Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ظروف سازی کی دم توڑتی روایت

January 9, 2016 0 1 min read
Blue Pottery
Blue Pottery
Blue Pottery

تحریر : ریاض جاذب
روئے زمین پر اپنی آمد کے ساتھ ہی حضرت انسان نے جن چیزوں کی ضرورت محسوس کی ان میں کھانے پینے اور دیگر استعمال کے برتن بھی شامل تھے۔ ابتداء میں پتوں، لکڑی، ہڈیوں، پتھروں اور چھلکوں کو برتنوں کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ برتنوں کی اقسام اور ان کی بناوٹ میں جدت آتی گئی۔ افراد سے خاندان اور پھر معاشرے کی تشکیل کے دوران بڑھتی ضروریات کے ساتھ برتنوں کے ڈیزائن اور استعمال بدلتا رہا۔ زندہ رہنے کے لیے خوراک کا انتظام اورخود کو محفوظ رکھنے کے لیے مناسب جگہ کی تلاش کے بعد ہتھیار، اوزار اور برتن مزید اہم ہو گئے۔ جس قبیلے کے پاس خوراک کا ذخیرہ، رہنے کے لیے مناسب و محفوظ رہائش، دفاع کے لیے ہتھیار، کام کرنے کے لیے اوزار اور استعمال کے برتن ہوتے وہ قبیلہ قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کی بہتر سکت رکھتا تھا۔

ظروف سازی کی تاریخ
رہن سہن کھانا پینا اور اوڑھنا بچھونا مہذب معاشرت کی پہلی نشانیاں تھیں۔ تین قدیم تہذیبیں جن میں ایک دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے کنارے عراق میں میسوپوٹامیہ کی تہذیب ہے، دوسری دریائے نیل کے کنارے مصر اور تیسری وادی سندھ کی تہذیب ہے سبھی جگہ ظروف سازی کی روایت اور صنعت موجود تھی۔ وادی سندھ کی تہذیب کو باقی تہذیبوں سے زیادہ ترقی یافتہ تہذیب تسلیم کیا گیا ہے۔ پانچ ہزار سال پہلے بھی اس علاقے میں نکاسی آب اک نظام، گودام اور مٹی کے برتن، مورتیاں اور اینٹیں پکانے کی بھٹیاں موجود تھیں۔ وادی سندھ کے دریافت شدہ آثار میں جن بھٹیوں کے آثار ملے ہیں وہ سیاہ رنگ کی چوڑیاں اور مٹی کے چھوٹے بڑے برتن پکانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی تھیں۔ انہی بھٹیوں کے قریب رہائشی مکانات، غلہ جمع کرنے کے لیے قد آور مٹی کے مٹکے بھی ملے ہیں۔

مٹی کے برتن بنانے کا فن کم ازکم آٹھ سے دس ہزار سال پرانا ہے اور صنعت دنیا کی سب سے قدیم صنعتوں میں سے ہے۔ انسانی شعور کے ابتدائی دور میں ہی انسان نے مٹی کے برتن بنانا اور انہیں آگ میں پکا کر مضبوط کرنا سیکھ لیا تھا اور چین میں اس فن کو عروج حاصل ہوا۔ مٹی سے برتن بنانے کی صنعت میں نفاست مسلمان ہنرمندوں کی دین ہے۔ مسلمانوں نے رنگ دارمٹی سے برتن بنانے کی ابتداء کی۔ مسلمان ہنرمندوں نے مراکش سے لے کر اندلس تک اور پھربرصغیر میں بھی اس فن کو دوام دیا۔ پاکستان میں رنگ دارمٹی کے برتن اور اس پر کاشی گری کا ہنر کمالِ فن کی معراج تک پہنچا۔

Pottery
Pottery

ظروف سازی کے فن کو درپیش خطرات
زمانہ قدیم سے لے کر آج کے جدید دور تک برتن انسان کی ضرورت رہے ہیں۔ آج مٹی کے برتنوں کا استعمال تقریباً ختم ہو چکا ہے لیکن پہلے گھروں میں زیادہ تر مٹی کے برتن ہی استعمال ہوتے تھے۔ روزمرہ استعمال کے برتن جن میں پانی کے لیے گھڑے، دال سبزی چولہے پر چڑھانے کے لیے ہنڈیا، کھانا پروسنے کے لیے پیالے اور اچار ڈالنے کے مرتبان بھی مٹی سے بنائے جاتے تھے۔ پانی مٹی کے پیالہ سے پیا جاتا تھا۔ لیکن آج مٹی کے برتنوں کی جگہ تام چینی، پلاسٹک اور شیشے کے برتنوں نے لے لی ہے۔ مٹی کے برتنوں کی روایت ہماری ثقافت کا حصہ ہے مگر یہ روایت اب دم توڑتی جارہی ہے۔ استعمال ہونے والے برتنوں کی قدیم شکلیں ناپید ہو رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف ہماری ثقافت متاثر ہو رہی ہے بلکہ آہستہ آہستہ ہماری نئی نسل ان چیزوں کے نام تک بھول رہی ہے۔ مٹی کے برتنوں کی دو پہلو ہیں؛ ایک تاریخی دوسرا ثقافتی اور ان کے ختم ہونے سے ہمارا ثقافتی ورثہ بھی ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

مٹی کے برتن بنانے کی صنعت کے خاتمے کی وجہ سے ثقافت متاثر ہونے کے ساتھ ہماری معیشت پر بھی برے اثرات پڑ رہے ہیں۔ کبھی یہ صنعت پاکستان کے دیہی علاقوں اور شہری مضافات کی اہم صنعت تھی جس سے لاکھوں لوگ وابستہ تھے لیکن اب بیشتر لوگ یہ پیشہ ترک کر چکے ہیں۔ اس قدیم صنعت سے وابستہ ہنرمندوں میں کام کے حوالے سے مایوسی بڑھی ہے۔ ماہر کاریگر یا تو وفات پاگئے ہیں یا پھر ان کے دوسرے شعبوں میں چلے جانے سے اب یہ صنعت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس ہنر کے متروک ہونے کی اصل وجہ یہ ہے کہ مٹی کے برتنوں کے استعمال کا رحجان کم ہوا ہے۔ ان کا استعمال اب مذہبی رسوم یا پھر مخصوص کھانے پکانے تک محدود ہو گیا ہے۔مٹی کے برتن بنانے کے لیے پہلے مٹی کو اچھی طرح ‘سانا’ جاتا ہے اور پھر اسے چاک پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ چاک کو پاوں یا موٹر کی مدد سے گھمایا جاتا ہے۔ اسی حرکت کی دوران ہاتھوں کی مدد سے برتن کو حسب منشاء شکل دے کر چاک سے اتار لیا جاتا ہے۔

مٹی کے برتن کیسے بنتے ہیں؟
مٹی کے برتن تین قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ برتن جن سے پانی رستا ہے، دوسرے پتھر چینی Stoneware کے برتن اور تیسرے چینی مٹی کے برتن۔ چاک پر مٹی کے برتنوں کی تیاری کا عمل گو بے حد سادہ ہے لیکن اس کے لیے بے پناہ انسانی مہارت اور مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ مٹی کے برتن بنانے کے لیے پہلے مٹی کو اچھی طرح ‘سانا’ جاتا ہے اور پھر اسے چاک پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ چاک کو پاوں یا موٹر کی مدد سے گھمایا جاتا ہے۔ اسی حرکت کی دوران ہاتھوں کی مدد سے برتن کو حسب منشاء شکل دے کر چاک سے اتار لیا جاتا ہے۔ پھر اس پر نقش ونگار بنائے جاتے ہیں اور سوکھنے کے بعد بھٹی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ بھٹی میں پکانے کا عمل بھی سادہ ہے مگر بے حد احتیاط کا متقاضی ہے۔ برتن کے رنگ کا تعلق بھٹی میں ہوا پہنچنے کے راستے اور ہوا کی مقدار پر ہے۔

Chak Pottery
Chak Pottery

چاک پر بنائے جانے والے چند روایتی برتن
اس طریقے مٹی کے مختلف برتن تیار کیے جاتے ہیں جن میں آٹا گوندھنے والی کنالیاں، جسے سرائیکی وسیب میں پاتری بھی کہا جاتا ہے، روٹی پکانے کے لیے تندور، کھانا پکانے کی ہنڈیا، پانی کے گھڑے، طہارت خانوں کے لیے “استاوہ یا لوٹا” تیل کے دِیے، لسی بنانے کے لیے “چاٹی” گھروں میں آٹا محفوظ کرنے کے لیے “چٹورے”، گندم کو محفوط کرنے کے لیے “کلوھٹی”، پیاز، سبز مرچ پیسنے کے لیے “دَورِی” دابڑا” جس میں بچہ بیٹھ کر کھیل سکتا ہے

حقے کی چِلم اور لسی پینے کا برتن “ڈولا” پانی پینے کا کٹورا، سالن کے لیے “کٹوری”، گھڑے اورمٹکے کے اوپر رکھی جانے والی “چھوڑنیں”، مٹکے کے ساتھ رکھی جانے والی “ڈولی”، اچار ڈالنے کے مرتبان، پرندوں اور جانوروں کا پانی پلانے کے لیے “پھیلی” کھانا پکانے والا” چولھا “گھروں میں گندم صاف کرنے کے استعمال میں آنے والی “اوکھلی “۔۔۔۔ یہ وہ چند روایتی برتن ہیں جو چاک پر بنائے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ مٹی کے گملے بھی بنائے جاتے ہیں۔ مٹی کے برتنوں کی تیاری اور ان کااستعمال روایت اور ثقافت کا حصہ ہے۔

اس فن کو بچانے کی خاطر حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس دم توڑتی ثقافت اور صنعت کو زندہ رکھنے کے لیے لازم ہے کہ اس سے وابستہ ہنرمندوں اور کاریگروں کی سرپرستی کی جائے تاکہ یہ فن بھی رہے اور فنکار بھی اور یہی فن ان کے روزگار کا وسیلہ بھی بن پائے۔ اس ہنر کی پذیرائی کے لیے کچھ کرنا ہوگا وگرنہ ان کا ذکر صرف کتابوں میں ملے گا۔

Riaz Jazib
Riaz Jazib

تحریر : ریاض جاذب

Share this:
Tags:
Land man Tradition types use weapons استعمال اقسام انسان رہائش روایت زمین ہتھیار
Arrested
Previous Post لاہور:ڈی ایچ اے سٹی پراجیکٹ میں 17ارب کا مبینہ فراڈ،ایک شخص گرفتار
Next Post نواز شریف کا کسی بھارتی سے کاروباری تعلق نہیں،پرائم منسٹر ہاؤس
Nawaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close