے بجائے ساراکا سارا ملبہ گذشتہ حکومت پر ڈال دیا،ساتھ ہی مسائل کے حل کیلئے وہی پرانا راگ بھی الاپ دیاکہ” وقت لگے گا۔”مگر شاید وہ اِس حقیقت سے واقف نہیںکہ کچھ حقیقتیں ایسی ہوتیں ہیںجو معلومات کے اِن گنت ذرائع اور لامحدود وسائل رکھنے کے باوجود ارباب اقتدارکی عالی نسب بارگاہوں پر منکشف نہیں ہوپاتیں،لیکن گلی کوچوں میں حشرات الارض کی طرح رینگتے عوام الناس کم فہم ہونے کے باوجود اِن زمینی حقیقتوں کا پالیتے ہیں،جس طرح ساحل پر کھڑے ہوکر دریا کی طغیانی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا،بالکل اُسی طرح گلی کوچوں کی دکانوں پر جائے،تپتی دھوپ میں یوٹیلیٹی اسٹور کے باہر لمبی قطار میں گھنٹوں کھڑے ہوئے،اور دھول مٹی میں اَٹے اتوار بازاروں کی خاک چھانے بغیراِس حقیقت کا ادراک کرنا محال ہے کہ مہنگائی کا عفریت کتنا خونخوار ہوچلا ہے اور ایک آدمی کے شب وروز کس کرب واذیت میں گزررہے ہیں۔

محترم وزیر خزانہ کا پیش کردہ وفاقی بجٹ ”اعداد و شمار کا ہیرپھیر” ہے جس کا نتیجہ ”سودوزیاں” کے سوا اور کچھ نہیں،بجٹ غربت، مہنگائی، بیروزگاری کے گرداب میں پھنسے عوام، تنخواہ دار طبقات، مزدوروں، خانہ دار خواتین اور دیگر طبقات زندگی کیلئے مایوسی و نامرادی کا پیغام دیتا نظر آرہا ہے، اِس تناظر میں عوام میں غصے اور اضطراب کی کیفیت کاپیدا ہونا فطری عمل ہے،حالیہ بجٹ میںحکومت نے کم ازکم تنخواہ 12 ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان کیاہے ، لیکن مزدور طبقات اِس اضافے پر خوش نظر نہیں آرہے،اوّل تو اِس معمولی اضافے سے اُن کی معاشی حالت میں کچھ سدھار آنے والا نہیں،دوسرے یہ کہ اصل مسئلہ اِن قوانین پر عملدرآمد کا ہے ، ابھی تک ایسے بہت سے ادارے موجود ہیں ، جہاں گذشتہ سال بڑھائی گئی تنخواہ کا بھی اطلاق نہیں ہوسکا ،یہ وہ ادارے ہیں جو عوام کو حکومت کی طے کردہ کم ازکم اجرت کسی طور بھی دینے کو تیار نہیں ہیں،اِس صورتحال میںبعض مزدور تنظیمیں بجٹ کے اعداد و شمار کے ہیرپھیر کا جائزہ لے کر مزدور طبقات کا مہنگائی کے بوجھ تلے دبنے کا عندیہ دے رہی ہیں ،بجٹ کے حوالے سے پرچون فروشوں کی جانب سے بھی اضطراب کا اظہار کیا جا رہا ہے، جن کے بقول اب گلی محلے کے دکاندار بھی ٹیکس کے جال میں پھنس گئے ہیں اور اُن پر ”سپیشل پروسیجر رولز فار ریٹیلرز” کے نام پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہو گیا ہے، جبکہ خواتین خانہ سر پکڑے بیٹھی ہیں کہ اُن کے گھر کا بجٹ تو پہلے ہی مہنگائی کے سونامی کے باعث قابو میں نہیں آرہا تھا، اب کینولا، سن فلاور ککنگ آئل مہنگا ہونے اور پرچون فروشوں پر عائد ہونیوالے 17 فیصد سیلز ٹیکس کی بنیاد پر اشیائے خوردنی کی دوسری تمام اشیاء کے نرخ بھی آسمان تک جا پہنچنے سے وہ گھریلو اخراجات کیسے پورے کر پائیں گی۔

دوسری طرف طرفہ تماشا یہ ہے کہ بجٹ کی منظوری اور اطلاق یکم جولائی سے ہوگا مگر مہنگائی کا طوفان بجٹ کے اعلان کے ساتھ ہی برپا ہو گیا ہے،جہاںمنافع خور تاجروں نے مصنوعات ذخیرہ کرکے انہیں مہنگے داموں مارکیٹ میں لانے کیلئے اپنی چھریاں کانٹے تیز کرلیے ہیں، وہیں ریٹیلرز اور خوانچہ فروشوں تک نے اشیائے خوردنی، دالوں، سبزیوں، مٹن، بیف، چکن، مشروبات کے نرخ ابھی سے بڑھا دیئے ہیں، اِس صورتحال میں بجٹ میں وزیر خزانہ کے اعلان کردہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے منصوبے کی ابھی سے بھیانک تصویرنظر آرہی ہے،جبکہ آئندہ ماہ بجٹ کے اطلاق کے وقت ماہ رمضان المبارک کا بھی آغاز ہو چکا ہو گا، جس کے دوران مہنگائی عوام کی کیا درگت بنائے گی، یہ تصور کرکے اُن کے ابھی سے پسینے چھوٹ رہے ہیں، جبکہ بجٹ میں تجویز کئے گئے ٹیکس نظام کی بنیاد پر عام آدمی کے استعمال کی اشیاء واشنگ مشین، جوسر، جنریٹر، پنکھے سیلز ٹیکس کی زد میں آکر مہنگے ہو رہے ہیں اور سیمنٹ اور سریا مہنگا کرکے عام آدمی کے اپنے گھر کی تعمیر کے خواب بھی چکناچور کئے جا رہے ہیں،اِس کے برعکس 18 سو سی سی سے بڑی گاڑیوں کو ٹیکسوں کی چھوٹ دے کر سستا کیا جا رہا ہے تو اِس سے اپوزیشن کے اِن الزامات کو ہی تقویت ملے گی کہ ِاس بجٹ کے ذریعے عام آدمی کے بجائے مراعات یافتہ اشرافیہ طبقات کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے،یوں بھی کسی حکومت کا بجٹ جہاں اگلے مالی سال کے حوالے سے تفصیلی پلان کو ظاہر کرتا ہے ،وہاں اِس سے حکومتی معاشی پالیسیوں کی سمت اور موڈ بھی ظاہر ہوتا ہے، بجٹ کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لینے سے حکومتی مالیاتی ماہرین کے مائنڈ سیٹ کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی کہ اُن میں طاقتور طبقات پر ٹیکس لگانے کی کس قدر جرات ہے۔

Inflation
Inflation

اَمر واقعہ یہ ہے کہ ہر دو چار ہفتوں بعد مہنگائی کا بم عوام پر گرتا اور اُن کی کمر توڑ دیتا ہے، پٹرول کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں بھی ماہانہ بنیادوں پر تبدیلی جاری ہے، تبدیلی کا مطلب ویسے صرف مہنگا ہونا ہی ہے، سستی تو بجلی کبھی نہیں ہوتی، اعدادوشمار کی جادوگری ہمارے بجٹ میں سب سے زیادہ پریشان کن بات ہے، چیزوں کوایسے پرکشش طریقے سے پیش کیا جاتاہے ،جیسے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں،جبکہ عملی طور پر اِس کے برعکس ہی ہوتا ہے، مثال کے طور پر ہمارے وزیرخزانہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ معاشی ترقی کی شرح 4.1 رہی، دلچسپ بات ہے کہ عالمی سطح کے اقتصادی ادارے اِس بات کو بالکل ہی نہیں مانتے، اُن کے خیال میں یہ شرح 3.3کے قریب ہے ،یہی صورتحال دیگر اعدادوشمار کی ہے، وزیر خزانہ کے بقول فی کس آمدنی کی شرح سنتالیس ڈالر بڑھ گئی اور اب یہ 1386ڈالر ہوگئی،لیکن اِس بات کی کوئی ٹھوس وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ انقلاب کیسے رونما ہوا۔؟ہمارے اقتصادی ماہرین ایسی دل خوش کن تصویر پیش کرتے ہیں کہ لگتا ہے سب انڈیکیٹر ٹھیک ہیں اور کارکردگی بہترین رہی، بعض اوقات تو آدمی حیرت سے سوچتا ہے کہ یہ کس ملک کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے اور میں کہاں رہ رہا ہوں۔؟ یہی وہ بات ہے ،جس کی وجہ سے بجٹ کے اعدادوشمار پر لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔

ہمارا ماننا ہے کہ عوام الناس کیلئے بجٹ ایک ایسی بلائے ناگہانی ہے جو قوم پر عذاب کی صورت میں ہر سال نازل ہوتی ہے اور پورا سال منی بجٹ کے بچے جنتی ہے، کبھی بجلی، پٹرول، گیس اور سی این جی کے نرخوں میں اضافے کی صورت میں اور کبھی حکمرانوں کی چہیتے ذخیرہ اندوز، گراں فروش اور مارکیٹ فورس کی من مانی کارروائی کے نتیجے میں۔یہی وجہ ہے کہ چند برسوں سے بجٹ ایک رسمی کارروائی بن کے رہ گیا ہے اور دیکھا یہ گیا کہ عوام بجٹ سے بڑی حد تک لاتعلق ہوگئی ہے، عام آدمی کو اکانومی کے پیچیدہ گورکھ دھندوں کی پہلے ہی سمجھ نہیں آتی تھی، اب پڑھی لکھی مڈل کلاس بھی بیزار ہوچکی ہے،جس کی مختلف وجوہات ہیں، دراصل ایک حقیقی بجٹ کیلئے چند چیزیں لازمی ہوتی ہیں، اُن کے بغیر اِس کے اثرات مرتب نہیں ہوسکتے، مشاہدہ یہ ہے کہ ہر سال بجٹ سے پہلے اخبارات اور ٹی وی چینلزمختلف شعبہ زندگی کے عام آدمیوں سے گفتگو کرتے اور مختلف نوعیت کے سروے کراتے ہیں، اِن تمام میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے کہ ملک کا غریب آدمی بجٹ سے بالکل لاتعلق ہوچکا ہے، اُس کی یہ کیفیت کم علمی یا اَن پڑھ ہونے کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ اُسے یہ یقین ہو چلاہے کہ بجٹ خواہ کسی بھی حکومت کا ہو، اُس کیلئے اِس میں کچھ نہیں ہوگا، اُسے پتہ ہے کہ اُس پر تو بوجھ ہی پڑنا ہے اور دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے جتنی جدوجہد وہ آج کر رہا ہے، اگلے سال اِس سے بھی زیادہ کرنی پڑے گی، یہ وہ ہولناک حقیقت ہے جس کا ہمارے ارباب اقتدار، اقتصادی ماہرین اور بجٹ سازوں کو ادراک کرنا ہو گا۔

M.Ahmed Tarazi
M.Ahmed Tarazi

تحریر: محمد احمد ترازی
mahmedtarazi@gmail.com

Share this:
Tags:
Ishaq Dar life needs payroll people Resources اسحاق ڈار بجٹ تنخواہ زندگی عوام وسائل
Karachi
Previous Post حکومت نے سیاسی مخاصمت و انتقام کی تسکین کیلئے مشرف پر مقدمات بنائے ہیں: طاہر حسین
Next Post حکومت نے مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا
Musharraf Name ECL – Breaking News – Geo.tv

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close