Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ایک بے ریا فقیر خواجہ فقیر محمد باروی رحمتہ اللہ علیہ

December 31, 2014December 31, 2014 0 1 min read
Khwaja Faqir Muhammad Barvi
Khwaja Faqir Muhammad Barvi
Khwaja Faqir Muhammad Barvi

تحریر :صاحبزادہ نعمان قادر مصطفائی
بندہ ناچیز عرصہ دراز سے داتا کی نگری لاہور میں روزگار کے سلسلہ میں مقیم ہے ادبی، صحافتی اور سماجی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اب روحانی اور دینی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں لاہور کے پو ش ایریا اعوان ٹائون میں ایک مرکزی جامع مسجد مدینہ میں جمعة المبارک کی خطابت کے ساتھ ساتھ روزانہ نماز فجر کے بعد درس ِ قرآن کا سلسلہ بھی شروع کیا ہوا ہے اِ ن تمام مصروفیات کی وجہ سے اپنے آبائی شہر اب کم ہی حاضری کا موقع ملتاہے مگر پوری دنیا کی طرح ضلع لیہ میں بھی روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تمام تر سر گرمیوں سے پوری طرح آگاہ رہتا ہوں 27دسمبر کی نہایت ہی سرد اور ٹھٹھرتی رات کے پچھلے پہر اچانک موبائل کی گھنٹی بجی جس نے مجھے چونکا دیا اورمنہ سے نکلا ”اللہ خیر کرے”اس وقت خیر کی ہی خبر ہو، موبائل آن کیا تو دوسری طرف دیرینہ دوست پروفیسر احمد رضا اعظمی نہایت ہی رُندھی ہوئی آواز میں پڑھ رہے تھے ”اِن َ لِلَہِ وَ اِنَ اِلیہِ راجِعون” دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں بمشکل وہ کہہ سکے کہ ”قبلہ خواجہ فقیر محمد باروی ”اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔۔۔۔۔۔میرے ہاتھ کی گرفت کمزور ہوگئی اور ہاتھ سے موبائل گر گیا بس پھر کیا آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی ،بے ریا فقیر واقعی ”اللہ کو پیارے ہو گئے ‘یقیناََ وہ اللہ تعالیٰ کے کامل ولی تھے اور ہر کامل ولی اللہ کو پیارا ہی ہوتا ہے ، ولایت ایک دینی اور اسلامی اصطلاح ہے اور دین کا سرچشمہ یا تو کلامِ الہٰی ہے یا پھر سنت و سیرت پیغمبرۖ بعد ازاں فقہ ہو یا علم کلام، تصوف ہو یا منطق و فلسفہ ان میں سے جو چیز قرآن و حدیث اور کتاب و سنت سے ماخوذ یا ہم آہنگ ہو وہ درست اور باقی ”محل نظر” اسلام میں سند یا حجت کوئی فقیہہ ، متکلم، امام، صوفی ، فلسفی، مفسر اور محدث نہیں بلکہ آخری اتھارٹی اللہ اور رسول ۖ ہیں جس بات کی سند اور تصدیق ان دو بارگاہوں سے مل جائے وہ سر آنکھوں پر اور اُن سے ہٹ کر کوئی قول یا فعل ہوگا وہ ترچھی نگاہ کے قابل بھی نہیں اولیاء اللہ وہ ہوتے ہیں جو اپنی خواہش کو خدا کی مرضی سے ہم آہنگ کر چکے ہوں جو بندگی کے مطلوب درجے پر فائز ہوں جن کا وجود لوگوں کے لیے آیت الہٰی ہو جنہیں دیکھ کر خدا یاد آئے جن سے مل کر زندگی کا ڈھب بدل جائے جن کی صحبت میں بیٹھ کر دنیا کم تر اور دین برتر نظر آئے جن کی باتیں علم کی خوشبو دیتی ہوں جن کا کردار گردو پیش کے لیے خدا کی نعمت لگے جن سے مخلوق آزار نہیں آرام پائے اور جو خوف خدا کا پیکر اور اطاعت پیغمبر کا مظہر ہوں یہی نشانیاں ہمیں ”کشف المحجوب””قوت القلوب ” ”رسالہ قشیریہ ””کیمیا ئے سعادت ””فتوح الغیب” اور”التعرف” میں لکھی ملتی ہیں یہ ساری کتابیں تصوف کی ”امہات کتب” کہلاتی ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کے بندوں اور اس کے پیاروں کا تفصیلی ذکر اللہ کی کتاب قرآن مجیدمیں ملتا ہے ْنہ جانے کیوں میری فطرت میں اولیاء اللہ سے محبت کرنا شامل ہے یہ تو بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اولیاء سے تو اللہ تعالیٰ اور اس کا محبوب ۖ بھی محبت کرتا ہے تو پھر میں کیوں ناں ”اُن”سے محبت کروں،وطن عزیز کی مقتدر خانقاہوں پر حاضری کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔

اس لیے کہ قیام پاکستان کے حصول کیلئے ان جید مشائخ عظام نے اپنی فہم و فراست، حکمت و دانش اور بہتر حکمت عملی سے اپنے مریدین کے ہمراہ ان تھک جدوجہد کی جس کے نتیجے میں وطنِ عزیز کا قیام عمل میں آیا ۔زندگی میں بہت کم شخصیات نے مجھے متاثر کیا ہے ان میں ایک شخصیت انسان دوست، دوست شناس، شناسائے کوئے محمدۖ حضرت قبلہ پیر خواجہ فقیر محمد باروی رحمة اللہ علیہ سجادہ نشین آستانہ عالیہ پیر بارو شریف فتح پور تھے جن سے پہلی ملاقات ہی متاثر کن تھی، آہستہ آہستہ میں بھی قبلہ پیر صاحب کے ”متاثرین”میں شامل ہوتا گیا نہایت ہی خلیق، ملنسار، ہنس مکھ، خدمت انسانیت کے جذبہ سے سرشار ، سادگی کا پیکر، لباس میں نفاست، سوچ میں نظافت، فکر میں لطافت، جو ایک نظر دیکھ لے بس دیکھتا ہی رہ جائے۔حضور قبلہ خواجہ صاحب رحمة اللہ علیہ کے تمام صاحبزادگان بھی حسن ِاخلاق کا مجسمہ ہیں البتہ خواجہ صاحب رحمة اللہ علیہ کے چند مرید(اِلا ما شا ء اللہ )نہایت بے مروت اور اکھڑ مزاج ہیں یوں توں اس کائنات میں کروڑوں انسان آئے اور چلے گئے مگر بعض نفوس قدسیہ ایسے ہوتے ہیں جن کے چلے جانے کے بعد ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جس کا صدیوں تک پر ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

انہی یگانہ روزگار ہستیوں میں ایک ہستی خواجہ فقیر محمد باروی ر رحمتہ اللہ علیہ تھے بلاشبہ آپ ان بزرگوں، ہادیوں اور راہبروں میں سے ہیں جن کی عقیدت کے پرچم آج بھی لوگوں کے سروں پر ہی نہیں بلکہ دلوں میں بھی لہرارہے ہیں

الٰہی یہ ہستیاں کس دیس بستی ہیں
جنہیں دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں

آپ روحانیت کے آفتاب، تقوی و پرہیز گاری کا جیتا جاگتا ثبوت، عجز و انکساری کا پیکر، لطف و کرم کا مجسمہ، علم و عمل کا روشن مینار تھے جو ہمیشہ کے لئے ہمیں داغ ِمفارقت دے کر عالم فنا کو چھوڑ کر عالم بقا کی طرف نقل مکانی فرما گئے وہ کتنے پیارے محبوب تھے جو چلے گئے

وہ دکھا کے رخ جو چل دیئے دل ان کیساتھ رواں ہوا
نہ وہ دل رہا نہ دل ربا رہی زندگی سو وبال ہے

قبلہ خواجہ فقیر محمد باروی رحمة اللہ علیہ اپنے زمانے کے عارف کامل اور شہبازِ ولایت تھے سلوک و معرفت کے میدان میں شاہسوار اور مملکت طریقت کے شہریار تھے

آپ طریقت کے بلند مقام پر فائز تھے
شاداب ہے جن کی برکت سے طریقت کا چمن

آپ کی چھوٹوں پر شفقت، ہر کسی پر رافت اور غیروں پر محبت لٹانے کا عمل، دل کو موہ لینے کا اندازِ گفتگو، لہجے میں نرمی و مٹھاس، چہرے پر شفقت آمیز روشنی، رُخِ انور پر تلاوتِ قرآن کی بہار، وعظ و نصیحت پر شگفتہ بیانی اور معتدل ظرافت آپ کے اخلاقِ کریمانہ کے زندہ ثبوت ہیں۔ جب کلام فرماتے تو رنگا رنگ پھول جھڑتے

یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑگئی
یوں لب کشا ہوئے کہ گلستان بنادیا

یہ بوریا نشین مرد کامل کتنے کریم تھے ،فیوض و برکات کے خزانے لٹاتے ،عیب پوشی فرماتے ہم سیاہ کاروں کو گلے لگاتے کرم پہ کرم فرماتے، دُکھیوں کے دکھ دور فرماتے، مریدوں کی بگڑی بناتے، عقیدت مندوں کے کام سنوارتے، سلسلہ طریقت کا حُسن نِکھارتے اچانک ہماری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ وہ چاند بدلیوں میں چھپ گیا جس کی پربہار چاندنی اور وہ سورج غروب ہوگیا جس کی پروقار روشنی آفاق عالم طریقت کو تابندہ اور درخشندہ کررہی تھی وہ محبوب جو زندگی کا قرار تھا روحوں کی غذا جس کا دیدار تھا اور ہم شکستہ دلوں کی بہار تھا اس محبوب نے ہم سے کیوں پردہ فرما لیا ہماری بے تاب نگاہوں سے کیوں منہ چھپالیا بقول پیر نصیر الدین نصیر گولڑوی رحمتہ اللہ علیہ

مطلب یہ ہے کہ اور ہو حیران چشم شوق
پردے میں چھپ گیا ہے کوئی مسکراکے یوں

یادوں کے چراغ محبت کے حوالے سے ہی پہچانے جاتے ہیں جب کسی سے پیار ہوتا ہے اس کے اطوار و اخلاق کو محبت ہی سے جانچا جاتا ہے دل میں بٹھایا جاتا ہے پھر انس بڑھتا ہے پیار کی لگن ابھرتی ہے دل میں ایک مقام پیدا ہوتا ہے آہستہ آہستہ اُسی کا ہوجاتا ہے۔ ”من احب شیأً اکثر ذکرہ” جس سے آدمی کو محبت ہوتی ہے اکثر اسی کا ذکر کرتا ہے ہم کو پسند یار کی بانکی ادا لگی وہ ہمارے کریم، شفیق اور مہربان تھے مونس و غم خوار تھے دیدار کراتے دل موہ لیتے جب بھی آپ کی خدمت عالیہ میں حاضری کا شرف نصیب ہوتا دلی سکون نصیب ہوتا عقیدت مند دور دراز سے سفر کرکے حاضر ہوتے تو قبلہ خواجہ صاحب کا پوچھتے پوچھتے دیوانے بن جاتے جب تک دولت دیدار سے مالا مال نہ ہوتے طبیعت بے چین رہتی، پیرو مرشد کا نام مبارک لبوں پر جاری رہتا اور جب دیدار ہوتا، دل کو قرار ہوتا، تھکن دور ہوتی، روح مسرور ہوتی، جان کو جان ملتی اور ایمان کی چاشنی میسر آتی۔ ہر عقیدت مند یہی سمجھتا کہ سب سے زیادہ مجھ سے ہی پیار ہے، سب سے زیادہ مجھ ہی پر کرم ہے۔

Allah
Allah

حدیث شریف میں ہے کہ ولی کی نشانی یہ ہے کہ جس کو دیکھنے سے اللہ یاد آجائے آپ کی زیارت باسعادت اس حدیث کی تفسیر بن جاتی۔ آپ کے حسن و جمال کی تجلیاں اب بھی نگاہوں میں تیر رہی ہیں انوار ربانی چہرہ انور میں چمکتے تھے بقول پیر

نصیر الدین نصیر گولڑوی رحمتہ اللہ علیہ
جلوئوں نے تیرے دی ہے دل و جاں کو وہ رونق
دیدار کی حسرت کا مزا یاد کریں گے

وہ لوگ یقیناانسانی معاشرے کے ماتھے کا جھو مر اور انسانیت کا وقار ہو تے ہیں جو خدمت خلق کے ساتھ ساتھ خالق کی بندگی کا فریضہ بھی احسن انداز سے سر انجام دے رہے ہوتے ہیں آج کے اس ما دیت زدہ دور میں روحانی اقدار کے احیاء کے لیے جدو جہد کرنے والے خراج تحسین کے مستحق ہو تے ہیں یہ وہ دور ہے کہ جس دور میں رب کی بندگی اور خدمت انسانیت کی بات کرنا گو یا خطرات کو دعوت دینے کے مترادف سمجھاجا تاہے ۔دُکھیاروں کی بھلائی ہو یابے سہاروں کی راہنمائی اس بے ریا اور بے لوث جذبوں کے حامل مرد در ویش نے شب و روز دیوانہ وار کام کیا اور اتنا کام کیا کہ ,,خدمت،، کو بھی ان پر رشک آنے لگا ،میں نے تو ان کو اپنی شعوری زندگی میں ہمیشہ فروغ دین اور خدمت انسانیت ہی میں کمر بستہ دیکھا ذاتی نفع و نقصان سے بالا تر ہو کر ہر وقت انسانیت کے مفاد کے لیے سو چنا یہ کسی کسی کا خاصہ ہو تا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ فتح پور کے نواحی علاقے آستانہ عالیہ پیر بارو رحمة اللہ علیہ میں صُبح سے لے کر رات گئے تک دور دراز سے آئے ہوئے دُکھوں کے مارے اور ڈھونڈتے سہارے بے کس و بے چَس لو گوں کو سہارا مہیا کرنا اور ان کے اندر فروغ دین کا جذبہ پیدا کرنا یہ محض رب تعالیٰ کے فضل کے بغیر نا ممکن ہے اور جن پر رب کریم کا خاص فضل ہو جائے وہ پھر زندگی کے کسی میدان میں بھی شکست نہیں کھاتے اور کام یابی و کامرانی ان کی دہلیز پر ہا تھ با ندھے کنیزوں کی طرح کھڑی ہو تی ہے ،رب کریم کا فضل اور ہے اور ,,فضلِ کریم ،، اور ہے ۔وادی خدمت انسانیت کے بے لوث اور بے غرض مکیں جناب خواجہ فقیر محمد باروی رحمة اللہ علیہ والہانہ جذبوں سے لیس ہو کر محض رب تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے شب و روز مصروف عمل تھے
ضلع لیہ کی د ھرتی کا سپوت جس نے آندھی و طوفان ،گرمی و سردی ،دھوپ و چھا ئوں ،شام و سحر اور شب روز کی پر واہ کیے بغیر اپنے سر پر ایک ہی دھن سوار کیے رکھی کہ دکھی انسانیت کی خدمت کیسے کی جا سکتی ہے اور بے سہارا انسانیت کا سہا را کیسے بنا جا سکتا ہے ؟پانچ دریا ئو ںکی سر زمیں پنجاب ہو یا رحمن با با کی دھرتی خیبر پختونخواہ ،شاہ عبد الطیف بھٹائی کا مسکن سندھ ہو یا محبتوں کی آما جگاہ بلوچستان ،مقبوضہ وادی ہو یا آزادخطہ، جنابِ پیر صاحب نے ہر جگہ خدمت انسانیت کے جھنڈے گا ڑھے اوراپنا آپ منوایا ،یقینایہ بہت بڑا کام ہے اور ابھی تک کسی بھی پیر اور خانقاہ نے اس پہلو پر کام تو در کنار سوچا بھی نہیں ہے کہ بے سہارا انسانیت کے لیے کچھ کر گزریں ،اس با برکت اور با سعادت کارِ خیر کی خیرات یقینا خواجہ صا حب کی جھو لی میں آنی تھی اور انہو ں نے اس سو غات اور خیرات کو سمیٹنا تھا سو انہوں نے خوب سمیٹا اور دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی عقبیٰ کو بھی سنوار ڈالا ,,یہ بلند رتبہ جسے ملنا تھا اسے مل گیا ،،اپنے دل میں عشق رسول ۖ کی لگن اور اہلبیت کرام کی محبت کی جوت جگائے اور اولیاء اللہ کی عقیدت کی چمک اپنی پیشانیوں پر سجائے خدمت انسانیت کا یہ عظیم کاررواں اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔سیاستدانوںکی بے راہ رو جواں نسلیں او ر پیروں کی بگڑی اولادیںخدمت انسانیت تو کجا انسانیت کا وجود بھی اپنی دہلیز پر بر داشت نہیں کر پاتیں اور اپنے آپ کو ماورائی مخلوق تصور کرتے ہو ئے خوامخواہ کے زعم ِبد میں مبتلا ہو تی ہیں حالانکہ یہی ما فوق الفطرت مصنوعی مخلوق اسی انسانیت کے ٹکڑوں پر شب وروز زندگی بسر کرتی ہے اگر مریداپنے پیروں کو نوٹ کے نذرانے دینے اور عوام سیاستدانوں کو ووٹ کے نذرانے دینے بند کر دیں تو انہیں دن کو تا رے نظر آنا شروع ہو جا ئیں گے ،مگر جب ہم پیرصاحب کے شب وروز خدمت انسانیت اور فروغ دین میں صرف ہوتے ہوئے دیکھتے تھے تو دل سے دعا نکلتی کہ ,,اے رب قدیر ،تو اس شخصیت کو اپنی حفظ و اماں میں رکھ ،،عاجزی و انکساری کا مرقع اور خلوص کا پیکر یہ سپوت اگر شام کو”مشاہدہ حق ” میں مصروف نظر آتا تو دن کو تسبیح و تہلیل میں مگن دکھا ئی دیتا تھا لگتا ہے کہ پیر خواجہ محمد عبد اللہ المعروف پیر بارو رحمة اللہ علیہ نے اپنے روحانی لخت ِ جگر کی تر بیت ہی اس انداز سے کی تھی کہ انہوں نے ان میں غرور ، تکبر،نخوت اور کبر نام کی کوئی چیز پیدا نہیں ہو نے دی اور ہو نا بھی ایسا ہی چا ہیے کہ سجا دہ نشینوں کی رو حانی اور نسبی او لادوں کو عجز و انکساری کا مر قع ہو نا چا ہیے بہت کم ایسے لوگ ہیں جن کی اولاد میں عجز و انکساری پا ئی جا تی ہے ،پیر خواجہ محمد عبد اللہ رحمة اللہ علیہ کیو نکہ خود عجز و انکساری کے سانچے میں ڈھلے ہو ئے تھے اور آگے ان کے مرید ِ خاص میں بھی یہ خاصیت نظر آرہی تھی اسی دھرتی کے علاقہ پیر آف جگی شریف کے سجادگان جنہوں نے اپنی اپنی گردنوں میں 8, 8انچ کے موٹے اتفاق فونڈری کے سریے ڈالے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی آنکھوں پر بے حسی کی پٹی باندھی ہوئی ہے اور کا نوں پر کاگ چڑھا رکھے ہیں جن کو نہ کچھ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی کچھ سُجھائی دیتا ہے یہ عقل کے اندھے اور شعور سے خالی جن کے دماغوںمیں ”کھایا ہوا بھُس ” بھر ہوا ہے رُوحانیت سے اتنا دور ہیں جتنا لیہ سے کاشغر تک کا پیدل سفر ہے انسانیت کی تذلیل کرنا اِن ”بگڑے ” ہوئے سجادگان نے اپنا شیوہ بنا لیا ہوا ہے
مگر میں نے خواجہ فقیر محمد باروی کو جب بھی دیکھا ہے وہ تواضع اور انکساری کی حالت میں ہی ملے ہیں اور ہمیشہ ان کو مسکراتے ہی دیکھا گیا ہے ،ایسے ہی لوگ سسکتے اور دم توڑتے معاشرے کے لیے غنیمت ہو تے ہیں ،اگر ہما رے مو جو دہ حکمرانوں اور سیا ستدانوں کی گر دنوں سے موٹے موٹے سریے نکل جائیں اور اپنے آپ کو عا جزی کا پیکر بنا لیں تو سارے مسئلے حل ہو سکتے ہیں مگر یہاں تو ہر سیاستدان اپنی اپنی جگہ فر عون اور قارون بنا بیٹھا ہے اور ان کی دیکھا دیکھی اب عوام کے اندر بھی کبریت کے جراثیم پیدا ہو نا شروع ہو گئے ہیں اور اب عام آدمی سے بھی بات کر لو تو وہ سانپ کی طرح پھن پھیلائے اکڑ کے بات کرے گا اور ذرا ذرا سی بات پر اپنا چہرہ بلا وجہ سرخ کر لے گا ،حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مو جودہ معاشرے میں روا داری ،اخوت ،بھا ئی چارے ،حسن سلوک اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ کی خیرات تقسیم کی جائے اور پیر خواجہ فقیر محمد باروی صاحب اسی فکر کو لے کر گلی گلی ، کوچہ کوچہ ،بستی بستی ، نگر نگر ، ڈگر ڈگر ، گام گام ، بام بام پہنچا رہے تھے کہ شا ید امت مسلمہ کی کھوئی ہو ئی قسمت دو بارہ بحال ہو سکے اور یہ سسکتا ہوا معاشرہ پھر سے زندگی کی نئی شاہراہ پر گامزن ہو سکے اور اپنے حصے کا کردار وہ خوبصورتی سے ادا کر رہے تھے اور روایتی پیروں اور فقیروں سے ہٹ کر اپنے ایک مخصوص انداز میں کام کر رہے تھے آج جو ملک میں امن کی بہا ریں نظر آرہی ہیں اور جنوبی پنجاب میں اہلسنت و جماعت کی جو لہلہاتی فصل نظر آرہی ہے یقینا اس میں قبلہ پیر صاحب کا حصہ وافر موجود ہے ا اور آج بھی رو حانیت کے پیاسے علم و حکمت کے اس اُبلتے ہوئے چشمہ آستانہ عالیہ پیر بارو شریف سے ”آبِ زُ لال ” کے کٹو رے بھر بھر پیتے ہیں اور آپ کی سر براہی میں بیسیوں دینی مدار س آج بھی جنوبی پنجاب میں خدمت دین میں مصروف عمل ہیں جن میں مدرسہ خیر الانام لیہ شہر سرِ فہرست ہے جو آپ کے صاحبزادہ خواجہ احمد حسن صاحب کی نگرانی میں احسن انداز سے کام کر رہا ہے۔

جنوبی پنجاب میں خاص کر اور پورے پاکستان میں بالعموم اہلسنت و جماعت کے عقیدہ کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سر کوبی کے لیے امیر اہلسنت ، درویش منش ہستی ، بے ریا فقیر پیر طریقت حضرت خواجہ فقیر محمد باروی رحمة اللہ علیہ (زیب سجادہ آستانہ عالیہ پیر بارو ) کی خدمات قابل رشک تھیںاور قبلہ خواجہ صاحب اس پیرانہ سالی اور بیماری کے باوجود مسلک کی ترویج کے لیے اپنا تن من دھن قربان کر نے کے لیے ہمہ وقت حاضر باش تھے اور اپنی مدد آپ کے تحت نہایت جرات اور بے باکی کے ساتھ یہ فریضہ سر انجام دے رہے تھے اور ابھی حال ہی میں چوک اعظم میں فتنہ قادیانیت کی سر کوبی کے لیے اپنی سر براہی میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں ملک کے جید اور معروف مشائخ عظام اور علماء کرام نے خصوصی شرکت کی یقیناََ آپ کی گھٹی میں جذبہ عشق رسول ۖ شامل تھااور آپ کے اکابرین خصوصاََ جن میں حضرت خواجہ محمد عبد اللہ المعروف پیر بارو اور قبلہ حضرت خواجہ غلام حسن سواگ جیسی ہستیاں شامل ہیں انہوں نے ہمیشہ جذبہ عشق رسول ۖ کی آبیاری کی ہے اور آج ہر طرف اِنہی اکابرین کے لگائے ہوئے بوٹے گل و گلزار کا کام دے رہے ہیں جن کی خوشبو سے سارا جہان معطر ہے اللہ تعالیٰ قبلہ خواجہ فقیر محمد باروی صاحب کوکروٹ کروٹ جنت عطا فر مائے اور آپ کے پسماندگان اور مریدین و عقیدتمندوں کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین )

Nouman Qadir
Nouman Qadir

تحریر : صاحبزادہ نعمان قادر مصطفائی
03314403420

Share this:
Tags:
employment lahore literary Nouman Qadir Poor spiritual ادبی روحانی روزگار فقیر لاہور
Lahore
Previous Post صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی رحمة اللہ علیہ بانی ایوان ِ اتحاد پاکستان کی 13ویں سالانہ برسی
Next Post اسسٹنٹ کمشنر وزیرآباد کے شہری ترقی کیلئے کئے اقدامات قابل تعریف ہیں
Reo Sohail Akhtar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close