
آئے روز پاکستان کے اندر طرح طرح کی افواہیں جنم لیتی ہیں اور کچھ ہی دنوں میں دم توڑ دیتی ہیں کبھی تو حکومت کے جانے کی افواہیںاور کبھی سابق صدر جنر(ر) پرویز مشرف کی بیرون ملک جانے کی افواہیں سرفہرست رہیں حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ کا دورہ اس وقت ہوا جب پرویز مشرف کی عدالت میں پیشی کا وقت تھا سعودی وزیر خارجہ آئے اور ملک کی اہم شخصیات سے ملاقات کر کے چلے گئے یوں تو کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب نہ صرف ہمارا دوست ہے بلکہ ہر مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
دوسری طرف جب سعودی وزیر خارجہ سے پرویز مشرف کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا نجی دورہ ہے یہاں پر اس بات کو فراموش نہیں کرسکتے کہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی جب 1999ء میں حکومت ختم ہو ئی تب سعودی عرب نے میاں محمد نواز شر یف کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن قبل از وقت کہنا مشکل ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں سعودی عرب سمت دیگر ممالک کا کوئی خاطر خواہ رول ہو گا یا نہیں۔
موسم کی طرح پاکستانی سیاست کے اندر نشیب وفراد آتے رہتے ہیں لمحہ فکریہ یہ ہے کہ پاکستانی عوام کیلئے حکمرانوں کے پاس وقت نہیں کہ ملک صورتحال پر سوچ بچارکیا جائے۔ کیا پاکستانی عوام بے لگام گھوڑے کی طرح دندناتے پھرتے رہیں گے یا ان کا بھی کوئی پرسان حال ہو گا۔
جب بھی نئی حکومت آتی ہے تو عوام کی طرف سے پچھلی حکومت کا یاد کیا جاتا ہے وہ ان سے بہتر تھی روز بروز مہنگائی کے بڑھنے سے لو گوں میں غم وغصہ کی لہر بڑھتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے۔ جیسے ہی کسی بھی مذہبی، سیاسی یا اپوزیشن پارٹی کا سر براہ کو ئی مہنگائی، لاقانونیت کے خلاف کال دیتا ہے تو اسکے جلسے جلوسوں میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے تو اس بات سے حکمرانوں کو غافل نہیں رہنا چاہے۔ برسر اقتدار پارٹی (مسلم لیگ ن) کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے چاہئے کہ جس سے مہنگائی، بے روزگاری، لااینڈآرڈر کی صورتحال اور دہشت گردی سے عوام کو جلد ازجلد نجات مل سکے۔
حکمرانواں کو ان باتوں کو پس پشت ڈال کراپنی کر اپنی موج مستیوں اور (سب اچھا ہے) کی خبر سے اپنے پارٹی سربراہ کو کرتے رہے ہیں۔ ہوش کے ناخن لیں۔ نہ کہ کل کسی ایسے سانحہ سے دوچار ہونا پڑے۔ جس طرح ماضی میں جلاوطنی یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا ہونا پڑے یا لوگوں کو اسلام آباد کی طرف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا پڑے۔ لہذا ہم اس ملک کی بڑی قیادت عسکری اور جوڈیشلی سے حکمرانوں پر چیک اینڈبیلس کی امید رکھتے ہیں اور ملک کو صحیح سمت کی طرف لے جانے میں اہم کردار کی امید کرتے ہیں تا کہ ملک کو سیاستدانوں کی لوٹ مارسے بچایا جاسکے۔
بلدیاتی انتخابات کا شیڈول آتاہے چند ہفتوں کے موخر ہو جات اہے۔ ایسے کونسے سیاستدان میں جو انتخابات کو التواء میں ڈالے ہو ئے ہیں اور جمہوریت کے حسن کے نکھار کو روکے ہوتے ہیں۔ ایسے سیاستدانوں کے عزائم کو روند کر جلدازجلد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔ تا کہ نچلی سطح پراقتدار کی منتقلی آسان ہو ایم پی اے اور ایم این اے تک عوام کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے عام آدمی بہت سارے مسائل سے دوچار ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ایم پی اے اور ایم این اے کو حکومت نے عوام کی پہنچ سے دور رکھا ہے۔
یہاں میں یہ بتایا چلوں کہ جب تک اس ملک میں بجلی کا بحران کم نہ ہوا اس وقت تک بلدیاتی انتخابات کو التواء میں ڈالا جاتا رہے گا۔ لہذا ایسے حکمرانوں کو چاہئے کہ فوری طور پر عوام کے حقیقی مسائل کو سامنے رکھ کر ایسے اقدامات کرے کہ ملک خوشحالی کی طرف گامزن ہو۔تمام سیاسی پارٹیوں کو چاہئے کہ ایک نقطہ پر مرکوز ہو جاہیں تا کہ ملک میں جمہوری عمل کوبحال کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے وہ دم توڑ دے۔
تحریر: علی کامران ڈھلون
(کامرانیاں)
