Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شہرِ شعر کا والی- پروفیسر جلیل عالی

November 28, 2020 0 1 min read
Prof. Jalil Aali
Prof. Jalil Aali
Prof. Jalil Aali

تحریر : لقمان اسد

اردو زبان و ادب کے ممتاز معلم ، شہرہ آفاق شاعر، اقبال شناس، ماہر تعلیم اور معروف سوشیالوجسٹ پروفیسر جلیل عالی، علمی و ادبی حلقوں میں منفرد حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ وہ سنجیدہ فکر غزل گو، بلند پایہ نقاد، خوبصورت نعت لکھنے والے اورپر تاثیر نظم کہنے والے ایک بے باک شاعر، شستہ اور نفیس مزاج ادیب ہیں۔ ”جلیل عالی ”کے قلمی نام سے شہرتیں سمیٹنے والے شاعر کا اصل نام محمد جلیل عالی ہے۔ وہ 1946ء کو امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ تشکیلِ پاکستان کے وقت ان کی عمر اڑھائی برس تھی ۔ان کے والد ڈسٹرکٹ امرتسر مسلم لیگ کے وائس پریذیڈنٹ تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ہجرت کر کے لاہور آگئے ۔ پھر تھوڑے دن بعد یہاں سے گوجرانوالہ چلے گئے ۔ دو سال بعد ان کے ایک عزیز نے کوٹ رادھا کشن بلا لیا۔

پروفیسر جلیل عالی نے پرائمری تک درختوں کے نیچے خالی زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی۔ پھر قصبے سے دور گورنمنٹ ہائی سکول کوٹ شیر سنگھ سے میٹرک کیا ۔یہ سکول ان کے گھر سے تقریباً3 کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔انہوں نے انٹر گورنمنٹ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ اور بی اے ایم اے او کالج لاہور سے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو اور ایم اے سوشیالوجی کیا۔ ایم اے اردومیں نامور شاعر امجد اسلام امجد ان کے کلاس فیلو اور بنچ میٹ تھے۔ انہوں نے انٹر سے ڈبل ایم اے تک ہاسٹل لائف گزاری۔ دوسرے ایم ایے (سوشیالوجی) کی طالب علمی کے زمانے میں یونیورسٹی میگزین ”محور” کے مدیر رہے۔ اس دوران ان کا پہلا انٹرویو بطور طالبِعلم مدیر ، نوائے وقت میں شائع ہوا۔شاعری میں باقاعدہ اصلاح کسی سے نہیں لی۔

انہیں اس زمانے کے اکابرینِ ادب جن میں احمد ندیم قاسمی، وزیر آغا، افتخار جالب، ڈاکٹر سید عبداللہ، جیلانی کامران، مظفر علی سید، حفیظ تائب، اسلم کمال، احسان دانش، سید محمد کاظم ، ڈاکٹر برہان احمد فاروقی، سجاد باقر رضوی، سید وقار عظیم، ڈاکٹر وحید قریشی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، کشور ناہید، قتیل شفائی، جمیل الدین عالی ، شریف کنجاہی، اختر حسین جعفری، آفتاب اقبال شمیم، خالد احمداورسجاد میر کی قربت حاصل رہی۔ جلیل عالی نے 1969ء میں تعلیم مکمل کی اور 1970ء میں ان کا تقرر بطور لیکچرار ایف جی کالج واہ کینٹ میں ہو گیا۔ یہاں ساڑھے آٹھ برس تک وہ تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ پھر اس کے بعد 1979سے 2002 ء تک انہوں نے ایف جی سر سید ڈگری کالج راولپنڈی میں تدریسی خدمات سر انجام دیںاور 2002ء میں ریٹائرڈ ہو گئے۔

جلیل عالی فطری شاعر ہیں ان کے اشعار میں حساسیت کا رنگ غالب ہے ان کی شاعری کسی ایک موضوع تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنی شاعری میں فطرت کے تمام مناظر پر بات کرتے اور قدرت کے تمام پہلوؤں پر غورو فکرکرتے نظر آتے ہیں ۔ کہیں وہ کرب اور محرومی کا تذکرہ کرتے ہیں۔ تو کہیں امید اور خوشی کے موضوع پر شعرکہتے دکھائی دیتے ہیں

دھن ہے کہ سجے گھر بھی ، دل میں ہے مگر ڈر بھی
دیوار نہ گر جائے تصویر بدلنے سے
جلیل عالی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ایک منجھے ہوئے دانشور اور فلسفی کی طرح زندگی کے ہر زاویے اور وقت کی ہر کروٹ پر پورا دھیان اور پوری توجہ رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ کبھی اگر حد سے باہر نکل کر سوچنے کی آرزو بھی کرتے ہیں تو ساتھ اندیشوں اور انہونیوں کو بھی ذہن میں رکھ لیتے ہیں ۔

دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے
کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے

وہ اپنے اشعار میں معاشرتی ناہمواریوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ سماج کو بدلنے کی خواہش اور اس حوالے سے عملی تدابیر ان کے شعری حسن کو جہاں دوبالا کرتی ہیں وہاں ان کے اندر کی انقلابی سوچ کا اظہاریہ، ایک سچے اور آفاقی پیغام کی شکل میں ہم تک پہنچتا ہے۔

تیرے ہاتھوں بہت ہو لی سبکساری ہماری
تجھے مہنگی پڑے گی اب دل آزاری ہماری
زمانوں سے ہمارے کھیت محرومِ نمو ہیں
ہمیشہ چھین لیتا ہے کوئی باری ہماری
ہم اُس سردار کے شانوں پہ سر دیکھیں گے کب تک
عدو کے سامنے جس نے انا ہاری ہماری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکلے گا کوئی رستہ تدبیر بدلنے سے
ملتی نہیں آزادی زنجیر بدلنے سے
اس شہر کی سیرت میں کچھ فرق نہیں پڑتا
بس جرم بدلتے ہیں تعزیر بدلنے سے
جلیل عالی روانی اور تسلسل کے ساتھ اپنے مخصوص شعری لب و لہجے میں سنجیدگی سے بات کرنے کے ہنر پر دسترس رکھتے ہیں۔
ثبوتِ اشتیاق ہمرہی لاؤ تو آؤ
حصارِ ذات سے باہر نکل پاؤ تو آؤ
زمانوں سے فقط لہریں گمانوں کی گنو ہو
کسی دن تم یہ دریا پار کر جاؤ تو آؤ
حدِ خواہش میں جینا ہے تو جاؤ راہ اپنی
نہ دشتِ شوق کی وسعت سے گھبراؤ تو آؤ

جلیل عالی کا، شعری اسلوب پڑھنے والے کو ورطہ ء حیرت میں ڈال دیتا ہے ۔ وہ الفاظ کو یکسر نئے انداز ، نئے رنگ ڈھنگ اور نئے قرینے اور سلیقے سے اپنے اشعار میں ڈھالنے کے فن میں مہارت رکھتے ہیں۔اسی حوالے سے ان کی یہ دو غزلیں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

نہ جانے کونسے بدلے اتارتی رہی ہے
یہ زندگی ہمیں قسطوں میں مارتی رہی ہے
اِدھر اُدھر کی عبث خاک چھانتے پھرے ہیں
جدھر جدگر ہمیں قسمت ہنکارتی رہی ہے
بھٹک رہی ہے خجل خواہشوں کے غاروں میں
وہ جستجو جو ستارے شکارتی رہی ہے
کسے حقیقتِ نیرنگیِ جہاں کی خبر
ازل سے وقت کی فطرت بجھارتی رہی ہے
ہمارے سر سے بلائیں کہاں ٹلی ہوتیں
یہ اپنی ماں کہ جو صدقے اتارتی رہی ہے
اک اور بادِ بیاباں اک اور یادِ غزال
وہ پھونکتی رہی ہے یہ بہارتی رہی ہے
جہاں میں تھے ہی نہیں جب تو کیا پتہ پاتی
قضا کہ نام ہمارا پکارتی رہی ہے
کہاں کسی سے کبھی رازِ دل کہا عالی
یہ شاعری کہ ہمیں اشتہاارتی رہی ہے

______________

کہانی بے سرو پا روز اک تحریر تے ہو
ہم ایسے تو نہیں جیسا ہمیں تشہیرتے ہو
دکھاتے ہو ہمیں سب عکس من مرضی مطابق
حقیقت اور ہے تم اور کچھ تصویرتے ہو
کوئی معیارِ نیک و بد نہیں کُھلتا تمہارا
کسے تحقیرتے ہو اور کسے توقیرتے ہو
فلک سے تم پہ یہ کیسا عذاب اترا ہوا ہے
اُسے مسمارتے ہو خود جسے تعمیرتے ہو
تمہارے ساتھ کوئی گفتگو ہو بھی تو کیسے
ذرا سی بات پر تم دیر تک تقریرتے ہو
اِسی کو مصرفِ ایماں سمجھ رکھا ہے تم نے
کہ کوئی اختلافے تو اُسے تکفیرتے ہو
میاں یہ دل ہے ایسے صید ہو سکتا نہیں ہے
عبث دنیا کے رنگوں میں اسے زنجیرتے ہو
کہو کہتے ہوئے کیا کیا گزر جاتی ہے دل پر
کہ جس سے سننے والوں کے کلیجے چِیرتے ہو
سخن کو سونپتے ہو کیسے کیسے انگ عالی
کہیں اقبالتے ہواور کہیں پر مِیرتے ہو

ان کی شاعری سچے جذبات کی ترجمان ہے۔گویا ان کا کلام، ان کے قلم سے صفحہ قرطاس پر وجدانی کیفیت میں اترتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار نظر سے گزرتے ہی دل میں اترتے جاتے ہیں۔ جلیل عالی کی شاعری میں حقائق کا ادراک ہی نہیں ملتا بلکہ وہ شاعری کو ذریعہ اظہار بنا کر شعوری فکر کی بنیاد رکھ دیتے ہیں۔ وہ ایک ایسے راستے کی نشاندہی کرتے ہیں جو ابدی سچائیوں کی جانب جاتا ہے۔ میں نے جتنا ان کی شاعری کا مطالعہ کیا ہے، مجھے درحقیقت مجموعی طور پر وہ ایک ”تحریکی شاعر” محسوس ہوئے ہیں۔ ایسی تحریک جس کا بنیادی نصب العین اور منشور یہ ہو کہ تمام سماج برابری کی سطح پر قائم ہونا چاہئے ۔ ان کی شاعرانہ فکر کا تجزیاتی مطالعہ، ان کے شعوری فکرکے تسلسل کی تفصیل اور شرح یہی ہے ۔ وہ اپنے شعری بیانیے میں تصنع اور بناوٹ کے قائل نہیں ہیں بلکہ اصول کی دہلیز پر کھڑے ہو کر وہ رواداری ، انصاف ،بہادری اور جرأت مندی کے ساتھ واشگاف انداز میں اپنا مدعا بیان کرتے ہیں۔ جلیل عالی کے بہت سارے اشعار مقبولِ عام اور زبانِ زدِ خاص وعام ہیں۔ ان کا یہ شعر ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔

میرے دشمن کو ضرورت نہیں کچھ کرنے کی
اس سے اچھا تو میرے یار کیے جاتے ہیں

انہوں نے جب شعر کہنے کی ابتدا کی تو اس زمانے کے جید شعرا ء ،اردوشاعری کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہے تھے۔ لیکن جلیل عالی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ان سب کی موجودگی میں اپنی شاعری کی جداگانہ پہچان کو تسلیم کرایا ۔یقینا اُن کی یہ بے نظیر صلاحیت انھیں اردو کا ایک ممتاز اور نامور شاعر ماننے پر مجبور کر دیتی ہے۔ انہوں نے زبان و بیاں کے بھی ایسے خلاقانہ اور کامیاب تجربے کئے ہیں کہ اردو شعری دنیا میں ان کے منفرد اور بلند مقام و مرتبے کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

پروفیسر جلیل عالی کا تخلیقی سفر ابھی جاری و ساری ہے ۔ ان کی تصنیفات و تالیفات میں ”خواب دریچہ ( شعری مجموعہ )1984، شوق ستارہ ( شعری مجموعہ) 1998، عرضِ ہنر سے آگے (شعری مجموعہ)2007، لفظ مختصر سے مرے(انتخاب کلام جلیل عالی از خاور اعجاز) 2016، نور نہایا رستہ( مجموعہ نعت) 2018، پاکستانی ادب (شعری انتخاب برائے اکادمی ادبیات پاکستان) 2002، پاکستانی ادب(شعری انتخاب برائے اکادمی ادبیات پاکستان) 2005 قابلِ ذکرہیں جبکہ زیرِ ترتیب و اشاعت کتب میں منطق نہیں بنتی (اردو نظمیں) ، ایک لہر ایسی بھی (اردو غزلیں) ، شعری دانش کی دھن میں(منتخب تنقیدی مضامین)، عشق دے ہور حساب(پنجابی شعری مجموعہ) شامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعے ” عرضِ ہنر سے آگے” کو احمد ندیم قاسمی ایوارڈ ٢٠٠٧ اور پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ ( ٢٠٠٥ تا ٢٠٠٧) کا حق دار قرار دیا گیا۔ اور ان کے حمد و نعت کے مجموعے ” نور نہایا رستہ” کو اوّل سیرت ایوارڈ ١٤٤١ ہجری کا اعزاز حاصل ہوا ۔ حکومت پاکستان پروفیسر جلیل عالی کو ان کی ادبی خدمات کے صلہ میں تمغہ امتیاز سے نواز چکی ہے۔

جلیل عالی کے ان خوبصورت نعتیہ اشعار کے ساتھ اس مختصر مضمون کا اختتام کیا جاتا ہے۔
قطرے سے ہو کیا مدحتِ دریا مِرے آقا ۖ
مقصود ہے بس عرضِ تمنا مِرے آقاۖ
میں محوِ سفر ہوں تِری یادوں کے جلومیں
تو ہی مِری منزل مِرا رستہ مِرے آقاۖ
آباد ہے اک سرمدی احساس کنارے
سینے میں تِرا شوق مدینہ مِرے آقاۖ
رکھ سایۂ رحمت مین کہ منسوب ہیں تجھ سے
میں اور مرا چاند ستارہ مرے آقاۖ
اشکوں کی روانی میں یہی وردِ زباں ہے
آقاۖ مرے آقأ مرے آقأ مرے آقاۖ

 Luqman Asad
Luqman Asad

تحریر : لقمان اسد

Share this:
Tags:
Literature poet Professor Jalil Ali Urdu ادب اردو پروفیسر جلیل عالی شاعر شعر
Revolution
Previous Post انقلاب کی چاپ
Next Post جوہری سائنسدان کے قتل میں اسرائیل ملوث ہے، ایرانی صدر
Mohsen Fakhrizadeh

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close