
کمال حسن تھا اور معاملہ عقیدت کا
وہ کیسے طے کرے مرحلہ محبت کا
مزاج اُس کا زرا سا عاشقانا تھا
یہاں چل پڑا سلسلہ عبادت کا
وفور شوق میں بڑھتا رہا قدم بہ قدم
بیت جائے نہ کہیں لمحہ سعادت کا
ہزار سجدے کیے دل لرزتا ہی رہا
کرنا پڑ ے نہ کہیں سامنا قیامت کا
خوف بھی تھا مل کے پھر بچھڑنے کا
اندازہ بھی تھا اس کی پرانی عادت کا

شاعرہ: مسز جمشید خاکوانی
