Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سیاسی جماعتوں کے تعلیمی ادارے اور معیار

January 17, 2018 0 1 min read
Educational Institutions
Educational Institutions
Educational Institutions

تحریر : محمد نورالہدیٰ
تعلیمی ادارے تعلیم و تربیت کی بہترین آماجگاہیں ہوتے ہیں۔ وطن عزیز کو ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل کرنے میں بنیادی کردار انہی اداروں کا ہوتا ہے۔ تعلیم کی اہمیت مسلمہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے اپنے تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں جہاں ملک کے طول و عرض سے طلباء حصول علم کیلئے آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تعلیمی ادارے مذہبی اور کچھ دنیاوی تعلیم کے حامل ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والے طلباء کا ایک خاص حصہ انہی پارٹیوں کے مسالک سے تعلق رکھتا ہے ، جبکہ بیشتر دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات بھی ان تعلیمی اداروں سے مستفید ہورہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے زیر انتظام ان تعلیمی اداروں میں ان جماعتوں کے افکار و نظریات کا پرچار نہ ہو ، یہ کیسے ممکن ہے … البتہ یہ امر توجہ طلب ہے کہ یہاں سیاسی پارٹیوں کی مداخلت کس قدر ہے ، نیز معیار تعلیم کیسا ہے؟۔

چیئرمین تحریک انصاف کا نمل ، جماعت اسلامی کے منصورہ سکولز و کالجز اور مدارس ، جے یو آئی ، سنی تحریک ، لبیک تحریک اور دیگر مذہبی سیاسی تنظیموں کے مدارس ، پاکستان عوامی تحریک کے مہناج القرآن سکول ، کالج و یونیورسٹی ، جماعت الدعوہ / ملی مسلم لیگ کے الدعوہ سکولز … غرض بہت سی سیاسی / مذہبی تنظیمات ، فرقے اور سیاسی افراد اپنی اپنی درسگاہوں کے ذریعے طلباء میں اپنی تعلیمات ، نظریات و اقدار کی ترویج کررہے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں ایک خاص حصہ انہی سے وابستگی رکھنے والوں کا داخلہ لیتا ہے ، جبکہ زیادہ تر دیگر دائروں سے تعلق رکھنے والے طلباء ہوتے ہیں۔

سیاسی جماعتیں یہاں اپنی طلبہ تنظیموں اور ان درسگاہوں کی انتظامیہ کو استعمال میں لاتے ہوئے کھلے یا ڈھکے چھپے انداز میں اپنی افرادی قوت تیار کررہی ہوتی ہیں۔ البتہ یہ امر توجہ طلب ہے کہ یہ افرادی قوت کس حد تک بعدازاں پیشہ ورانہ زندگی میں ان جماعتوں کے لئے مفید ثابت ہوتی ہے ، کیونکہ بعض پارٹیوں کے حوالے سے اس کے تلخ نتائج ہی دیکھے گئے ہیں۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مذکورہ تعلیمی ادارے معیار کے اعتبار سے کہاں کھڑے ہیں۔ اگرچہ یہاں سے جو کھیپ تیار ہوکر نکلتی ہے وہ کسی نہ کسی حوالے سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنا اپنا حصہ ڈالے ہوئے ہیں … مگر معیار کے لحاظ سے بہرحال ان پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔

میں نے بہت سے تعلیمی اداروں کے ماحول کا مشاہدہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جن سیاسی پارٹیوں کی درسگاہیں تعلیم سے زیادہ اقدار و روایات اور نظریات کی پاسداری پر توجہ دیتی ہیں ، وہ معیار بنانے میں ناکام رہی ہیں … جبکہ اس کے برعکس جنہوں نے اس سے ہٹ کر تعلیمی ادارے چلائے ، ان کی کامیابیاں روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔

مثلاً الدعوہ سکولز اپنے مسلک اور اقدار و روایات پر سختی سے کاربند ہیں اور اپنے طلبہ اور اساتذہ کو بھی اسی جانب راغب کرتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کیلئے طلباء اور اساتذہ کی باقاعدہ ”ذہن سازی” کی جاتی ہے … نائن الیون اور پاکستان پر لگنے والی پابندیوں اور الزامات کے بعد جب حالات میں ٹوئسٹ آیا تو ان سکولز کا دائرہ کار بھی محدود ہوگیا ہے۔ یہاں محض ہم مسلک طلباء ہی داخلہ لینے لگے اور دیگر فیملیاں اس جانب رخ کرنے سے گریزاں ہونے لگی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بیشتر ہم مسلک افراد بھی اپنے بچوں کو یہاں کی بجائے دوسرے سکولوں میں بھیجنے پر ترجیح دینے لگے ہیں۔ معیار کی بات کی جائے تو اک سوالیہ نشان دکھائی دیتا ہے۔

منصورہ سکولز اور کالجز مولانا مودودی کے فکر اور نظریات کی ترویج کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ یہاں آنے والے زیادہ تر طلبہ و طالبات کا تعلق زیادہ تر جماعتی حلقوں سے ہی ہوتا ہے ، جن کا نہیں ہوتا ، انہیں یہ ادارے جماعت کا فالوور بنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض طلبہ تعلیم سے فارغ ہو کر جماعت اسلامی جوائن کرلیتے ہیں اور زیادہ تر نہیں کرتے۔ تاہم یہ امر شاہد ہے کہ جماعت اسلامی سے ایسوسی ایٹ تعلیمی اداروں میں ”دعوت” کا حلقہ بہت مضبوط ہوتا ہے۔ یہاں مذکورہ تعلیمی ادارے کی طرح طلبہ و طالبات کو نظریات پر سختی سے کاربند تو نہیں رکھا جاتا ہے مگر اسلام اور اسلامی اقدار کے مطابق وقت گزارنے کی ترغیب دی جاتی ہے … البتہ مطلوبہ تعلیمی معیار یہاں بھی سوالیہ نشان ہے۔ جماعت اسلامی بحیثیت ایک تنظیم ، تعلیمی ادارے چلانے اور یہاں معیار بنانے میں ہمیشہ ناکام رہی ہے۔

مذکورہ دونوں جماعتوں کے تعلیمی ادارے چونکہ اپنے اصل سے ہٹنے کی بجائے اپنے افکار و نظریات کی ترویج پر بھی بھرپور توجہ دیتے ہیں ، شاید اسی لیے نتائج اور معیار نہیں دے پا رہے ، جبکہ ان کے مقابلے میں جن درسگاہوں میں توجہ ہی صرف تعلیم پر ہے ، وہاں معیار اور نتائج دونوں قابل ذکر ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کیسے ! … نمل پوری دنیا میں معیار کے اعتبار سے قابل فخر گردانی جاتی ہے ۔ یہاں داخلہ لینے والے بچے زیادہ تر ممی ڈیڈی ماحول سے آتے اور ماڈرن فیملیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذہبی تعلیم اور اقدار و روایات کیا ہوتی ہیں ، یہاں کوئی نہیں جانتا ، البتہ یہاں کے طلبہ کی پیشہ ورانہ زندگی کے حوالے سے اس قدر تربیت کی جاتی ہے کہ ادارے انہیں نوکری پر رکھنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس تعلیمی ادارے پر پارٹی کی چھاپ نہیں ہے اور نہ ہی انہیں اس حوالے کچھ کہا جاتا ہے ۔ یہی بات اس کے معیار کی ضامن ہے۔

پاکستان عوامی تحریک ایک لحاظ سے مذہبی اور سیاسی پارٹی بھی ہے ۔ اگرچہ یہ پارٹی سے زیادہ ”پریشر گروپ” کے طور پر جانی جاتی ہے ، مگر اس کی منہاج یونیورسٹی مذکورہ تمام منظرنامے میں مجھے دیگر تعلیمی اداروں سے مختلف اور منفرد دکھائی دی ہے ۔ بعض اوقات مجھے یہ درسگاہ طاہر القادری کی شخصیت اور تعلیمات سے یکسر متضاد معلوم ہوتی ہے ۔ میں طاہر القادری کے نظریات اور سوچ و فکر کا ہر گز فالوور نہیں ہوں ، مجھے ان کے سیاسی طریقہ کار سے بھی شدید اختلاف ہے ، مگر یہ حقیقت ہے کہ طاہر القادری ہمارے تمام سیاستدانوں سے زیادہ تعلیم یافتہ اور اہل علم ہیں … میں ان کے تعلیمی اداروں پر اس تناظر میں بہت حیران ہوا ہوں کہ ان کی یونیورسٹی میں داخل ہوکر کسی طور پر بھی نہیں لگتا کہ ہم کسی خاص مسلک یا نظریے سے منسلک تعلیمی ادارے میں قدم رکھے ہوئے ہیں۔

اگرچہ وقتاً فوقتاً مختلف پروگرامات کے بہانے یہاں طاہر القادری کو بحیثیت پارٹی لیڈر مدعو کیا جاتا ہے ، مگر میں نے انہیں کبھی طلبہ و طالبات کو اپنی تحریک/ پارٹی میں شمولیت کی دعوت دیتے نہیں دیکھا ۔ یہ آزادانہ ماحول کا حامل تعلیمی ادارہ ہے جہاں طلبہ و طالبات آزادانہ رائے رکھتے ہیں اور ان کی آبیاری کرتے ہوئے سوچ اور فکر میں وسعت کی حامل نسل پیدا کی جارہی ہے۔ یہاں ہر قسم کے اذہان پائے جاتے ہیں اور کسی نجی یونیورسٹی جیسا ماحول ہے۔ طلباء پر نہ تو لباس کی کوئی قید ہے اور نہ ہی کسی اور حوالے سے کوئی پابندی یا سختی ، آپ نماز پڑھیں ، نہ پڑھیں۔ چاہے اکٹھے بیٹھیں ، یہ سب آپ پر منحصر ہے ۔ مخلوط ماحول ہے ، کلاسوں میں بھی اور عمومی طور پر بھی … کسی جانب سے نہیں لگتا کہ یہ یونیورسٹی کسی خاص مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ یہاں موجود طلبہ و طالبات کی خاصی تعداد طاہر القادری کے نظریات کی حامی بھی نہیں ہے … مگر اس سب کچھ کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ یہاں مادر پدر آزادی ہے۔ باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس رکھا جاتا ہے۔

معیارِ تعلیم کی بات کی جائے تو منہاج یونیورسٹی گذشہ 32 سالوں میں ہزاروں طلبہ و طالبات کو علم کی دولت سے مالامال کر چکی ہے اور اب بھی سینکڑوں طلبہ و طالبات یہاں سے سیراب ہورہے ہیں۔ گریجویشن سے لے کر پی ایچ ڈی تک تقریباً تمام ہی فیکلٹیز سے یہاں طلبہ و طالبات مستفید ہورہے ہیں ، اور ہزاروں ہوچکے ہیں ۔ یونیورسٹی تمام جدید وسائل سے آراستہ ہے۔ اس کے تعلیمی معیار کی ضمانت بآسانی دی جا سکتی ہے۔ تحقیقی کام کے اعتبار سے بھی منہاج یونیورسٹی کا شمار معیاری تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔

اوپر ذکر کئے گئے پہلے دو تعلیمی اداروں کی توجہ چونکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ طالبعلم کی مذہبی تربیت پر زیادہ ہوتی ہے اس لئے وہ تعلیم کا مطلوبہ معیار بنانے میں کامیاب نہیں ہوپاتے … جبکہ ان کے برعکس باقی دو ادارے تربیت کی بجائے صرف تعلیم کو فوکس کئے ہوئے ہیں ، جس کی وجہ سے ان درسگاہوں میں داخلے کی ریشو بھی زیادہ ہے اور معیار بھی اہمیت کا حامل ہے۔

جب تعلیمی اداروں کی توجہ تعلیم سے زیادہ دیگر سرگرمیوں پر ہوگی ، وہ اپنا نام بنانے میں ناکام رہیں گے … ہاں ہم نصابی سرگرمیاں تعلیم کا لازمی جزو ہوتی ہیں اور طلباء کا ذہن فریش کرنے اور صلاحیتوں کا نکھارنے کیلئے ان کا انعقاد لازماً ہونا بھی چاہئے … نیز مذہبی و نظریاتی افکار و روایات اور اقدار کا خیال رکھا جانا بھی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی ترجیحات میں ضرور شامل ہونا چاہئے ، کیونکہ ہماری بنیاد اسلام ہے اور اسی کے مطابق چلنے میں ہی ہماری شناخت ہے … لیکن اس حقیقت کو بھی قبول کرنا ہوگا کہ صرف تربیت کی بنیاد پر طلباء کو اپنا فالوور یا گرویدہ بنانے سے کبھی بھی اداروں کا نام نہیں بن پاتا ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیاسی جماعتوں کے فکر و نظریات کے تابع کرنے کی بجائے آزاد ماحول دینا چاہئے۔ بلاشبہ سیاسی نظریات سے پاک درسگاہیں ہی ترقی کی ضامن ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ضمن میں منہاج جیسے ادارے ہمارے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

Muhammad Noor-Ul-Huda
Muhammad Noor-Ul-Huda

تحریر : محمد نورالہدیٰ

Share this:
Tags:
country Development Muhammad Noor-Ul-Huda Nations political parties standards ترقی تعلیمی ادارے سیاسی جماعتوں قوموں معیار ملک
Mufti Mohammad Naeem
Previous Post پیغام پاکستان قیام امن و فروغ ہم آہنگی کی دستاویز ہے۔ مفتی محمد نعیم
Next Post کیا ہم انسان ہیں یا پروڈکٹ
Zenab Murder Case

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close