چُپ رہنے نہیں دیتی ہے اِظہار کی خوشبو
دیوانہ بنا ڈالے گی یہ پیار کی خوشبو
ہر حال میں سانسوں کو معطر کیے رکھے
اِنکار کی خوشبو ہو یا اِقرار کی خوشبو
اِس رات کے سناٹے کی مدہوش فِضا میں
لگتی ہے بھلی دِل کو یہ تکرار کی خوشبو
اِک عمر رہے جِس سے گریزاں میرے ہمدم
کھینچے ہی چلی جائے ہے اس پار کی خوشبو
اِس شہرِ تمنا کے گلی کوچوں میں ساحل
رستوں سے الجھ پڑھتی ہے رفتار کی خوشبو

تحریر : ساحل منیر
