
لاہور (جیوڈیسک) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی کارکنوں کو تشدد پر اکسانے والی قیادت کو اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ وہ گزشتہ روز پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے تشدد کا نشانہ بننے والے زخمی پولیس اہلکاروں کی تیمارداری کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ میں ظلم اور تشدد کے مقابلے میں صبر اور برداشت سے کام لینے والے پولیس اہلکاروں کو سلام کرتا ہوں۔ انتظامیہ زخمی اہلکاروں کے علاج معالجے کا مکمل خیال رکھ رہی ہے۔ پیشتر ازیں وزیر اعلیٰ نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں زخمی اہلکاروں کی تیمارداری کے لئے مختلف وارڈوں کا دورہ کیا۔ وہ ایک ایک زخمی کے پاس گئے اور انہیں اپنے ہاتھوں سے تین تین لاکھ روپے کے چیک دیئے۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تشدد اور زیادتی کے مقابلے میں صبر و تحمل سے کام لے کر جس ڈسپلن کا مظاہرہ کیا اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اہلکاروں نے برداشت سے کام لیتے ہوئے اپنے جسموں پر زخم کھائے لیکن ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ ہسپتال کے دورے کے دوران ایک زخمی کانسٹیبل نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ مجھ پر جلوس میں شامل چھ کارکن ٹوٹ پڑے اور وہ مجھے تقریبا پندرہ منٹ تک ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے مارتے رہے جس کے نتیجے میں میرا سر پھٹ گیا اور ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ایک باریش سپاہی وزیر اعلی کو اپنی روداد سناتے ہوئے رو پڑا اور اس نے بتایا کہ مجھے مظاہرین نے نہ صرف ڈنڈوں سے زد کوب کیا بلکہ بہت دیر تک زمین پر گھسیٹتے رہے۔
دورے کے دوران وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ 90 فیصد زخمیوں کے سروں میں چوٹیں آئی ہیں یا ان کے بازوں یا ٹانگوں یا ہاتھوں کے ہڈیاں فریکچر ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا ہے کہ صاف پانی پراجیکٹ مفاد عامہ کا انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جس کابراہ راست تعلق عوام کی زندگیوں اورصحت سے جڑا ہوا ہے۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ذریعے شہریوں کو بیماریوں سے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔
صاف پانی کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اورحکومت یہ ذمہ داری ہر قیمت پر نبھائے گی۔ 2018ء تک صوبے کے ہر شہری کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس ہدف کے حصول کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔ اربوں روپے کی لاگت کے صاف پانی پراجیکٹ کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جائے گا اور منصوبے کے تحت صوبے بھر میں واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے جائیں گے۔ وہ گذشتہ روز صاف پانی پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے حوالے سے اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اشرافیہ منرل واٹر پئے اور عام آدمی کو پینے کا صاف پانی بھی نہ ملے، یہ تفریق صاف پانی پراجیکٹ ہی سے ختم ہوگی۔ اسی لئے اس اہم منصوبے کو قومی ذمہ داری سمجھ کر آگے بڑھایا جائے۔ صاف پانی پراجیکٹ پر عملدر آمدکے لئے بہترین پیشہ وارانہ کنسلٹنٹ کا انتخاب کیا جائے اورواٹر سپلائی کی سکیموں کو مربوط انداز سے آگے بڑھانے کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ شفافیت اوراعلی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے پر تیز رفتاری سے عملدر آمد یقینی بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ نے چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی متعلقہ محکموں اوراداروں کی باہمی کو آرڈینیشن بہتر بنانے کے حوالے کام کرے گی۔ پنجاب میں پہلے سے نصب فلٹریشن پلانٹس کو درست کرنے کے لئے فوری نوعیت کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی وزیر ہاؤسنگ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ہدایت کی کہ یہ کمیٹی 3 روز میں پہلے سے نصب فلٹریشن پلانٹس کے حوالے سے سفارشات پیش کرے گی۔
علاوہ ازیں شہباز شریف سے گذشتہ روز جرمن کمپنی سیچبل ائیرکرافٹکے چیئرمین ہینس جارج سیچبل نے ملاقات کی۔ شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پنجاب حکومت صوبے میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہی ہے۔
اینٹی گریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے قیام کے منصوبے پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔ جرائم کی روک تھام کیلئے جدید ترین سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جرمن کمپنی کی جانب سے فراہم کی جانے والی جدید ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا جائے اور سیکرٹری داخلہ اس حوالے سے رپورٹ پیش کریں۔
