
اسلام آباد (جیوڈیسک) حکمراں مسلم لیگ ن نے ممکنہ طور پر محرم الحرام کے اختتام تک وفاقی اور پنجاب کی صوبائی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی کابینہ میں مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے کچھ نئے چہرے شامل کیے جائیں گے۔
کابینہ میں توسیع کا فیصلہ رواں ماہ حکومتی جماعت کے کئی مشاورتی اجلاسوں میں کیاگیا۔ ان اجلاسوں میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے قریبی وزرا چوہدری نثار، اسحاق ڈار، خواجہ آصف، پرویز رشید، احسن اقبال ، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز نے شرکت کی۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کچھ بااثر وزرا سے دوسری وزارتوں کے اضافی چارج بھی واپس لئے جائیں گے۔
دونوں کابینہ میں توسیع گزشتہ ماہ متوقع تھی تاہم اسلام آباد میں احتجاج اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باعث ایسا نہ ہوسکا۔ اب حکومت اس فیصلے پر عملدرآمد کیلیے آج سے شروع ہونیوالے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے اختتام پر کرے گی۔ اگر یہ اجلاس محرم الحرام کے احترام میں ملتوی کیے گئے۔
تومحرم کے 10 روز گزرنے کے بعد کابینہ میں تبدیلیوں کا اعلان کیا جائیگا۔ قابل اعتماد ذرائع نے بتایا کہ حکومت اعجاز الحق اور آفتاب شیرپاؤ کو بھی وفاقی وزارتیں دیگی۔
وزارت قانون کیلیے بھی موزوں شخص کی تلاش جاری ہے۔اگرچہ وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی زاہد حامدغیر اعلانیہ طور پر وزارت قانون بھی دیکھتے ہیں تاہم وہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی وجہ سے باقاعدہ طور پر یہ عہدہ نہیں لے سکتے۔
وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے بعد وفاقی کابینہ میں توسیع ہوسکتی ہے۔ وفاقی کابینہ میں 4 یا 5 نئے چہرے شامل ہوسکتے ہیں۔حکومتی جماعت کے اراکین ماروی میمن، جنید انوار چوہدری اور عبدالرحمن خان کانجو وفاقی وزارت حاصل کرسکتے ہیں۔
جبکہ ماروی میمن کی نظریں وزیرمملکت برائے خزانہ کی سیٹ پر ہیں۔ پنجاب کابینہ میں سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ کی واپسی ہوگی۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اس بارے میں کہا کہ راناثنا اللہ پارٹی کا سرمایہ ہیں۔ قیادت نے اصولی طور پر فیصلہ کیا ہے۔
کہ انھیں صوبائی کابینہ میں واپس لیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق صوبائی کابینہ میںممکنہ طور پر شامل ہونیوالے دیگر نئے چہروں میں سردار جمال لغاری، زعیم قادری ،منشاء اللہ بٹ، مخدوم ہاشم جوان بخت،لیفٹیننٹ کرنل(ر) سردارمحمد ایوب خان،عائشہ غوث پاشا اور سلمان رفیق شامل ہیں۔
