Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سیاست تو عبادت ہے مگر تجارت کیسے بنی؟

November 25, 2014 0 1 min read
Politics
Politics

تحریر : نعمان قادر مصطفائی
لکھنے والے لکھتے اور کہنے والے کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں سیاست کو عبادت کا درجہ حاصل تھا اور اہل سیاست لوگوں کی بے لوث خدمت عبادت سمجھ کر کیا کرتے تھے اُن کے پاکیزہ ذہنوں میں خدمت انسانیت کی ایک دُھن اور لگن رچی بسی ہوتی تھی اہل سیاست کے دروازے شب وروز ہر امیر غریب کے لیے کھلے ہوتے تھے اوربڑی خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے عوام کی خدمت کیا کرتے تھے مگر جو ں جوں سیاست کی وادی میں نا اہل، اُجڈ ، گنوار اور تجارت پیشہ لوگ شامل ہوتے گئے تو ں توں سیاست کا ماحول میلا ، گدلااور کمر شلائز ہو تا گیا اور اپنے حلقہ کے غریب ووٹر ز کے لیے الگ پیمانے اور امیر ووٹر ز کے لیے الگ ”مہ خانے” سجائے جانے لگے پاکستانی سیاست کا کلچر ہے کہ منتخب ہونے کے بعد قوم کی ”خدمت ” کا حلف اُٹھاتے ہی اہل سیاست کے تیور بدلنے شروع ہو جاتے ہیں اور آج کے اخبارات ہی اُٹھا کر دیکھ لیں کہ کس لیڈر نے ملک و قوم کی فلاح اور اصلاح کی بات کی ہے۔۔۔۔۔ ؟ہماری موجودہ سیاست کا مزاج یہ ٹھہرا ہے کہ جب تک ایک دوسرے پر کیچڑ اور گند نہیں اُچھا لو گے اس وقت تک تم کوچہ سیاست میں داخل ہی نہیں ہو سکتے ہم نے ایک دوسرے پر طعن و تشنیع ہی کو سیاست کے لیے جُزوِ لازم قرار دے رکھا ہے مگر جب ہم اپنے اسلاف اور اکابرین کی روشن و تابندہ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہماری روح کے بند دریچے کھُلتے اور پژمردہ چہرے کھِلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ، حضرت ابوبکر صدیق نے خلافت کا منصب سنبھالتے وقت اپنا تا ریخی خطبہ ارشاد فر مایاتھا جو سنہرے حروف سے لکھنے اور دل کے نہاں خانوں میں چھُپانے کے قابل ہے ،اول آپ نے حمد و ثناء الہی بیان کی پھر فر ما یا تھا۔

” بعد حمد الہی اے آدمیو !واللہ مجھ کو ہر گز امیر بننے کی حرص نہ کبھی دن میں تھی اور نہ میں نے اللہ سے ظاہر یا پوشیدہ اس کے لیے دُعا کی البتہ مجھ کو یہ خوف ہوا کہ کو ئی فتنہ نہ اُٹھ کھڑا ہو مجھ کو حکومت میں کچھ راحت نہیں ہے بلکہ مجھ کو ایک ایسے امر ِ عظیم کی تکلیف دی گئی ہے جس کے بر داشت کی مجھ میں طا قت نہیں اور نہ وہ بدون اللہ عز و جل کی مدد کے قا بو میں آسکتا ہے میری ضرور یہ آرزو تھی کہ آج میری جگہ سب سے زیادہ قوی آدمی ہو تا یہ تحقیق ہے کہ میں تمہارا امیر بنا یا گیا ہوں اور میں تم سے بہتر نہیں ہو ں اگر میں راہ راست پر چلوں مجھ کو مدد دو اگر بے راہ چلوں مجھ کو سیدھا کر دو صدق امانت ہے اور کذب خیانت ، جو تم میں کمزور ہے وہ میرے لیے قوی ہے انشا ء اللہ اس کا حق دلوا دوں گا اور تم میں جو قوی ہے وہ میری نظر میں کمزور ہے اس سے انشا ء اللہ حق لے کر چھو ڑوں گا ، جو قوم راہ حق میں جہاد چھو ڑ دیتی ہے وہ ذلیل کر دی جاتی ہے اور جس قوم میں بے حیائی کا راج ہو جا تا ہے اُس پر عام طور پر عذاب ِ الہی نازل ہوجا تا ہے جب تک میں اللہ اور اُس کے رسول ۖ کی اطاعت کروں تم میری اطاعت کرو اور جب میں خدا اور اس کے رسول ۖ کی نا فر مانی کروں تم کو میری اطاعت نہیں کرنی چا ہیے ” اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی ٰ عنہ نے ہمیشہ رسول ِ رحمت ۖ کی پاکیزہ سیرت طیبہ کو رول ماڈل بنا یا ہے اور اُسی کے مطابق نظام ِ حکومت کو چلا یا ہے اور آپ ایک فرض شناس ، خادم قوم اور قانون کی پا بندی کرنے والے حکمران کے طور پر معروف تھے اگر ہمارے حکمران صرف حضرت ابو بکر صدیق کے دور ِ حکومت ہی کو رول ماڈل بنا لیں تو پا کستان تمام تر معاشی ، سیاسی ، اقتصادی ، داخلی اور خارجی مشکلات سے نجات پا سکتا ہے اور عوام بھی خو ش حالی کی زندگی بسر کر سکتے ہیں مگر بد قسمتی سے ہمارے حکمران خلفاء راشدین کی سیرت طیبہ سے کو سوں دور ہیں اور نافذ کرنا تو کُجا انہوں نے تو کبھی یہ زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ ہم خلفاء راشدین خصوصاََ حضرت ابو بکر صدیق کے صرف ایک طرز عمل کو اپنی نظام حکو مت کا حصہ بنا لیں تو ہماری غریب عوام سُکھ کا سانس لے سکتی ہے کہ جب حضرت ابو بکر صدیق کا وصال ہوا تو حضرت عمر فاروق نے نظام ِ خلافت سنبھا لا تو آپ کو معلوم ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق با قاعدگی کے ساتھ فلاں علاقہ میں ایک غریب بوڑھی عورت کو اپنے ہا تھوں سے کھانا کھلا یا کرتے تھے تو حضرت عمر فاروق نے یہ ڈیوٹی سنبھال لی اور جب آپ پہلے دن اُس نا بینا بوڑھی عورت کو کھانا کھلانے لگے۔

Pakistan
Pakistan

آپ نے روٹی کا لقمہ توڑ کر اُس کے منہ میں ڈالا تو اُس بوڑھی نا بینا عورت کی چیخ نکل گئی اور وہ عورت رونے لگی اور کہا کہ لگتا ہے کہ امیر المومنین (حضرت ابو بکر صدیق )اس دنیا میں نہیں رہے کیونکہ جب وہ روٹی کا لقمہ میرے منہ میں ڈالتے تھے تو منہ میں ڈالنے سے پہلے وہ اس کو اچھی طرح چبا کر میرے منہ میں ڈالا کرتے تھے کیونکہ میرے منہ میں دانت نہیں ہیں اور وہ مجھے چبا چبا کر کھلاتے تھے آج کیونکہ آپ نے سالم لقمہ میرے منہ میں ڈالا ہے تو میں نے محسوس کیا ہے کہ آج مجھے کھا نا کھلانے والا کوئی اور ہے ، کاش ہمارے حکمران بھی ایسی عادتوں کے خوگر اور عادی ہو جائیں تو ملک میں کوئی غریب بھو کا اور غربت باقی نہ رہے ،مگر پاکستانی سیاست کا دستور کچھ وکھری ٹائپ کا ہے وہی لوگ جو الیکشن سے پہلے ایک وی وی آئی کا پروٹول رکھتے ہیں اور اُن کے تمام ناز نخرے امیدواران پہلی رات کی دلہن کی طرح برداشت کرتے ہیں اور اُن کی ہر خوشی غمی شیئر کرنا وہ اپنا فرض ِ منصبی سمجھتے ہیںایوان اقتدار میں داخل ہوتے ہی اُن کے تمام تر ضابطے ، قوانین ، اصول اور نعرے تبدیل ہو جاتے ہیں اور غریب عوام کے منہ میں لقمہ دینا تو کُجا اب ایسا وقت آگیا ہے کہ اُن کے منہ سے روٹی کے لقمے زبر دستی چھینے جا رہے ہیں اور ان کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل تر ہوتا جا رہا ہے پاک سر زمین ، کشور حسین ، مرکز یقین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کا قانون اور جمہوریت تو پہلے ہی دستیاب نہیں تھی اب پٹرول بھی نایاب ، اشیاء ضروریہ کم یاب ، بجلی عدمِ دستیاب، ایسے مشکل ترین حالات میں غریب عوام کہاں جائے؟ہمارے راہنمایان قوم نے قوم سے اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ اب ان کی کسی سچی بات پر بھی یقین کرنے کو دل نہیں کرتا باب العلم، صاحب نہج البلاغہ ، حامل ذو الفقار حضرت علی کرم اللہ وجہ الریم سے کسی نے پوچھا ”آخر جھوٹ بولنے سے کیا نقصان ہو تا ہے حالانکہ جھوٹا آدمی ہر طرف سے فائدہ ہی اُٹھاتا ہے اور جھوٹ موٹ بول کر اِدھر اُدھر سے نفع سمیٹ لیتا ہے ”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر مایا ”ایسا چند دن ہو تا ہے اس کے بعد جھوٹ بولنے والے کو سب سے بڑا نقصان یہ ہو تا ہے کہ اس کی سچی بات کا اعتبار اور اعتماد ختم ہو جاتا ہے ”مگر بد قسمتی یہ ہے کہ قوم کا حافظہ بھی بہت ہی کمزور ہے بلکہ اب تو روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ویسے ہی عوام کی” مت ”مار دی ہے اگر عوام اپنے حافظے پہ ذرا سا بھی زور دے اور تصور میں لائے کہ جناب میاں نواز شریف نے با ر ہا مرتبہ اپنی پریس کانفرنسز اور اجتماعات میں یہ اعلان کیا کہ جو لوگ مسلم لیگ چھوڑ کے چلے گئے ہیں ہم ان بھگوڑوں کوکسی صورت واپس نہیں لیں گے مگر اب وہی لوگ جن کو عرف ِ عام میں لوٹا کہتے ہیں اِن لوٹے، لُٹیروں اور فصلی بٹیروں کو میاں صاحب نے اپنے ساتھ ہی نہیں بلکہ اپنے سینے سے لگا یا ہوا ہے۔

کہاں گیا ضابطہ ، قانون اور اصول پرستی کا وہ پیمانہ جس کی بنیاد پرعوام سے ووٹ لیے جاتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ موجودہ سیاست کا کوئی اصول اور ضابطہ نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف اپنا ذاتی مفاد ہی ہے جس کے بل بوتے پر سیاست کی جاتی ہے کل جس کو ہمارے حکمرانوں کی طرف سے قاتل لیگ کا طعنہ دیا جاتا تھا آج وہی قاتل لیگ قابل لیگ بنی ہوئی ہے ”تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ہمیں تو سب کچھ یاد ہے ناں ” کوٹھوں پر جس طرح ہر رات بستر بدلتے ہیں اس سے کہیں بڑھ کر ہمارے سیاستدانوں کے اصول اور قاعدے بدلتے ہیں بلکہ اب تو پارٹیاں اور وفا داریاں بدلتے بھی دیر نہیں لگتی ،ایوان ِ اقتدار میں کھنکتی ڈالروںاور سکوں کی ذرا سی جھنکار سے ہمارے ”راہنمایان ِ قوم ” کے دل بھی دھڑکنا شروع کر دیتے ہیں اور مرغ بسمل کی طرح تڑپنا شروع کر دیتے ہیں کہ کب اس جھنکار کی مسحور کن آواز سے براہ راست لطف اندوز ہوا جائے بس ایک میٹنگ ہوئی اور فوراََ بعد پریس کانفرنس کھڑکائی جاتی ہے کہ ” ہم نے اصولوں کے فروغ اور عوام کی خدمت کے لیے فلاں لیگ یا پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے ” ہماری سیاست کا رویہ تشد آمیز اور ہنگامہ خیز ہے ، ہمارے مذہبی رویوں میں آتشیں اور زلزلہ آفریں جراثیم پائے جاتے ہیں ، ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم آج تک اپنی سیاست میں استقلال ، مذہب میں استدلال اور سو سائٹی میں اعتدال پیدا نہیں کر سکے ہمارے سیاسی اکابرین کی اگر فہرست پیش کی جائے کہ جنہوں نے قیام ِ پاکستان کی جدو جہد میں عملاََ حصہ لیا تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ایسے اُجلے اور نکھرے کردار کے لوگ بھی پاکستان کی سرزمین پر موجود تھے ؟ ان لوگوں کو بلا شبہ پہاڑی کا چراغ اور زمین کا نمک کہا جا سکتا ہے ، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ آج ہماری سیاسی قیادتیں دماغ ، فکر ، کردار ، اوریجنیلٹی ، بیدار مغزی اور کشادہ نگہی سے یکسر کیوں محروم ہیں ؟ ”راہنمایان ِ قوم ” اپنا سارا زور اور توانائی دولت ، عصبیت ، طاقت ، جہالت ، خوشامد ، ذاتی وفاداری اور بونے پن پر کیوں صرف کر رہے ہیں ؟برملا کہا جا سکتا ہے کہ سرزمین پاک نہ تو فکری لحاظ سے بانجھ پن کا شکار ہے اور نہ ہی ذہنی طور پر بنجر ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے سینے میں ایسے ایسے خزانے چھپا دیے ہیں اگر اُن کو صحیح جگہوں پر استعمال کیا جائے تو آج دنیا ہماری دہلیز کی محتاج ہو اور کاسہ لے کر ہمارے دروازے پر کھڑی اپنی سانسوں کو باقی رکھنے کے لیے بھیک مانگ رہی ہو۔

Allah
Allah

مجھے اس موقع پر آبروئے صحافت جناب ِ مجید نظامی کی وہ بات شدت سے یاد آرہی ہے جو آپ نے کئی سال پہلے ”پاکستان تھنکرز فورم ” کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی کہ ”اسلام آباد میں امریکی سفیر مسٹر مونجو کا پاکستان میں مقام بر طانوی عہد کے وائسرائے سے کم نہیں ، آج دنیا ”گلوبل ویلیج ” ہے تو امریکہ اس کا چو ہدری !وہ جاپان ، فرانس ، بر طانیہ اور جرمنی تک پر اپنی چوہدراہٹ چلانا چاہتا ہے تو پاکستان کس باغ کی مولی ہے ، اپنی حفاظت اور اپنی فوج کی مضبوطی کے لیے ہم نے لیاقت علی خان کے دور سے چکر لگانے شروع کیے مرحوم آصف نواز بھی امریکہ گئے ، جنرل وحید بھی چکر لگا آئے ، ہم اتنے اہتمام کے ساتھ حج اور عمرہ کرنے کے لیے نہیں جاتے جتنے اہتمام کے ساتھ واشنگٹن جاتے ہیں ، ہم یا تو اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ امریکہ ہی ہمارا ملجیٰ و ماویٰ ہے یا پھر خود میں قوت بازو پیدا کریں اپنی عزت ، خودداری اور آزادی و خو د مختاری کی حفاظت کریں ”یہ خطبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم نے سیاست کو تجارت بنادیا ہے اور ہم نے امریکہ کی غلامی کو کائنات کی عظیم ترین متاع تصور کر لیا ہے اس کا واضع ثبوت آج بھی آپ کو نظر آئے گا کہ کس طریقے سے ہمارے ”با اختیار ” حکمران امریکی سفیر کے سامنے دست بستہ نظر آتے ہیں اور معمولی درجے کے سفیر کو وہ پروٹوکول دیا جاتا ہے جو خود اُنہیں اس ”نا ہنجار ” سفیر کے ملک میں بطور چیف ایگزیکٹو نصیب نہیں ہوتا اور جس طریقے سے ہماری ایئر پورٹ پر لائنوں میں لگ کر ”عزت افزائی ” ہو تی ہے ساری دنیا اس انوکھے اعزاز کا مشاہدہ اپنی کھلی آنکھوں سے کرتی ہے ہمارے اسلاف اور حقیقی غریب پرور حکمران عوام کو جوابدہ ہوتے تھے مگر آج کے حکمران امریکہ کو جوابدہ ہیں دنیائے کا ئنات کی ایڈ منسٹریشن کے شہنشاہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کُرتہ کے بارے بھری مجلس میں عوام ہی میں سے ایک شخص اگر یہ پوچھ سکتا ہے کہ جو کپڑا آپ رضی اللہ تعالی ٰ عنہ کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصے کا بیت المال میں سے ملا ہے اُس کپڑے سے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کرتہ تیار نہیں ہو سکتا تھا یہ کُرتہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیسے تیار کرایا ہے ؟تو اِس موقع پر مُرادِ رسول ۖ نے انتقامی لہجہ نہیں اپنایا اور اپنے کسی ”کمانڈر ” کو حکم نامہ جاری نہیں کیا کہ اِس شخص کو اُٹھا کر امیر المومنین کے سامنے بولنے کا ”مزہ ” چکھا دو؟بلکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت ہی اطمینان اور خوش دلی سے سوال کرنے والے کی تسلی اور تشفی کی اور فر مایا کہ ” جو کپڑا میرے بیٹے کو بھی ملا تھا اُس نے اپنے حصے کا کپڑا مجھے دے دیا ہے اور میں نے اپنا اور بیٹے کا کپڑا ملا کر کُرتہ تیار کیا ہے ا،س اطمینان بخش جواب سے وہ شخص مطمئن ہو گیا !کیا ہماری عوام میں وہ جذبہ اور ہمت ہے کہ وہ ”عوامی نمائندگان”سے پوچھ سکے کہ جب آپ پہلی مرتبہ الیکشن جیتے تھے تو آپ کے پاس ٹوٹی پھوٹی سائیکل بھی نہیں تھی اور آج آپ ”لینڈ کروزرز ” اور ”پیجارو گروپ ” میں شمار ہوتے ہیں اور آپ کے پاس چند گز زمین ہوتی تھی مگر آج آپ ہزاروں مربع اراضی کے اکلوتے وارث اور کرتا دھرتا ہیں ؟لوگوں کے ذہن زرخیز ہیں مگر سیاسی جماعتوں نے برادریوں میں جو ٹائوٹ پال رکھے ہیں اُن کے ذہن بنجر اور سوچیں کھردری ہیں اُن کے پیش ِ نظر نظریہ یا مقصد کوئی اہمیت نہیں رکھتا چند ٹکے ہی اُن کا مطمع نظر ہوتے ہیں جن کی خاطر وہ اپنا ایمان اور ضمیر تک اِ ن سیاسی لٹیروں اور فصلی بٹیروں کے پاس گروی رکھ دیتے ہیں اور اِنہی کے اشاروں پر بندروں کی طرح ناچتے رہتے ہیں اور پھر جب الیکشن کا موسم آتا ہے تو یہی ٹائوٹس اپنے ”سیاسی گروں ” کے حُب الوطنی کی یوں قسمیں کھاتے ہیں جیسے بیت المال کا پیسہ ہمارے نمائندگان ”بیت ِ مال ” یعنی گھر کا مال سمجھ کر کھاتے ہیں اور ڈکار تک بھی نہیں لیتے، جا پانیوں نے جنگ عظیم دوم کے بعد یہ فارمولہ عام کیا تھا کہ ”گھر بنائو کچا اور کاروبار کرو پکا ” مگر آج ہمارے سیاستدان گھر بھی پکا اور کاروبار بھی ”پکا ” کرنے کی فکر میں سرگرداں رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ہم سب لوگ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کے مقروض ہیں، کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبد العزیز کا سیب کھانے کو جی چاہا آپ کے رشتہ داروں میں سے کسی عزیز نے ہدیہ کے طور پر آپ کے پاس سیب بھیج دیا ، آپ نے اس سیب کی بہت تعریف کی کہ اس کی خوشبو بہت اچھی ہے اور رنگ بھی خوب ہے پھر آپ نے غلام سے کہا کہ جس شخص نے یہ سیب بھیجا ہے اس سے میرا شکریہ اور سلام کہنا اور کہنا کہ آپ کا ہدیہ بہت اچھا ہے اور سیب واپس کیا ہے۔

کسی نے عرض کیا کہ اے میر المومنین یہ ہدیہ بھیجنے والا تو آپ کا برادر عم زاد ہے اور وہ آپ کے اہل بیت سے ہے نیز یہ کہ رسول ِ رحمت ۖ بھی ہدیہ قبول فر مایا کرتے تھے یہ سن کر آپ نے فر مایا تم پر حیف ہے !ہدیہ تو رسول ِ رحمت ۖ کے لیے ہدیہ تھایہ تو ہمارے لیے رشوت ہے آج پورے باغ کے باغ تک ڈکار لیے جاتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے راہنمایان قوم اپنی جماعت اور لیڈر سے مخلص نہیں ہیں وہ غریب عوام کے ساتھ کتنا مخلص ہوں گے ؟ آج اگر اِدھر ہیں توکل اُدھر ! یہ فصلی بٹیرے اور نقلی لٹیرے آج اگر اس شاخ پر تو کل اُس شاخ پر کنووں کی طرح کائیں کائیں کرتے نظر آئیں گے اور ”ہر گھوٹ کی بُوا” والا کردار اس خوبصورتی کے ساتھ نبھاتے ہیں کہ کشور حسیں کی ”باشعور ”عوام کو ادراک ہی نہیں ہوتا کہ جو اپنی قیادت کے ساتھ مخلص اور وفادار نہیں ہے وہ ہمارے ساتھ کس طرح وفادار اور ہمارا ہمدرد ہو سکتا ہے ؟ ہمیں پھر الیکشن میں ذات ،برادری اور تعلقات نبھانے کے لیے تمام تر اصول ، ضابطے اور قوانین نظر انداز کرنے پڑتے ہیں دیانتداری ، اصول پرستی ، حُب الوطنی اور کردار کو ہم لوگ یکسر بھلا دیتے ہیں جس کا خمیازہ بعد میں ہمیں بھگتنا پڑتا ہے اور ہم پر وہ لوگ مسلط کر دیے جاتے ہیں یا ہو جاتے ہیں جن کی امانت، دیانت ، شرافت ، صداقت اور حُب الوطنی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ آنے والا وقت یہ سب چیزیں اُس وقت آشکار کر دیتا ہے اور جب اخبارات کے صفحات اور ٹیلی ویژن کی سکرین پر پھیلی اُن کی ”حُب الوطنی ”اور ”امانت و دیانت ” کی لیڈ سٹوریاں پڑھنے اور سُننے کو نصیب ہوتی ہیں توسب کچا چٹھا کھل کر سامنے آجاتا ہے آئندہ الیکشن میں اگر عوام نے پھر وہی لوٹ کھسوٹ کے ماہرین کا انتخاب کیا اور اُنہی لو گوں کو منتخب کیا جنہوں نے ملک و قوم کو غیروں کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے تو پھر یہ انٹر نیشنل لُٹیرے بچا کھچا ملک بھی کھا جائیں گے اور ڈکار بھی نہیں لیںگے آئندہ الیکشن میں اگر امیدوار کے لیے ”امانت ”و ”دیانت ”ہی کے معیار کو لازم قرار دیا جائے تو آئندہ اسمبلی کردار کے کھرے اور نیتوں کے اُجلے لوگوں کا ایک ایسا مرکز ہوگی جہاں سے ملک و قوم کی اصلاح و فلاح کے فیصلے ہوا کریں گے اور بجائے واشنگٹن کے مفادات کے خالصتاََ عوامی مفادات کے لیے سوچ بچار ہو گی ایسا ہو نا نا ممکن تو نہیں ہے مگر مشکل ضرور ہے ، اس موقع پرعوام کو بھی کچھ شعور اور احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گااور ذات برادری کے سے نکل کر امیدوار کے کردار و افکار کو مدِ نظر رکھنا ہو گا اب بھی اگر عوام نے شعور حاصل نہ کیا تو پھر رہے نام اللہ کا۔

Nouman Qadir
Nouman Qadir

تحریر : نعمان قادر مصطفائی
03314403420

Share this:
Tags:
Humility Nouman Qadir politics Poor service trade worship انسانیت تجارت خدمت سیاست عبادت غریب
Previous Post برسلز میں بیٹ شرٹ میں چھپا کر لے جانا پاکستانی نوجوان کو مہنگا پڑ گیا
Next Post دشمن کی پیٹھ پر وار اور سازش کمزور لوگ کرتے ہیں، رانا گلزار احمد

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close