Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سیاسی عدم استحکام کا شکار گرین لائن بس سروس

March 1, 2021 0 1 min read
Green Line Bus Service
Green Line Bus Service
Green Line Bus Service

کراچی (اصل میڈیا ڈیسک) جدید طرز تعمیر کا شاہکار کہلانے والی گرین لائن سروس منصوبے کا آغاز سن 2016 میں کیا گیا تھا۔ تاہم کراچی کے علاقے یوپی موڑ نارتھ کراچی پر واقع دھول مٹی میں اٹا اسٹیشن چار سال گزرنے کے باوجود آج بھی نامکمل ہے۔ تحریک انصاف کے متعدد وعدوں اور دعوؤں کے باوجود یہ منصوبہ اب بھی اپنے مقررہ وقت پر فعال ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔

یوپی موڑ پر واقع یہ ادھورا بس اسٹیشن پتھارے داروں کے روزگار کا مسکن زیادہ معلوم ہوتا ہے جبکہ پل کے کونے منصوبے کے آغاز سے پہلے ہی ٹوٹنے لگے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک متحرک سیڑھی بھی ٹوٹ کر منصوبے کی زبوں حالی کی داستان سنا رہی ہے۔

شہر میں بنائے گئے بقیہ بس اسٹیشن کی حالت زار بھی اس سے مختلف نظر نہیں آتی۔ کچھ جگہوں پر کام ابھی جاری ہے جبکہ کچھ بس اسٹیشن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ اسٹیشنز کی راہداری میں تعفن، کچرا اور غلاظت بھی جا بجا دیکھی جاسکتی ہے۔ اس ابتر حالت کے باوجود وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے یہ دعوی کیا ہے کہ گرین لائن بس سروس اگست تک مکمل طور پر فعال کر دی جائے گی۔

گرین لائن منصوبے میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ارسلان تاج حسین نے کہا، ”سندھ حکومت نے پورا منصوبہ وفاق کو دے دیا کہ ہم یہ نہیں کر سکتے۔ اگر یہ منصوبہ شروع سے ہی مکمل طور پر وفاق کے پاس ہوتا تو اب تک یہ مکمل ہو چکا ہوتا۔‘‘

تاج نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں مزید کہا، ”منصوبے میں تاخیر کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مراد علی شاہ صاحب نے اس منصوبے کو مزارِ قائد سے تبت سینٹر تک بڑھا دیا اس کی وجہ سے پورے منصوبے میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ پھر جو بسوں کا آرڈر انہیں کرنا تھا انہوں نے اس سے بھی ہاتھ کھینچ لیا۔‘‘

ارسلان تاج کا کہنا تھا کہ میگا پروجیکٹ میں اس طرح بار بار تبدیلی کرنے سے نہ صرف وقت بہت ضائع ہوا بلکہ اس منصوبے پر ہونے والی لاگت میں بھی اضافہ ہوا۔

سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے مزید کہا،”اگرچہ لوگ پشاور بی آر ٹی پر تنقید کرتے ہیں جو گرین لائن کے مقابلے میں نسبتا آسان منصوبہ تھا مگر وہ پورا منصوبہ صوبائی حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ مل کر مکمل کیا۔ وفاق کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اس کے برعکس سندھ حکومت آج تک کوئی ایک منصوبہ بھی مکمل کرنے سے قاصر رہی ہے۔‘‘

تحریک انصاف کے نوجوان رہنما عدیل احمد کے مطابق وفاق کی جانب سے گرین لائن کے لیے 80 اور اورنج لائن کے لئے 20 بسوں کا آرڈر کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انٹیگریٹڈ کٹنگ سافٹ ویئر کا ٹینڈر بھی ایوارڈ کردیا گیا ہے۔

احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”جولائی تک بسیں یہاں پر آجائیں گی اور آپ کو اگست تک گرین لائن مکمل طور پر فعال ملے گی۔”‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ”پشاور بی آر ٹی میں تاخیر نہیں ہوئی۔ عالمی بینک کے کاغذات میں بی آر ٹی منصوبہ مکمل کرنےکی تاریخ جولائی سن2021 ہے لیکن وہ منصوبہ ابھی سے فعال کردیا گیا ہے۔‘‘

میٹرو ٹرین کے زیر تعمیر ستونوں کے درمیان نظر آنے والا گنبد “بدو کا آوا” یا بدو کا مقبرہ ہے۔ مغل بادشاہ شاہجہان کے دور میں تعمیر ہونے والی اس عمارت کا دلکش طرز تعمیر اب متروک ہو چکا ہے۔ جی ٹی روڈ پر میٹرو ٹرین سے یہ عمارت بھی پس منظر میں چلی جائے گی۔ سترہویں صدی کی اس عمارت کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہے۔

صوبائی وزیر برائے آمد و رفت اور ماس ٹرانزٹ سید اویس قادر شاہ نے ڈی ڈبلیو کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ سن 2018 کے منی بجٹ میں ہم نے بسوں اور کمپیوٹر سسٹم کے لیے 5 ارب روپے کی رقم مختص کی تھی،”عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ایک اعلی سطحی اجلاس میں انہوں نے چیف منسٹر کے سامنے کہا کہ ہم یہ پروجیکٹ سندھ حکومت کو نہیں دے رہے۔ ہم بسوں کی خریداری اور ٹکٹنگ سسٹم بھی خود ہی کریں گے۔ تین سال چلانے کے بعد اسے سندھ حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا۔‘‘

انہوں نے اس نظریہ کو یکسر مسترد کر دیا کہ سندھ حکومت اس منصوبے میں تاخیر کی ذمہ دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس تمام کاغذات موجود ہیں، جن پر تاریخیں درج ہیں اور جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سب کچھ انہیں وقت پر فراہم کر دیا تھا اور وہ وقتاً فوقتاً ان کے منصوبے میں موجود غلطیوں کی نشاندہی بھی کرتے رہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ”اورنج لائن کی بسوں کے آرڈر وفاق کو دینے کا مقصد صرف یہ تھا کہ دونوں منصوبے ایک ساتھ شروع کیے جا سکیں تاکہ عوام اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ ہم اپریل میں ریڈ لائن کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں جبکہ یلّولائن سال کے آخر تک آ جائے گی۔ جب یہ سارے منصوبے مکمل ہوں گے تو کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر آسان ہو جائے گا۔‘‘

گرین لائن بس سروس کی راہ داری کے حوالے سے اویس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”راہداری پر نہ صرف کام نامکمل ہے بلکہ گرین لائن کے لیے بنائی گئی سڑک پر کام کا معیار بہت ہی ناقص ہے۔‘‘

انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ کراچی کی ہوا میں نمی کی موجودگی اور دھول مٹی سے اربوں روپے کے اس منصوبے کو زنگ کھا سکتا ہے، اس سے بچانے کے لیے انھیں پلاسٹک سے ڈھانپنا ضروری تھا لیکن اس بات کا خیال ہی نہیں رکھا گیا۔

منصوبے کے اگست تک مکمل ہونے پر ان کا کہنا تھا، ”ٹکٹنگ سوفٹ وئیر کے لیے نظام بنانے میں وقت لگے گا۔ یہ ایک بہت بڑا سسٹم ہوگا۔ اگر انہوں نے اس میں جلدی کی تو اس کا انجام بھی پشاور بی آر ٹی والا ہی ہوگا۔‘‘

تحریک انصاف کی تنقید کے جواب میں انہوں نے کہا، ”میں یہ مانتا ہوں کہ پچھلے سالوں میں جتنا کام ٹرانسپورٹ پر ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔ وسائل کی کمی کے باوجود بی آر ٹی کے بقیہ منصوبے سندھ حکومت عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ مل کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ملیر ایکسپریس وے بھی ایک میگا پروجیکٹ ہے۔ اب ہم بہت جلد منی بس کے لیے بھی ٹینڈر کھولنے جارہے ہیں، جس سے کراچی کے شہریوں کی ایک بہت بڑی شکایت دور ہو سکے گی.”

پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عوامی ذرائع آمدورفت کی صورت حال خاصی ابتر رہی ہے۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار بسیں اور ان میں موجود خطرناک گیس سیلنڈرز ، جنسی ہراسانی اور اب کرونا وائرس کے خطرے نے منی بسوں میں سفر کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے موٹرسائیکل کو ہی سفر کا ذریعہ بنا لیا ہے، جس کے باعث سڑکوں پر ٹریفک جام معمول کی بات بن چکی ہے۔

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں ہر روز تقریبا چودہ ملین سفر افراد سفر کرتے ہیں، جن میں سے 58 فیصد نجی ٹرانسپورٹ سے جبکہ 42 فیصد پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں نجی گاڑیاں کل رجسٹرڈ ہونے والی گاڑیوں کا 84 فیصد بنتی ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ صرف 4.5 فیصد مسافروں کا سروس مہیا کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق کراچی کی آبادی اور جغرافیہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کم ازکم پندرہ ہزار ماڈرن بسیں درکار ہیں۔

کراچی میں تیزی سے بڑھتی آبادی کے ساتھ ساتھ سڑک پر بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد، شہر کا جغرافیہ اور دیگر مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی اربن ٹرانسپورٹ ماسٹر پلان 2030 تشکیل دیا گیا تھا۔ گرین لائن بس سروس اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ اس پلان کے تحت کراچی میں دو سرکلر میٹرو ریل ٹرانزٹ، چار لائٹ ریل ٹرانزٹ اور پانچ بی آر ٹی شامل ہیں۔ تاہم وسائل کی کمی کے باعث گرین، اورنج، ریڈ، بلیو اور یلّو لائنز کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ان منصوبوں پر کام کرنے کے لیے کراچی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ قائم کی گئی تھی، جس کا نام بعد میں تبدیل کرکے سندھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ رکھ دیا گیا۔ یہ ادارہ وفاقی وزارت برائے منصوبہ بندی کے زیرنگرانی ایک سال تک کام کرے گا۔

کراچی میں ٹریفک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ن لیگ کی حکومت نے فروری سن 2016 میں گرین لائن بس سروس منصوبے کی منظوری دی تھی۔

اس منصوبے کو وفاق اور صوبائی حکومت کے اشتراک سے پایہ تکمیل تک پہنچنا تھا۔ منصوبے کے مطابق وفاق کو اس کا زمینی ڈھانچہ، جب کہ صوبائی حکومت کو اس کے لیے بس، انٹیگریٹڈ کٹنگ اور روز مرہ کی ذمہ داریاں سنبھالنا تھا۔ اس منصوبے کو 2017 میں مکمل ہونا تھا مگر سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔

جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے یہ منصوبہ اپنے ذمہ لیا تو سندھ حکومت کے ساتھ متعدد تنازعات کی بناء پر یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہوا۔ نقشے میں چند تبدیلیوں کے بعد یہ منصوبہ 26 کلومیٹر طویل اور 22 بس اسٹیشنوں پر مشتمل ہوگا۔ گرین لائن میونسپل پارک سے سرجانی ٹاؤن تک سفر ممکن بنائے گی۔

گرین لائن منصوبے کے دوران بے شمار رکاوٹ آئیں۔ اس منصوبے کے مطابق مزارِ قائد کے سامنے سے ایک پل گزرنا تھا۔ جس پر مزار کی انتظامیہ نے یہ اعتراض اٹھایا کہ مزار کے احترام اور تقدس کو مدنظر رکھتے ہوۓ کوئی تعمیر مزار کی اونچائی سے بلند نہیں کی جاسکتی۔ جس کے باعث نمائش چورنگی پر انڈر پاس کی تعمیر شروع کرنا پڑی جو تاحال نامکمل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک گرین لائن منصوبہ کراچی میں آمد و رفت کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے بی آر ٹی کے تمام منصوبوں کو کامیابی سے مکمل کرنا ہوگا۔ تاہم جہاں اس منصوبے کی موجودہ حالت اور تحریک انصاف کی جانب سے پشاور بی آر ٹی میں کی جانے والی کوتاہیاں گرین لائن پر سوال اٹھاتی ہیں وہیں وفاق اور صوبائی حکومت میں سیاسی عدم استحکام اورعدم اعتماد بھی اس منصوبے کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

Share this:
Tags:
bus service green line instability political بس سروس سیاسی عدم استحکام گرین لائن
Bomb
Previous Post کشمیری علیحدگی پسندوں کا نیا ہتھیار، چپکو بم بھارتی فورسز کے لیے نیا درد سر
Next Post سابق صدر ٹرمپ نے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا
Donald Trump

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close