Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

اضافہ آبادی کے ڈرائونے اثرات

February 2, 2022 0 1 min read
Population
Population
Population

تحریر : مہر اشتیاق احمد

1947میں جب پاکستان کا قیامت عمل میں آیا تو اُ س وقت اِس ملک کی کل آبادی 75ملین تھی ۔ جس میں سے 35ملین آبادی مغربی بازو موجود ہ پاکستان میں رہتی تھی ۔ موجودہ آبادی ملک پاکستان کا حساب لگائیں تو اندازاً 22کروڑ کے لگ بھگ ہوگئی ۔ا بادی کی گنجانیت کی یہ بلند شرح چونکا دینے والی ہے ۔آبادی میں یہ اضافہ ہمارے محدود وسائل کی بنا پر ہمارے معیارِ زندگی کے گرنے اور ماحول کی آلو دگی پر منتج ہوا ہے۔ وسائل میں ترقی اور زیادہ خوراک پیدا کرنے کی ہماری تمام تر کوششیں آبادی کی اس بے لگامی اورتیزی سے اضافہ کی وجہ سے دھری کی دھری رہ گئی ہے۔

اضافہ آبادی کا مسئلہ ہمارے خوشیوں بھرے اور خوشحال پاکستان کے خواب کے پورہ ہونے میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہاہے ۔جب ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ 1947ء میںجوہمارے قصبات تھے ۔ اب بڑھ کر شہر بن چکے ہیں اور گائوں قصبات میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔ ان قصبوں اورشہروں نے ہماری زرخیز زرعی زمینوں کوہڑپ کر لیا ہے ۔ مکانوں اور رہائشی بستیوں کے دبائو اور ناگزیرضرورتوں کے باعث بیشتر جنگلات کاٹے جا چکے ہیں ۔ ان پھیلے ہوئے شہروں اور قصبات کے باسی تمام انسانوں کیلئے مناسب سہولتوں کی کمی ہے ۔ پانی کی فراہمی ناکافی ہے ۔ نکاسی آب کا انتظام ناقص ہے۔ ٹریفک قابو میں نہیں آرہی ۔ سکول اور ہسپتال گنجائش سے زیادہ بھرے پڑے ہیں۔ میدان ، باغات اور تفریح گاہیں محض چند ہیں ۔ ہمارے ملک کی آلو دگی میں واقع کارخانے/کارخانوں کے ناکارہ مادوں کو ٹھکانے لگانے کا کوئی معقول نظام نہیں ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ پانی جو ہم پیتے ہیں آلودہ ہو چکاہے ۔ اور ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں ۔ زہر ناک ہو چکی ہے۔

درختوں کی اندھا دھند کٹائی کا نتیجہ جنگلی حیات کی تباہی و بربادی کی صورت میں نکلا ہے ۔جانوروں کی بہت سی انواع ختم کر کے رکھ دی گئی ہیں ۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث بچوں کو تعلیم دینے کیلئے مناسب سہولتیں فراہم کر نا ممکن نہیں رہا ۔ نتیجہ یہ ہے کہ انکی بہت کم تعدادتعلیم پا رہی ہے ۔ ہمارے ہاں80فیصد لوگ ناخواندہ ہیں ۔ شرح خواندگی میں اضافہ کرنے کی تمام تر کوششیں بے اثر ثابت ہو رہی ہیں لوگوں کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کی کوششوں کے ساتھ بھی ویسا ہی کچھ معاملہ ہے ۔ہمارے مالی ورطبعی وسائل اس قدر کم ہیں کہ ہمارے لیے ہر شہر ی کو طبی سہولتیں بہم پہنچانا ممکن نہیں ہے۔ ہارے کارخانوں کی محدود پیدا وار ہماری زرعی زمینوں کی پیداواری حاصلات کے باعث ہم اس قابل نہیں کہ ہم اپنی لاکھوں کی تعداد میں بڑھتی ہوئی آبادی کے لوگوں کو انکی ضرورتوں کے مطابق خوراک اور زندگی کی دیگر ضروریات فراہم کرسکیں ۔

کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ۔ بجلی پیدا کرنے کی ہماری صلاحیتیں ہماری طلب سے کہیں کم ہیں ۔ گھروں اور کارخانوں کو بجلی فراہم کرنے کے معاملے میں ہم اکثر و بیشتر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کیلئے مجبور ہیں ۔ آبادی میں اضافے نے بے روز گاری میں اضافہ کر دیاہے ۔ ہمارے نوجوان ڈاکٹروں ، انجینئروں اور سانس دانوں کی ایک بڑی تعداد کے پاس ملازمتیں نہیں ۔ تقریباً ہماری آدھی آبادی کے پاس روز گار نہیں ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی آبادی کو روزگار، خوراک ، صحت ، تعلیم وغیرہ کی سہولتیں کہاں سے میسر ہوں گی ۔ دیہاتوں سے آبادی کے انخلاء نے شہروں کو انسانوں سے لبالب بھر دیاہے۔

ٹریفک جام ماحولیات کی خرابی ، پانی کی کمی اسی کا شافسانہ ہے ۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت اس ہولناک خطرے سے بے خبر ہے ۔ جس ملک کی آبادی نصف کے قریب آن پڑی اور اتنی ہی خط غربت سے نیچے ہو ۔وہاں آبادی کے حوالے سے بابت کرنا ایک مذاق ہی ہے ۔ ان بے چاروں کی تو ساری جدوجہد ایک وقت کی روٹی حاصل کرنے تک محدودہے ۔ نہ ملے تو اُس دن کا فاقہ ، یہ انتہائی غریب لوگ زیادہ بچے پیدا کرنے کو ہی فاقے سے بچنے کا حل سمجھتے ہیں ۔ عالمی بینک نے اسی وجہ سے نشاندہی کی ہے کہ خوراک کی شدید کمی کی وجہ سے پاکستان کے بچے ، لڑکے اور لڑکیاں دونوں کاقد چھوٹا رہ گیا ہے ۔ جسمانی نشوو نما کے ساتھ ساتھ آنکی ذہنی نشوو نما بھی رک گئی ہے ۔۔اندازہ کریں یہ وہ نسل ہے جس نے پاکستان کا مستقبل تعمیر کرناہے ۔ نتیجہ سنگین قسم کی بیماریوں کاشکار ہو کر کم عمری میں ہی موت کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں ۔

باقی جو بچ جاتے ہیں غربت کی وجہ سے وہ دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ کر دہشت گردی کا خام مال بن جاتے ہیں ۔ ہمارے ہاں آج بھی ایسے سادہ لوح لوگوں کی کمی نہیں جوآبادی میں اضافہ کے حامی ہیں ۔ دوسری طرف امریکہ ، یورپ ، عوامی شعور کے ساتھ اپنی آبادی کی مسلسل کمی کر رہے ہیں ۔ اب ہم اس دور میں داخل ہوچکے ہیں ۔ جہاں جنگیں انسان نہیں روبوٹ لڑیں گے ۔ وہ بھی صرف انگلی کی ایک پور کی جنبش سے ، اسکے لیے وہی قوم دنیا پر بالا دست ہو گی جوسائنس میں اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی کی ماہر ہوگی ۔ زمانہ قدیم کی طرح اب انسانوں کے ابنوہ کثیر کی ضرورت نہیں رہی ۔ جن کے ذریعے ماضی میں قومیں اپنی بقا ء ممکن بناتی رہیں ۔ انسان اگر جانوروں کی طرح بچے پیدا کرنے لگیں تو انسان اور جانور میں کیا فرق رہ جائے گا جب آپ و سائل انسانوں پر خرچ کرتے ہیں تو ایسے ذہن تعمیر ہوتے ہیں جو ایجادات تخلیق کر کے اپنی قوم کی بالادستی یقینی بناتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں مغربی اقوام کی بالادستی اس لیے ممکن ہوئی کہ انہوں نے تخلیق ایجادات عسکری ٹیکنالوجی میں مسلمانوں کوپچھاڑ دیا۔ یہ جو جمہوری اور سیاسی نظام کی کامیابی کی کنجی ہوتی ہے ۔

اس کا براہ راست تعلق معاشی استحکام سے ہوتا ہے ۔ ایک ایسا معاشی استحکام جو عام یا غریب افراد کے مفاد سے جڑا ہو ۔ وگر نہ معاشی استحکام اور نا انصافی یا تفریق کا عمل عملا سیاسی اورجمہوری نظام کی ناکامی کاسبب بھی بنتا ہے ۔ ایک بڑاچیلنج دیہی معیشت کا ہے جو بدحالی کا شکار ہے اور سارا بوجھ شہری معیشت پر کھڑا ہے ۔ سب سے زیادہ محروم افراد جن میں بیوائیں ، معذور افراد ،خانہ بدوش ،یتیم ، مسکین ، اسٹریٹ چلڈرن ،خوجاہ سراہیں ، لیکن یہاں پر تو متوسط طبہ بھی ب دحالی پر مبنی نظام میں جکڑا ہوا ہے ۔ امیری اور غریبی میں بڑھتی ہوئی خلیج یا نا ہمواریاں ایک بڑا چیلنج ہے جو ملک میں موجود لوگوں میں نفرت یا غصہ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے ۔ جو ملکی مفاد میں نہیں ہے ۔

کافی عصے سے بین القوامی قوتیں اور ادارے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی سے فکر مند نظر آتے ہیں ۔ یہ قومیں اورادارے اس قدر فکر مند ہیں کہ تقریباً56سال سے پاکستان کی آبادی کنٹرول کرنے کیلئے خطیر رقم امداد اورقرضے کی صورت میں فراہم کر رہے ہیں ۔ ان اداروں کا موقف ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے پاکستان مسئال کا شکار ہو رہاہے ۔خوارک ، علاج معالجہ اورتعلیمی سہولتوں میں اس قدر اضافہ نہیں ہورہا ۔ جتنا کہ آبادی میں ہو رہاہے ۔ خاندانی منصوبہ بندی یا بہبود آبادی کا پروگرام صدر ایوب خان کے دور اقدار میں شروع ہوا ۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کی آبادی موجود ہ آبادی سے نصف سے بھی کم تھی ۔۔ وسیع پیمانے پر آبادی پر قابو پانے کیلئے تشہیر بھی کی گئی اورپو رے ملک میں بہبود آبادی کے مراکز بھی قائم کیے گئے ۔ اس وقت کچھ علماء اکرام نے اس پروگرام کی مخالفت کی اور اس پروگرام کی نبی کریم ۖ کے حکم کو منافی قرار دیا گیا ۔

کیوں کہ آپ ۖ نے اپنی کثرت اُمت پر ناز فرمایا ہے ۔ ایک حدیث پاک ہے کہ قیامت کے روز جنت کی طرف 100بعض جگہوں پر 120بھی کہاگیا ہے کہ قطاریں جائیں گی اور ان میں 80قطاریں صرف میری اُمت کی ہوں گی ۔ اس پروگرام کو اسلام کے منافی قرار دیا گیا اور بعض علماء اور دانشوروں نے بر ملا کہا کہ یہ پروگرام پاکستان میں اس وجہ سے شروع کیا گیا کہ دوسری اقوام مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے فکر مند ہیں ۔ بہرحال وجہ کوئی بھی ہو بڑھتی ہوئی آبادی کے خوفناک اثرات تو موجود ہیں ۔ مندجہ بالا صورت حال بڑی ہبت ناک ہے ۔ ہمیں حقیقت کاسامنا بڑی دلیری سے کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنی بقاء کے لیے یہ چیلنج قبول کرنا ہوگا۔ آبادی میں تیز رفتاری سے روک تھام کیلئے بہت سی سکیموں اور منصوبوں پر عمل کرناہوگا ۔ ان پروگرام میں ربط پیدا کرنے کیلئے قومی سطع پر تعاون کی ضرورت ہے ۔ لوگوں کو ان باتوں اور وسائل کے مطابق اپنے کنبوں کی منصوبہ بندی کے فوائد سے آگاہ کیا جان چاہیے ۔ انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ قومی سطح پر امن ، خوشی اور خوشحالی کا راز چھوٹے کنبوں پرہے ۔ جہاں بچوں کو عظیم ملک کے خود اور شہری بنانے کیلئے انہیں صحت ،نشوونما ،مناسب طبی دیکھ بھال ،متوازن غذا اور اعلیٰ تعلیم سے محروم نہیں رکھاجا سکتا ۔ اس بات کا حصول ہمارے شعبہ تعلیم اور شعبہ خدمت صحت عامہ کے ذریعے اور اخبارات و رسائل ، ریڈیو ،ٹی وی ، الیکٹرانک میڈیا و پریس میڈیا کے سرگرم تعاون سے ہی ممکن ہو سکتا ہے ۔ بشکریہ سی سی پی۔

Mehr Ishtiaq Ahmed
Mehr Ishtiaq Ahmed

تحریر : مہر اشتیاق احمد

Share this:
Tags:
Development impact pakistan population Resources آبادی اثرات پاکستان ترقی وسائل
Police
Previous Post امریکا: 2 تعلیمی اداروں میں فائرنگ کے واقعات، طالبعلم سمیت 3 افراد ہلاک
Next Post راوی کنارے شہر
Lahore

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close