Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

معروف صحافی شمشاد مانگٹ کی کتاب سیاسی چور

February 4, 2019 0 1 min read
Shamshad Mangat
Shamshad Mangat
Shamshad Mangat

تحریر : شہزاد حسین بھٹی

ہر کالم نگار کا اپنا ایک پس منظر ہوتا ہے۔ مذہب، ادب صحافت اور وقائع نگاری، بالعموم کالم نگار انہی وادیوں سے نکلتے ہیں۔ یہ پس منظر کالم نگاری پر اثر ڈالتا ہے۔ سیاسی عمل کی تفہیم اس کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ پس منظر جو بھی ہو، سماجی علوم، مذہب، تاریخ اور ادب سے تعلق گہرا نہ ہو تو واقعات کا مفہوم اخذ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بلا شبہ کالم نگار کے تعصبات بھی ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ قاری مسلسل پڑھتا رہے تو اس کے لیے یہ جاننا مشکل نہیں رہتا کہ کہاںمعروضیت ہے اور کہاں تعصبات۔سماجی عمل سے عدم واقفیت کا ایک نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لکھنے والا ہر واقعے کو منفرد سمجھتا ہے۔ یوں وہ ایک جیسے واقعات کو مختلف زاویہ ہائے نظر سے دیکھتا ہے۔ مثال کے طور پر سیاسی کلچر کا ایک پہلواہلِ سیاست کا باہمی تعلق ہے۔

اگر کالم نگار سماجی عمل سے واقف ہو گا تو وہ جان پائے گا کہ سیاسی قیادت کا لب و لہجہ کیسے سماجی رویوں میں سرایت کرتا ہے اور سیاسی کلچر کو کیسے متاثر کرتا ہے۔ اس عہد میں رائے ساز کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے۔ فکر و نظر کی دنیا میں توازن کا قیام اور اختلاف رائے کو آداب کے تابع کرنا، اس کا سب سے اولین فریضہ ہے۔یہ وعظ و نصیحت سے نہیں عملی مثال پیش کرنے سے ہو گا۔ رائے سازوں کو، جن میںکالم نگار شامل ہیں، یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ کس اسلوب میں اختلاف کریں گے۔ وہ کیسے دوسرے نقطہ ء نظر کو اس کے سیاق و سباق میں سمجھیں گے۔ اس وقت لکھنے والے سماجی رویے کی تشکیل میں شریک ہیں۔ انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا۔ یہ ذمہ داری کتابوں سے تعلق رکھے بغیر نہیں آ سکتی جو اس وقت بھی علم کے حصول کا سب سے مستند ذریعہ ہیں۔

سینئر صحافی وکالم نگار شمشادمانگٹ کی شخصیت اسلام آباد کے صحافتی و ادبی حلقوںمیں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔شمشاد مانگٹ کام ،کام اور صرف کام کرنے والے ان تھک محنتی صحافی و کالم نگار ہیں جنہوں نے اپنے کیرئیر میںکبھی شارٹ کٹ استعمال نہیں کیا بلکہ مسلسل محنت ہی ان کو آج اس مقام پر لے آئی ہے کہ جہاں وہ ایک بڑے میڈیا گروپ کے اخباراور نیوز ایجنسی کے ایڈیٹر ہیں۔ دیہاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے شمشاد مانگٹ نے اپنی عملی زندگی کا آغازبحیثیت رپورٹر کیا اور ضیاء شاہد جیسے کہنہ مشق صحافی کے اخبار خبریں سے وابستگی اختیار کی۔

“سیاسی چور” پاکستان لوٹنے والوں کا قلمی احتساب ،شمشاد مانگٹ کے روزنامہ جناح کے لیے لکھے گئے کالموں پر مشتمل مجوعہ ہے ۔کتاب کا موضوع سیاست، معاشرت اور سماج ہیں۔ شمشاد مانگٹ سیاسی چور بازاری اور مختلف ادوار میں آنے والے فوجی حکومتوں او ر جموریتوں کے حسن سے سخت نالاں ہیں اور افسردہ ہیں کہ گذشتہ ستر سالوں میں پاکستان کے عام آدمی کو کیا ملا؟۔ کتاب سیاسی چور دوسو چھپن صفحات پر مشمتل ہے اسکے ناشر معاز ہاشمی جبکہ اہتمام امجد اقبال نے کیا ہے۔ کتا ب کا سرورقر خوبصورت لیمنیشن اورفلپ کے ساتھ ہے جس میںپاکستان کے نقشے کو دیکھایا گیا ہے جسے چوہے اور دیگر حشرات(کرپٹ اور مافیاز) کھانے میںمصروف دیکھائی دیتے ہیں۔ کتاب کا سرور ق دیکھتے ہی ایک عام قاری بھانپ جاتا ہے کہ یہ کتاب کس نوعیت کی ہے۔کتاب کا اندرونی فلیپ معروف صحافی اور کالم نگارمظہر برلاس نے لکھا ہے جس میں سے دو باتیں اخذ کی جا سکتی ہیں ایک یہ کہ مصنف ایک محنتی انسان ہے جو ہمیشہ اپنے قلم کے ساتھ انصاف کرتا چلا آیا ہے اوردوسرا صحافتی مراتب کی جدوجہد میں کوئی شارٹ کٹ یا لاٹری نہیں بلکہ ماں کی دعائوں کا دخل تعبیر کیا گیا ہے۔

اس کتاب کا انتساب وطن عزیز کے عام آدمی کے نام ہے جو اکہتر سال سے استحصال کا شکار ہے مگر ابھی مایوس نہیںہوا۔ کتاب کا مقدمہ معروف صحافی ضیاء شاہد نے لکھا ہے جس میںانہوں نے شمشاد مانگٹ کے ساتھ گزرے اپنے ذاتی مشاہدات کو بھی بیان کیا ہے۔ ضیاء شاہد لکھتے ہیں کہ بہت برس پہلے شمشاد مانگٹ میرے اخبار روزنامہ خبریں اسلام آباد کی ٹیم میں شامل ہوئے اور چند برسوںمیں اپنے محنت، پیشہ وارانہ قابلیت اور صحافت کو مقدس زندگی قرار دینے کے نتیجے میں چیف رپورٹر بنا دیئے گئے۔ وہ ان تھک کارکن تھے اور میں اس زمانے میںبھی انہیں گھڑی کی سوئیاں دیکھ کر دفتر آنے اور گھر جانے کے بجائے ہمہ وقتی صحافتی کارکن سمجھتا۔ خبریں کے آغاز کے دن تھے اور روٹین کی رپورٹنگ کے بجائے ہم اخباری چھاپوں، خصوصی انسپکشن ٹیموں اور عوامی سطح پر کھلی کہچریوں پر بہت زیادہ توجہ دے رہے تھے، شمشاد مانگٹ اس ٹیم کے سرخیل تھے۔ شمالی پنجاب، آزاد کشمیر ہو یا اس وقت کے صوبہ سرحد کے دور دراز مقامات، انہوں نے سینکڑوں نہیں ہزاروں رپورٹیں مرتب کرنے کے لیے آئوٹ ڈور سرگرمیوںمیں حصہ لیا۔

کتاب کا پیش لفظ شمشاد مانگٹ نے خود تحریر کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ میں دیہاتی پس منظر کا حامل ہوں۔ میرا گائو ں “مانگٹ”ایک ہزار سال پرانی تاریخ کا ایک باب ہے۔ میرے گائو ںکی مسجد آٹھ سو سال پرانی ہے جو آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ گائوں میں سب کچھ بدل گیا مگر یہ مسجد اپنی تمام تر روحانیت کے ساتھ اسی طرح موجود ہے۔ اسی طرح ایک جگہ مزید لکھتے ہیں کہ جمہوریت کے پچھلے ستر سالوں میںعوام کے ساتھ کونسا دھوکہ ہے جو نہیں ہوا؟ اور کون سا وعدہ ہے جو ایفا ہوا ہے؟ پاکستان کے عوام کتنے بدنصیب ہیں جنہیں ستر سال میں نہ ہی مخلص آمریت نصیب ہوئی اور نہ ہی خیر خواہ جمہوریت گلے مل سکی ۔ جو آمراقتدار میںآئے وہ سیاسی جماعتوں کے آلہ ء کار بن گئے اور جو سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں ان کے اندر سے آمریت نے جھانکنا شروع کر دیا۔ بدنصیب عوام جمہوری ٹھگوںمیں گھرے ہوئے ہیںلیکن آمریت کے لیے دعا کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔

پچہترکالموں پر مشتمل اس کتاب کا بیک اننر فلیپ معروف ایڈوکیٹ چوہدری محمد اشرف گجر نے لکھا ہے جو کہ مصنف کے قریبی دوست بھی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ شمشاد مانگٹ کی شخصیت میرے جیسے بہت سے احباب کے لیے نیلگوں اُفق پر چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہے ۔میری اور شمشاد مانگٹ کی رفاقت اتنی ہی قدیم ہے جتنی میری وکالت اور اسکی صحافت۔ قریباً اڑھائی عشرہ بیتنے کے باوجودگزرا ہوا ہر لمحہ میری یاداشت کی تختی پر پہلے دن کی طرح اُجلا اور تر و تازہ ہے۔ شمشاد مانگٹ اور میری قلبی اور ذہنی ہم آہنگی کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ بھی میری طرح سونے کا چمچہ منہ میںلے کر پید انہیں ہوا۔ وہ ہمیشہ مشکل رستوں کا مسافر رہا۔ آگے چل کر مزید لکھتے ہیںکہ وہ لمحہ آج بھی یاد ِتازہ کی طرح میرے حافظے پرنقش ہے جب غالباً بیس سال قبل شمشاد مانگٹ تحقیقاتی صحافت کا سورج بن کر میرے روبرو آبیٹھا۔ وہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ اشرف گجر صاحب جیل میں بہت ظلم ہوتا ہے وہاں قیدیوں کی اصلاح نہیں کی جاتی ۔ انہیں پختہ کارجرائم پیشہ تربیت کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ لہذا جیل کے ماحول کا مشاہدہ کرنے کے لیے مجھے جیل بھجوائیں۔ پھر شمشاد مانگٹ جیل گیا اور دوہفتے گزارنے کے بعدجیل سے باہر آیا تو اس نے اپنی روداد میں ہو شربا انکشافات کئے کہ ہر شخص چونک اُٹھا۔

شمشاد مانگٹ سے راقم کی دوستی عزیز دوست اور مربی سینئر صحافی جاوید ملک کی وساطت سے ہوئی ۔ جاوید ملک دوستوں کے دوست ہیں ۔ میرے شہر سے تعلق رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے صحافتی حلقوں میں میری شناسائی بھی اُنہی کی مرہون منت ہے۔ شمشاد مانگٹ صاحب کی شخصیت ایک نرم مزاج،شفیق، کینہ و بغض سے پاک ایسے دوست کی سی ہے جواپنی ہر بات اپنے دوستوں سے شیئر کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ حقیقت پسندانہ شخصیت ہونے کی وجہ سے لگی لپٹی نہیں رکھتے اور دوستوں سے اپنی آراء کاکھل کر اظہار کرتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ دوستوں کے مددگار بھی ہیں۔ غرور اور تکبر نام کی چیز کم از کم میں نے ان میں نہیں دیکھی ۔ میری جتنی بھی ملاقاتیں ان سے ہوئی ہیں یا میں انہیں جان سکا ہوں وہ مشورہ کو بہت اہمیت دیتے ہیں چاہے معاملات ذاتی ہوں یا پیشہ وارانہ ۔میں سمجھتا ہوں یہی وہ خوبی ہے جو ان کی ترقی کا پہلا زینہ ہے۔ شمشاد مانگٹ کی کتاب کا ایک ایک کالم میں نے پڑھا ہے اورجوں جوں میں پڑھتا گیا مجھے شمشاد مانگٹ کی حقیقت پسندی، صاف گوئی اور بے باک پن نے بہت متاثر کیا ہے۔

وہ ایک نڈر اور بے خوف صحافی ہیں۔ یہ صحافیوں اور قلم کاروں کی اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جنکی گردن کٹ تو سکتی ہے جھک نہیں سکتی۔ ان کا قلم ہمیشہ ظلم ، جبر اور زیادتی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے۔ شمشاد مانگٹ اُن لوگوںمیں سے ایک ہیں جو سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کو کہنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریرکی سہل پسندی عام قاری کو اپنی گرفت میںلے لیتی ہے اور قاری پورا کالم پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ماڈرن کیمونیکشن بھی یہی کہتی ہے کہ زبان کو اتنا سہل ہونا چاہیے کہ پڑھنے والا نہ صرف اسے باآسانی سمجھ سکے بلکہ اپنا فیڈ بیک بھی دے ۔ لکھنے والے کی سوچ اور قاری کی سوچ اگر برابر ی کی سطح پر آ جاتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا ابلاغ مکمل ہوا۔شمشاد مانگٹ کا انداز تحریر اتنا پختہ ہے کہ وہ کالم کے عنوان سے انصاف کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ انکے کالم کی بناوٹ مختلف واقعات اور کہانیوں کو جوڑ کر ایک گلدستے کی شکل میںپیش کرتی ہے۔

سیاسی چور عام قاری کے ساتھ ساتھ صحافت اور کالم نگاری کے طالب علموں کے لیے بھی مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ میرا انہیں مشورہ ہے کہ کتاب سیاسی چور کو خرید کر پڑھیں، ان کے خرچ کیے گئے پیسے رائیگاں نہیںجائیںگے۔شمشاد مانگٹ کا ایک ایک کالم علمیت، اطلاعات اور آگاہی سے بھرپور ہے جو عام آدمی کو اس کے حقوق اور فرائض سے آشنا کراتی ہے۔ دُعا ہے شمشاد مانگٹ کا صحافتی کم ادبی سفرکبھی نہ رکے بلکہ جاری و ساری رہے تاکہ آنے والے تشنگانِ علم ان کے علم و تجرے سے بہرور ہو سکیں۔

Shahzad Hussain Bhatti
Shahzad Hussain Bhatti

تحریر : شہزاد حسین بھٹی

Share this:
Tags:
Columnist government History journalist political politics World تاریخ حکومت دنیا سیاست سیاسی صحافی کالم نگار
Kashmir Solidarity Day
Previous Post شہہ رگ پاکستان ”کشمیر” آزادی کا منتظر
Next Post ہم حکومت گرانے کے موڈ میں نہیں: پی پی رہنما خورشید شاہ
Khursheed Shah

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close