
مجھ کو مرنے بهی نہیں دیتا ستم کی حد ہے
زہر کا جام محبت سے پلانے والے
اب تیرے ہاتھ سے امید شفا ہم کو نہیں
پونچھ نہ اشک شب و روز رلانے والے
.
شوق میرا تها میرے بعد میں کیونکر گهر کو
کاسنی رنگ کے پھولوں سے سجانے والے
خط کے لکھنے کی بهی تکلیف گوارہ نہ ہوئ
وقت رخصت کو میرا ہاته دبانے والے
فائدہ کیا ہے جو آباد نہیں ہو پائے
آرزوؤں کا جہاں دل میں بسانے والے
سچ کی تعبیر سے ممتاز نظر کیسے ملے
جھوٹ کے سر پہ جئے خواب دکھانے والے
کلام: ممتاز ملک پیرس
