Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پیر سید محمد علی شاہ جعفری سبز واری رحمة اللہ علیہ

March 26, 2017March 26, 2017 1 1 min read
Mazar Mubarak
 Pir Syed Mohammad Ali Shah Jafari
Pir Syed Mohammad Ali Shah Jafari

تحریر: صاحبزادہ مفتی نعمان قادر مصطفائی
یوں تو اس کائنات میں کروڑوں انسان آئے اور چلے گئے مگر بعض نفوسِ قُدسیہ ایسے ہوتے ہیں جن کے چلے جانے کے بعد ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جس کا صدیوں تک پُر ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

انہی یگانہ روزگار ہستیوں میں ایک ہستی حضور پُرنور فیض ِگنجور پیر سید محمد علی شاہ جعفری سبزواری سرحمتہ اللہ علیہ تھے بلاشبہ آپ ان بزرگوں، ہادیوں اور راہبروں میں سے ہیں جن کی عقیدت کے پرچم آج بھی لوگوں کے سروں پر ہی نہیں بلکہ دلوں میں بھی لہرارہے ہیں۔

وئے صورتیں الٰہی کس دیس بستی ہیں
اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں

آپ روحانیت کے آفتاب، تقوی و پرہیز گاری کا جیتا جاگتا ثبوت، عجز و انکساری کا پیکر، لطف و کرم کا مجسمہ، علم و عمل کا روشن مینار تھے جو ہمیشہ کے لئے ہمیں داغِ مفارقت دے کر عالمِ فنا کو چھوڑ کر عالمِ بقا کی طرف نقل مکانی فرما گئے وہ کتنے پیارے محبوب تھے جو چلے گئے۔

وہ دکھا کے رخ جو چل دیئے دل ان کیساتھ رواں ہوا
نہ وہ دل رہا نہ دل ربا رہی زندگی سو وبال ہے

قبلہ حضور پیر سید محمد علی شاہ جعفریاپنے زمانے کے عارف کامل اور شہبازِ ولایت تھے سلوک و معرفت کے میدان میں شاہسوار اور مملکت ِطریقت کے شہریار تھے آپ طریقت کے بلند مقام پر فائز تھے شاداب ہے جن کی برکت سے طریقت کا چمن آپ کی چھوٹوں پر شفقت، ہر کسی پر رافت اور غیروں پر محبت لٹانے کا عمل، دل کو موہ لینے کا اندازِ گفتگو، لہجے میں نرمی و مٹھاس، چہرے پر شفقت آمیز روشنی، رُخِ انور پر تلاوتِ قرآن کی بہار، وعظ و نصیحت پر شگفتہ بیانی اور معتدل ظرافت آپ کے اخلاقِ کریمانہ کے زندہ ثبوت ہیں،جب کلام فرماتے تو رنگا رنگ پھول جھڑتے۔

یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی
یوں لب کشا ہوئے کہ گلستان بنا دیا

یہ بوریا نشین مردِ کامل کتنے کریم تھے، فیوض و برکات کے خزانے لٹاتے، عیب پوشی فرماتے ہم سیاہ کاروں کو گلے لگاتے ،کرم پہ کر م فرماتے، دُکھیوں کے دکھ دور فرماتے، مریدوں کی بگڑی بناتے، عقیدت مندوں کے کام سنوارتے، سلسلہ طریقت کا حُسن نِکھارتے اچانک ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے ،وہ چاند بدلیوں میں چھپ گیا جس کی پربہار چاندنی اور وہ سورج غروب ہوگیا جس کی پروقار روشنی آفاق ِعالم طریقت کو تابندہ اور درخشندہ کررہی تھی وہ محبوب جو زندگی کا قرار تھا روحوں کی غذا جس کا دیدار تھا اور ہم شکستہ دلوں کی بہار تھا اس محبوب نے ہم سے کیوں پردہ فرما لیا ہماری بے تاب نگاہوں سے کیوں منہ چھپالیا بقول پیر نصیر الدین نصیر گولڑوی رحمتہ اللہ علیہ۔۔

مطلب یہ ہے کہ اور ہو حیران چشم شوق
پردے میں چھپ گیا ہے کوئی مسکراکے یوں

یادوں کے چراغ محبت کے حوالے سے ہی پہچانے جاتے ہیں جب کسی سے پیار ہوتا ہے اس کے اطوار و اخلاق کو محبت ہی سے جانچا جاتا ہے دل میں بٹھایا جاتا ہے پھر انس بڑھتا ہے پیار کی لگن ابھرتی ہے دل میں ایک مقام پیدا ہوتا ہے آہستہ آہستہ اسی کا ہوجاتا ہے۔ ”من احب شیأً اکثر ذکرہ” جس سے آدمی کو محبت ہوتی ہے اکثر اسی کا ذکر کرتا ہے
ہم کو پسند یار کی بانکی ادا لگی وہ ہمارے کریم، شفیق اور مہربان تھے مونس و غم خوار تھے دیدار کراتے دل موہ لیتے بقول محسنِ اہلسنت قبلہ پیر محمد اسلم شہزاد قادری دامت بر کاتہم العالیہ ”جب بھی آپ کی خدمت عالیہ میں کسی کو بھی حاضری کا شرف نصیب ہوتا دلی سکون نصیب ہوتا عقیدت مند دور دراز سے سفر کرکے حاضر ہوتے تو قبلہ شاہ جی رحمتہ اللہ علیہ کا پوچھتے پوچھتے دیوانے بن جاتے جب تک دولت دیدار سے مالا مال نہ ہوتے طبیعت بے چین رہتی” پیرو مرشد کا نام مبارک لبوں پر جاری رہتا اور جب دیدار ہوتا، دل کو قرار ہوتا، تھکن دور ہوتی، روح مسرور ہوتی، جان کو جان ملتی اور ایمان کی چاشنی میسر آتی، ہر عقیدت مند یہی سمجھتا کہ سب سے زیادہ مجھ سے ہی پیار ہے، سب سے زیادہ مجھ ہی پر کرم ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ” ولی کی نشانی یہ ہے کہ جس کو دیکھنے سے اللہ یاد آجائے آپ کی زیارت باسعادت اس حدیث کی تفسیر بن جاتی۔ آپ کے حسن و جمال کی تجلیاں اب بھی نگاہوں میں تیر رہی ہیں انوارِ ربانی چہرہ انور میں چمکتے تھے بقول پیر نصیر الدین نصیر گولڑوی رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔

جلوئوں نے تیرے دی ہے دل و جاں کو وہ رونق
دیدار کی حسرت کا مزا یاد کریں گے

کہنے والے کہتے اور لکھنے والے لکھتے ہیں کہ وہ وقت یاد آتا ہے جب آپ قرآن کریم کی تلاوت شروع فرماتے تو دل معطر و معنبر ہوجاتے عجیب اتفاق ہوتا کہ لوگ آپ کی زیارت بھی کرتے اور تلاوت بھی سنتے۔۔۔

جی چاہتا ہے قدرت صانع پر ہوں نثار
تجھ کو بٹھا کے سامنے یادِ خدا کروں
اسی بات کو ایک اور مردِ درویش نے یوں بیان کیا ہے کہ
میں نیواں میرا مرشد اُچا اُچیاں دے سنگ لائی
صدقے جاواں اِنہاں اُچیاں توں جنہاں نیویاں نال نبھائی
مرشد دا احسان میرے تے غم دور کرے محتاجاں
ایتھے اوتھے دو ہیں جائیں سوہنے نوں لاجاں

آپ کا اصل وطن کاکڑہ شریف (پٹیالہ )بھارت ہے وہاں سے آپ ہجرت فر ما کر پاجیاں رایئونڈ روڈ لاہور تشریف لائے ،پاجیاں میں ایسی بیماری پھیلی کہ لوگوں کے جانور کثرت سے مر رہے تھے جب آپ تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ یہ پانی دم کیا ہوا ہے جا کر جانورو کو پلا دو انشا ء اللہ تعالی ٰ اپنے حبیب کریم ۖ کے صدقے کرم فرمائے گا پھر ایسا ہی ہوا کہ جونہی پانی پلایا گیا وہ بیماری دور ہو گئی اس طرح دور دور تک آپ کی کرامت کی یہ خبر پھیل گئی اور لوگ جوق در جوق حاضر ہو نے لگے اب ہر شخص سوا کلو گندم بطور نذرانہ پیش کرتا اور اس طرح ٹنوں کے حساب سے گندم اکٹھی ہو جاتی اور آپ وہ ساری گندم غریبوں میں تقسیم فر ما دیا کرتے تھے آپ نجیب الطرفین سید تھے یعنی حسنی حسینی سید تھے آپ کے بڑا مانانوالہ میں مُرید کثرت سے تھے اور وہاں کی کمبوہ برادری کی کثیر تعداد آپ کے حلقہ ارادت میں شامل تھی اس وجہ سے آپ کا مزار مبارک وہی پر بنایاگیا جب آپ کا جنازہ لے کر جا رہے تھے تو بادل مسلسل آپ پر سایہ کیے رہے ،سات سال کے بعد جب آپ کی قبر کشائی کی گئی اور آپ کا تابوت باہر رکھا گیا تو ہزاروں لوگوں نے یہ منظر دیکھا کہ کہ آپ کے تابوت کے ساتھ لگے کیل کو بھی ذرا بھر زنگ نہیں لگا ہوا تھا اور آپ کا چہرہ چمک رہا تھا اور عجیب بھینی بھینی خوشبو نے پورے ماحول کو معطر کیا ہوا تھا۔

عالمِ انسانیت کا سب سے بڑااورا ہم مسئلہ بلکہ فریضہ یہ ہے کہ اعلیٰ اقدار اور بہترین اخلاق وعادات کی زیادہ سے زیادہ ترویج اور نشرواشاعت کی جائے اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں انسانی اخلاق و اقدار کے بہترین عملی نمونے دنیا کے سامنے پیش کئے جائیںاس موضوع پر زیادہ سے زیادہ کتابیں لکھی اور شائع کی جائیں اور معلوم انسانی تاریخ میں اعلیٰ اخلاق و اوصاف کے حامل اوران کے پیامبروں کی مبارک زندگیوں کے حالات وواقعات کی نشرواشاعت کی جائے ،ابتدائے آفرینش سے دنیا ئے انسانیت دو عظیم مسئلوں سے دوچار ہے ہر چند حضرت انسان نے ہواؤں کو مسخر کرلیا چاند اس کا معمولی شکار قرار پاگیا ہے مگر یہ دو مسائل اپنی شدت اوراہمیت کے اعتبار سے گھٹنے کی بجائے برابر بڑھ رہے ہیں یہ مسائل ہیں بھوک اورافلاس سے عدم تحفظ اورامن وآشتی کی آرزو، ہردور کا انسان کبھی اپنے طورپر اور کبھی آسمانی ہدایت کی روشنی میں برابر ان مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہا ہے پوری طرح مطمئن نہ ہو کر وہ مغرب کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف دیوانہ وار لپکا کہ شاید اسے اپنے درد کا شافی درماں یہیں سے مل سکے لیکن افسوس کہ اس کا یہ خواب بھی سراب ثابت ہوا ایک صدی کے تلخ تجربات نے اسے آج یہ سوچنے پرمجبور کر دیا ہے کہ انسانی جسم کی سہولت او روقتی فائدے کی خاطر سائنس نے بلاشبہ بہت مفید ایجادات اور اضافے کئے ہیں تاہم انسانیت کو اس کی حقیقی منزل جو یقینا امن و آشتی اور انسانی بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ ایک ہمدرد ،غمگسار، خیرخواہ اورجنت نظیرمعاشرے سے کوسوں دور کر دیا ہے۔

Mazar Mubarak
Mazar Mubarak

آج کا انسان جہاں اخلاقی اور روحانی اعتبار سے وحشی دور کو بھی پیچھے چھوڑ گیاہے ٹھیک وہاں اس نے اپنے آپ کو مادی اعتبار سے بھی تباہی وبربادی کے نشانے پر لاکھڑا کیاہے ،اس دردناک صورتحال نے پوری دنیاکے مفکرین کوسوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ غالباً انسانی زندگی کے طوفان کے آگے بند باندھنے یااس کا رخ موڑنے کے لئے مذہب اور عقیدے سے زیادہ موثر ومفید اور کوئی ذریعہ نہیں ہے یہی وہ طاقت ہے کہ اسے رہنما بنا کرانسانی زندگی کی حقیقی منزل تک پیش رفت کی جاسکتی ہے اسکے سوا دوسرے تمام راستے نہ صرف یہ کہ اصل منزل تک پہنچنے کے لئے مسدود ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے تمام راستے اصل منزل سے مزید دوری کا سبب ثابت ہوئے ہیں اور ہورہے ہیں
ظاہر ہے کہ ان حالات میں وہی نظریہ تمام دکھوں کاعلا ج ثابت ہوسکتا ہے جس میں ماؤ شما کی تمیز نہ ہو، کالے گورے اورعربی عجمی میں تفریق کاروادار نہ ہو جس میں شاہ وگدا ،ا میر وغریب برابر اور شانہ بشانہ کھڑے ہوںجو الخلق عیال اللّٰہ (ساری مخلوق اللہ کاکنبہ ہے )کاعالمگیر نظریہ پیش کر کے دنیائے انسانیت کو ایک ہی گھرانے اور کنبے کے افراد قرار دیتاہو ، جہاں ایک فرد کے پاؤں میں کانٹا چبھے تو اس کی کسک سارا خاندان محسوس کرتاہو گویا۔۔۔۔

خنجر چلے کسی پے تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا در د ہمارے جگر میں ہے
حضرت سعدی کے الفاظ میں صورت حال کچھ یوں ہے
بنی آدم اعضائے یکدیگر اند
کہ در آفرینش زیک جوہر اند
چوں عضو بدرد آورد روزگار
دگر عضوہا را نماند قرار

یہ آفاقی نظریہ اسلام نے پیش کیاسرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا معاشرہ قائم فرمایا جسے چودہ سوسالہ تاریخ اسلام میں ہر دور کے صوفیاء اور فقراء نے اپنے عمل وکردار سے اسے زندہ تابندہ رکھا ،حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمة اللہ علیہ کے یہ الفاظ ہمارے اسی مثالی طرزِ حیات کاتعارف کراتے ہیں آپ نے فرمایا:
یکے خار نہد تو ہم خار نہی ایں دنیا خار خار باشد …
میان مردماں ہم چنین است کہ بانغزاں نغزای
باکوزاں کوزای اما میان درویشاں ہم چنین نیست
کہ با نغزاں نغزیٰ باکوزاں ہم نغزی ١
”اگر کوئی کانٹا رکھے اور تو بھی اس کے بدلے میں کانٹا رکھے تو کانٹے ہی کانٹے ہو جائیں گے عام لوگوں کا دستور تو یہ ہے کہ اچھے کے ساتھ اچھا اور برے کے ساتھ برا پیش آتے ہیں مگر درویشوں کا دستوریہ نہیں ہے یہاں نیک و بد دونوں کے ساتھ نیک ہونا چاہیے۔”
مشائخ کرام کے د ستور العمل کا سرمایہ یہ رہا ہے
ہر کہ مارا رنجہ داد راحتش بسیار باد
ہر کہ مارا یار نبود ایزد اورا یار باد
ہر کہ خارمے افگند در راہ مااز دشمنی
ہر گلے کز باغ عمرش بشگفد بے خار با

حضرت قبلہ پیر سید محمد علی شاہ جعفری سبز واری رحمة اللہ علیہ نے ایک دفعہ لنگر عالیہ سے متعلق اپنے ایک مرید سے انتہائی درد مندی اور گلو گیر آواز میں فرمایا کہ ”میرے بھائی! بعض اوقات مجھے بھوک ستاتی ہے سب کچھ آپ لوگوں کا ہے اگر میرے پاس کچھ ہو تو میں کچھ چنے لے کر کسی برتن میں رکھ دوں تاکہ بھوک کی صورت میں خود بھی کھائوں اور سفر پر جانے والے درویشوں کو بھی اس میں سے دے دیا کروں ”
قبیلہ اولیاء کے سر خیل اور آبروئے مسند تصوف حضرت پیر سید محمد علی شاہ جعفری رحمة اللہ علیہ ایک بے لوث اور بے ریا مردِ درویش تھے آج تک کسی کو بھی آپ کے در سے خالی ہاتھ جاتے نہیں دیکھا گیا آپ نے ہمیشہ بھوک میں مبتلا انسانیت کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا ہے اور آپ کسی بھوکے انسان کو کھانا کھلا کر سکون محسوس کرتے تھے آج بھی آپ کے آستانے پر حاضر ہونے والا لنگر کھائے بغیر نہیں جا سکتا حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی رحمة اللہ علیہ کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ آپ اکثر روزہ سے ہوتے بعض دفعہ سحری کے وقت خواجہ عبد الرحیم (خادم) کھانا لے کر جاتے اور عرض کرتے حضور ! آپ نے افطاری کے وقت بہت ہی کم کھایا تھا سحری کے وقت کچھ تناول نہ فرمائیں تو ضعف بڑھ جائے گا۔ یہ سن کر آپ زارو قطار رونے لگے اور فرمایا۔۔۔۔

”چند یں مسکیناں و درویشاں در کنج ہائے مساجد و گرسنہ و
فاقہ زدہ اند ایں طعام در حلق چگونہ فرو رود”

”کتنے مسکین اور درویش مساجد کے کونوں اور بازاروں میں بھوکے پڑے ہوئے ہیں بھلایہ کھانا میرے حلق سے کیوں کر اُتر سکتا ہے”
ایک انسان کو بہتر انسان بنانا، اسے تمام اخلاقی صفات سے آراستہ کرنا، اسے خدمت گزار ، ہمدرد ، رضا کار، خدا ترس، جفا کش ، بردبار ، ایثارپیشہ ، نرم دل اور نرم خو بنانا ایسا آسان کام نہیں جو چٹکیوں میں کر لیا جائے قارئین سے مخفی نہیں کہ انسان کو سکھانا اور سدھانے سانپ کا سکھلانے سدھانے سے کہیں مشکل ہے، اس لئے ضروت تھی کہ بڑے بڑے ادارے ہوں جہاں انسان کو انسان بنانے کی عملی تربیت گاہیں قائم ہوں کیونکہ آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا”
یہ اسلام کا اعجاز ہے کہ جب تک اس کی حکومتیں مثالی (خلافت راشدہ) رہیں تو یہ حکومتیں اس عظیم الشان کام کے خود بڑے ذمہ دار ادارے کی حیثیت رکھتی تھیں مگر جونہی یہ مثالی حکومتیں ختم ہوئیں اور بادشاہوں کے پاس منتقل ہو گئیں تو اسلام کے ان اعلیٰ اخلاقی اور روحانی اداروں کی سنبھال اور دیکھ بھال کے لئے ہزاروں کی تعداد میں صوفیاء اور مشائخ میدانِ عمل میں نکل آئے انہوں نے دنیا کے گوشے گوشے میں اپنی خانقاہیں قائم کر لیں، اپنی بے نفسی، منکسر مزاجی اور فکر و عمل کی پاکیزگی کے ذریعے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہو گئے، اگر ہمارے پاس تصوف اور روحانیت کا یہ عظیم الشان ادراہ نہ ہوتا تو جہاں اسلام (معاذ اللہ) اپنی کشش کھو چکا ہوتا، وہاں دنیا بھی کب کی نفسانیت ہوا و حرص، چھینا جھپٹی اور زر پرستی کے اندھیروں میں مبتلا ہوکر اپنی حقیقی منزل کا نشان گم کر چکی ہوتی اور کچھ عجب نہیں کہ بے شمار علاقوں سے اقتدار کے خاتمے کے بعد مسلمان اپنا بستر بوریا لپیٹ چکے ہوتے
تصوف کیا ہے؟

اسلام کے عمل پہلو تزکیہ نفس اور تصفیہ اخلاق کا نام تصوف ہے۔ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت مبارکہ کا مقصد یہ بیان فرمایاہے ارشاد ہوا۔

بعثت لاتمم مکارم الاخلاق میں اخلاقی محاسن کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔

اخلاقی زندگی کے دورخ ہیں۔ ایک انسان کا دوسرے انسان سے بہتر رشتہ ،اور دوسرے انسان کا اپنے خالقِ حقیقی سے بہتر رشتہ ، ان دونوں رشتہ کے حقوق کی بہتر ادائیگی کا نام تصوف ہے۔حضرت اما م غزالی رحمة اللہ علیہ نے مختلف علوم و فنون میں کمال حاصل کرنے اور انہیں چھاننے کھنگالنے کے بعد فرمایا”صوفیا ئے کرام با لخصوص اللہ تعا لیٰ کے راستے پر چلنے والے ہیں ان کی سیرت سب سے اچھی، ان کا راستہ سب سے سیدھا، ان کے اخلاق بہترین اخلاق ہیں، اگر سارے دانشمندوں کی عقل، فلسفیوں کا فلسفہ اور شریعت کے رموز جاننے والے علماء کا علم جمع کر لیا جائے تا کہ ان کی سیرت یا اخلاق میں کچھ تبدیلی کر دیں یا اسے بہتر چیز سے بدل دیں تو انہیں اس کی گنجائش نہیں ملے گی، اس لئے کہ ان کے تمام حرکات و سکنات ظاہر وباطن میں نورِ نبوت کے چراغ سے ماخوذ ہیں اور روئے زمین پر نبوت کے سوا کوئی نور نہیں ہے جس سے روشنی حاصل کی جا سکتی ہو”
ابو الحسین نوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

التصوف ترک کل حظ للنفس۔
”تصوف نفس کی تمام خواہشات چھوڑنے کا نام ہے۔”
ہمیں حیرت ہے کہ ہمارے بعض جدید قسم کے مفکرین، صوفیاء کے اندازِ تبلیغ پر نکتہ چینی کرتے نہیں تھکتے آخر وہ کیوں نہیں سوچتے کہ با لفرض بقول آپ کے صوفیاء کی یہ اپاہج تبلیغ بھی نہ ہوتی تو برِ صیغر میں آپ کی پوزیشن کیا ہوتی؟ اور کیا برابری کی بیناد پر کسی قسم کی گفتگو کرنے کے آپ اہل بھی ہوتے؟ ہمیں یہ بات تسلیم ہے کہ تصوف کے راستے کچھ خرابیاں آئیں مگر ہمارے پاس اساطین صوفیاء کی مدون کردہ اصول و فروع پر بے شمار بنیادی کتابیں موجود ہیں جن کی روشنی میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جا سکتا ہے۔

آج قبلہ شاہ جی رحمة اللہ علیہ کے سالانہ عرس پر حاضری کی سعادت حاصل کرنے والے عقیدتمندوں سے گزارش ہے کہ وہ اُن تعلیمات کو ورد ِ زبان اور حرزِ جاں بنالیں جو صاحب ِ مزار نے ہمارے لیے چھوڑی ہیں
عرس مبارک میں ملک بھر سے اہل اسلام تشریف لاتے ہیں جن میں ملک کے قریہ قریہ سے معروف مشائخ عظام ، نامور علماء کرام ، دانشور ، کالم نگار ، ادیب ،پروفیسرز ، ڈاکٹرز انجنیئرز شامل ہیں عرس مبارک کے پر نور لمحوں اور با برکت ساعتوں کو اپنے دامن میں سمیٹتے ہوئے اپنے اپنے انداز ِ عقیدت میں حضورقبلہ شاہ جی رحمة اللہ علیہ کی خوبصورت اور نیک سیرت شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں ، پر نور اور با وقار تقریب ِ سعید میں سکالرز اور دانشور حضرات پر مغز گفتگو بھی فرماتے ہیں اور طلبہ میں حصول علم کا جذبہ پیدا کرنے پر بھی زور دیتے ہیں ہہجری سال کا چھٹا مہینہ جما دی الثانی میں ہند ،سندھ،پنجاب تے ماڑ اور سُنج ،بر تے شہر ،بازار سے سارے کارواں ،سب قافلے ،سب راستے بڑا مانانوالہ کی عظیم درگاہ کی طرف جاتے ہوئے نظر آرہے ہوتے ہیں ہر پیرو جواںاور مردو زناں کی زبان پرایک ہی آفاقی نعرہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کاورد ہوتا ہے اور محبانِ اولیاء اپنے کریم مُرشد کی محبت اپنے من میں سجائے کشاں کشاں چلے آتے ہیں ان سب کی نگاہوں کا مرکزاور محور درگاہ شریف ہوتی ہے جہاں پر صبح و مسا ء انوار و تجلیات کی بارش کانزول ہوتاہے قبلہ پیر سید محمد علی شاہ جعفری سبزواری رحمة اللہ علیہ کا سالانہ عرس مبارک پر تو روحانی و نورانی مناظر قابل ِدید ہوتے ہیں درگاہ شریف ہزاروں زائرین سے چھلک رہی ہوتی ہے ،مہانوںکا استقبال کرنے ،پارکنگ، راہنمائی، معاونت اور خدمت کے لیے درگا ہ شریف کے خادمین جو دن رات 24گھنٹے ہمہ وقت چوکس نظر آرہے ہوتے ہیں۔

امورروابط عمومی،امور ِکفشداری(جوتوں کی نگہداشت )،امورِ اتظامی و آگہی،امورِامانات ونگہداری اشیائے گمشدہ ،ادارہ امدادزائر ین داخلی ،ادارہ مہمان سرائے وغیرہ شامل ہیں جو زائرین کی خدمت کو فرض کے درجہ پر رکھتے ہیںدرگاہ عالیہ سے متعلق مختلف قسم کی خدمات اور زائرین کی ضروریات کے انتظام کی ہمہ گیری اور وسعت کا اندازہ درج بالا شعبوں سے ہی ہو جاتا ہے جب زائرین کی تعداد ہزاروں میں ہو اور ان میں سندھی ، سرائیکی ، پنجابی ، بلوچی ، پشتون مردو زن اور ہر عمر اور پیشے کے لوگ ہوں تو ان کو کیسی ضرورتیں اور کتنی مشکلات پیش آتی ہیں۔۔۔۔۔؟مگر درگاہ شریف کا حُسن انتظام دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔۔۔۔۔۔ درگاہشریف کا حُسنِ انتظام دیکھ کر قبلہ پیر سید کاظم حسین شاہ قادری سبزواری دامت بر کاتہم العالیہ (سجادہ نشین )کی علم دوستی کی جھلک نظر آتی ہے۔

Mazar Mubarak
Mazar Mubarak

تحریر: صاحبزادہ مفتی نعمان قادر مصطفائی
بانی و مرکزی امیر تحریک منہاج الرسول ۖ پاکستان ، مرکزی خطیب جامع مسجد مدینہ شریف ، اعوان ٹائون لاہور

Share this:
Tags:
devotion universe بزرگوں روشن عقیدت کائنات
Pai Khel
Previous Post پائی خیل کی خبریں 26/3/2017
Next Post الطاف حسین کی پاکستان سے دشمنی کیوں
Altaf Hussain

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close