Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

معذور لیکن کارگر افراد

December 1, 2020 0 1 min read
International Day of Disabled Persons
International Day of Disabled Persons
International Day of Disabled Persons

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی

اﷲ تعالی نے کوئی چیز بھی بے مقصد پیدا نہیں کی۔اس کائنات میں ایک ذرے سے لے کر،پودے پتے،جھاڑ جھنکار اور ریت کے ذروں سے لے کر پہاڑ،چٹانیں،غاریں اور دریا اور سمندر تک بے شمار مخلوقات ہیں اور کتنی ہی مخلوقات ہیں جو ان دریاؤں اور سمندروں کے اندر اپنی زندگی کے دن پورے کر رہی ہیں ،اور کتنی ہی مخلوقات ہیں جوپہاڑوں کے درمیان وادیوں میںاور زمین کی گہرائیوں میں اور پتھروں کے اندر اور درختوں کی جڑوں سے چمٹے ہوئے اس دنیا میں موجود ہیں اور نہ جانے کہاں کہاں اور کیسے کیسے اور کس کس طرح کی مخلوقات جو ہنوزانسانی مشاہدے میں نہیں آسکیں اﷲ تعالی کی خلاقی کا پتہ دیتی ہیں ۔لیکن یہ سب قطعاََ بھی بے مقصد نہیں،اتفاقََانہیں اور نہ ہی الل ٹپ ہیں بلکہ اﷲ تعالی نے یہ سب ایک نظام کے تحت ،ایک منصوبے کے مطابق اور ایک منزل کے تعین کے ساتھ اوربامقصد تخلیق فرمایا ہے۔قرآن مجید نے اس حقیقت کو یوں واضع کیاہے کہ ” الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَ یَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(٣:١٩١)”ترجمہ:”جواٹھتے بیٹھتے اورلیٹے ہرحال میں اللہ تعالی کو یادکرتے ہیںاورزمین وآسمان کی ساخت میں غوروفکرکرتے ہیں (وہ بے اختیاربول اٹھتے ہیں)پروردگار!یہ سب کچھ تونے فضول اوربے مقصد نہیں بنایا،توپاک ہے اس سے کہ کوئی عبث کام کرے ،پس اے رب ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے”۔اسی طرح کی اور آیت میں یوواردہوا کہ”وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآئَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ(٢١:١٦)”ترجمہ:”اورہم نے اس آسمان اورزمین کو اورجوکچھ بھی ان میں ہے کچھ کھیل کے طورپر(بے مقصد)نہیں بنایاہے”۔ان ساری مخلوقات میں سب سے افضل مخلوق حضرت انسان ہے جسے اﷲ تعالی نے خود اشرف المخلوقات کہا ہے،اور اپنے دست قدرت سے تخلیق کیا ہے اور اپنی مقرب ترین مخلوق ”ملائکہ”سے اس انسان کو سجدہ کروایا ہے اور اس سجدے سے انکار کرنے والے کو راندہ درگاہ کیا ہے اور قرآن مجید میں اﷲ تعالی کا ارشاد ہے ” وَ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰہُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰہُمْ مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا(١٧:٧٠)”ترجمہ:”یہ توہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کوعزت اوربزرگی دی اورانہیں خشکی و تری میں سواریاں عطاکیں اوران کوپاکیزہ چیزوں سے رزق دیااوراپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلت بخشی”۔گویا اب جو بھی حضرت آدم علیہ السلام کے قبیلے میں اورانکی نسل میں پیدا ہو گا وہ اﷲ تعالی کے ہاں سے پیدائشی طور پر عزت والا بن کر آئے گا۔یہ انسان کے لیے بہت بڑا اعزازہے کہ اسے خالق کائنات نے اپنے ہاں سے عزت والا بنا کر بھیجا ہے۔

اسی انسان کے ہاں ایسے بچے بھی جنم لیتے ہیں جو بعض اوقات جسمانی یا ذہنی طور پر معذور ہوتے ہیں،لیکن حضرت آدم کی نسل سے ہونے کے باعث وہ اﷲ تعالی کے ہاںسے حق عزت ساتھ لے کر آئے ہیں اور انسانی معاشرے میں معزز و محترم ہیں کہ اس معاشرے کے خالق نے انہیں یہ حق عطاکیا ہے اور کوئی قانون،کوئی تہذیب،کوئی معاشرت ،یا رویہ ان سے ان کا یہ حق چھین نہیں سکتا۔عربی زبان میں”نفس”اسکو بھی کہتے ہیں جو سانس لے، چنانچہ قانون اسلام کے ماہرین،فقہائے کرام انسان کو اس وقت سے ”نفس”سمجھتے ہیں جب سے وہ ماں کے پیٹ میں سانس لینا شروع کر دیتاہے اور قرآن نے ”نفس”کے قتل کوناجائز قرار دیا ہے۔گویا اگر ماں کے پیٹ میں ہی بچے کی معذوری کی اطلاع ہو جائے تو بھی اسکا قتل ناجائز ہے معذوربچے قدرت نے بے مقصد پیدا نہیں کیے ہیں،انکی پیدائش کا کیا مقصد ہے ؟یہ انسانی دماغ کا امتحان ہے کہ وہ ان بچوں کا بغور مشاہدہ کرے اور ان میں وہ جوہر قابل تلاش کرے جو قدرت نے ان میں چھپا رکھا ہے۔قدرت کبھی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتی کیونکہ اللہ تعالی کاارشادہے کہ” مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلَ لَدَیَّ وَ مَآ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ(٥٠:٢٩)”ترجمہ:”میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں”۔قدرت اگر کسی کوایک چیز سے محروم کرتی ہے تو اسکا بہترین نعم البدل بھی عطا کرتی ہے،چنانچہ عام مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ معذورافراد بعض اوقات بہت بلا کے حافظے کے مالک ہوتے ہیں ،خاص طور پرنابینا افراد میں سے بعض کا حافظہ اس قدر قوی ہوتا ہے کہ دس سال بعد بھی صرف ہاتھ ملانے سے پہچان لیتے ہیں کہ یہ کون صاحب ہیں کب ملے تھے وغیرہ۔اسی طرح ہاتھوں سے معذور افراد بعض اوقات پاؤں سے اسطرح کے کام کر لیتے ہیں اچھابھلاآدمی بھی ایسا نہ کر سکے۔

اس سب کے باوجود معذور افراد کو:
1۔حتی الامکان اعتماد نفسی دینا چاہیے اور ان میں سے اس احساس کو کم سے کم کرنا چاہیے کہ وہ معذور ہیں۔
2۔ان سے اس طرح کا رویہ رکھنا چاہیے کہ جیسے وہ صحیح الاعضا والحواس ہیں۔
3۔ان کے کسی بھی کام میں معاونت سے احتراز کرنا چاہیے تاکہ ان میں کسی قسم کا احساس کمتری پیدا نہ ہو،سوائے مجبوری کے۔
4۔ان کی معاشرتی تربیت معاشرتی ومذہبی اقدار کے بالکل عین مطابق ہو تاکہ ان میں ذہنی بالیدگی وقوع پزیر ہو سکے اور مسلسل ارتقا پزیر رہے۔
5۔معذور افراد کی اپنی مخصوص نفسیات ہوتی ہے،انکے قریبی رشتہ داروں کو اس نفسیات سے آگاہ رہنا چاہیے اور اس کے مطابق ان سے برتاؤ کرنا چاہیے۔
6۔معذور افراد جس بات سے خوش ہوتے ہوں،جس کھانے کو پسند کرتے ہوں،جس ماحول میں آسودگی محسوس کرتے ہوں اورجن افراد سے مطمئن رہتے ہوں ،غیرمحسوس طور پر انہیں ان کے مزاج کے موافق ماحول فراہم کیاجاناچاہیے۔

7۔ناپسندیدگی اور چڑ جانے کارویہ اور بہت جلد غصہ اور بعض اوقات قابو سے باہر ہوجانا مخصوص افراد کی نفسیات ایک کمزور پہلو ہوتا ہے،اکثر لوگ مزے لینے کے لیے معذور افرادکو تنگ کرتے ہیں جس سے یہ افراداپنے ان منفی رویوں میں مضبوط تر ہوتے چلے جاتے ہیںاور بالآخریہ رویے اان معذورافراد کی پہچان بن جاتے ہیں۔اس طرح مخصوص افراد کو گویا انکی محرومیوں میں اندر تک مزیددھکیل دیا جاتا ہے،جس سے اصلاح احوال کی منزل کی بجائے بگاڑکا گڑھاقریب آلگتاہے۔

8۔علم نفسیات نے معذورافراد کو بہتر بنانے کے لیے کئی طریقے دریافت کیے ہیں،یہ طریقے سالہا سال کی طویل مشق کے بعد اور کئی کئی مخصوص افراد پر تجربوں کے بعد دریافت کیے گئے ہیں،ان طریقوں کا استعمال بہتری کی طرف ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔

9۔فن طب میں بہت ساری دوائیاں بھی ان مقاصد کے لیے تیار کر رکھی ہیں،جو معذورافراد کو عام حالات میں یا کسی خاص حالات میں دینے سے انکوافاقہ ہوتا ہے ۔

10۔بعض مخصوص افرادبس گوشت کا ایک لوتھ ہی ہوتے ہیںجو بہت بڑے ہو جانے کے باوجود بھی اپنی ضروریات تک سے آگاہ نہیں ہوپاتے ،یہ اگرچہ معاشرے پر ایک مستقل بوجھ ہیں اور والدین کے لیے بہت بڑی آزمائش ہوتے ہیں لیکن نہ جانے جس گھر میں یہ موجود ہوتے ہیں وہاں سے کون کون سی آفتیں محض انہی کی وجہ سے ٹل جاتی ہیں اور نہ جانے کن کن ان جانے اسباب سے محض انہی کی خاطرگھر والوں کے لیے رزق کے دروازے کھل جاتے ہیں۔اﷲ تعالی کے ہاں مایوسی کو کفر سے ملایا گیا ہے پس کبھی اور کسی بھی حال میں مایوس نہیں ہونا چاہیے،اور پھر کیا سب معاملات اسی دنیا میں ختم ہوجانے ہیں؟؟نہ معلوم ایک معذور بچے کی پرورش کے عوض اﷲ تعالی کے ہاں کتنا ہی ڈھیرسارااجر لکھاجائے۔

یہ کام اگرچہ محنت طلب اور طویل دورانیے پر مبنی ہے،اور یقیناََ کامیابی کے امکانات بھی بعض اوقات بہت روشن نہیں ہوتے لیکن اس کے علاوہ اسکا حل ہی کیا ہے؟وہ بچہ جیسا کیسا بھی ہے بہرحال انسان کا بچہ ہے،ایک جانور بھی اپنے بچے کا کس قدر خیال کرتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ اس طرح کے بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی ایسے اسباق پڑھائیں جو زبانی یاد رکھے جانے کے قابل ہوں،انہیں ایسا کام سکھلا دیں کہ وہ کم از کم معاشی طور پر کسی کے کے محتاج نہ ہوں اورسب سے بڑی بات یہ کہ انکے ذہن میں مسلمان ہونے کا تصور ضرور ڈالیں۔حکومت کو چاہیے کہ ایسے مخصوص افراد کے مشاہیر مقرر کرے جو انکی نگہداشت کرنے والوں کو ادا کیے جائیں تاکہ سرپرست افراد کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔حکومت ایسے ادارے بھی بنائے جہاں ان بچوں کو کچھ دیر کے لیے یا زیادہ دیر کے لیے رکھاجاسکے تاکہ انکے ذمہ داران اپنی دیگر ذمہ داریاں بحسن و خوبی ادا کر سکیں اور جن بچوں میں سمجھنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے حکومت ان کے لیے تعلیمی ادارے بھی قائم کرے تاکہ انہیں معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جا سکے۔اور سرکاری سرپرستی میں تحقیق کے دروازے کھولے جائیں جس کے نتیجے میں معذور بچوں کی پیدائش کو کم سے کم کیاجاسکے اور عوام میں ان تحقیقی نتائج کی اشاعت کا اہتمام بھی کیا جائے۔

اللہ تعالی نے جس طرح سلامت الاعضا والحواس انسانوں کو اپنی کتاب میں احکامات کے ذریعے براہ راست مخاطب کیاہے اسی اسلوب میں معذورافرادکو بھی قرآن مجیدنے براہ راست مخاطب کیاہے۔حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ مدنی زندگی میںمسلمان جب بھی جہادکے لیے جاتے تواپنے گھروں کی چابیاں معذورافرادکو دے جاتے تاکہ وہ جب چاہیں دروازے کھول کر جوچاہیں کھا پی لیاکریں۔لیکن معذورافرادکو ہچکچاہٹ تھی یاشاید وہ اسے مناسب نہ سمجھتے ہوں ،تب اللہ تعالی نے یہ آیات نازل کیں:” لَیْسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَج وَّ لَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَج وَّ لَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَج وَّ لَا عَلٰی اَنْفُسِکُمْ اَنْ تَاْکُلُوْا مِنْ بُیُوْتِکُمْ(٢٤:٦١)”ترجمہ:”کوئی حرج نہیں اگرکوئی نابینایالنگڑایامریض تمہارے (یاکسی کے) گھرسے کھالے”۔سیرت النبی ۖمیں معذورافراد کے لیے خصوصی رعایات کا تفصیلی ذکرملتاہے۔ایک غریب اور نابیناصحابی حضرت ابن ام مکتوم تھے،یہ آپۖ کو بہت محبوب تھے۔پہلے یہ اصحاب صفہ کے درمیان رہتے تھے پھرانہیں ”دارالغذا”میں ٹہرادیاگیا۔جب حضرت بلال نہیں ہوتے تھے تویہ مسجدنبوی میں آذان دیاکرتے تھے خاص طورپر رمضان کے مہینے میں جب حضرت بلال سحری شروع کرنے کی پہلی آذان دے کرلوگوں کو بیدارکرنے کے لیے گلیوں کاچکرلگاتے تھے تب فجر کی آذان یہی نابیناصحابی ہی دیاکرتے تھے اورلوگ ان کی آذان سن کر کھانا پینا بندکردیتے تھے۔کئی مواقع پر جب آپۖ مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تویہی نابیناصحابی مصلی نبوی پر کھڑے ہوکر مسلمانوں کی نمازمیں امامت کرتے تھے کیونکہ آپۖ نے انہیں کام پر مامور کررکھاتھا۔ایک بارآپۖمسلمانوں کے مجمعے سے مخاطب تھے کہ ایک نیم پاگل بوڑھی عورت نے باہرسے آپۖ کو آواز دی،لوگوں نے عرض بھی کیاکہ یہ ذہنی معذوربڑھیاہے لیکن آپ ۖکمال شفقت و مہربانی سے اس کے ساتھ چل دیے،وہ آپۖ کو گلیوں میں گھماتی رہی اورآپ ۖ گھومتے رہے،وہ کہتی یہاں بیٹھ جائیں آپ وہیں تشریف رکھتے،وہ اپنی لمبی لمبی کہانیاں آپۖ کو سناتی رہی اورآپ پورے انہماک اوردلجمعی سے سنتے رہے۔حضرت عیسی علیہ لسلام کے معجزات تو معذورافرادسے ہی متعلق ہیں،نابیناکوبیناکردینا،کوڑھ کے مریض کو شفایاب کردیناوغیرہ۔حضرت عمرنے معذوراوربزرگ افرادکے لیے وظائف کااعلان کررکھاتھااور جو معذوریابزرگ غیرمسلم ہوتے انہیں جزیہ بھی معاف کردیاجاتاتھا۔

ایک بات خاص طور پر قابل ذکر ہے جس کی طرف حکومت،مخیرحضرات اور غیرسرکاری تنظیموںکی توجہ کی اشدضرورت ہے کہ وطن عزیزمیں بعض مقامات پر پورے کے پورے قبائل ہیں جو کئی نسلوں سے کسی خاص معذوری کا شکار چلے آ رہے ہیں لیکن غربت اور جہالت کے باعث وہ اسکے اسباب اوربچنے کے طریقوں سے ناواقف ہیں۔ان کا کھوج لگانا،ان پر طبی تحقیق کرنا،مستندنتائج حاصل کرنا اور پھر ان میں جو حکومت اور معاشرے کے کرنے کے کام ہیں وہ انکے ذمے لگانا اور جو متاثرہ خاندانوں کے کرنے کے کام ہیں اس سے انکو آگاہ کرنا ایک قابل قدر انسانی خدمت ہوگی اورآنے والی نسلوں کی حفاظت کی ضامن ہو گی۔والدین اور معاشرہ ایسے افراد کی پرورش اور نگہداشت کے ذمہ دار ہیں اور جہاں کہیں ضرورت پڑے وہاں ریاست بھی اپنے فرائض سرانجام دے گی لیکن ریاست اس معاملے صرف مالی و تکنیکی معاونت ہی فراہم کرسکتی ہے جبکہ اول و آخر ان افراد کی نگہداشت معاشرے اور والدین کو ہی سرانجام دینی ہے۔

International Day of Disabled Persons
International Day of Disabled Persons

سیکولرازم اورلبرل ازم نے گزشتہ کم و بیش تین سوسالوں سے قبیلہ بنی نوع آدم کی گردنوں پر اپنے خونین پنجے گاڑھ رکھے ہیں اور اس تمام عرصے میں بے پناہ جنگیں،انقلابات،ریاستی کھنچاؤ اور غربت و جہالت نے جس طرح ننگاناچ ناچا ہے اس سے معذورافرادکی ایک نئی قسم نے جنم لیاہے جو کہ ”نام نہاداعلی تعلیم یافتہ ذہنی مفلوج”طبقہ ہے۔اب یہ طبقہ پوری دنیامیں پایاجاتاہے جنہیں اپناوطن،اپنی زبان،اپنی تہذیب و ثقافت اورمذہب کی بجائے دورکے ڈھول سہانے لگتے ہیں۔خاص طورپر دوسری جنگ عظیم کے بعد سردجنگ کے زمانے نے اس معذوری میں مزیداضافہ کردیاہے۔یاسیت زدہ اس ذہنی معذورطبقہ کوان کے مغربی آقاؤں نے روشن خیال ،ترقی پسند، جدت پسند اورآزادخیال جیسے نام دیے ہیں۔ لیکن ان کی فکر،ان کی سوچ،ان کی ذہنی بالیدگی اور ان کی خیال آرائیاں سب کچھ مغربی سیکولرتہذیب کے سامنے ہتھیارڈال کراب محتاج محض ہوکر معذورومفلوج ہو چکے ہیں۔انہیں اپنی قوم میں دنیاجہان کی برائیاں،خامیاں،کمزوریاں اورناہمواریاں نظرآتی ہیں اور چڑھتے سورج کے ان پجاریوں کو مغرب میں دودھ اورشہد کی نہریں بہتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔یہ ذہنی معذورطبقہ اب غلامی کی آخری باقایات کے طورپر موجودہے۔جیسے جیسے تعلیمات وحی قلوب انسانی میں جگہ پیداکر کے شعورومعرفت کی منزلیں سرکرتی چلی جارہی ہیں ویسے ہی یہ طبقہ اپنی موت آپ مرتاچلاجارہاہے اور بہت جلد ان ذہنی معذوروں سے نجات کے بعد آزادی کے دن قریب آ لگے ہیں،ان شااللہ تعالی۔

تحریر : ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Share this:
Tags:
children People with Disabilities the universe Training upbringing افراد بچوں پرورش تربیت کائنات معذور
Ahmad Atullah
Previous Post عصرِ حاضر کا شاعرِ بے پناہ ۔۔۔۔۔ احمد عطاء اللہ
Next Post اہل وطن اور کتنی قربانیں چاہییں ۔٥
Jamaat-e-Islami

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close