
تحریر: وقارانساء
27 ستمبر کو شاہ بانو میر ادب اکیڈمی کے تحت ہونے والی میٹنگا کیڈمی کی بانی محترمہ شاہ بانو میر صاحبہ کے گھر منقعد ہوئی ادب اکیڈمی کی خواتین وقت کی پابندی کا احساس کرتے ہوئے مقررہ وقت پر پہنچیں شاہ بانو مییر صاحبہ نے اپنی دلکش مسکراہٹ کے ساتھ ان کا استقبال کيا سب نے ايک دوسرے سے مل کر حال احوال دریافت کیا اور خوشی کا اظہار کیا اس دوران قہق ہے بھی گونجے اور سنجیدہ گفتگو بھی ہوئی ! ماحول ہلکا پھلکا اور خوبصورت تھا شاہ بانو مير صاحبہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ھمیشہ ايسے لگتا ہے کہ ميرا گھر میکہ ہے اور میری بہنیں ميرے گھر آئی ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کا جب بھی ان کے گھر جاتے ہیں بڑی خوشی اور اطمینان ہوتا ہے اور کام پر غوروخوض کرنے کا بھر پور موقع ملتا ہے۔
اللہ کے بابرکت نام سے میٹنگ کا آغاز ھوا اس کے بعدشاہ بانومير صاحبہ نے خواتیين کے جذبے کو بہت سراہا انہون نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو ذمہ داريوں سے وقت نکال کر اپنے قلم سے وطن کی خدمت کرنا قابل تحسین ہے اچھی سوچ کی مالک خواتیں ايک گراں قدر سرمايا ہيں انہون نے خواتين کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ سب کا سچا جذبہ اورکام کی لگن آپ سبکو ترقی کی منزل تک جلد لے جائے گی۔
آج کی میٹنگ کئی اعتبار سےاہم تھی سب نے بھرپور طريقے سے مشاورت مين حصہ لیا ممتاز ملک کے چٹکلے بھی ماحول کو تازگی ديتے رہے چائے کے لئے پر تکلف اہتمام کیا گيا تھا اس دوران بھی کئی امور زير بحث آئے اس مين اہم موضوع درمکنون دوئم کی تیاری تھی وقارانساء صاحبہ نے شمارے کی تیاری کے لئے اپنی تجاويز سامنے رکھین اور بتايا کہ یہ شمارہ پہلے شمارے سے مفصل ہو گا پہلا قدم تجربہ سکھاتا ہے اور دوسرا قدم اس تجربے کی روشنی میں اٹھانا آسان ہوتا ہے اور ذيادہ موثر طریقے سے کام ہو سکتا ہے انہوں نے شاہ بانو مير صاحبہ کے ساتھ کام کرنے کو اپنی خوش قسمتی قرار ديا اور تسلی کا اظہار کیا اور بتایا کہ ہر قدم پر شاہ بانو مير صاحبہ نے بڑی بہن کی طرح ان کی معاونت کی ہے۔
اپنے گراں قدر مشورون سے نوازا ہے ! وقارانساہ نے بتايا کہ آج کی میٹنگ کی مناسبت سے وہ اّپنا ہوم ورک کر کے آئی ہيں اور چاہتی ھين کہ ساتھی خواتين وہ سارا خاکہ ديکھ لين کیونکہ کسی کام کی ابتداء کے لئے لازم عنصر ہے آپ سب مطمئن ہوں تو اللہ کا نام ليکر قلم سنبھال یں انہوں نے بتایا کہ وہ شمارے کوروائتی انداز سے ہٹ کر ترتيب دينا چاہتی ہين اور یہ شمارہ مختلف سیکشن مين تقسيم کیا جائے گا۔

ايک حصہ دولت دين دوسرا سیکشن ناولٹ اور افسانوں پر مبنی ھوگا تیسرا سیکشن خواتين کے لئے مختص ہو گا اس مين گھر کی تزين وآرائش بيوٹی ٹپس کچن کارنر اور بزم اشعار شامل ہین چوتھا سیکشن متفرقات کا ہے جو شاعری قوس وقزح شگفتہ سرگوشیاں اور طب نبوی سے بيماریون کا علاج پر مبنی ہوگا پانچوان سیکشن خوبصورت آرٹيکل کاہو گا جس میں ادب اکیڈمی سے تعلق رکھنے والی وہ خواتين بھی شامل ہیں جو دوسرے ممالک مين رہائش پذير ہیں آخری سیکشن بچون کی دنیا ہوگا۔
تمام خواتين نے اطمينان کا اظہار کيا اور اس عزم کیا کہ وہ بھرپور طریقے سے ادارے کی کامیابی کی کوشش کرتی رہين گی ممتاز ملک صاحبہ نے کہا کہ سب خواتين مثبت سوچ رکھتی ہيں اور اپنے کام سے مخلص ہين انہون نے اميد ظاہر کی کہ ادارے کے تحت سب اپنی ڈيوٹی کو بخوبی نبھائیں گی نگہت سہيل نے اسے خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اس اکیڈمی کے تحت اچھا کام کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے اچھی ٹيم کی ھمراہی مين بہت کچھ سيکھنے کو ملے گا۔

انيلہ احمد نے بتايا کہ پہلی دفعہ جب وہ سب سے ملیں تو بہت اچھا لگا تھا ماخول بہت اچھا تھا اس لئے وہ اس اکیڈمی کا حصہ بنی شاہ بانو مير صاحبہ نے سب کا حوصلہ بڑھايا اور کہا اسی اتفاق اور لگن سے ھم سب مل کر ادارے کی بہتری کے لئے کوشاں رہیں گے پروگرام کے اختتام پر شاہ بانو مير صاحبہ نے نہائت پر اثر انداز مين دعا کروائی اور یہ میٹنگ خوشگوار موڈ میں اختتام پذير ہوئی۔
تحریر: وقارانساء
