Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پولیس کی عزت و وقار دائو پر کیوں

February 7, 2016 0 1 min read
Police Firing
Police Firing
Police Firing

تحریر : رقیہ غزل
آج ہمیں بیرونی طور پر اگر دہشت گردی کا سامنا ہے تو اندرونی طور پر کہیں نہ کہیں پولیس گردی سنگین صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے پولیس گردی بلاشبہ اگر ایک طرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے تو دوسر ی طرف طاقت کے ذریعے حکومت کرنے کا مئوثر ہتھیار بھی ہے مگر پولیس کی بعض واقعات میں انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور وہشت ناک کارکردگی کے ضمن میں ایسے قانون شکن پولیس ملازمین کے خلاف یقینی طور پر کوئی رکاوٹ سامنے نہیں آ رہی جس وجہ سے اسلحے کا بے جا استعمال مسلسل نا حق عوامی جانی نقصان کی وجہ بن رہا ہے اس پر ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ملزم اہلکاروں کو تو” پیٹی بھائی” اندراج مقدمہ میں اور پھر ضمانت میں بچا لیتے ہیں مگر جس گھر کا چراغ بجھتا ہے وہاں ہمیشہ کیلئے تاریکی اور ویرانی بسیرا کر لیتی ہے۔

ایسے ہی دو ہولناک واقعات گذشتے ہفتے کراچی میں پیش آئے ایک واقعہ میں ایک نوجوان ”شہریار” جو اپنے گھر سے دوستوں کے ہمراہ سی ویو جانے کے لیے نکلا مگر زندہ گھر واپس لوٹ کر نہ آسکا اس نے سی ویو جانے بارے اپنی ماں کو بھی آگاہ نہ کیا کیونکہ اسے علم تھا کہ ماں اجازت نہیں دے گی مائیں کیسے اجازت دیں وہ جانتی ہیں کہ لہو پانی سے بھی سستا ہو گیا ہے وہ اپنے جگر گوشوں کی لاشیں کیونکر اٹھا ئیں جبکہ ہماری فضا میں لہو کی مہکار رچ بس چکی ہے مگر یہ کیساستم ہے کہ جنھیں مرحم رکھناتھا وہی زخم دینے لگے ہیں۔

شہریار قتل کیس کی تفصیل جو علم میں آئی وہ یوں ہے کہ چار موٹر سائیکلوں پر سوار چھ دوست رات کو سی ویو کی سیر کیلئے نکلے راستے میں اسنیپ چیکنگ میں مصروف دو پولیس اہلکاروں نے انھیں رکنے کا اشارہ کیا تیز رفتاری کے باعث شہریار کی بائیک کچھ دور جا کر رکی جبکہ باقی لڑکوں نے پہلے ہی اپنی موٹر بائیکس روک دیں مگرپولیس اہلکاروں نے ایک سیکنڈ کا بھی اتنظار مناسب نہ سمجھا جیسے ہی شہریار بائیک روک کر مڑا فائرنگ کر دی اور گولی اس کے سر میں لگی اور وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا مبینہ اطلاع کے مطابق پولیس اہلکاران اسے پولیس مقابلہ کا رنگ دینے کیلئے سوچتے رہے۔

Shahryar Murder Case
Shahryar Murder Case

شہریار ان کے سامنے ڈیڑھ گھنٹہ تڑپتا رہا مگر کسی نے بھی اسے ہسپتال نہ پہنچایا اور یوںوہ خالق حقیقی سے جا ملا اور پھر اس کے دوستوں سے کہا گیا جائو اسے ہسپتال لے جائو ۔۔ یہ کہانیاںاسی ایک واقعہ پر ختم نہیں ہوتی ایسے ہزاروں حقائق سے پولیس کے بعض غیر ذمہ داران کی تاریخ لہو لہو ہے مگر دکھ یہ ہے کہ اس بار بھی اس نا قابل تلافی جرم کو دفعہ 302/34سے خطا کی دفعہ 319/320میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ اہلکاروں کے بیانات ہیں کہ جب شہریار موٹر بائیک گھما رہا تھا تو انھوں نے ڈرانے کیلئے ڈرامائی انداز میں زمین پرگولی چلائی تھی مگر گولی زمین سے ٹکراکر شہریار کے سر میں جا لگی ہے اس لیے یہ محض اتفاق ہے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا گیا ہے۔

امذید یہ کہ پولیس ان بیانات اور شواہد کی روشنی میں مقتول کے لواحقین سے انصاف کرے گی اوران کے بیانات کی مطابق اس مقدمے میں کسی حال میں بھی انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ شامل نہیں ہوسکتی حالانکہ اگرانصاف و قانون کا تقاضا پورا کرنا ہواور اعلی افسران چاہیں تو ہو سکتی ہے مگر اس صورت میں اہلکاروں سے ٹھن جائے گی۔

دوسرا واقعہ لیاری میں پیش آیا جب ”فرید ” نامی نوجوان اپنے کزن کے ساتھ گھر جا رہا تھا اور اسے رکنے کا اشارہ دیا گیا مگر اس کی موٹر سائیکل بھی تھوڑا آگے جا کر رکی اورسفاک اہلکاروں نے فائرنگ کھول دی اطلاعات کے مطابق اس نے کمپنی کارڈ بھی دکھایا مگر اسے جرائم پیشہ کہہ کر فائر کیا گیا اب وہ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ان مقدمات کا انجام کیا ہوگا ہم سب جانتے ہیں زندگی جن کی خراب ہونا تھی ہو چکی ہے وہ ماں جو بیٹے کے بتائے بغیر گھر سے نکلنے پر پریشان تھی جب تک زندہ رہے گی دروازے کو تکتی رہی گی اپنے بیٹے کے سر پر سہرا سجانے کا ارمان دل میں لیے اس کی یادوںسے سر ٹکراتی رہے گی اس درد کا مداوا کیا کوئی کر سکتا ہے ؟ وہ جو ہسپتال میں موت سے لڑ رہا ہے اس کے گھر کی کفالت کون کرے گا ؟ اور اگر خدا نہ کرے جسم کا کوئی حصہ ضائع ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا۔

اسی طرح پورے ملک میں مختلف مقامات پر چوری کے مقدمات میں گرفتار کردہ ملزمان کو انتہائی تشدد کر کے جان سے مار دیا جاتا ہے تاکہ ان سے ریکوری وغیرہ چھپا لی جائے اور مدعی خالی ہاتھ رہے جبکہ یہ آسانی سے کہہ دیا جاتا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے سے موت واقع ہوئی بسا اوقات تو اس حد تک ستم کیا جاتا ہے کہ بغیر اطلاع کے اغوا کیا جاتا ہے پھر ذاتی اہداف حاصل کر کے مدعا غائب کر دیا جاتا ہے کوئی قسمت والا ہوتا ہے کہ جس کے والدین کواس کا سراغ مل جائے کیونکہ پولیس نے خفیہ طور پر اغوا کر کے تشدد کر کے۔۔ فوائد اٹھا کر ۔۔ہلاک کر کے دفن بھی کر دیا ہوتاہے اگراعلٰی عدالتوں ،ملکی حکمرانوں اور پولیس کی مرکزی کمان نے ایسے ماورائے قتل کاروائیوں کا سلسلہ بند نہ کیا تو پولیس کے مقدس پیسے سے وابستہ ایسے سرکش اہلکاران جواب دیں کہ جب کوئی سانحہ ہوتا ہے ،ڈاکہ پڑتاہے یا کوئی گھر یاعزت لٹتی ہے تویہ بندوقیں وقوعہ ختم ہونے تک کیوں موقع پر نظر نہیں آتیں یہ بے گناہوں پر ہی فوراًکیوں چلتی ہیں ؟آپ کو ڈرانے کے لیے بندوق کیوں چلانی پڑتی ہے۔

آپ کی حساس ذمہ داریوں سے انکار نہیں اور ہم آپ کی مجبوریوں سے بھی آگاہ ہیں مگر مسلسل ایسے ہی واقعات کا رونما ہونا بھی ایک لمحئہ فکریہ ہے جوکہ پولیس کے وقار اور پیشے پر ایک سوالیہ نشان ہے کراچی میں پولیس کارکردگی کا معیار کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے اوررینجرز آپریشن کے بعد تو پولیس کارکردگی ویسے ہی کھل کر سامنے آچکی ہے تاحال پورے ملک میں کوئی بھی واقعہ یا تھریٹ کال ہو توفوج اور رینجرز کوکال کرنانا گزیر ہو جاتا ہے تو پولیس کو کارکردگی دکھانے کا یہ انداز سمجھ سے بالا تر ہے اور اس کے مقابلے میں خالی ہاتھ سڑکوں پر حیلے بہانوں سے رشوت حاصل کرنے والوں کے سامنے پس و پیش کرنے پر فائرنگ کر دینا عجیب معمہ ہے۔

Police in Karachi
Police in Karachi

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومنوں کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک مسلمان کے قتل کے مقابلے میں پوری دنیا کا تباہ و برباد ہو جانا اللہ تعالی کے نزدیک معمولی بات ہے۔ قتل کے ارادے سے کوئی بھی طریقہ استعمال کر کے جان تلف کرنا خود بڑا گناہ ہے اس جرم میں خواہ ایک شخص کی نیت یا بہت سے لوگ اس میں نیت اور عمل کے ساتھ ملوث ہوں ان کے گناہ کا وبال آپس میں سب پر تقسیم ہو کر بھی ہلکا نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کو الگ الگ جہنم میں جھونکے جانے کی سزا بتائی گئی ہے اور اس بارے سخت احکام بھی ہیں ہمارے پیارے نبیۖ نے فرمایا :”اگر زمین و آسمان کے تمام بسنے والے ایک مومن کے خون میں شریک ہو جائیں تو اللہ عزوجل ان سب کو اوندھے منہ جہنم میں دھکیل دے گا ” جب قتل کے بارے اس قدر سنگین سزا کا حکم ہے تو دنیا میں ایک سزاوار کی پشت پناہی کرتے ہوئے اسے دنیاوی سزا سے بچاناکس قدر کبیرہ گناہ ہوگا مگر جب سے ہم ترقی کے زینے چڑھ رہے ہیں۔

ہمارے تقاضے، ہماری روایات اور تعلیمات ہم سے دور ہوتی جا رہی ہیں بے ہنگم معاشرہ نفسیاتی مسائل اور اخلاقی برائیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ویسے تو ہر قسم کی برائی یہاں عام ہے مگر سب سے مہلک برائی ”ناحق قتل ” کابڑھتا ہوا رحجان ہے معاشی مسائل سے تنگ آکر خود سوزی اور قتل جہاں سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے وہاں دہشت گردی کا عفریت بھی سب کو اپنی لپٹ میں لئے ہوئے ہے آج گھر سے نکلنے والا نہیں جانتا کہ وہ واپس لوٹے گا یا نہیں ۔۔مگر ظلم کی انتہا یہ ہے کہ” جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے”یعنی جب محافظ ہی راہزن بن جائیں تو آس کے دیپ خود بخود ہی بجھ جاتے ہیں پولیس گردی پر بہت لکھا جا تا ہے اور اس ضمن میں ہمیشہ ہی پولیس کا مئوقف یہ رہتا ہے کہ اب تھانہ کلچر کا خاتمہ ہو چکا ہے اور سپیشل تربیت کی جا رہی ہے تاکہ جرائم کے ساتھ ساتھ پولیس کی احمقانہ اور حاکمانہ طبیعت کو بھی درست سمت میں گامزن کیا جا سکے مگرورق گردانی اور نصیحت آموز باتوں سے علم حاصل ہوتا تو آج سارے ہی عالم ہوتے پولیس گردی کہیں بھی ہو قابل مذمت ہے اور اس بارے سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے کیونکہ عوام کا اعتماد اگر بحال کرنا ہے تو عوام کی جان و مال کو یقینی بنانا ہوگا ہمیں پولیس کی خدمات سے انکار نہیں مگرعدم اعتماد کی فضا ختم کرنے کیلئے پولیس کو اپنے طریقہ کار پر نظر ثانی کی ضرورت ہے یہ طے ہے کہ جرم کرنے والا عوام الناس سے ہو یا کسی حلقہ خاص سے ہو اس کے معاملہ میں قانون اور انصاف کا تقاضا ضرور پورا کرنا چاہیے اور غیرت ایمانی کو محکمانہ وابستگی پر مقدم رکھنا چاہیے۔

روز قیامت جب حشر بپا ہو گا تو اس طرح تھانوں میں بے جا ناجائز تشدد اور سٹرکوں پر بے گناہوں کا قتل پورے ڈیپار ٹمنٹ، افسر شاہی اور حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر سوال و جواب ہو گا اور جزا و سزا ضرور ہو گی۔مگر اس وقت پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔دولت، اختیار، اقتدار اور طاقت آنے جانے والی چیز ہے۔ جبر کرنا ہے تو دہشت گردوں ، سفاکوں ، ڈاکوئں، اغوا کاروں، بھتہ خوروں، ملک و ملت کو لوٹنے والوں اور فراڈیوں پر کریں۔ بے گناہوں کے قتل ناحق سے ہاتھ مت رنگیں۔مگر کیا کیا جائے کہ حکمران آپس میں اکھاڑے گوڈ کر سیاسی دنگل لڑ رہے ہیں۔ انھیں عوامی فلاح کی فکر ہی کب ہے۔ حکمرانوں، عادلوں اور اہل اقتدار ذمہ داران کو چاہیے کہ مجرموں کو سخت سزا دیں مگر حیرت یہ ہے کہ پولیس جیسے مقدس محکمہ کی عزت و وقار دائو پر لگا دی گئی ہے۔

Roqiya Ghazal
Roqiya Ghazal

تحریر : رقیہ غزل

Share this:
Tags:
murder case police respect Roqiya Ghazal terrorism violence پولیس گردی دہشت گردی ظلم عزت قتل کیس
Pakistan
Previous Post اللہ کی نعمت ۔۔۔پاکستان
Next Post نصف ایمان سے تہی دست معاشرہ!
Cleanliness

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close