
تحریر: عقیل احمد خان لودھی
جب سے پانامہ لیکس کا چرچا عام ہوا ہے ،وطن عزیز میں حکومتی اور اپوزیشن پارٹیوں میں اک ہنگامہ سا برپا ہے ناصرف سیاسی لیڈر بلکہ ان کے خاندان کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف لفظوں کے جارحانہ حملے کررہے ہیں معاملہ پہلے تو ملکی سرحدوں کے اندر تھا مگر اب اس کی بازگشت دنیا کے دوسرے کونوں تک سنائی دینے لگی ہے۔ہمارے سیاسی لیڈروں کی موروثی قیام گاہیں لندن امریکہ جیسے ممالک بھی اب محفوظ نہیں رہے اور ایک دوسرے کے گھروں کے باہر احتجاج کی صدائیں بلند ہورہی ہیں ہر ایک لیڈر دوسرے کو چور چور گردانتے ہوئے احتساب کا مطالبہ کررہا ہے۔ ایک دوسرے کے گھروں کے باہر احتجاج اور دھرنے دینے کی روایات کا آغاز ہوا عمران خان کی سابقہ اہلیہ کے گھر کے باہر دھرنا دیا گیااور سربراہ تحریک انصاف کی کار پر ڈنڈے بھی برسائے گئے، معاملات کو کنٹرول میں لانے کیلئے پولیس کو طلب کرنا پڑا تو دوسری جانب عمران خان کی جانب سے بھی رائے ونڈ مارچ کا اعلان کیا گیا جس کے بعد سے ملک ڈنڈوں اور گنڈاسوںکی سیاست ان دنوں عروج پر ہے۔
تحریک انصاف کی جانب سے حکومتی پالیسیوں اور مبینہ کرپشن کے خلاف احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ اب پرانا ہوچکا ہے اس دوران تحریک انصاف کے کارکنوں کو ریاستی مشینری کی طرف سے زبردست مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا جبکہ سیاسی کزن جماعت پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو لاہور میں احتجاج کے دوران گولیوں سے بھون دیا گیا اس کے بعد بھی یہ سلسلہ رکا یا تھما نہیں عمران خان اور ان کے سیاسی حلیف طاہر القادری کی جانب سے جہاں حکمرانوں کی کرپشن کے معاملہ پر تحقیقات اور احتساب کا مطالبہ تھا وہاں 14افراد کے سرعام قتل پر حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر سزا کا بھی مطالبہ کیا جانے لگا۔ طاہر القادری اس سلسلہ میں قانونی جنگ لڑنے کے علاوہ عوامی طاقت کے استعمال کا بھی عندیہ دے چکے ہیں اور اسی سلسلہ میں حالیہ دنوں میں وطن عزیز میں دھرنا پروگرام کرچکے ہیں۔

عمران خان کے رائے ونڈ مارچ کی تاریخ کے قریب آتے ہی ملکی سطح پر سیاسی ماحول گرما گرم ہوچکا ہے ایک دوسرے کو ڈنڈوں اور گنڈاسوں سے ڈرایا جارہا ہے لفظوں سے نفرت کے تیر برسائے جارہے ہیں ایک دوسرے کو مزہ چکھانے کی باتیں کی جارہی ہیں ٹیلیویژن سکرین پر ڈنڈوں اور گنڈاسوں سے لیس مختلف جماعتوں کے حامی کھلے عام اپنے جارحانہ عزائم سے آگاہ کررہے ہیں اس سے جہاں ملک میں جہاںعام آدمی پر خوف اور عدم تحفظ کا عنصرغالب آرہا ہے وہیںدیارغیر میں بیٹھے پاکستانی اپنے ملک کے خوفناک حالات کی وجہ سے پریشان ہیں ویسے تو حکمرانوں اور ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے وہ اپنے باسیوں کیلئے پرامن فضاء کو ہرصورت برقرار رکھے مگر یہاں معاملہ الٹ ہے رائے ونڈ مارچ کرنے والے احتجاج کو پرامن رکھنے اوراپنا جمہوری حق ہونے کی بات کرتے ہیں تو بدلے میں گنڈاسے اور ڈنڈوں سے روکنے کی دھمکی دینے کا صاف مطلب قانون کوہاتھ میں لینا ہے مگر اس طرح کے واضح عزائم کے باوجود حکمرانوں یا ریاست کی طرف سے اشتعال دلوانے والوں اور بدامنی ، انتشار پھیلانے کے صاف اعلانات کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہونا حکمرانوں کا معاملات سے جان بوجھ کر چشم پوشی ، ریاست کا معذوری کا اظہار کرنے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوںاور سیاست سے دور رہنے والے عوام کا کہنا ہے کہ اگر لوگ کرپشن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو یہ کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی اقدام نہیں البتہ ڈنڈوں اور گنڈاسوں سے سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنا اور عوام کے اندر ایک خوف پھیلانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ حکومت کو انتشار اور انارکی سے بچنے کیلئے مار دھاڑ کی باتیں کرنے والوں کو روکنا چاہئے۔ عوام میں یکجہتی اور اتحاد کی فضا پیدا کرنے کیلئے حکمران پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کو صبر و تحمل اور سیاسی رواداری کا درس دینا چاہئے۔ ملک ڈنڈے سوٹے کے کلچر کا متحمل نہیں ہوسکتا اور حالات کو بلاوجہ انارکی کی طرف دھکیلنے والے کسی صورت بھی ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ ملکی سطح پر حکمرانوں کا ایک دوسرے کے خلاف مشتعل ہونا نیچے تک حالات خراب کرتا ہے حکمرانوں کے خالی خولی بیانات اور ایک دوسرے کے خلاف ذو معنی الفاظ کا استعمال کرنا ان کے حامیوں میں انتشار کو جنم دیتا ہے ہمارے ہاں ہمیشہ سے سیاستدانوں نے عام آدمی کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا ہے سمجھ بوجھ رکھنے والے یہ جان چکے ہیں کہ اس طرز کی سیاست میں غریب خاندانوں کے چشم وچراغ ہی ہمیشہ گل ہوئے ہیں۔

غریب سہاگنیں ہی بیوہ ہوئی غریب باپ کو ہی اپنے بازئوں سے محروم ہونا پڑا ہے سیاستدانوں کی آگ اگلتی زبانیں صرف دکھاوے کی اور عام آدمی کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا کر استعمال کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتیں۔ حکمران کی اولادیں اس قدر محفوظ ہوتی ہیں کہ کوئی چاہ کر بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا وہ بامقصد زندگی گزارتی ہیں اور ایسے کسی جھنجھٹ میں نہیں پڑتیں کہ جہاں ان کی اپنی جانیں خطرے میں ہوتی ہیں امریکہ جیسے ملک کے بڑے شہروں نیویارک ،واشنگٹن یا برطانیہ کے لندن اورہالینڈ جیسے شہروں میںقیام پذیر رہ کر ناصرف اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے بلکہ اپنے اپنے کاروبار میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہے ہیں اور ایسی ہی ترقی پانامہ لیکس جیسے معاملات بھی بتاتے ہیں۔
جبکہ حکمران کسی بھی موقعہ پر پھر ایک دوسرے کیساتھ بغل گیرہوجاتے ہیں ہنستے مسکراتے سب کچھ بھولتے ہوئے ماضی پر مٹی ڈالنے کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے جھانسے میں آکر مرنے والے غریب کسی صورت زندہ نہیں ہوسکتے ۔ دیکھا جائے تو موجودہ حالات میں ملک مزید انتشار اور بدامنی جیسے ماحول کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ایسے میں حکمرانوں کیساتھ زیادہ ذمہ داری عام لوگوں کی ہے کہ وہ سیاستدانوں یا مفاد پرست ان کے چند حواریوں کی باتوں میں آنے کی بجائے ماحول کو ہرصورت پرامن رکھیں اورشرپسندوں کے عزائم کامیاب بنانے کی بجائے ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے مثبت کردار ادا کریں۔

تحریر: عقیل احمد خان لودھی
