
تحریر: منظور احمد فریدی
اللہ جل شانہ کی بے پناہ حمد وثناء نبی کریم ۖکی ذات مقدسہ مطہرہ پر کروڑہا بار درود وسلام کے نذرانے پیش کرنے کے بعد راقم نے محکمہ پولیس کی کارکردگی پر زیر نظر مضمون ترتیب دیا ہے قانون قدرت ہے کہ اچھے برے ہر دور میں ہوتے ہیں رحمن کا گروہ اور شیطان کا گروہ قیامت تک کے لیے ہے مگر حالات پر اثر انداز ہونے والی اکثریت ہی حالات کو بگاڑنے یا سنوارنے کی ذمہ دار ہوتی ہے تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب برے لوگوں کی اکثریت ہوگئی تو اس قوم کے عابد و زاہد فقہا بھی عذاب الہی کا شکار ہوئے آٹے میں نمک برابر اچھے لوگ تو ہر دور میں ہی رہے مگر یہ حالات کو سنوارنے کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے گیہوں کے ساتھ گھن کی طرح چکی میں پیس دیے گئے۔
عمال پولیس کا ادارہ خلیفہ اول امیر المومنین جناب ابو بکر صدیق کے دور خلافت میں ترتیب دیا گیا اس وقت انکی ذمہ داری میں منکرین زکوٰة سے وصولی کرنا تھی عمال ہر اس شخص کو پکڑ لاتے جو زکوٰة ادا کرنے سے منحرف ہوتا اسے امیر المومنین وعظ و نصیحت سے قائل کرلیتے یا سختی کرکے وصولی کرتے ۔جناب عمر فاروق کے دور خلافت میں اس محکمہ کو ریاست کا باقاعدہ محکمہ بنالیا گیا ہر شہر کی سطح پر کوتوال مقرر کرکے اسکے ماتحت عملہ رکھ کر ذمہ داری یہ سونپی گئی کہ شہر کے امن و امان شر پسند لوگوں کی گرفتاری اور ریاست میں چوری اور دیگر ایسے جرائم جن سے عوام کی عزت پر حرف آتا ہو کے مرتکب افراد کو حراست میں لے کر انکے جرم کی تحریر لکھ کر قاضی کی عدالت میں پیش کردینا وہاں جرم ثابت ہونے پر سزا اور نہ ہونے پر الزام لگانے والے کو سزا دینا یا معاف کردینا قاضی کا کام ہوتا تھا اس طرح اس محکمہ کو یہ اہمیت حاصل ہے کہ یہ ایک اسلامی حکمران کی ایجاد ہے۔
ملک عزیز مملکت خداداد پاکستان میں یہ ادارہ آج بھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں دن رات کوشاں ہے واحد محکمہ ہے جس کے ملازمین کو چوبیس گھنٹے کام کرنا ہوتا ہے اور کئی کئی دن گھر جانے کی بھی فرصت نہیں ملتی اور اگر یہ ملازمین اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہیرا پھیری نہ کریں اور کرپشن نہ کریں تو انہیں اللہ کو راضی کرنے کے لیے مزید اعمال صالحہ کی ضرورت نہ رہیگی مگر یہاں تو سب کچھ اسکے برعکس ہورہا ہے قانونی طور پر اخلاقی طور پر دیکھا جائے تو ہر تھانہ کا ایس ایچ او اپنے پورے علاقہ کا جوابدہ ہے اور اسکے قلم کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کسی قتل کے مقدمہ میں اگر وہ اپنے قلم سے گنہگار کو بے گناہ لکھ دے تو وہ بندہ دنیا میں سزا سے بچ جائیگا اور اگر کسی بے گناہ کو قصور وار قرار دے دے تو لکھ جتن کے باوجود بھی وہ بندہ سزا سے نہیں بچ پائے گا۔

آج کے دور میں ہر صاحب اقتدار نے سرکاری مشینری کو اپنا ذاتی ادارہ سمجھ کر پولیس کو اپنی غلام کے طور پر استعمال کیا ہوا ہے جسکی سب سے بڑی مثال ارباب سیاست کی ذاتی سیکورٹی پر تعینات نفری ہے اگر اس نفری کے صحیح اعدادوشمار سے عوام واقف ہوجائے تو کانوں کو ہاتھ لگائے ایک وزیر پھر اسکے مشیر پھر سیکرٹری پھر انکے مشیر پھر ان سب لوگوں کے اقرباء سب کی سیکورٹی اسی ادارہ کے ذمہ ہے اور پولیس کے جوان تعینات بھی ہیں اگر آپکو کبھی ہمارے سی ایم صاحب یا پی ایم صاحب کے کسی دورہ کے روٹ سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہے تو آپ یقینا اس منظر سے واقف ہونگے جب ایمبولینس بھی لائن میں لگی ہوئی مریض کو موت کے قریب کررہی ہوتی ہے مگر ہمارے سی ایم صاحب کے لیے گھنٹوں عوام کو روک کر ذلیل کیا جارہا ہوتا ہے کہ آئندہ اگر ووٹ نہ دیے تو اس سے بھی برا حشر ہوگا۔
خیر بات پولیس کی ہو رہی ہے ہر تھانہ کا ایس ایچ او اپنے علاقہ کا بادشاہ ہوتا ہے اور اس بادشاہت کو حاصل کرنے کے لیے بھی اسے بہت سارے لوگوں کو راضی کرنا پڑتا ہے اور قائم رکھنے کے لیے بھی بہت سے ایسے لوگوں کو راضی رکھنا ہوتا ہے جو ارباب اختیار سے متعلقہ ہوں انکے عزیز ہوں یا کسی سپورٹر کے عزیز ہوں پھر ایس ایچ کو اپنے ضمیر کے خلاف بھی فیصلہ کرنا ہوتا ہے پھر وہ لوگ رسہ گیر ہوں منشیات فروش ہوں یا بد قماش وہ علاقہ کے معززین ہی شمار ہوتے ہیں ہاں ایک دور تھا جب تھانہ سے پہلے گائوں کا نمبر دار اپنی رعایا کو اپنی اولاد سے عزیز سمجھتا تھا اور اسے کسی سیاسی وڈیرہ یا پولیس کا کوئی خوف نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ لوگ فقط اللہ سے ہی ڈرتے تھے تو لوگ جرم کرنے سے پہلے ان سے ڈرتے تھے کئی بار سوچتے تھے کہ اگر وہ کوئی ایسا جرم کرینگے جس پر پولیس کو پکڑنے کا اختیار حاصل ہے تو پولیس سے قبل اسے گائوں کا نمبردار ہی سزا دے گا اس وجہ سے معاشرہ میں جرائم کی سطح انتہائی کم تھی مگر اب نمبر دار کی سیٹ بھی سیاسی ہوگئی سیاسی آشیر باد سے نمبردار بھی جرائم پیشہ افراد کے ذریعہ اپنا سکہ چلاتے ہیں اور نمبردار کو متعلقہ ایس ایچ او کی خوشنودی بھی حاصل ہوتی ہے علاقہ میں منشیات چوری اور قحبہ خانوں کی مکمل فہرست ہر ایس ایچ کے پاس ہوتی ہے اور وہ انہیں ہر طرح کا مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ اس میں متعلقہ نمبردار بھی اسکی معاونت کرتا ہے۔

میرے علاقہ میں رائج پنچائیتی نظام کو میں نے دیکھا ہے ایک نمبردار کے بیٹے نے اسی گائوں کی ایک غریب لڑکی سے چھیڑ خانی کی لڑکی شکائت لے کر نمبردار کے پاس آئی تو نمبردار نے اپنی دونالی بندوق نکال کر اپنے سگے بیٹے کو فائر ماردیا اب ایسے نمبردار کو کوئی سیاسی وڈیرہ کیا کہے گا اور ایس ایچ او اس سے کب الجھے گا مگر شائد ہم نے اپنی نسل کو ہی تبدیل کرلیا ہے ایسے لوگ نایاب ہوتے جارہے ہیں معاشرہ میں اب ایساکوئی باپ ہے جو اپنے بیٹے کو اس طرح سزاوار گردانے ہرگز نہیں تو کیکروں کے بیج بو کر ناشپاتی کے پھل کھانے کی امید نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔
ہمیں اصلاح کرنا ہوگی کسی پہ تنقیس کرنے سے پہلے انفرادی طور پر اپنی اپنی یہ کام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں اور جب ہم خود معاشرہ کے لیے مثال پیش کرنے کے قابل ہوگئے تو پھر کوئی میاں کوئی بھٹو اور کوئی شیر ہم پر حکومت نہ کریگا بلکہ اصلی جمہوریت کا نفاذ ہوسکے گا جس میں عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں عوام کا دیا ہوا اقتدار ہوگا اور تب تک صرف پولیس نے ہی نہیں ہر قانون نافذ کرنے والے ادارہ نے ان لوگوں کی حفاظت کرنا ہے جو ہم پر حکومت کررہے ہیں وہ منشیات فروش ہوں بدقماش ہوں یا ہمارے ضمیر کے مطابق مجرم کیونکہ پولیس کا فرض ہے حفاظت کرنا اور وہی تو حفاظت کے صحیح حق دار ہیں ایک مزدور جسے دو وقت کی روٹی نے اپنے چکر میں پھنسا رکھا ہو اسے پولیس سے حفاظت مانگنے کی ضرورت ہی کیا ہے والسلام۔

تحریر: منظور احمد فریدی
