
ہارون آباد:آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ ننھے معصوم طلباء پر دہشت کاروائی ایک وحشیانہ ہی نہیں غیر انسانی فعل ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کی جانی چاہئے۔
دہشت گردوں کا یہ دعویٰ کہ ہم جہادی ہیں بالکل عبث بات ہے کیونکہ جہاد اسلامی میں تو اس واضح لائحہ عمل کا کھلا اعلان ہے کہ اگر کافر کے خلا ف بھی جہاد ہورہا ہوگا تو معصوم ننھے بچوں، طلباء ، خواتین، بوڑھے ، معذور افراد پر قطعاً حملہ نہ کیا جائے گااور گرفتار بھی ہوجائیں تو ان کو تحفظ دینا ہوگا ۔اب ان بے قصور بچوں پر بزدلانہ حملہ کوئی کافر ہی کرسکتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار قائد اللہ اکبر تحریک پاکستان ڈاکٹر احسان باری نے فوارہ چوک ہارون آباد میں عوامی احتجاجی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوںنے کہا کہ یہ بات قابل تفتیش ہے کہ کوئی بیرونی طاقت یا سامراجی ملک تو اس میں ملوث نہیں کہ پہلے بھی اکثر دہشت گرد جو گرفتار ہوئے۔
ان میں بھارتی را اور بیرونی خفیہ ایجنسیوں کے لوگ شامل تھے۔ سکوت ڈھاکہ کے روز 16دسمبر کو ہی اس دہشت گردانہ واقعہ نے پوری قوم کو سوگوار کرڈالا ہے ۔ ایسا گھمبیر واقعہ کہیں 1972ء کے واقعات کی مسلسل کڑی نہ ہو جس سے ڈیڑھ سو بچے شہید اور سو سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ اس اجتماع سے تنظیم ”شاباش پولیس” کے رہنما راؤ عرفان نے بھی خطا ب کیا۔ڈاکٹر احسان باری نے ایک علیحدہ بیان میں پرزور مطالبہ کیا ہے کہ نوازشریف صرف پارلیمانی جماعتوں کی جو کانفرنس بلار ہے ہیں وہ کافی نہیں ہے۔
کیونکہ بھاری جعلی مینڈیٹ کے بعد اور الیکشن میں دھاندلیوں کی وجہ سے پارلیمنٹ اصل موثر ادارہ نہیں ہے بلکہ انہیں الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کااجلاس فوری بلا کر ایسا لائحہ عمل تجویز کرنا چاہئے کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوسکیں ۔ انہوں نے ان واقعات میں ملوث اگر وہ پاکستانی ہیں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کی مغربی سرحدوں کے اپنی سابقہ تاریخ کے مطابق محافظ بنیں نہ کہ ایسی دلسوز ، قابل مذمت واقعات میں ملوث ہوں۔
